اناپرست۔۔۔۔محمد خان چوہدری

سماج میں ازدواجی مسائل پہ لکھی ہماری تمثیل،اسے غور سےسمجھنے کی کوشش کیجیئے،آج کل تو کوئی  ساس بہو کو یہ بنیادی مشورہ دے ہی نہیں  سکتی کہ بہو سننے کو بھی راضی نہیں  ہوتی۔
۔۔۔۔۔
“ثریا تم جتنی خوبصورت ہو اتنی عقلمند بھی ہو۔۔۔۔۔۔دو باتوں کا خیال رکھنا،بغیر کسی شرعی عذر کے میرے آگے زوجیت سے انکار نہ کرنا۔اور ہماری ذاتی زندگی کو اپنی امی کے ساتھ بھی شیئر نہ کرنا”۔

اکبر نے یہ جملے ہماری سہاگ رات کی صبح ناشتہ کرتے ہوئے کہے۔۔

میں مبہوت ہو کے رہ گئی ، اور جواب بھی نہ دے پائی ۔

اکبر سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور خوش قسمتی ہے۔وہ شمالی پنجاب کے ایک پورے گاؤں کے مالک کا بیٹا ہے۔اور تیسری شادی سے اکلوتا،اس کا رشتہ آیا تو لوگ سن کر ہی میری قسمت پہ رشک کرنے لگے،اس کے والد بڑے ملک صاحب بہت ہی شاندار اور دلکش شخصیت ہیں۔اس کی والدہ ملک صاحب سے عمر میں چھوٹی ہیں اور ایک حسین ترین خاتون،انہیں گاؤں میں لوگ احترام سے بےبے جی کہتے ہیں،میرے ساتھ تو بڑی بہن لگتی ہیں،اور اکبر تو اکبر ہے،انتہائی  خوش اخلاق اور وجیہہ ۔۔۔وہ مرد جو کسی بھی عورت کا خواب ہو سکتا ہے،

ہماری سہاگ رات میری سب سوچوں سے بھی زیادہ  لطف انگیز اور پر سرور گزری،اس کی صبح کہے گئے  یہ جملے میرے دماغ میں کندہ ہو گئے  لیکن مفہوم میں نہ سمجھ سکی،یہ عقدہ تب کھلا جب میں پہلی بار گاؤں جا کے چند دن رہی،گاؤں کی حویلی میں مردانہ بیٹھک علیحدہ ہے،بڑے ملک صاحب کی رہائش اس میں  اور باقی لوگ حویلی میں رہتے ہیں،جہاں ایک لائن میں کمرے اور ان کے سامنے برآمدہ ہے،ہمارے اور میری ساس کے کمرے کے درمیان ایک کمرہ مقفل رہتا ہے،دن میں اس کی صفائی  کے دوران پتہ چلا  کہ یہ ملک صاحب کا کمرہ تھا،میری ساس اس کے ساتھ والے کمرے میں سوتی ہیں،یہ کچھ عجیب ہے۔۔دوسری عجیب بات یہ صبح حویلی سے  ایک ٹرے میں ملک صاحب کا ناشتہ  اور دوسری میں ان کے استری کئے   ہوئے  تہہ شدہ کپڑے روزانہ میری ساس نوکرانی کے ہاتھ بیٹھک بھجواتی ہے، دن اور رات کا کھانا بھی اسی طرح بھیجا جاتا ہے،اور ملک صاحب اور میری ساس کو میں نے کبھی ملتے یا بات کرتے بھی نہیں  دیکھا،آخر ایک رات میں نے موقع  پا کر تنہائی  میں ساس سے اس سب معاملے کی حقیقت پوچھ ہی لی، تو ان کے آنسو گرنے لگے،کچھ دیر بعد انہوں نے اپنے  آپ پر  قابو پا کے یہ بتایا، ۔۔۔۔۔”بیٹی یہ پچیس سال پرانی بات ہے،اکبر اب ماشااللّہ ستائیسویں سال میں ہے۔۔
اس وقت یہ دو سال کا تھا،میں اس کا دودھ چھڑا دیا تھا،ملک صاحب اور میں اس بڑے کمرے میں سوتے تھے،وہ رات کو ہلکا سا کھانستے  تو میں ان کی چارپائی پہ  چلی جاتی، اس رات کچھ تھکن تھی
دوسرے دن   دائی  نے مشورہ دیا تھا  کہ اکبر کی رضاعت بند ہونے سے  میرے دوبارہ حاملہ ہونے کا چانس زیادہ ہے ، میں جاگ رہی تھی۔۔ملک صاحب دو مرتبہ کھا نسے، تو میں نے اپنی چارپائی پے لیٹے لیٹے یہ کہہ دیا،کہ آپ آج ایسے ہی سو جائیں، ملک صاحب نے مجھے تو کچھ بھی نہیں  کہا تھا،بس چادر اوڑھ کر کمرے سے چلے گئے ،وہ رات اور آج کی رات۔۔ملک صاحب پھر کبھی اس کمرے میں آۓ ہی نہیں ۔۔۔۔

وہ بیٹھک میں رہتے ہیں اور میں اس دوسرے کمرے میں، باقی نظام جیسے چل رہا ہے وہ تم  دیکھ چکی ہو، ہاں ایک چیز جو تم نے نہیں  دیکھی وہ یہ ہے  کہ میں رات کو جب تہجد کے لیے  اٹھتی ہوں۔تو پہلے یہ کمرہ کھول کے  ملک صاحب کی چارپائی پے بیٹھ کے رو لیتی ہوں”

میں نے یہ سوال بھی پوچھ لیا، کہ اتنے عرصے میں آپ ان سے معافی مانگ کے انہیں راضی کر لیتیں،آپ نے تو اپنی زندگی ویران کیوں گزاری ؟اس پہ  وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگیں،کافی دیر کے بعد بڑی مشکل سے صرف یہ کہہ سکیں، بیٹی یہ ملک محبت اور نفرت دونوں انتہا کی کرتے ہیں،اس تمام عرصے میں  ملک صاحب نے میرے معافی مانگنے کا موقع  پیدا ہی نہیں  ہونے دیا”

حویلی وہ آتے نہیں ،بیٹھک پہ  میں کیا کوئی   عورت جا نہیں  سکتی ،نہ کوئی  ان سے ہماری ذاتی زندگی پہ  بات کر سکتا ہے”

میں بے زبان سی ہو گئی  ، ہمت کر کے یہ پوچھا ،اتنی بڑی حویلی، نوکر چاکر، مزارعے، گاؤں میں برادری، دیگر امور کیسے چلتے ہیں۔۔۔بہت لمبی سانس لے کے کہنے لگیں،
سارے انتظام بہت منظم ہے، منشی پانچ تاریخ کو سب ملازموں کو تنخواہ دیتا ہے۔۔میرا جیب خرچ بھی باقاعدہ ہر ماہ نوکرانی کے ہاتھ بھیج دیتا ہے جو آج کل پچاس ہزار ہوتا ہے۔گھر کے سارے اخراجات کا حساب بھی اسکے پاس ہوتا ہے،میرا تو خرچہ ہی نہیں ، عید تہوار شادی پہ  بازار حویلی میں دکان اٹھا لاتا ہے کپڑے درزن سیتی ہے۔پھر چُپ ہو گئیں، آنسو ٹپ ٹپ گرتے رہے،
میں نے ہاتھ تھام لئے جن میں کپکپاہٹ تھی، طویل وقفے کے بعد کہنے لگیں،تم میری بیٹی ہو ، میرے حق میں دعا کرو کہ مالک دو کام آسان کر دے۔۔۔ایک تو سیف روپوں سے بھری پڑی ہے کسی طرح ملک صاحب وہ سنبھال لیں۔اکبر سے کہا تھا تو اسے ڈانٹ پڑ گئی تھی، دوسرے میری موت سے پہلے کسی طرح میں ملک صاحب سے  معافی مانگ کے انہیں راضی کرنے کے بعد مروں ؟
اکبر کے جملے میرے سر میں ہتھوڑے مارنے لگے۔اور مجھے ان کا مفہوم بہت اچھی طرح سمجھ آگیا  کہ کیوں مجھے اس کے آگے بغیر شرعی عذر کے زوجیت سے انکار نہیں  کرنا،اور کیوں اپنی ذاتی زندگی اپنی امی سے بھی شیئر نہیں  کرنی،کہ یہاں تو ایک دائی  کے مشورے نے ایسی قیامت ڈھا دی جو آج تک نہیں  ٹلی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *