عرفہ کی رات کیا کریں۔۔۔ حافظ صفوان محمد

میں کچھ نہیں میرا کچھ نہیں

تو سب کچھ تیرا سب کچھ

جاننا چاہیے کہ منیٰ اور عرفات میں کوئی عبادت، دعا یا عمل مخصوص نہیں ہے۔ یہاں کی فرض عبادت صرف فرض نماز ہے، جسے جماعت سے اور تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

یہ سارا سفر رونے دھونے اور آنسو بہانے کا ہے۔ خدا کی نظر میں اچھا حاجی وہ ہے جو رو رہا ہو، بار بار زمین پر کبھی اس پہلو اور کبھی اس پہلو پچھاڑیں کھا رہا ہو اور چیخ چیخ کر چلا چلا کر خدا سے دعا مانگ رہا ہو۔ یہاں کی سب سے بڑی عبادت اللہ کے آگے رونا اور آنسو بہانا ہے اور اللہ کے سامنے تذلل اختیار کرنا ہے اور خود کو بالکل عاجز بنا کر پیش کربا ہے۔

ہماری کم قسمتی ہی کہیے کہ ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے، قرآنِ مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ بھی ہمیں یاد ہے، کتنی ہی دعائیں بھی ہم نے یاد کر رکھی ہیں۔ قرآن و حدیث کے نکات ہمیں خوب یاد ہیں، بڑے بڑے مصنفین کی نکتہ رسیاں ہمیں شعر و ادب کے میدانوں میں بگٹٹ دوڑائے پھری ہیں، ہمیں نہیں آتا تو رونا نہیں آتا۔ اگر بندہ اسی پر رونا شروع کردے کہ مجھے رونا نہیں آ رہا تو کیا معلوم خدا اپنے آگے رونے کی نعمت ہمیں دے دے۔

ایک باخدا دوست نے یوں کیا کہ منیٰ میں ایک جگہ بیٹھ کر سکون سے ان لوگوں کی فہرست بنائی جنھوں نے ان پر کسی بھی قسم کا ظلم کیا تھا، اور ایک فہرست ان لوگوں کی بنائی جن پر انھوں نے کبھی کسی قسم کا چھوٹا بڑا ظلم زیادتی کی تھی۔ یوں نام لے لے کر سب ظلم کرنے والوں کو معاف کیا اور نام لے لے کر ان سب لوگوں کے لیے دعائیں مانگتے رہے جن پر خود کبھی ظلم کیا تھا۔ جن کا کچھ دینا بنتا تھا اس کی پکی نیت کی اور اس میں آسانی کے لیے دعا مانگتے رہے۔ ان دونوں فہرستوں کو سامنے رکھ کر دن رات میں کئی بار دعا مانگتے۔ بتاتے ہیں کہ میں نے اپنے گناہوں کو یاد کیا تاکہ اس دھوکے سے نکلوں کہ میں بہت نیک آدمی ہوں تبھی یہاں پہنچا ہوں۔

بار بار یہ سوچ تازہ کیجیے کہ میرے اندر کوئی ایسی خوبی نہیں ہے کہ خدا مجھے یہاں بلاتا۔ یہ محض اس کا کرم ہے اس نے مجھے یہاں بلایا ہے اور اس لیے بلایا ہے کہ میں اس سے معافی مانگ لوں اور وہ مجھے معاف کر دے۔ تلاش کیجیے کہ کوئی ایسا معروف عالمِ دین مل جائے جس کی زبان میں تاثیر ہو اور اس کے بیان سے رقت پیدا ہو۔ اپنے گروپ کے لوگوں میں کسی کو دعا مانگنا آتی ہو تو اسے کہیے کہ اونچی دعا مانگے اور آپ آمین کہتے جائیں۔ دل رونے پر آ جائے تو یہ منیٰ میں قیام کی کامیابی ہے۔ ایسے لوگوں میں بیٹھا جائے جن کی باتیں سن کر دل نرم ہو۔ دعا عربی میں ضروری نہیں۔ دل سے مانگی ہوئی، اپنی زبان میں مانگی ہوئی دعا سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

منیٰ میں نبی کریم علیہ السلام نے ادھر ادھر گشت کرکے لوگوں میں دعوت دی ہے۔ یہاں پر کرنے کا کام صرف یہی ہے۔ آپ یوں کیجیے کہ جہاں دو چار لوگ آپ ہی کی طرح چپ چاپ بیٹھے ہوں ان سے سلام دعا کیجیے اور انھیں کچھ پھل وغیرہ پیش کیجیے۔ ان کو سورۃ فاتحہ سنائیے اور ان سے سنیے۔ اپنی درستی کیجیے اور ان کی بھی درستی کرا دیجیے۔ چھوٹی چھوٹی دو سورتیں بھی یاد کرا دیجیے۔ ان کی اور اپنی نماز کو درست کیجیے۔ یہاں آپ کو احساس ہوگا کہ دنیا کی بڑی بڑی حیثیتوں اور وسائل اور نعمتوں والے لوگ بھی دین کی بنیادی باتوں تک سے خالی ہیں۔ نماز تو چھوڑیے، وضو تک نہ کر سکنے والے لوگ بھی مل جائیں گے اور عجمی اور عرب دونوں مل جائیں گے۔ غسل کے تین فرائض کا ذکر اور وضو کے چار فرائض کا ذکر جہاں بیٹھیں ضرور کیجیے۔ دین کی بات لوگوں کو ایسے انداز میں مت بتائیں جیسے آپ ان کے استاد ہوں، بلکہ ایسا انداز اختیار کریں جسے ٹریننگ ورکشاپ کہتے ہیں، یعنی ساتھ مل کر یہ کام کرائیں۔ آپ کی منیٰ کی کمائی یہ ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کا غسل، وضو، نماز اور سورتیں ٹھیک کرائیں۔ کوئی سیکھنے والا آپ کو دوسرے وقت پر آنے کو کہے تو ایسے طلب والے بندے کے پاس ضرور جائیے۔ یاد رکھیے کہ موبائل فون میں محفوظ کی ہوئی دعا یا سورۃ قیامت کے دن کام نہیں آئے گی۔

کہیں کوئی شور شرابہ یا بحث ہونے لگے تو فوراً کھسک لیجیے۔ شیطان بڑا دشمن ہے۔ یہ جھگڑوں میں شامل کرواکے لوگوں کے اعمال ضائع کراتا ہے۔ جب آپ لوگوں میں دین کی بات کریں گے تو آپ کو ہر قسم کا بندہ ملے گا۔ جتنے دہریے آپ کو منیٰ کے میدان میں ملیں گے اتنے شاید آپ نے ساری زندگی نہ دیکھے ہوں۔ ایسے لوگ بھی ملیں گے جو قربانی کے خلاف بات کریں گے، اور ایسے بھی جو نماز شروع ہوتے ہی بھاگ جاتے ہیں۔ وغیرہ۔ ان سے بات کرنا پڑجائے تو مختصر بات کرکے کہیں اور نکل لیجیے۔ بے شمار دنیا صرف ایک کلمے کے بول سیکھنے کو آپ کی منتظر ہوگی۔ ایسے سخت دل لوگوں کی وجہ سے منیٰ کے میدان میں نبی کریم کی سنتِ دعوتِ دین پر عمل کا موقع ضائع نہ کیجیے، اور ان لوگوں میں کام کیجیے جو آپ کی سننے کو تیار بیٹھے ہیں۔

اپنی قوم یا کسی قوم یا کسی حکومت کے بارے میں ایک لفظ مت بولیے۔ سارے جھگڑے یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ دوسرے ملکوں والوں کے پاس جائیے اور ان سے اچھے اخلاق سے پیش ائیے۔ سب سے اچھا یہ ہے ان کے ساتھ نماز میں شریک ہو جائیے اور پھر بات کیجیے۔

منیٰ میں مسجدِ خیف میں اصلاحی بیان صرف عربی میں ہوتا ہے اس لیے وہاں جانے کے بجائے اپنی زبان والے کسی عالمِ دین یا سمجھ دار دین دار آدمی کے حلقے کو پکڑ لیجیے۔ ایسا عالم یا دین دار آدمی اپنے خیمے میں نہ ہو تو ادھر ادھر کسی خیمے میں تلاش کیجیے۔ نماز جہاں ملے جماعت سے پڑھیے۔ مختلف فقہوں والوں کے ساتھ اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع یہی ہے۔ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیے۔ نماز کی سب شکلیں درست ہیں۔ یہاں اس بحث میں نہ خود الجھیے نہ کسی الجھتے ہوئے کو سمجھانے کی کوشش کیجیے کہ فلاں طرح کی شکل والی نماز اس لیے بہتر ہے یا اس لیے کمتر ہے۔

عرفہ کا دن صرف دعا کا دن ہے۔ میدانِ عرفات میں نبی کریم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، کبھی اس پہلو اور کبھی اس پہلو پر لیٹ کر، اونٹ پر لیٹ کر، اونٹ پر کھڑے ہوکر، دونوں بازو پورے اٹھا کر ہاتھ آسمان کی طرف کرکے، چیخ چیخ کر اور رو رو کر دعا کی ہے۔ یہاں یہ سب کام کر لیجیے۔ یہ سب کام یہاں کی سنت ہیں۔ یہ موقع دوبارہ شاید ہی ملے۔ یہ دعا اور وقوف حج کا حاصل ہے۔

دعا مانگنے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنوں کے سامنے خدا سے مانگتے شرم آتی ہے۔ اپنے جن کے ساتھ ساری زندگی گزاری ہے ان کے سامنے بندہ جہاں کئی اور کام نہیں کر سکتا وہاں کھل کر دعا بھی نہیں کر سکتا۔ اس لیے اس دعا و وقوف سے ذرا سا پہلے چار پانچ گھنٹوں کے لیے الگ الگ ہو جائیے۔ اپنوں سے دور ہوں گے تو چیخ کر، رو کر، زمین پر گر کر، لیٹ کر، ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر، یعنی ہر سنت پر عمل کرتے ہوئے دعا مانگی جا سکتی ہے۔ عورتیں خیال کریں کہ چہرہ کپڑے سے نہ ڈھکیں یعنی روتے ہوئے آنکھوں سے آنسو یوں نہ پونچھیں کہ پورا چہرہ ڈھکا جائے۔

وقوف سے پہلے غسل سنت ہے۔ یہ ضرور کر لیجیے۔ موقع بنا کر مسجدِ نمرہ میں دیا جانے والا خطبہ بھی سن لیجیے۔ وقوف کی دعا کے درمیان پانی اور دوسری چیزیں کھائی جا سکتی ہیں۔ وقوف کی دعاؤں میں مغرب سے کچھ دیر پہلے دودھ پینا سنت ہے۔ یہ ضرور کر لیجیے۔ وقوفِ عرفہ میں کوئی خاص وقت زیادہ قبولت کا نہیں ہے۔ یہ سارا وقت قیمتی ہے۔ اس لیے اس میں غفلت نہ کی جائے۔ کوشش کیجیے کہ سورج اچھی طرح چھپ جانے کے بعد مزدلفہ کے لیے نکلیں۔ گروپوں کے کرتا دھرتا پہلے جانے کے لیے بہت شور مچاتے ہیں۔ لیکن اپنی عبادت کو ٹھیک رکھنا آپ کے اپنے ذمے ہے۔ کوشش کیجیے کہ دیر سے نکلیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *