روپے کی بے توقیری کب تک

محمد لقمان
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے کرنسی کو مستحکم رکھنے کے دعووں کے باوجود امریکی ڈالر کی پرواز جاری ہے۔ نومبر کے آخری ہفتے میں تو ڈالر 108 روپے 60 پیسے میں فروخت ہوتا رہا۔ اگرچہ پچھلے ایک ہفتے میں ڈالر کی قدر میں ایک روپیے کی کمی ہوچکی ہے۔ مگر پاکستانی روپیہ مسلسل دباو میں ہے۔ ابھی بھی ایک ڈالر خریدنے کے لئے 107 روپے سے زائد رقم دینی پڑتی ہے۔ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ ڈالر کی توقیر بڑھتی ہی جاری ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق بیرون ملک سونا سستا ہونے کی وجہ سے اس قیمتی دھات کی پاکستان میں مانگ بڑھ گئی ہے،اور ادائیگیوں کے ڈالرز پاکستان سے باہر اسمگل کیے جارہے ہیں ۔ معاشیات کا ایک پرانا اصول ہے کہ اگر کسی کرنسی کی طلب بڑھ جائے تو اس کا مبادلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک ہفتے میں ڈالر کی قدر میں تین روپے کا اضافہ ہوجانا پاکستان کی کمزور معیشت کے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا۔ اس اضافے سے جہاں ماہرین معیشت اور عام عوام پریشان تھے۔ وہیں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جن کے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے۔ وہ طبقہ تھا برآمد کنندگان کا، جو کہ ہمیشہ ہی پاکستانی روپے کی قدر کم کرنے کے حامی رہے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ڈالر کی قدر میں اضافہ پاکستان کی درآمدات کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں ہیں۔اس سے نا صرف ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوسکتا ہے،بلکہ باہر سے منگوائی جانے والی تمام اشیائے صرف کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
تین دہائیوں میں افراط زر کی کم ترین سطح لانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے لئے سیاسی مضمرات کا باعث بن سکتی ہے۔ اشیائے صرف مہنگی ہوں گی تو اس صورت حال کا حزب اختلاف کی جماعتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ پانامہ لیکس کے ہنگامے کے بعد نواز شریف حکومت اس وقت مزید جھٹکے برداشت کرنے کی اہل نہیں ہے۔ سونے اور کرنسی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے ایف بی آر نے حال ہی میں کئی اقدامات لاٹھائے ہیں۔ محکمہ کسٹمز نے لاہور، سیالکوٹ، کراچی ، فیصل آباد اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر نہ صرف سکیننگ کے جدید آلات نصب کیے ہیں بلکہ ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں، جو کہ جہازوں پر چھاپے مارنے کے علاوہ مشکوک افراد کی چیکنگ بھی کرسکیں گی۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ سونے کی سمگلنگ کے علاوہ کئی اور وجوہات بھی ہیں جو کہ روپے کی بے توقیری کا باعث بن رہی ہیں۔ ان میں بچت سکیموں کے شرح منافع میں کمی کے ساتھ جائیداد کی خریدوفروخت پر پابندیاں شامل ہیں۔ اب کوئی اور کاروبار کرنے کی بجائے ڈالرز اور سونے کی خریدوفروخت زیادہ سود مند کام ہے۔ اس لیے پاکستان میں ڈالرائزیشن کے عمل کو روکنے کے لئے حکومت کو انتظامی اقدامات کے ساتھ پالیسیوں میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔
قیام پاکستان کے وقت ڈالر اور روپے کی قدر میں بہت کم فرق تھا۔ اسی طرح پاکستانی اور بھارتی کرنسی کی قدر بھی برابر تھی۔ بعد کے دور میں تو پاکستانی روپیہ بھارتی کرنسی سے بہت عرصہ تک تگڑا رہا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد تک ایک ڈالر پونے چار روپے میں مل جاتا تھا۔ لیکن 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اچانک روپے کی قدر میں کمی کردی گئی، اور ایک امریکی ڈالر 11 روپے کا ہوگیا۔ ضیاء الحق کے دور حکومت میں 17 روپے اور بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں 22 روپے کا ہوگیا۔ نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں ڈالر کی قدر 30 روپے تک پہنچ گئی ۔ بے نظیر بھٹو جب دوبارہ اقتدار میں آئیں تو ڈالر ساڑھے 40 روپے کا ہو چکا تھا۔ 1999 میں نواز شریف کے دوسرے دور کے اختتام سے ہی پہلے ڈالر 52 روپے کا ہوگیا۔ مشرف کے دور میں 62 اور آصف زرداری کے دور میں 98 روپے کا ہوگیا۔ گویا آزادی کے 52 سالوں میں روپے کی قدر 5 پیسے سے کم رہ گئی تھی۔ نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں ڈالر کی قدر کو ایک مرتبہ 98 روپے تک محدود کردیا گیا۔ لیکن صنعتکاروں کے دباو پر دوبارہ اسے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اور بعد میں ایسی آزادی ملی کہ یہ بدیسی کرنسی اور ہی اور جاتی گئی۔
اب ڈالر کی قدر 108 روپے ہونے کے بعد روپے کی اصل قدر تو شاید معدوم ہی ہوچکی ہے۔ اس وقت روپے کو سب سے بڑا خطرہ ڈالر کا مسلسل ملک سے باہر جانا ہے۔ سونے کی خریداری کے لئے ہر روز پچاس لاکھ ڈالرز کی مانگ پیدا ہوچکی ہے۔ جس کی وجہ سے روپے کی بے قدری رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ اب اسٹیٹ بینک کی طرف سے بار بار اوپن مارکیٹ آپریشن کے باوجود بھی مانگ اور فراہمی کے درمیان فرق ختم ہونے کو نہیں آرہا۔ اب حکومت کو اصل کاروبار کے فروغ کے لئے اقدامات لینے ہوں گے تاکہ عوام خصوصاً خواص منافع کے لئے سونے اور ڈالر کی تجارت کا سہارا نہ لے سکیں۔

Avatar
محمد لقمان
محمد لقمان کا تعلق لاہور۔ پاکستان سے ہے۔ وہ پچھلے 25سال سے صحافت سے منسلک ہیں۔ پرنٹ جرنلزم کے علاوہ الیکٹرونک میڈیا کا بھی تجربہ ہے۔ بلاگر کے طور پر معیشت ، سیاست ، زراعت ، توانائی اور موسمی تغیر پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *