صدارتی نظام۔۔مخالفت کیوں؟۔۔۔اسلم اعوان

ان دنوں پارلیمانی طرز حکومت کی بجائے ملک میں صدراتی نظام رائج کرنے کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں جن کے ردعمل میں صوبائیت کی حامی سیاسی لیڈر شپ کے علاوہ وہ اہل قلم بھی صدراتی طرز حکومت کو ملکی سلامتی کےلئے مہلک ثابت کرنے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،پچھلے تیس سالوں میں جنہوں نے منتخب سیاستدانوں کی کردار کشی کی مہم چلا کے پارلیمانی جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ ان نامور تجزیہ کار نے بھی صدراتی نظام کی مخالفت میں کئی کالم تحریر فرمائے ،جنہوں نے نوے کی دہائی میں ایک کثیرالاشاعت اخبار میں کارگل ایشو پہ ایسے”بامعنی“مضامین لکھے جو بلآخر ایک پھلتے پھولتے پارلیمانی نظام کی بیخ کنی کے علاوہ جنرل مشرف کے روش خیال مارشل لاءکی راہ ہموار بنانے کا وسیلہ بنے تھے، آج وہی اہل قلم،پارلیمانی نظام کے محافظ بن کے صدراتی طرز حکمرانی کو ملکی سلامتی کےلئے مضرت رساں باورکرانے کی جدوجہد میں سرگرداں نظر آتے ہیں،مگر افسوس کہ یہ اہل دانش صدراتی نظام حکومت کی خرابیوں کی سائنسی یا منطقی انداز میں توضیح کرنے کی بجائے ماضی کے ان کرداروں کو بطور دلیل پیش کر رہے ہیں جنہوں نے بزور شمشیر اقتدار پہ قبضہ کرنے کے بعد عوامی حمایت کے بغیر اپنی آمریت کو صدراتی نظام کے لبادے پہنا کے دنیاکو فریب دیا۔ایوب خان ہو،یحی خان ہو ،جنرل ضیاءالحق ہوں یا جنرل پرویز مشرف سب نے پہلے بندوق کے زور پہ حکومت پہ تسلط جمایا اور پھر دوام اقتدار کی خاطر جعلی ریفرنڈم کے ذریعے صدراتی نظام کی اصطلاح کا غلط استعمال کیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس ملک میں حقیقی صدراتی نظام کو کبھی آزمانے کی نوبت ہی نہیں آئی اور یہ عین ممکن ہے اگر جائز اور فطری انداز میں عوام کے ووٹوں سے یہاں اصل صدراتی نظام کو نافذ کرنے کی تدبیر کی جاتی تو وہ اس فرسودہ پارلیمانی جمہوریت سے ہزارہا درجہ بہتر نتائج دیتا،جس نے ہمیں سیاسی،جغرافیائی ،سماجی اور مذہبی اعتبار سے تقسیم کر دیا۔اے کاش کہ جو لوگ فوجی آمریتوں کو صدراتی نظام حکومت باور کرا کے لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر وہ دنیا بھر میں رائج اصلی صدراتی نظام ہائے حکومت کے نقصانات بارے ہمیں آگاہی دیتے تو یہ قوم انکی مشکور ہوتی۔بلاشبہ،اگر کوئی طالع آزما مصنوعی صدراتی نظام کی آڑ لیکر پھر سے ملک پہ آمریت مسلط کرنا چاہتا ہو تو اس کی مخالفت حق بجانب ہو گی لیکن ایک معروف جمہوری عمل کے ذریعے یہاں اگر صدراتی طرز حکومت رائج کرنے پہ اتفاق ہو جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہو گی۔جمہور کے حق حاکمیت کا ادراک رکھنے والے اہل دانش مانتے ہیں کہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت لائیں یا صدراتی طرز حکمرانی کے تحت امور مملکت چلانے پہ اکتفا کریں۔بہرحال!کسی بھی سیاسی نظام کی خوبیوں اور خامیوں کا انحصار سسٹم کو بنانے اور چلانے والوں کی صلاحیتوں سے مشروط رہتا ہے،اگر کسی مملکت کے ارباب حل و عقد خدا ترس اور اہل ہوں تو وہ عوامی فلاح و بہبود کی خاطر کسی بھی نظام ہائے ریاست سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،ماضی قریب میں دنیا کی کئی اقوام نے جن متضاد تجربات سے گزر کے ترقی کی منازل طے کیں،ان میں صدراتی اور پارلیمانی سمیت شاہی نظام ہائے حکومت کے تجربات بھی شامل تھے لیکن حیرت انگیز طور پہ مختلف نظام ہائے مملکت اپنانے کے باوجود سب نے یکساں ترقی کی اور آج بھی ان کے سسٹم منجمد نہیں بلکہ بتدریج تبدیل ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ خوب سے خوب تر کی تلاش کےلئے دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں اصلاحات اور تبدیلیوں کے عمل کو پیہم رواں رکھتی ہیں،ابھی حال ہی میں ترکی نے محض طیب اردگان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی خاطر آئین میں معمولی ردّ و بدل کے ذریعے پارلیمانی جمہوریت کو صدراتی طرز حکمرانی میں ڈھال لیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ برطانیہ کی پارلیمانی جمہوریت اور فرانس وامریکہ کا صدراتی نظام حکومت،مختلف ماحول میں متضاد تجربات کے ذریعے پختگی کے مراحل کرتا رہا اور متذکرہ بالا ممالک کے رجال کار کی اہلیت اور لیڈر شپ کے اخلاص کی بدولت صدراتی اور پارلیمانی،دونوں سسٹم کامیابی سے ہمکنار ہوئے،آج بھی دنیا کے متعدد ممالک میں صدارتی اور درجنوں ممالک میں پارلیمانی نظام ہائے حکومت نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں،اس لئے کسی نظام سیاست کو فی نفسہ مہلک اور دوسرے کو مطلقاً مفید کہنا درست نہیں ہو گا،ہاں! البتہ نظام کو چلانے والے رجال کار کی کم یا زیادہ استعداد ذہنی اور سیاسی اشرافیہ کے مقاصد سسٹم کی کامیابی یا ناکامی کا محرک بن سکتے ہیں کیونکہ دنیا کا ہر نظامِ سیاست اپنے برتنے والے انسانوں کے وظائف ذہنی کا معمول ہوتا۔برطانیہ نے پارلیمانی،امریکہ نے صدارتی اور جاپان نے شاہی نظام کے تحت ترقی کی لیکن چینی،روسی،کیوبن،مصری اور شمالی کوریائی اقوام نے (Authoritarian)استبدادی نظام ہائے حکومت کے ذریعے اقوام عالم میں مقام پیدا کیا،لحاظہ کسی واحد نظام حکومت کو قومی بقاءکے لئے ناگزیر ثابت کرنا خلاف عقل ہو گا،ہمیں اپنی تہذیب و ثقافت،ذہنی ساخت، سماجی رجحانات اور قومی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے،انگریز سے وراثت میں ملنے والی پارلیمانی جمہوریت پہ اصرار کرنے کی بجائے کسی متبادل طرز حکمرانی پہ غور کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ہرچند کہ قیام پاکستان ہی سے یہاں اچھی حکمرانی کا ایشو زیر بحث رہا لیکن ان سیاسی امور سے سواد اعظم کی لاتعلقی عقل اجتماعی کو بروکار لانے کی راہ میں حائل رہی،آج کی طرح ماضی میں بھی ایسی بحوثات فقط سسٹم کے بینیفشریز تک محدود رہیں،جن میں مقتدرہ کے علاوہ بااثر سیاستدان،میڈیا ہاوسیز اوربیوروکریٹس شامل تھے،اسلئے ہم سیاسی نظام کی استواری کی خاطر کوئی ایسا مربوط زاویہ نگاہ اپنانے میں ناکام رہے جو وقت کے ساتھ پھیلتی ہوئی اجتماعی زندگی سے ہمیں ہمقدم رہنے کے قابل بناتا،پارلیمانی جمہوریت کے کثیرالجہتی نظام نے ہمارے روایت پرست سماج کو کنفیوژ کر کے گروہی کشمکش کی دھار تیز کر دی،شدیدترین سیاسی پولرآئزیشن کے باعث قوم ذہنی طور پہ تقسیم ہوئی تو ملک دولخت ہو گیا،اس سانحہ سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم نے باقی ماندہ ملک کو بھی یونیفائیڈ رکھنے کے برعکس فیڈریشن کی چار اکائیوں میں منقسم کر کے مرکز گریز قوتوں کو نئی کشمکش کے اسباب مہیا کر دیئے۔اسی بےکار جدلیات میں نظم ریاست کمزور اور مسائل کا دائرہ وسیع تر ہوتا رہا،چنانچہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے دباو کے ساتھ اقتصادی فروغ کی راہیں تنگ ہوئیں،قومی دولت کے بڑے حصہ پہ چند افراد کے تصرف نے طبقاتی تقسیم کی لکیرکو گہرا کر دیا اور مایوس سیاستدانوں نے علاقائیت،لسانیت اور مذہبی فرقہ پرستی کے وسیلے ایسے تعصبات کی آبیاری کی،جس نے سوشل تبادلہ اور انسانوں کی بنیادی آزادیوں کا دائرہ محدود کر دیا،ذرائع ابلاغ میں مقابلہ کی فضا نے بے یقینی اورعدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا تو خوف کی اس فضا میں ہر فرد نے اپنی مذہبی، لسانی اور علاقائی عصبیتوں میں پناہ تلاش کرنے میں عافیت جانی،یہی ذہنی کیفیت،جس کا عکس ہمیں اٹھارویں ترمیم میں دیکھائی دیتا ہے،صوبائی خود مختیاری کی آڑ میں مختلف صوبوں میں بسنے والے پاکستانیوں کو علیحدگی کی طرف مائل کرتی نظر آئی،اگر یہاں ایک یونیفائیڈ گورنمنٹ کے تحت بڑے صوبوں کی بجائے چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جاتے تو علاقائی اور لسانی عصبیتوں کو پنپنے کا موقعہ نہ ملتا۔مالیاتی امور اور ابلاغ کے آلات پہ ریاست کا کنٹرول ہوتا تو دولت پہ نجی تصرف طبقاتی تقسیم کا سبب بنتا نہ کالا دھن سیاسی مساوات کی راہ روک سکتا۔جیمزاسٹیفن نے سچ کہا تھا” جمہوریت کو ابنائے سیاست نے ناجائز اہمیت دی ہے،ورنہ سیاسی طاقت فقط شکل بدلتی ہے اپنی فطرت نہیں بدلتی“۔ہمارے پڑوسی ملک چین نے جمہوریت کو مملکت میں داخل نہیں ہونے دیا اورپارٹی ڈکٹیٹر شپ کے ذریعے استبدادی نظام حکومت کے تحت ڈیڑھ ارب کی آبادی پہ مشتمل وسیع مملکت کو متحد رکھتے ہوئے مثالی ترقی کی ہے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *