صاحب اور صاحبہ کا کھڑکی توڑ تماشا ۔۔۔عبیداللہ چوہدری

لاہور ایک طویل عرصے تک پاکستان کا ثقافتی مرکز رہا۔ ۲۰ سال قبل تک رائل پارک میں فلم میکرز کے دفتر اور ملتان روڈ کے فلم سٹوڈیوز پر ہمیشہ رش رہتا تھا۔ لاہور کے درجنوں سینما گھروں میں سے انگریزی فلموں کیلئے ۴ سینما ریگل، الفلاح ، پلازہ اور مون لائیٹ سینما زیادہ   مشہور تھے ۔ ضیا دور میں اسلام کے نفاذ اور فنون لطیفہ پر پابندی سے پہلے پہل تو فلم انڈسٹری تباہ ہوئی، پھر سینما گھر یا تو سٹیج تھیٹر بن گئے یا پھر انہیں گرا کر شاپنگ مال بنا دیئے گئے۔

ایک عرصہ بعد چند دن قبل چیئرنگ کراس سے گنگا رام ہسپتال کی طرف گاڑی موڑی تو پلازہ سینما میں بھی سٹیج ڈرامہ کے بورڈ دیکھ کر دل بجھ سا گیا۔ الفلاح سینما تو مدت ہوئے سٹیج کو پیارا ہو گیا تھا۔ ریگل اور مون لائیٹ کا کچھ علم نہیں۔ ویسے جب تک دیواریں مردانہ کمزوری کے اشتہارات سے بھری پڑی ہیں اس وقت تک مون لائیٹ سینما بند نہیں ہو سکتا۔ اور یہ بات تمام لاہوری جانتے ہیں۔

tripako tours pakistan

خیر ، تیزی سے فروغ پاتے ہوئے سٹیج ڈراموں کے کلچر میں ذو معنی فقرے، بیہودہ جملے اور فحش ڈانس ( لائیو  مجرا) عام تھا۔ آہستہ آہستہ لوگ اس “گندی” انٹرٹینمنٹ کے عادی ہوتے چلے گئے۔ پھر یہ کلچر میڈیا میں آیا اور سنجیدہ پروگراموں کی جگہ مزاحیہ پروگراموں نے لے لی۔ اس بدلتے کلچر سے ہماری سیاست بھی نہ  بچ سکی اور اس میں بھی ایک دوسرے پر طنز و مزاح اور ذو  معنی فقرہ بازی کا کلچر عام ہو گیا۔ ماضی میں ایک خاص مائنڈ سیٹ کی جانب سے محترمہ بینظیر کے بارے میں بہت بیہودگی کا مظاہرہ کیا گیا مگر اس کو کبھی بھی سنجیدہ حلقوں نے وقعت نہ  دی۔اس دوران ہمارے ہاں ایک پوری نئی نسل پروان چڑھی اور دیکھتے دیکھتے سوشل میڈیا پر ہر کسی نے اپنا اپنا ذاتی تھیٹر لگا لیا۔

Advertisements
merkit.pk

اس میں حیرانگی کی اب گنجائش نہیں کہ ہم ایک مکمل تماش بین قوم بن چکے ہیں۔ عالمی امور، انسانی حقوق، طرز حکمرانی اور قومی سیاست میں اب ہم اپنا تماشا  لگائے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اب یہ تماش بینی سرکاری سرپرستی میں ہورہی ہے۔ کوئی حکومتی ، سرکاری اور سیاسی راہنما ، کارکن اور سپورٹر اس فن میں دوسرے سے کم نہیں۔ خوف یہ ہےکہ بحیثیت قوم ہم اس سے مزید نیچے گرے تو کہیں ہم پاتال میں نہ  پہنچ جائیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply