فرسٹریشن ۔۔۔۔ سردار علی خان

زیر سمندر واقع اس شاپنگ آرکیڈ کو عالمی شہرت حاصل تھی جہاں تک رسائی آبدوزوں کے ذریعے ممکن تھی۔ اس شاپنگ آرکیڈ میں ملبوسات کے مختلف النوع کے نمونے موجود تھے جبکہ بچوں اور نوجوانوں کی دلچسپی کی اشیاء کے لئے الگ سے ڈیپارٹمنٹ قائم تھے۔ کاؤنٹر پر کھڑی پری چہری حسینہ کا کام صرف گاہکوں کو برقی مسکان کے انداز میں خوش آمدید کہنا اور رخصت کرنا تھا۔ اس سیلز گرل کے سامنے رکھی چھوٹی سکرین پر بار بار سکرول کرتا ہوا نام صرف “فرنٹ ڈیسک آفیسر” تھا۔
اس نے ایسا لباس زیب تن کیا تھا جسے با آسانی نیم برہنگی کہا جاسکتا تھا۔ اس کا مصنوعی حُسن فطری حُسن پر حاوی تھا۔ مرد وخواتین ضروریات زندگی کی خریداری، جبکہ اوباش لونڈے اُس کی ایک جھلک پانے کے لئے یونہی اس کی ادائے دلبرانہ سے محظوظ ہونے کی غرض سے اِدھر اُدھر ٹہلتے رہتے۔ اس کی نگاہ ناز سب کے لئے مساویانہ ہوتی لیکن ایک   نوجوان کچھ زیادہ ہی سنجیدہ تھا۔ شاپنگ آرکیڈ سے پیوست ایک چڑیا گھر بھی تھا جہاں گاہکوں کے ساتھ ہم رکاب بچوں کی ہر وقت بھیڑ لگی رہتی تھی۔

بھیڑ کی ایک وجہ حال ہی میں چڑیا گھر میں داخل ہونے والا تن ومند نوجوان بن مانس بھی تھا۔ لنچ بریک میں فرنٹ ڈیسک آفیسر حسینہ شاپنگ آرکیڈ سے متصل کافی پارلر میں سستانے کے لئے بلاناغہ چلی جاتی اور ہر بار اپنے اس نوجوان عاشق کی دعوت بڑے اختصار اور بے اعتنائی سے ٹھکرا دیتی۔ پھر کبھی سہی۔۔۔ یہ کہہ کر وہ اسے وسوسوں کے دلدل میں دھکا دے کر چل پڑتی۔

کیفے میں کچھ کھا پی لینے کے بعد وہ سیدھا چڑیا گھر چلی جاتی، جبکہ اسکا عاشق سائے کی طرح اسکے ساتھ چلتا رہتا۔ چڑیا گھر میں وہ اس واحد بن مانس کے پاس چند لمحوں کے لئے ضرور ٹھہرتی۔ بن مانس حسینہ کو پاکر اور بھی زیادہ پرجوش اور پھرتیلا ہوجاتا تھا لیکن وہ دوسرے تماش بینوں سے ہٹ کر زیادہ اس حسینہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا اور خوشی سے سرشار ہوکر لوہے کی پینگھ پر اچھل کود شروع کردیتا تھا اور کرتب دکھانے کے بعد اپنی دونوں ٹانگوں اور پیٹ کے نچلے حساس حصے کو بار بار مسلتا اور مخصوص انداز میں سینہ کوبی کرنے کے بعد آہنی سلاخوں کے اس پار للچائی نظروں سے اسے تب تک تکتا رہتا جب تک وہ وہاں سے چلی نہ جاتی۔

ایک دن جب شام کے وقت اختتامی سائرن چار سُو گونجے، تو سارے لوگ آبدوز کی جانب چل پڑے کیونکہ یہ اُوپر خشکی پر جانے والی آخری آبدوز رہ گئی تھی۔ سب اپنی اپنی مخصوص نشتوں پر براجمان ہوگئے لیکن دو سیٹیں خالی تھیں۔ دو منٹ کے لئے پھر الرٹ جاری کردیئے گئے۔ لیکن کوئی نہیں آیا جس کے بعد  آبدوز کے خود کار دروازے آہستگی سے بند ہونا شروع ہوگئے۔

اگلی صبح آنے والوں نے حسب معمول کاؤنٹر پر ایستادہ حسینہ کو غائب پایا۔۔۔
اِدھر چہ مگوئیوں نے جنم لیا جو اس زیر آب آرکیڈ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی گئیں۔ اُدھر وہ حسینہ برہنہ جسم کے ساتھ بن مانس کے پنجرے میں ابدی نیند سورہی تھی جسے بڑے سفاکانہ طریقے سے جنسی وحشت کا شکار بنایا گیا تھا۔ دوسری جانب بن مانس کو وسوسوں اور گہری سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن پایا گیا۔

نوٹ: یہ افسانہ اَسی کی دہائی کے اوائل میں پشتو زبان میں لکھا گیا تھا۔ جسکا پشتو سے اردو ترجمہ  سردار علی خان صاحب نے کیا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فرسٹریشن ۔۔۔۔ سردار علی خان

  1. دراصل یہ میرا اپنا تخلیق کردہ افسانہ ھے. ازراہ کرم تصحیح کرلیں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *