صاحب اورصاحبہ ۔۔۔راجہ محمد احسان

ہم جو پریوں اور شہزادیوں کی کہانیاں پڑھتے آ رہے ہیں .۔۔ جو حسن کی دیویاں ہمارے من کے مندروں میں منصبِ خدائی پر براجمان ہیں ۔۔۔ لکشمیاں ، رادھائیں ، سیتائیں ، رضیائیں اور جودھائیں پھر میڈیا نے ہمیں ایشوریائیں ، مادھوریائیں،عالیائیں اور صبائیں دکھا ڈالیں تو بھلا ہم چھبیس سے زیادہ قمر، پانچ فٹ نو انچ سے کم قد، پچاس سے زیادہ وزن ،گوری سے کم رنگت،۔۔۔ غزالی آنکھوں کی بجائے چینی آنکھوں والیوں ، پھنیوں، کالی کلوٹیوں ، سانڈنی کی طرح موٹیوں، چلتی پھرتی بطخوں کو کیونکر قبول کر سکتے ہیں ۔۔۔ سچ پوچھو تو عورت کا جو تصور اذہانِ مرداں میں قائم ہو چُکا ہے زمین پر گھومنے والی عورت کہلائے جانے والی مخلوق ہمیں تو کسی اور جنس و نوع کی مونث لگنے لگی ہے ہزار میں سے کوئی ایک آدھی ادھوری عورت دِکھنے کو مل جاتی ہے ۔۔۔۔ ورنہ یہ صنفِ نازک کسی خلائی مخلوق سے کم نہیں۔

ویسے ایک منٹ کے لئے میرے تبصرے پر سنجیدگی سے سوچ لیں کہ کیا فلم اور ٹی وی کی اداکاراؤں نے عام لڑکی کو اسکے شوہر کے سامنے بے وقعت نہیں کر دیا؟؟ ۔ایک گھریلو عورت اپنے جسم اور حسن کو کس طرح اعتدال میں رکھ سکتی ہے ؟ جبکہ صبح سے شام صنفِ ثقیل نے قدرت کے اس تحفے کو کہ جسے اللہ کے بندوں کے سکون کے لئے پیدا کیا گیا ، کو بے سکونی اور مشقت میں مصروف رکھا ہوا ہے اور رات کو اس تھکی ہاری خادمہ سے جنسی راحت کا طالب۔ گھر کی تمام تر ذمہ داری حورانِ ارض پر ڈال دی۔ جیسا کہ یہ ہماری شریکِ حیات نہیں بلکہ زرخرید کنیزیں ہیں ۔ ایسے رویے نہ صرف خواتین کی ذہنی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ انکے جسمانی حُسن کو بھی دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں ۔مردوں کے اذہان میں حسنِ صنفِ نازک کا معیار اسی طرح بڑھ رہا ہے جیسے کہ پیار و محبت سے محروم صنفِ نازک کے خیالوں کے شہزادے عاشقی و تن سازی میں سلمان خان سے کم نہیں ۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”صاحب اورصاحبہ ۔۔۔راجہ محمد احسان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *