ادب کی وظائفی تنقید”کچھ اساسی نکات”۔۔۔۔احمد سہیل

اردو میں وظائفی یا فعالیت کی ادبی انتقادیات {Functional Criticism} پر شاید ہی لکھا گیا ہو۔ 1999 میں راقم السطور نے اپنی کتاب ” ساختیات، تاریخ ، نظریہ اور تنقید” میں عمرانیاتی وظائفی حوالے سے ایک مضمون ‘ وظائفی ساختیات کا سفر: ادب سے عمرانیات تک ” لکھا تھا۔ مگر اس مضمون پر دلچسپی کا اظہار نہیں کیا گیا نہ اس پر بات ہوسکی۔

وظائفی نظرئیے کو آٹھویں اور انیسویں صدی کے بعد فروغ حاصل ہوا۔ جن میں 1789 کا فرانسیسی انقلاب پیش پیش تھا۔ جس میں  شدید تشدّد ، سفاّکی اور خونی دہشت گردی تھی۔ جس نے یورپ کو ہلا کر کر رکھ دیا کیونکہ اشرافیہ کو یہ ڈر تھا کہ  یہ انقلاب پھیل جائے گا۔ اور ڈرتے ڈرتے دانش وروں نے اس معاشرتی نظام کو حقارت سے روندڈالا۔ دوسرا انیسویں صدی کا صنعتی انقلاب تھا جس نے کئی مسائل پیدا کئے،تو سماجی نظام اور انصرام کے خاتمے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

وظائفی ادبی تنقید متن اور اس کی تشریح کا پیچیدہ نظام ہے جو ساختیاتی نامیات کے متن سے پیدا ہوئی۔ اس ادبی تنقید کو ادب کی تشریح کا خود کاریت کا نظریہ بھی کہا جاتا ہے۔ جارجیا پیٹریز کے شعبہ انگریزی کے مطابق وظائفی تنقید کا آغاز انیسویں صدی میں یورپ کے بورژوا طبقے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کو ” دشمنی کا فکشن” بھی کہا گیا۔ ادبی اور ثقافتی نقاد اور نظریہ دان ٹیری ایگلٹن نے وظائفی تنقید کے متعلق لکھا ہے۔ ” یہ تماش بینوں سے مابعد جدیدیت میں منتقل ہوا” ۔ جو نصابی ادبی تنقیدی تھیوری کے ساتھ سیاسی اور فکری میدان میں زیر بحث آئی۔ اور اس سب نے اپنی دلچسپی، رسائیوں اور مفادات کے تحت وظائفی نظرئیے کو اپنے طور پر استعمال کیا اور نتائج بھی اخذ کیے ۔ وکٹوریں عہد کے انگریزی کے شاعر اور نقاد میتھیو آرنلڈ تھے۔ ادبی نقاد ایس این دریکھا لکشمی لکھتی ہیں ” آرنلڈ تنقید شعریات کی تنقید ہے اور ان کی تنقید  نے عالم اعتقادات پر گہرے اثرات ثبت کئے ہیں اور آرنلڈ کی تنقید سائِنسی نقطہ نظر سے انفرادی اور تقابلی تشخص کے تحت لکھی گی۔ جس میں مصنف کے مقصد کو تلاش کیا جاتا ہے۔ اور اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ مصنف متن سے  باہر کیا سوچ رہا ہے۔اور اس کو واضح طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

لکشمی نے لکھا ہے کہ ” میتھو آرنلڈ کا سارا تنقیدی ڈھانچہ اخلاقی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ جس کی انھوں نے فلسفیانہ سطح پر تشریح بھی کی ہے اور آرنلڈ کا سارا کا سارا تناظر اخلاقی وظائفیت کا ہے اور انھوں نے قاری سے مکالمہ کرنے کے لیے مثالی نظریات اور نقطہ نظر سے بھی مدد حاصل کی ان کے خیال میں شاعری اخلاقی عقائد کا مجموعہ ہوتی ہے جس میں زندگی کے بحرانوں اور بدعنوانیوں کے خلاف فکری بغاوت بھی بھری ہوتی ہے۔

آرنلڈ نے ارسطو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ‘ شاعر تاریخی دلیلوں سے کہیں زیادہ درست ہوتا ہے کیونکہ اس کے تابع ہونے والے واقعات ایک ” اطلاع ” ہونے کے بجائے واقعات کو جذباتی طور پر تشکیل دیا جاتا ہے۔ وہ عقیدے کے اخلاقی نظریات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ادبی پیمانے، استعارے، انبساط، مسائل، معاشرتی معیارات کی تشریح ایک عرصے سے ادب کی تشخیص کرتے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کے متعلق کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ وظائفی تنقید ” کبیریت ” {MACROISM} کی رسائی کے تحت مطالعہ کی جاتی ہے۔

ادب کی تنقید اور تفاسیر مضّف کے تخلیقی اور انتقادی تحریروں کو معنوی اور مفہوم کے علاوہ اعتبار بھی بخشتی ہے۔ وظائفی نقد کی آگہی کے لیے ضروری ہے کہ ان کے بنائے ہوئے راستوں  کو سمجھا جائے جو وہ خود تخلیق کرتی ہے اس میں براہ راست یا بلا واسطہ کلام کیا جاتا ہے۔ جس سے کئی آئیڈیا دریافت ہوتے ہیں۔ اس میں تاریخ اور معاشرت کی ” حماقتوں ” یا نان سین سے بھی آگاہی ہوتی ہے اور دو لسانی تنقیدی میدان میں اپنے فیصلے صادر نہیں کرتے اور روایتی تبدیلیوں اور غیر ضروری مباحث سے اس لیے دور رہتی ہے کہ  زیادہ ” تصادم” کی صورتحال تخلیقی متن اور نقد کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ وظائفی تنقید معاشرے کے مختلف اجّزا میں نامیاتی مشابہتیں ہوتی ہیں وظائفی ادبی تنقید ادب اور معاشرے کا ایک ” نامیات” تصور کرتی ہے۔ اور معاشرے کے مختلف حصوں کو حیاتیاتی طور پر عضویہ تصور کرتی ہے۔ جس میں ایقان، مذہب، خاندان، معیشیت کی حرکیات کا عضویہ کہا جاتا ہے۔ جس کی جڑیں  مظہریاتی وظائف میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس میں بشریاتی گھن گرج بھی سنائی دیتی ہے۔ اس تنقیدی رویّے میں زمانی اور مکانی، تاریخی اور غیر تاریخی اور ثقافتی وظائف کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ جس میں تاریخ کی ارتقائی رمق بھی ہوتی ہے۔ مگر ساختیاتی تناظر میں وظائفی مطالعات ایک نظام کے تحت تجزیات کا دوسرا نام ہے۔ جس میں تاریخی ارتقا نسبتا ً ناگزیر ہوتا ہے۔ اس تنقیدی روّیے پر ایک زمانہ وہ بھی آیا کہ  اس میں شناخت کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ جو انتہائی کھٹن تھا اور کہا گیا کہ اس نظرئیے کے تحت تنقید نہیں لکھی جائے اور اس کا طریقہ کار یا مناجیات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ۔

ادبی وظائفی تنقید کے بنیادی نکات یہ ہیں:
1۔ متن کا موضوعی اور معروضی تجزیہ
2۔ نفس مضمون کا شعور اجتماعی
3۔ تحریمات، اقدار اور معمولات
4۔ انصرام متن کی دریافت اور تجزیہ
5۔ قبولیت، اہداف، پیکریت اور متن کی تدوین کاری
6۔ متنی تجزیات کے میزانیے کا تعیّن
7۔ معاشرتی اور ثقافتی حقائق کی آگہی
8۔ شعور اجتماعی اور تنقید کی جہات
9۔ معاشرتی عمل سماجیانہ کے متن پر اثرات
10۔ معاشرتی میکانیت کا متن کے فکری ڈھانچے پر اثرات .

اس موضوع پر2006 میں ٹیری ایگلٹن نے ایک کتاب ” تنقید کا وظیفہ: ریڈیکل مفکر {The Function of Criticism (Radical Thinkers)} لکھی ہے۔ اس کے علاوہ 1965 میں ایک ادبی جریدے ” انگلش جزنل” کی جلد 54 نمر 8 کی اشاعت میں اوٹس او ورگ {Otis O. Wragg } کا مقالہ بعنوان ” ادبی تنقید کی وظائفی رسائی “{A Functional Approach to Literary Criticism } شائع ہوا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *