نیوندرا۔۔ایک لعنت۔۔۔۔۔وقار عظیم

اس رسم یا رواج کا بلکہ یوں کہنا چاہیے اس خوبصورت کام کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوا جسے ہم آج کل ہم پنجاب میں ” نیوندرا” کہتے ہیں۔۔تاریخ کے صفحات پلٹیں تو پتا چلتا ہے کہ کسی غریب صحابی کی شادی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے ان کی مدد کرنے کو کہا تا کہ ان کی شادی پر اٹھنے والے اخراجات ان پر بوجھ نہ بنیں۔۔۔اس خوبصورت کام کی تلقین کرنے کا مطلب بوجھ بانٹنا تھا نا کہ “مگروں لانا (جان چھڑانا)”
آج کل یہ نیک کام ہمارے معاشرے میں خاص کر پنجاب میں کس قدر بدصورتی سے کیا جاتا ہے ملاحظہ ہو۔۔
ولیمے والے دن جب لوگ کھانا کھا کر باہر نکلتے ہیں تو ٹینٹ کے بیرونی دروازے کے دائیں یا بائیں جانب ایک یا دو صاحبان ایک چھوٹی سے پرات میں چاول رکھے ، ہاتھ میں کاپی پین تھامے اور پرات میں نوٹوں کا ڈھیر لے کر بیٹھے ہوتے ہیں۔۔جو جو حضرات کھانا کھا کر نکلتے جاتے ہیں۔۔۔کھانے کا “بل” جسے نیوندرا کہتے ہیں ادا کرتے جاتے ہیں۔۔گویا دعوت ولیمہ نہ ہوئی، ریستوران میں لنچ ہو گیا۔۔جہاں کھانا کھا کر بل دے دینا۔۔اور دینے والا بھی اپنا نام سر پر کھڑا ہو کر لکھواتا ہے۔۔لکھو جی ” حاجی محمد بشیر ولد خدا بخش پکی گلی والے ” ۔۔پورا یقین کیا جاتا ہے کہ ہم نے جو نوٹ دیے ہیں وہ کسی اور حاجی بشیر کے نہ سمجھ لیے جائیں۔۔ اب حاجی بشیر صاحب نے انیس سو نوے میں عبداللہ کی شادی پر سو روپے دیے۔۔جو کہ عبداللہ کی کاپی میں لکھے ہیں۔۔حاجی بشیر صاحب دو ہزار انیس میں اپنے بیٹے کی شادی کرنے چلے ہیں۔عبداللہ کو انوائیٹ کیا گیا ہے۔تو عبداللہ صاحب دعوت پر جانے سے پہلے اپنی کاپی نکال کر دیکھتے ہیں کہ حاجی بشیر مجھے کتنے پیسے دے کر گیا تا کہ میں بھی اس حساب سے اتنے ہی دے کر آوں۔۔ان شارٹ ” مگروں لا آوں”۔۔یہ کون سی امداد ہے ؟ جو آپ کاپیاں دیکھ کر رہے ہیں۔۔یہ ریکارڈ چیک کرنے کا رواج اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ ہمارے ایک عزیز کی شادی کے کارڈ لکھے جا رہے تھے۔۔۔اس عزیز کے چھوٹے بھائی جس نے پورے محلے کی شادیاں کھائیں اور وہاں پیسے دیے کو پاس بٹھایا گیا۔۔۔
“ہاں وئی! فلاں کو انوائیٹ کرنا ہے؟”
تو چھوٹے بھائی جواب دیتے
“ہاں ! بلانا ہے اس کی جانب پانچ سو گیا ہوا ہے (وہی پانچ سو جو ولیمے والے دن دیا۔۔”
” فلاں کو انوائیٹ کرنا ہے؟”
” ہاں! اس کی جانب ہزار گیا ہوا ہے۔۔”
یعنی لوگوں کو نہیں نوٹوں کو دعوت دی جاتی ہے۔۔
پچھلے دنوں مجھے ایک شادی میں جانے کا اتفاق ہوا یقین کریں اب تو پرات والے بھائی نے کھانا کھانے کا بھی انتظار نہ کیا،ہم لوگ کھانے کے منتظر تھے وہ کاپی اٹھائے ہر ٹیبل پر جانا شروع ہو گیا کہ “پہلے پیسے دے دیں”
ایک خوبصورت ترغیب کا اس قدر بدصورت استعمال؟
کیا کرنا چاہیے؟ ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
اب اس کا حل سن لیں
جب کوئی اپنی شادی پر بلائے۔۔آپ کاپیاں نہیں، اپنی جیب دیکھیں۔۔اگر آپ کی جیب اجازت دے تو چاہے دس ہزار روپے ہوں اگر اجازت نہ دے تو چاہے ایک ہزار روپے ہو۔۔۔ایک سفید انویلوپ (سفید لفافے ) میں وہ نوٹ ڈالیں اول تو ضرورت ہی نہیں اوپر نام لکھنے کی لیکن اگر دوست طعنے دینے والا یا ایسی باتیں نوٹ کرنے والا ہے تو اوپر اپنا نام لکھ دیں۔۔اور دعوت ولیمہ کے بعد دوست کو گلے ملتے ہوئے مبارکباد دیں اور اس کے ہاتھ میں وہ لفافہ پکڑا دیں۔پیسے دینا بھی ضروری ہوتا ہے تا کہ ہوٹل یا ٹینٹ کا جو بل ہوتا ہے اس میں سے ان کا بوجھ کم ہو جائے۔۔اگر تین لاکھ روپے بل بنا ہے اور یار دوست دو لاکھ تک دے گئے ہیں تو کافی حد تک بوجھ کم ہو گیا۔۔
کچھ لوگ شاید میری اس بات کو مذاق سمجھیں لیکن یہ سنجیدہ بات ہے کہ ولیمہ کے بعد اکٹھے ہونے والے پیسوں پر اکثر دولہے کے والد یا والدہ قبضہ جما لیتے ہیں اور وہ مروت کا مارا کچھ کہہ بھی نہیں پاتا۔۔ایسے میں ڈائریکٹ دولہے کو لفافہ دینے کا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے استعمال میں لا سکتا ہے ۔اور کچھ نہ سہی اس لفافے میں موجود پیسوں سے وہ اپنی نئی نویلی دلہن کو ایک ڈنر کروا سکتا ہے۔۔
اس رواج کو اب بدلنا ہو گا ۔۔اس کی اصل شکل میں واپس لائیں۔کاپیوں اور ریکارڈز کی بجائے اپنی جیب دیکھ کر دعوت ولیمہ پر جانے کی عادت بنائیں۔۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *