سبز پوشوں اور بے ہوشوں کے درمیان ۔۔۔۔ ژاں سارتر

(پہلا حصہ)

مجھے سو فیصد سے زیادہ یقین ہے کہ جب بھی پاکستانی قوم کی جہالت کے جدید اسباب کا ذکر ہو گا تو اس میں سوشل میڈیا کا احمقانہ استعمال سر فہرست گنا جائے گا۔ سوشل میڈیا اورخصوصاً فیس بک نے اس قوم سے مطالعے کی عادت بالکل ہی ختم کر کے رکھ دی ہے جو پہلے بھی اس میدان میں ترقی یافتہ اقوام سے کم از کم دو تین صدیاں پیچھے تھی اور ہے۔ ہر برس چھ ستمبر آتا ہے اور فیس بک پر دو اقسام کے وہ “ماہرین عسکری امور”توپیں داغنا شروع کرتے ہیں جن کی اس شعبے میں مہارت کا یہ عالم ہے کہ وہ گن اور ہاوٹزر کا فرق تو دور کی بات، پلٹن اور پلاٹون میں امتیاز نہیں کر سکتے۔

 ان میں سے ایک طبقہ تو براہ راست اس نسل کا وارث ہے، جس کا خیال تھا کہ 1965 کی جنگ میں ہزاروں سبز پوش بزرگ قطار اندر قطار پاکستان کی نصرت کے لیے آسمانوں یا کسی نامعلوم مقام سے اترے تھے۔ یہ مبینہ بزرگ جو عسکری فنون کی تمام (قدیم) شاخوں پر عبور رکھتے تھے، کمپوزٹ آرمر کے بنے سفید گھوڑوں پر سوار ہوکر آتے تھے اور ان کی شمشیروں میں”ڈائریکٹڈ انرجی” والے لیزر ویپن نصب تھے جن کی مدد سے یہ کفار یعنی بھارتی فوج کے ٹینک بھسم کر دیتے تھے۔ ( معذرت خواہ ہوں کہ توہمات کی اس سے بہتر سائنسی توجیہہ میرے لیے ممکن نہیں)۔ اس کے علاوہ ان میں سے بعض بزرگوں کی ڈیوٹی آرمی ائر ڈیفنس کمانڈ میں لگائی گئی تھی۔تمام اہم تنصیبات پر جہاں کوئی ناہنجار بھارتی طیارہ ہماری طیارہ شکن توپوں سے بچ کر بم گراتا تو یہ سبز پوش کمال مہارت سے اسے کیچ کر لیتے اور ڈی فیوز کر کے قریبی دریا، ندی نالے یا خالی جگہ پھینک دیتے۔ روایات کے مطابق ان میں سے ایک بزرگ نے بعد ازاں جنوبی افریقہ کے مشہور کرکٹر جونٹی رہوڈز کو بھی تربیت دی تھی۔

سبز پوشوں پر یقین رکھنے والی اسی نسل کے ساتھ ایک اورظلم یہ ہوا کہ بعض سکہ بند لکھاریوں اور صحافیوں نے ایسی تحریریں بھی لکھ ڈالیں کہ جن میں اس جنگ کے دوران دین اسلام کے مقدسات کو بھی شریک کر لیا گیا (استغفراللہ)۔ گزشتہ دنوں بھی بعض احباب نے ایسی تحاریر کی جانب توجہ دلائی ہے جن میں کچھ لوگوں کے مبینہ خوابوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ان خوابوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو بات بہت دور تک نکل جائے گی۔ بہرحال اس طرح ایک مکمل سائنسی جنگ کو توہمات کی نذر کر کے ایک سوچ پیدا کی گئی جس کے مطابق پاکستان قطعی ناقابل تسخیر اور خالق کائنات کا مقصود ٹھہرا دیا گیا۔ اگرچہ اس سوچ کو 1971 میں ختم ہوجانا چاہیے تھا لیکن بقول کسے وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا (اگرچہ جناب لقمان طبابت نہیں، دانائی کے باعث حکیم کہلاتے تھے)۔اس سوچ کے ساتھ آج بھی بہت سے پاکستانی 1965 کی جنگ کو ایک مکمل اور فیصلہ کن جنگ سمجھتے ہیں، جس میں ہم نے بھارت کو ایسی شکست فاش دی جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔img_0013.jpg?ver=1.0

دوسری جانب قیام پاکستان کے ساتھ ہی وجود میں آنے والا ایک اور طبقہ ہےجسے متحدہ ہندوستان سے علیحدگی کا روگ ایسا لگا کہ اب تک بیچاروں کے زخم نہیں بھرے۔ اس طبقے کا کام اب صرف یہی رہ گیا ہےکہ ہر کامیابی کو ناکامی اور خوشی کو غمی ثابت کرتا رہے، چاہے کوئی سنے یا نہ سنے۔ اس طبقے کی رائے جو ملا نصرالدین کی صراحی والی حکایت سے کافی مماثلت رکھتی ہے، یہ ہے کہ اول تو کوئی خاص جنگ ہوئی نہیں، اور اگر ہوئی بھی تھی تو یہ جنگ پاکستان نے شروع کی، بھارت نے اگر کوئی حملہ کیا بھی تو محض “دفاعی حملہ” تھا اور جنگ میں بھارت کو مکمل فتح حاصل ہوئی بالکل ویسے ہی، جیسے پہلے طبقے کے خیال میں بھارت کو مکمل شکست ہوئی تھی۔ اگر کہیں مارے باندھے انہیں پاکستان کی اس جنگ میں واضح کامیابی تسلیم کرنا پڑ جائے تو فوراً اسے امریکی اسلحے کی برتری کے کھاتے میں ڈال کر پاکستانی فوج کو مطعون کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ بھارت بڑا اور پاکستان چھوٹا ملک ہے، اس لیے پاکستان کو بھارت کی مستقل برتری تسلیم کر کے خود کو بھوٹان کی سطح پر لے جانا چاہیے تاکہ ہم نہایت امن کے ساتھ ویسی ہی ترقی کر سکیں جیسی نیپال اور بھوٹان میں ہو رہی ہے۔

میں اس طبقے کو ان معنوں میں بے ہوش سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستانی قوم کی نفسیات کو جانے بغیر اس بات کے خواہشمند ہیں کہ ان کی ایک تحریر پر ایمان لاتے ہوئے یہ قوم ان کے پیچھے اسی طرح چل پڑے جیسے پائیڈ پائپر کے پیچھے چوہے چلتے ہیں۔بہر طور یہ دونوں طبقے اس جنگ اور اس کے اصل حقائق سے یا تو لا علم ہیں یا جان بوجھ کرقوم کو لا علم رکھنا چاہتے ہیں۔

جنگ ستمبر کی وجہ اور پہل کاری:

بھارت قیام پاکستان ہی کے وقت سے خطے میں بالادستی کے عزائم رکھتا چلا آیا ہے۔ کشمیر کے تنازعے نے پاکستان کو جو نقصان پہنچایا، اس کے باعث پاکستانی قوم کے اذہان میں فوج سے محبت کا جذبہ غلو کی حدوں کو پہنچا (اگرچہ اس محبت میں سیاستدانوں کی عدم کارکردگی اور دیگرکئی عوامل بھی شامل ہیں لیکن فی الحال اس کی تفصیل کا وقت اور موقع نہیں)۔ کشمیر کا معاملہ 1948 سے حل طلب چلا آرہا تھا اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت اس کے حل پر تیار نہ تھا۔ 1962 کی بھارت چین جنگ کے دوران صدر ایوب خان کے سیکرٹری قدرت اللہ شہاب کے بقول چین نے غیر سفارتی ذرائع سے پاکستان کو یہ پیغام بھجوایا کہ بھارتی فوج چینی سرحد پر مصروف ہے اور پاکستان کے لیے کشمیر میں پیش قدمی کا یہ سنہری موقع ہے۔ شہاب صاحب کے مطابق صدر ایوب نے اس نادر موقعے سے فائدہ اٹھانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور اسے ضائع کر دیا۔ قدرت اللہ شہاب کی ذاتی دیانتداری اپنی جگہ تاہم وہ ایک سول سرونٹ تھے، آزمودہ کار جرنیل نہیں۔ اگر ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھانے میں مبینہ ناکامی کو صدر ایوب کی کم ہمتی اور امریکا کے وعدوں پر اعتماد کی غلطی کے علاوہ کسی دوسرے زاویے سے دیکھنا چاہیں تو واضح ہوتا ہے کہ پاک فوج جو اس وقت مجموعی طور پر تقریباً دو لاکھ افراد پر مشتمل تھی، سات لاکھ بھارت فوج کو اتنے ہنگامی نوٹس پر شکست دینے کی اہلیت نہیں رکھتی تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ سات لاکھ میں سے تقریباً دو لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر ہی میں تعینات تھی۔

صدر ایوب نے یقیناً سوچا ہو گا کہ اس موقعے پر ہم پیش قدمی کر کے کشمیر کے بڑے حصے پر قبضہ تو کر سکتے ہیں لیکن کیا بھارت چین جنگ جس کے بہت زیادہ طول پکڑنے کا کوئی امکان نہیں تھا، کے بعد ہم بھارت کے ساتھ متصل ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد پر ہر جگہ بھارتی جارحیت کا دفاع کر پائیں گے؟ یاد رہے کہ اس وقت مشرقی پاکستان بھی موجود تھا جس کی 90 فیصد سے زائد سرحد بھارت کے ساتھ ہی تھی۔ اس لیے اگر صدر ایوب نے اس موقع پر کشمیر پر چڑھ دوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تو یہ اس قدر غلط بھی نہیں تھا۔

(جاری)

(ژاں سارتر لاہور میں مقیم اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ آپ نے وہ سب کچھ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جو ژاں پال سارتر خود اپنی زندگی میں نامکمل چھوڑ گیا۔)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *