اسماء مغل کے لفظوں کی اسیر ہوئی ایک لڑکی۔۔۔رمشا تبسم

اسماء مغل جو کہ  مکالمہ ویب پر ایڈیٹر ہیں ۔۔ان سے تعارف بھی مکالمہ کے ذریعے ہی ہوا۔۔بات نکلی تو دور تک پہنچی۔چند روز پہلے ان کی ایک  مختصر تحریر ان کی فیس بک وال پر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔۔۔۔ان کے الفاظ انتہائی معصوم مگر درد اور جذبات کا ایسا عنصر رکھتے ہیں کہ  پڑھنے والے ایک ایک لفظ کے اثر میں کئی  کئی  لمحے گزار دیتے ہیں۔ اور جنہیں   پڑھتے ہوئے  قارئین نا صرف محسوس کیا   بلکہ ان لفظوں کے درد سے لمحہ بھر کو ساکت بھی ہو گئے۔میں نے جب سے وہ الفاظ پڑھے میرے دل و دماغ میں موجود الفاظ, احساسات اور جذبات میں ایک ہلچل پیدا ہو گئی ۔کئی  بار  پڑھا  ،ہر بار ان لفظوں نے  مجھے بے چین کر دیا ۔ سوچا اس سے پہلے کہ اس تحریرکا اثر زائل ہو میں کچھ جذبات کو  لفظوں  کی شکل میں ڈھال دوں، کیونکہ جذبات اور احساسات اگر  لفظوں  کی شکل نہ لیں تو گھٹن سے انسان کا وجود  زخمی ہونے لگتا ہے۔
ان نے لکھا کہ ۔۔کمرہ وہ نہیں تھا ۔۔لیکن ہمارے بیچ ٹہلتی محبت وہی تھی۔۔ہاں لیکن اس چہل قدمی میں سکون نہیں بے چینی تھی۔۔بیقراری تھی۔۔۔
جو تمہارے چہرے پر پہلی نگاہ پڑتے ہی میرے پورے بدن میں سرائیت کرگئی تھی۔۔۔۔
کیا کیا نہیں تھا اس چہرے پر ۔۔۔ وہ چہرہ جس پر میں اپنی ہر خوشی بھی قربان کردوں تو کوئی رنج نہ ہو ۔بے اطمینانی،بے سکونی، رٙت جگے کی پرچھائیاں، پیشانی پر ابھری کسی سوچ کی گہری لکیر، بے خیالی۔۔۔تم وہاں تھے ہی نہیں۔۔۔غائب دماغی سی غائب دماغی تھی۔۔۔ دل نے بے ساختہ دعا مانگی کہ گر کبھی میرا ہجر تمہیں چُھوئے۔۔تب بھی تم مسکراتے ہی ملو کہ تمہیں ایسے دیکھنا مجھے کسی طور گوارا نہیں۔۔۔۔

 

ایسا ہی ہوتا ہے اسماء کہ بعض اوقات کسی شخص کی ذات میں ایسی کشش ہوتی ہے کہ ہم خود بخود اسکی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔ قدرت ہمیں ہمیشہ حادثاتی طور پر کسی موڑ پر کسی نہ کسی انجان شخص سے یوں آشنا کرواتی ہے کہ اس سے شناسائی ہونے کے بعد خود سے بیگانگی کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔۔۔جس شخص کی قربت خود سے بیگانہ کردے وہ شخص خواہ پاس ہو یاں دور اس سے روزانہ ملاقات ہو یا کبھی مل ہی نہ سکتے ہوں۔ اس شخص کو روزانہ دیکھتے ہوں یا کبھی دیکھ ہی نہ سکیں مگر اس شخص کی خوشی,غم ,پریشانی اور کامیابی ہم پر گہرا اثر رکھتی ہے۔۔۔ اسکی زندگی کی سلامتی کی دعائیں زباں پر جاری رہتی ہیں۔ کچھ لوگ بہت دور رہ کر بھی دور نہیں ہوتے نہ دل سے نہ ہماری ذات سے۔ ایسے لوگوں سے ملاقات کی چاہت اور امید بھلے نہ ہو مگر دعا میں اٹھتے ہاتھ اور زباں سے نکلتی ابتدائی دعا کے  لفظوں میں وہ شامل ضرور ہوتے ہیں۔ ہاں! بیشک وہ دل کو اتنے عزیز ہو جاتے ہیں کہ  وہ جہاں رہیں جس کے  ساتھ رہیں جس حال میں رہیں مگر خوش اور آباد رہیں۔۔۔

میں تمہیں دیکھتی نہیں۔۔حِفظ کرتی ہوں۔۔۔اِسی دیکھنے کی چاہ میں پانی بھی لبوں سے چھلک گیا لیکن کسے پرواہ۔۔۔۔وقت ہی کہاں تھا۔۔۔۔
میرے دل نے کہا۔۔۔”کچھ کہیے آپ”۔۔۔لیکن یہ فرمائش تم تک پہنچ نہ سکی۔۔۔۔جانے کب مٹیں گے یہ فاصلے کہ مجھے اپنی بات تم تک پہنچانے کے لیے الفاظ کی حاجت نہیں رہے گی۔۔تم دیکھو گے اور بس جان جا ؤ گے ۔۔۔۔
کاش تم بتا پاتے کہ کس مشکل میں ہو۔۔۔میرا روم روم سراپاء سماعت تھا۔۔۔۔ لیکن تمہارے لیے اپنی ہی حائل کردہ خلیج پار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔۔۔تم دل اور دماغ کو الگ الگ رکھ کر جو چلتے ہو۔۔۔
اسماء آپ نے جو کہا کہ  میں تمہیں دیکھتی نہیں حفظ کرتی ہوں۔ان سارے الفاظ اور جذبات میں یہ ایک جملہ محبت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔جو محبت کرتے ہیں وہ حفظ ہی کرتے ہیں۔دیکھنے سے بھی محبت کی توہین ہوتی ہے۔حفظ کر لیا جائے تو دیکھنے کی چاہ بھی نہیں رہتی۔ چھونے کی خواہش بھی نہیں۔اور ہمارا وجود بھی نہیں رہتا۔ کچھ باقی رہتا ہے تو  صرف “تو ہی تو”۔ محبت “میں” سے “ہم” ہونے کا نام نہیں بلکہ “میں” سے “تم” ہونے کا نام ہے۔جو “تم “ہو جائے وہ صرف حفظ کر تا ہے اور “تم” ہی بن کر  زندگی گزارتا ہے۔۔۔ عمیرہ احمد کہتی ہیں کہ محبت میں سمجھوتہ ہوتا ہے۔بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ محبت میں قربانی ہوتی ہے۔مگر مجھے تو یوں لگتا ہے اسماء کہ  محبت میں سمجھوتہ یا قربانی نہیں بلکہ قتل ہوتا ہے۔قاتل بھی آپ کی ذات ہوتی ہے اور مقتول بھی آپ کی اپنی ہی ذات ہوتی ہے۔انسان خود ہی اپنی “میں” کو ختم کر کے اپنی ہستی کا قتل کرتا ہے۔پھر ہی محبت کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھا جا سکتا ہے۔

سمندر میں بہت سی ندیاں آ ملتی ہیں اور سمندر کی لہروں میں رقص کرتی ہیں سمندر کا ظرف کہ  وہ آنے والی کسی ندی سے اسکا مسکن اسکا ماضی نہیں پوچھتا بلکہ اسکو اپنے وسیع سینے میں جذب کرتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ ندیاں ان کا پانی جو بہت مسافت کے  بعد سمندر کے کسی حصے میں پہنچا ہے کچھ لمحے یہاں رک کر آگے کی طرف روانہ ہو جائے گا۔ مگر سمندر پھر بھی اس پانی کی لہروں کو بلندی بخشتا ہے۔ اسے جوبن عطا کرتا ہے۔ انکے رقص میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے اور جب وہ لہریں آگے کی منزل پکڑتی ہیں تو سمندر کبھی انکی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا نہ ہی اپنا رخ بدل کر انکو روکتا ہے۔ یونہی کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں ان کو خوش دیکھ کر خوشی ہوتی ہے وہ جہاں رہیں انکی خوشی اہمیت رکھتی ہے۔ اور جب وہ جانا چاہیں تو ان کو کبھی روکنا نہیں چاہیے۔۔۔

آپ نے کہا کاش بات تم تک پہنچانے کے لئے الفاظ کی حاجت نہ رہے۔اسماء سب کچھ کہہ دینا اور کوئی سننے والا  ہو یہ کسی نعمت سے کم نہیں۔عذاب تو یہ ہے کہ نہ کہا جائے اور اس پہ آفت یہ کہ  کوئی خاموشی سننے اور سمجھنے والا بھی نہ ہو تو یہ گھٹن کسی اژدھا سے ز یادہ  زہریلا  زہر ہماری رگوں میں چھوڑتی ہے۔ جس کا نتیجہ موت نہیں صرف تڑپ ہوتی ہے۔۔۔یہ گھٹن آخری سانس سے بار بار  زندگی کی طرف کھینچ لاتی ہے۔اور پھر زندگی سے آخری سانس تک۔۔۔یوں سمجھ لیں کہ  انسان نہ مُردوں میں شمار ہوتا ہے نہ زندوں میں ۔نہ کوئی صحت کی دعا کر سکے گا نہ ہی کوئی فاتحہ پڑھ پائے گا۔زندگی اور موت کے درمیاں کہیں وجود اٹک سا جاتا ہے۔۔۔ اسماء محبت ہو جانے میں ارادے کا عمل دخل نہیں ہوتا۔محبت تو ایک کشف ہے۔ایک ایسا الہام جو دِلوں پر نازل ہوتا ہے۔اس کے اظہار کے لئے نہ تو شعر درکار ہوتے ہیں نہ نغمے۔۔۔یہ تو ایسی خوشبو ہے جو ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہوئی, برف کی دبیز چادر کو چیرتی ہوئی اپنی منزل پر پہنچ کر آہستہ سے دستک دیتی رہتی ہے۔ دل کے دروازے کھلتے جاتے ہیں اور یہ غیر فطرتی طریقے سے اندر داخل ہوتی جاتی ہے۔اور اپنی روشنی سے دِلوں میں محبت کا اجالا پھیلاتی ہے۔روح سے رشتہ جوڑ لیتی ہے۔دو روحیں یکجا  ہو جاتی ہیں پھر نہ عمر کا فاصلہ رہتا ہے نہ ہی ذات پات اور سرحدوں کا ۔۔ کچھ باقی رہتا ہے تو صرف دو روحوں کا ملن۔۔۔

 اگرچہ وہ لمحہ تمہارے دماغ میں اٹک کر رہ گیاہے ۔۔اور اس فاصلے کو طے کرنے کے لیے بھی صدیاں ہی درکار ہیں۔۔. لیکن اگر طے کرنا چاہو توبس اتنا ہی فاصلہ ہے کہ ہاتھ بڑھاؤ اور چھو لو۔۔۔۔اور گر نہ کرنا چاہو تو اتنی ہی دوری ہے جتنی تمہارے دل اور دماغ کے بیچ ہے اس لمحے کو لے کر۔۔
تم خود کو مثلث ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔اور مجھے اسی مثلث کی چوتھی جہت۔۔کہ کبھی ایک نہ ہو پائیں گے۔۔تمہاری ہر کہانی میں ایک کردار دیوار سے لگا سانس لیتا رہے گا۔۔اور زندگی کی ستم گری کہ وہ میں ہوں۔۔۔۔ اور وہ میں ہی ر ہوں گی۔۔۔۔
اور اس دیوار سے لگے سانس لیتے وجود کی زندگی میں ایک کردار ہمیشہ مرکز میں رہے گا ۔۔۔اور زندگی کی دریا دِلی کہ وہ تم ہو۔۔۔اور وہ تم ہی رہو گے!

اسماء جانے کا ارادہ کرنے والے بہت پہلے ہی جا چکے ہوتے ہیں ۔ کچھ لوگ آتے تو ہیں مگر وہ جا چکے ہی ہوتے ہیں۔ وہ تو ہماری حد نگاہ بہت مختصر ہے کہ  انکا دور جا چکا وجود ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتا یا ہماری نگاہ میں ایک ایسا اثر ہوتا ہے کہ  وہ جا چکے ہوتے ہیں مگر انکا وجود منجمند ہو کر ہماری آنکھوں میں بس چکا ہوتا ہے یا شاید  ہم جان بوجھ کر انکا وجود منجمند کر لیتے ہیں نہ صرف اپنے دل میں نگاہ میں بلکہ اپنے مکمل وجود میں۔ اور اس خود ساختہ منجمند کئے وجود کو ہم پگھلنے نہیں دیتے اس خوف سے کہ  کہیں وہ شخص جس کا ایک وہم آنکھوں میں سمایا  ہے اگر وہ آنکھ سے اوجھل ہو گیا تو اس کے  بعد یہ آنکھیں کچھ دیکھ نہیں پائیں گی یا شاید کوئی ان آنکھوں کو کھلا ہوا پھر کبھی نہ دیکھ پائے۔

اسماء کبھی کبھار انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی سنجیدہ ہونا پڑتا ہے۔نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ محبتوں سے منہ موڑنا پڑتا ہے کچھ رشتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ہنسی سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی قہقہہ لگانا پڑتا ہے۔کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔ کچھ مان رکھنے ہوتے ہیں۔کئی بار صرف دوسروں کی خاطر بہت سے رشتوں سے منہ موڑنا پڑتا ہے۔جس سے انسان کی اپنی روح  زخمی ہو جاتی ہے۔جس ایک شخص کے نہ ہونے سے  زندگی ادھوری ہو جائے اس سے بھی منہ موڑنا پڑتا ہے۔کسی ایک کا مان بچانے کے لئے اپنی محبت کے لئے اپنی ہی ہستی کو جان بوجھ کر نا پسندیدہ بنا لیا جاتا ہے۔ ہاں! یہ سچ ہے ایسے میں وہ شخص اپنے کسی رشتے کا مان سلامت رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے مگر ایسے میں ہمارا وجود رفتہ رفتہ گھٹن سے ختم ہوتا جاتا ہے ۔
مگر   بات پھر وہی ہے۔ کہ “میں” کا خاتمہ جب ہو ہی گیا۔۔محبت میں  جو “میں” سے “تم” ہو ہی گیا ۔۔ پھر اپنی اذیت ،تکلیف کہا ں محسوس ہوتی ہے ۔پھر صرف وہ سلامت رہے ۔۔۔۔۔اور اس کے مان سلامت رہیں۔۔۔۔
اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتی ہوں
تڑپ کر چپ رہو رَمشا یا آہیں بھر کے رہ جاؤ
بچھڑنا ہو جسے ہم سے بچھڑ کر ہی وہ رہتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 7 تبصرے برائے تحریر ”اسماء مغل کے لفظوں کی اسیر ہوئی ایک لڑکی۔۔۔رمشا تبسم

  1. اسلام علیکم!
    رمشا جی!نہایت ہی جذب کے ساتھ اپنے احساسات کو اسماء مغل کی تحریر پر تبصرہ کی صورت جو بیان کیا ہے ۔۔وہ قابل داد ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہا ں اسماء مغل کی تحریر ساکت کر دیتی ہے ۔۔۔محبت کے احساسات کو بہت خوبصورتی سے لفظوں میں ڈھالا ہے ۔۔۔کہ یہ لفظ دل و دماغ پر کئی لمحوں تک چھانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔۔۔۔ وہیں آپ کی تحریر
    نے کئی ساعتوں تک سحرزدہ کر دیتی ہے ۔۔
    محبت کے لفظ کو ادا کرنے کی صورت میں منہ اک شیرینی سی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا سورج کو چراغ دیکھانے جیسا ہے۔۔۔۔۔۔ سمندرکو گویا کوزے میں بند کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔۔۔۔ زندگی کی راہ گذر پر اگر کوئی الہامی وآسمانی ہمیں کچھ ملا تو وہ ہے محبت ۔۔۔۔ دل کو یکدم حساس اور اداس کر دینے والا جذبہ۔۔۔عقل وخرد سے ماورا۔۔۔ نصیب سے پرے۔۔۔ جی جناب ۔۔۔۔نصیب والوں کے ہی دل اس جذبے سے آشنا ہوتے ہیں
    بقول میرے👇
    اک خواب محبت ہے ۔۔
    ہر کسی کا نصیب نہیں
    نایاب محبت ہے
    محبت اک بے اختیاری جذبہ۔۔۔ محب اور محبوب کے درمیاں اک پل صراط کا کام کرتی ہے اک ربط۔۔۔ ایسا ربط جو محب زندگی کی آخری سانس تک قائم رکھتا ہے ۔۔۔ دنیا کے سمندر میں آکسیجن ہے محبت ۔۔۔ نہ صرف دو دلوں کی بلکہ دو روحوں کی غذا ۔۔۔ محبت میں ہجر میں بھی وصل کی کیفیت محسوس ہوتی ہے گویا ہاتھ بڑھا کر چھو لینے کا احساس ۔۔۔
    محبت اک ایسی تمنا۔۔۔۔۔اک ایسا اچھوتا احساس ہےجوصرف
    اک شخص ۔۔۔۔فرد واحد کے حوالے سے دل میں پیدا ہوتا ہے ۔۔۔اس فرد کے حوالے سے جو متاع حیات بن چکا ہوتا ہے ۔۔دل میں شان سے براجمان ہو چکا ہوتا ہے اس کے علاوہ دنیا کی ہر شے بے معنی اور بے مطلب لگتی ہے ۔۔۔ اس کے حوالے سے ہر بات، اس سے وابستہ ہر رشتہ، ہر احساس اچھا لگتا ہے ۔۔۔ محبت میں “میں”اور “تم” کا فاصلہ سمٹنے میں لمحے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔رمشا جی !آپ نے سچ کہا صرف “تو” رہ جاتا ہے
    بقلم خود👇
    تیرے اور میرے دل💕کا کچھ رشتہ ہے ایسا
    تو بن گیا ہے خوشبو ، گلاب ہو گئی میں
    “میں ” کچھ نہیں ہوں میں “تو” بن گئی ہوں
    اب “تو” میری حقیقت اور خواب ہو گئی میں ۔۔
    اللہ رب العزت ڈھیروں خوشیوں اوررحمتوں سے آپ دامن ہمیشہ بھرا رکھے آمین یا رب العالمین۔۔۔

    1. عظمی جی آپ کے لاجواب تبصرے کا ایک بار پھر سے شکریہ ۔آپ کا ایک ایک لفظ نایاب ہے۔ہمیشہ کی طرح آپ نے لاجواب تبصرہ کر کے لاجواب کر دیا۔ ڈھیروں دعائیں آپ کے لئے میرے اور اسماء کی طرف سے

  2. صرف اتنا کہوں گا آپکی تحریر پڑھ کر انسان کسی اور ہی دنیا میں خود کو کھویا ہوا محسوس کرتا ہے اور جو مجھ پر کیفیت گزری وہ بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں آپ کی آیندہ آنے والی تحریر کا منتظر ۔

Leave a Reply to شاہد محمود جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *