سمندر پار پاکستانی اور سوشل میڈیا۔ ۔۔۔انعام رانا

میں آپ سب دوستوں کا بہت ممنون ہوں، جنھوں نے مختصر نوٹس پر یہ محفل سجائی ہے۔ آپ سب دوست جو امارات کے مختلف حصوں سے تشریف لائے ہیں، آپ کے اس اظہار محبت کو میں مکالمہ پر اور خود اپنی ذات پر، ایک احسان سمجھتا ہوں۔ عربی میں کہتے ہیں ھل جزا الاحسان الا الحسان۔ سو اس محبت کا جواب انشااللہ ہمیشہ محبت سے ہی دینے کی کوشش کروں گا۔

آج کی نشست اس لئے بھی اہم ہے کہ رمضان کریم کی آمد آمد ہے اور اگلے ہفتے سے  آپ میں سے اکثر دوست ایک ماہ کے لیے غائب ہو جائیں گے، سو آزادی کی شاید یہ آخری قبل از رمضان محفل ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپکی آزادی کے بعد بھی یہ دنیا ایسی ہی ہو گی اور ایسی ہی رہے گی۔ البتہ  آپ کی غیر موجودگی میں رمضان کے دوران جو عظیم فلسفیانہ مباحث ہوں گے، جیسا کہ بوسہ لینے سے روزہ ٹوٹتا ہے کہ نہیں؟ روزہ نہ رکھنے کا عذاب اور روزہ کے طبی فوائد یا نقصانات، آپ ان سب سے محفوظ رہیں گے۔

آپ آج بھی ایک عظیم سعادت سے محفوظ رہیں گے۔ معاذ صاحب نے میرے بار بار اصرار پہ کہا میرے لیے ایک وائلن لیتے آنا۔ میں نے تو خیر انکے سائز کا لیا تھا، پر بعد میں انھوں نے بتایا کہ بیٹے کے لیے ہے۔ چنانچہ اب جس سائز کا وائلن ہے، بیٹا وائلن پہ سیڑھی لگا کر ہی بجائے گا۔۔۔۔لندن ایئرپورٹ پر جب چیک ان کرانے پہنچا تو سامنے ایک سکھنی تھی۔ ہمارے سکھ دوستوں میں اللہ نے ، وہ جیسے قاری  صاحب کہتے ہیں، حریان کرنے کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھر رکھی ہے۔ ایک واقعہ یاد آ گیا کہ اک بار اک شاپنگ مال میں تھا تو اپنی بیوی سے بچھڑ گیا۔ یقین کیجئیے نیا نیا دولہا جب بیوی سے بچھڑے تو اسے بالکل ماں سے بچھڑ جانے کا احساس ہوتا ہے، بس روتا نہیں ہے۔ خیر پریشانی چہرے پہ لیے میں ادھر اُدھر بیوی کو دیکھ رہا تھا تو اچانک ایک سردار جی میرے پاس آئے اور کہا کہ کاکا کی ہویا؟ میں نے کہا پا جی بیوی گواچ گئی اے، اوہنو لبھ ریا۔ بہت سنجیدہ سا منہ بنا کر کہنے لگے “مترو میری منو تے دوڑ جاو، موقع چنگا جے”۔۔۔ اب اسی طور جب میں معاذ کا وائلن لیے ہوئے سامنے ہوا تو سردارنی جی نے مسکرا کر کہا، “دبئی فنکشن کرن چلے او؟” مجھے اپنی تمام تر وکالت وائلن کی دھنوں میں اڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔میں نے کہا اسے بھی چیک ان ہی کر دو۔ کہنے لگی پانچ کلو سے کم کا ہے ہینڈ کیری کر لو ورنہ ڈیلیکٹ آئٹم میں بک ہو گا۔ میں نے کہا کہ نہیں تسی کر دیو چیک ان ہی، کہیں کلائنٹس کے بجائے فنکشن ہی ہاتھ نہ  آتے رہیں۔اسی غلطی کا خمیازہ یہ بھگتا کہ میں دبئی آج آیا ہوں مگر وائلن کل پہنچے گا۔ خیر اسی وجہ سے آپ اور میں  آج معاذ نوشاد کی دھنوں  کو  سننے سے محروم رہ جائیں گے۔ الحمداللہ۔

عزیزو، پردیس کاٹنے کا محاورہ ہی بتاتا ہے کہ پردیس کتنا سخت ہوتا ہے۔ پردیسی کچے مگر بہت مضبوط دھاگوں کے ساتھ اپنے وطن کے ساتھ جڑا رہتا ہے تاکہ وہ پردیس کے سمندر میں ڈوب کر خود کو کھو نہ دے۔ ایسے میں اخبار ٹی وی اور سوشل میڈیا ایسے ہی کچھ دھاگے ہیں۔ ان میں شاید سب سے مضبوط دھاگہ سوشل میڈیا ہے کیونکہ اس نے ہم پردیسیوں کو ان لوگوں سے ڈائریکٹلی جوڑ دیا جو وطن میں موجود ہیں اور وہاں کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ اب پاکستان کے کسی گلی محلے میں ہونے والی بات کا ہمیں بالکل اسی طرح معلوم ہو جاتا ہے جیسے وہاں موجود شخص کو۔
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ ہی شاید ہم پردیسیوں کو ہوا۔ یہ آج کی محفل سوشل میڈیا کے اسی فائدے کا نتیجہ ہے۔ آپ دوست جو کئی عرصے سے اسی ملک میں تھے اک دوجے سے واقف نہ تھے اور آج آپ اتنی محبت سے ساتھ بیٹھے ہیں۔ اک دوجے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

محفل کے عنوان میں حقوق اور فرائض کی بات کی گئی ہے۔ خیر اتنی گہری باتیں تو کوئی دانشور ہی کر سکتا ہے اور دانش وری سے میرا اتنا ہی تعلق ہے جتنا میا خلیفہ کا برج خلیفہ سے۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے اب ہمارا یہ حق ہو چکا ہے کہ ہم اپنے ملک کے مسائل پر بات کریں اور حل تلاش کر کے تجویز کریں۔ اک عرصہ تک پردیسیوں کو یہ طعنے دیے جاتے رہے کہ انکو گراونڈ رئیلٹی ز کا  علم نہیں ہوتا اور بات کرتے ہیں۔ اب ہمیں یہاں بیٹھے  ہوئے بھی پتہ ہے اور شاید زیادہ بڑی پکچر نظر آ رہی ہوتی ہے۔ سو یہ ہمارا حق ہے۔ ہاں البتہ بات کرتے ہوئے خود کو برتر بنا کر بات نا کیجیے، پاکستان میں رہنے والو کی تذلیل کر کے بات نہ کیجیے کہ وہ جن مسائل سے دو چار ہیں وہ اپنی جگہ بہت گھمبیر اور بہادری کے متقاضی ہیں۔
فرائض کی حد تک یہ ہی عرض کروں گا کہ ایک تو ہمیں اپنا وہ ایکسپوژر اپنی نئی نسل یا ہم عصر نسل سے شیئر کرنا ہے اور انکو سمجھانا ہے جو بیرون ملک آنے کے بعد ہمیں نصیب ہوتا ہے۔ ہمیں وہ پل بننے کی کوشش کرنا ہے جو ہمارے بند سماج اور کھلے ہوئے سماج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکے، شعور میں، انڈرسٹینڈنگ میں بہتری لا سکے۔ ہماری جدوجہد کی داستانیں ہماری کامیابیوں کی داستانیں بہت سے نوجوانوں کو ملک یا ملک سے باہر رہتے ہوئے محنت کی رغبت دے سکتی ہیں۔
اسکے علاوہ پردیسی ایک سٹیک ہولڈر ہیں۔ جو پاکستان کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اسکے باہر رہنے کے باوجود پاکستان میں کئی مسائل ہوتے ہیں۔ سو ہمیں اس سٹیک کی نمائندگی کرنی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اب میں  آپ کو کافی بور کر چکا ہوں۔ اس وقت  پاس نہ تو کوئی اشتہا انگیز چہرہ ہے اور نہ ہی کوئی خوراک کہ آپ زیادہ دیر مجھے برادشت کریں۔ سو آپ کا ایک بار پھر بہت شکریہ کہ مکالمہ دبئی کی اس محفل کا حصہ بنے۔ اللہ پاک  آپ کو آسانیاں اور کامیابیاں نصیب فرمائے۔ آمین۔
(مکالمہ فورم دبئی منعقدہ ستائس اپریل ۲۰۱۹ میں پڑھا گیا)

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *