پلیٹ میں مکڑی۔۔۔وہارا امباکر

بھوک ہر ایک نے محسوس کی ہوتی ہے لیکن ایسی بھوک جو زندگی کی سانسوں کی ڈور کو خطرے میں ڈال دے؟ یہ اور ہی چیز ہے۔ یہ تجربہ ہر کسی کو نہیں ہوتا۔ ایسی بھوک روایات کو جنم دیتی ہے۔ آپ کی رات کے کھانے کی پلیٹ ایسی قدیم روایات کا نتیجہ ہے۔ اس کی ایک حال کی مثال دیکھنے کمبوڈیا کی گلیوں میں۔

آج ہم جس چیز کو بھی نارمل سمجھتے ہیں، یہ روایت کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں شروع ہوئی، عام ہوئی۔ مشرقی یورپ کے کچھ عجیب لگنے والے رقص ہوں یا عام ہو جانے والے کئی فقرے۔ یہ سب کہیں نہ کہیں سے شروع ہوا تھا اور پھر ایسا معمول بن گیا کہ لگتا ہے کہ ہمیشہ سے ایسے ہی تھا۔ وسطی کمبوڈیا میں اگر سکاوٗن کے شہر میں جائیں تو یہاں کی ایک خاص ڈِش تلی ہوئی مکڑی ہے۔ اس کے اوپر سویا ساس، کچھ ادرک اور تھوڑا سا نمک۔ تلی ہوئی مکڑی ریڑھیوں پر بھی ملے گی اور مہنگے ریسٹورنٹ میں بھی۔ باہر سے آنے والے سیاح خاص طور پر اس کو پسند کرتے ہیں۔

مکڑی کمبوڈیا میں نہیں کھائی جاتی تھی۔ اس کو خوراک کا حصہ بنے زیادہ وقت نہیں گزرا۔ یہ تھائی زییرا سپائیڈر ہے، جنگل میں پائی جانے والی بڑی مکڑی۔ یہ میانمار، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں پائی جاتی ہے۔ اسے یہاں کے “حکیم” کچھ ادویات کے لئے استعمال کرتے تھے۔ ہاں، اسی خاص مسئلے کو حل کرنے کے لئے جو ایسے حکماء کی مقبولیت کے لئے مقناطیس ہے، لیکن اس کا استعمال کھانے کے لئے نہیں تھا۔

جب بھوک اس نہج پر پہنچ جائے کہ کچھ نہ ملے تو پھر جنگلوں کا رخ کرنے والے ہر وہ شے کھا لیتے ہیں جو زندہ رکھ سکے، خواہ وہ چیز عام طور پر کھانے کے قابل بھی نہ سمجھی جاتی ہو۔ جب آپ اپنی پلیٹ میں چاول دیکھتے ہیں تو خیال بھی نہیں آتا کہ کسی وقت میں یہ بھی اسی وجہ سے خوراک کا حصہ بنا تھا۔ جان بچا سکنا پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ کس چیز سے جان بچائی، یہ یاد رہ جاتا ہے، روایت بن جاتا ہے۔ پولینیشیا میں کھائی جانے والی فرن کی جڑیں بھی ایسی ہی جان بچانے والی خوراک تھی جس کا اضافہ زیادہ پرانی بات نہیں۔

مکڑی ایک ایسا کیڑا ہے جس کی فارمنگ نہیں کی جا سکتی۔ یہ مل کر رہنے والا نہیں، اکیلا رہنے والا جاندار ہے، اس لئے اس کو بڑی تعداد میں نہیں پالا جا سکتا۔ اس کو جنگل میں میں جا کر ہاتھ سے شکار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کو حاصل کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ یہ پروٹین کا زیادہ اچھا سورس بھی نہیں۔ اس وقت اس شہر میں ہر جگہ اس کے موجود ہونے کی وجہ چالیس سال قبل کمبوڈیا پر مسلط کی گئی اجتماعی بھوک تھی۔

کمبوڈیا ایک بہت ہی برے دور سے گزرا ہے۔ یہ خمیر روج کا دور تھا، جب سب کو برابر کر دینے کے جنون نے ملک کو ایسی ہی بھوک میں دھکیل دیا۔ (تفصیل نیچے دئے گئے لنک سے)۔ اس میں نہ صرف فاقہ زدگی تھی بلکہ کوئی شے خود سے ڈھونڈ کر کھانا بھی منع تھا۔ مساوات کا اصول تھا کہ اگر بھوک ہے تو سب کے لئے۔ خود کچھ ڈھونڈ کر یا اُگا کر کھا لینا بھی وہ جرم تھا جس کی معافی نہیں تھی۔ یہ مساوات کے اصول کی خلاف ورزی تھا۔

لیکن لوگ اتنے بھی بے وقوف نہیں۔ اگر مرنا ہی ہے تو پھر ہر انتخاب ہی مشکل ہے۔ کئی لوگوں نے اپنی ساری زندگی جنگل میں گزاری تھی۔ اور وہاں سے خوراک ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا لیکن اگر کہیں ایسا کرتے پکڑے گئے؟ اس کی سزا موت سے بھی بری تھی۔ اس لئے وہ خوراک جس کو ذخیرہ نہ کرنا پڑے، بڑے سائز کی نہ ہو، کھایا اور نگل لیا۔ کہیں پر کوئی کھمبی، کہیں پر بانس کی کونپل، کہیں سے چوری کئے گئے مٹھی بھر چاول۔ یا پھر ایک بڑی مکڑی۔

اس جگہ پر، اس شہر سکاوٗن کے قریب کسی نے اس مکڑی کو نوالہ بنایا ہو گا۔ اس کا ذائقہ بھی پسند آیا ہو گا۔ اس کو دیکھ کر بننے والی ذہنی رکاوٹ دور کرنے میں اس خوفناک بھوک نے مدد کی ہو گی۔ اور پھر، جیسا کہ اس کو کھانے والے کہتے ہیں، اس کا ذائقہ کیکڑے اور مرغی کے کچھ درمیان کا ہے۔ پہلی بار کی جھجک دور ہو جانے کے بعد یہ آسان خوراک بن گئی ہو گی، جس کو کھاتے ہوئے پکڑے بھی نہیں جاتے تھے۔ یہ مکڑی یہاں رہنے والوں کے لئے زندگی بن گئی۔ خمیر روج کا دور تو ختم ہوا، یہ روایت رہ گئی۔

پھر جیسا کے ہوتا ہے، اس سے کئی طرح کے پکوان بنے۔ سیاحوں کو اس کی بھنک پڑی۔ اس سے ہونے والی آمدنی سے یہ انڈسٹری بن گئی اور اس تیزی سے شناخت بدلتے ملک میں اس شہر کی پہچان۔ اس خوراک میں کمبوڈیا کی تاریخ لکھی ہے۔ پول پوٹ کے ڈراونے دور سے لے کر سیاحوں کی آمد تک کی تاریخ۔

اس کا مستقبل کیا ہو گا؟ معلوم نہیں۔ کمبوڈیا کے جنگل کم ہو رہے ہیں، ساتھ ہی یہ مکڑیاں بھی۔ سیاح بڑھ رہے ہیں۔ ہر سال کئی ملین سیاح کمبوڈیا پہنچتے ہیں۔ اس وجہ سے اس خوراک کی ڈیمانڈ بھی بڑھ رہی ہے۔ یا تو اس کی فارمنگ کا کوئی طریقہ ڈھونڈ لیا جائے گا، یا پھر یہ ختم ہو جائیں گی، یا پھر ان کو کھانے کا شوق ختم ہو جائے گا۔

لیکن ابھی کے لئے، یہ ہمیں خوراک کی تاریخ کے ایک اہم سبق کا بتاتی ہیں۔ آپ کی پلیٹ کے بہت سے کھانوں کی تاریخ اسی طرح کی ہے۔

کمبوڈیا کے ماضی پر

https://waharaposts.blogspot.com/2018/09/blog-post_818.html

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *