جنسی اختلاط –شیراز چوھان سوز

جنسی اختلاط کیا ہے ؟ اسے کیسے سمجھا جائے ، اور اس بارے بات پر کتنی توجہ دی جائے؟ کیا جنسی اختلاط ایک ایسا عمل ہے کہ جسے صرف بچے جننے کیلئے کیا جائے ؟ کیا ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کرنا وہ بھی صرف حظ اٹھانے کیلئے، کیا واقعی سیکس اتنی معمولی چیز کا نام ہے؟ عورت اور مرد کے بیچ کا جسمانی رشتہ دل و دماغ کی انتہا ہے یا شروعات؟

دو لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اکٹھے رہتے ہیں وہ حظ اٹھانے کیلئے یہ بھول جاتے ہیں کہ دراصل محبت کیا ہے۔ وہ اختلاط کو محبت گردان کر اس فعل کا ارتکاب کرتے ہیں جو اوائل میں کسی کام کا نہیں۔ اول تو انہیں جان لینا چاہیے کہ ہمیں ایک دوسرے کے موافق ہونا ہوتا ہے ہمیں دوسرے کیلئے اپنی ذات کی تقسیم کرنا ہوتی ہے جنسی تسکین محض مڈ بھیڑ نہیں یہ تناسلی معانقہ ہے –

 جب زندگی تیز رفتاری سے گزاری جا رہی ہو تو راستے کے انتخاب کو بسا اوقات خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ ہمارے نزدیک ہر شے کا ایک معیار مقرر کر لیا جاتا ہے جس میں معیار ہی کو اہم سمجھا جاتا ہے جو خیالی تسکین دیتا ہے اسی طرح جنسی اختلاط کا بھی ایک معیار مقرر کر لیا جاتا ہے جو کہ جھوٹ کا ایک تسلسل ہے۔ یعنی ذاتی جنسی تسکین، اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ حالانکہ یہ ایک لغو سوچ کے سوا اہمیت کا حامل نہیں کیونکہ اس سے عجیب نفسیاتی وسوسے پیدا ہوتے ہیں، جیسے بچوں کا جسم چاہنا، اہلخانہ کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا سوچنا، رشتوں کو خاطر میں نہ لانا، عصمت دری کا فروغ اسی سوچ کے شاخسانے ہیں –

 یونانی دیومالا کے مطابق پہلے ہر انسان کی چار ٹانگیں ، چار ہاتھ ، دو سر اور دو مخصوص اعضاء ہوا کرتے تھے اور وہ پرمسرت زندگی بسر کر رہے تھے۔ تاہم یونانیوں کے دیوتا حسد کرنے لگے کیونکہ یہ مخلوق زیادہ محنت کر سکتی تھی اور دو سروں کی وجہ سے زیادہ ہوشیار تھی – ذئییوس کے طاقت ور آقا اولمپس نے منصوبہ بنایا اور انہیں ایک بڑی کمان کے ساتھ تیر مارا اور دو حصوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اس طرح مرد اور عورت تخلیق ہوئے جس سے وہ ایک دوسرے کی نزدیکی اور دوری سے بخوبی واقف تھے –

 یونانیوں کی اس افسانوی بات کو اگر سمجھا جائے تو قریب قریب سب ہی مانتے ہیں کہ مرد عورت کا خمیر ایک ہی ہے – اگر خمیر ایک ہی ہے تو ایک دوسرے کی دوری اور قربت کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہم اصل کو بھول چکے ہیں اور اگلے مراحل کو اوائل میں شمار کر کے سمجھتے ہیں کہ لذت کی دنیا پالی۔ اس میں ہم اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے کہ موجودہ جسم سے ہمیں کس حد تک رغبت ہے، محبت ہے یا انسیت بھی ہے یا نہیں۔ ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب ایک طرح کے مردہ جسم سے لذت لینے کی خواہش کی جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی ہم آغوشی جس میں دو جسم ایک جان بن جانے سے انکاری ہو جائیں اسے سیکس کہتے ہیں –

 سیکس عظیم خوشی نہیں ہے، بلکہ عظیم خوشی وہ جذبہ ہے جس کے تحت یہ جذبہ رو بہ عمل ہوتا ہے۔ جب جذبہ شدید ہوتا ہے تب اختلاط مکمل طور پر رقص کی صورت اختیار کر لیتا ہے لیکن یہ کبھی بھی مقصد اول قرار نہیں پاتا – ہمارے ہاں یہ عمل نشے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے، فقط حقائق سے بھاگنے کیلئے، مسائل سے جان چھڑوانے کیلئے یا کم از کم انہیں بھلانے کیلئے اور سکون حاصل کرنے کیلئے۔ باقی تمام منشیات کی طرح یہ بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے اور اگر انسان اسے منشیات کی طرح استعمال کرے تو یہ تباہ کن عمل ہے جو کہ منتخب کرنے والے کا اپنا انتخاب ہے – مگر بہترین حد درجہ بہترین سے مختلف ہے –

فطری طور پر وائن کا گلاس لبالب ہو جانے پر باقی بہہ نکلتا ہے، یہ ہی جنسی اختلاط ہے جبکہ بقیہ حصے کو محبت و قربت کا نام دے سکتے ہیں – اختلاط دراصل مصور کی مصوری جیسا ہے، کسی شاعر کی غزل جیسا ہے اور ایک مجسمہ ساز کی تخلیق جیسا جسے وہ تراش کر خالق کہلواتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اختلاط اس صورت میں ہو کہ مکالمہ کی صورت اختیار کر لے، جس میں ایک جسم دوسرے جسم کو مکمل طریقے سے سمجھ سکے، وگرنہ یہ سوائے مڈ بھیڑ کے کچھ نہیں —

شیراز سوز اولیا کے خطے سے ایسی آواز ہے جو روح کی سرخوشی کی تلاش میں ہے۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *