غریبوں کا مفت علاج کیوں نہیں کیا جاتا؟ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

SHOPPING
SHOPPING

ڈاکٹرمعائنہ مفت کر بھی دے، تب بھی ادویات مریض نے اپنی جیب سے لینی ہیں یا آپریشن  کے کچھ نہ کچھ اخراجات تو اپنی جیب سے ادا کرنے ہی ہیں . مریض مستحق نہ بھی ہو تب بھی علاج کرواتے وقت مستحق ترین بن جاتا ہے . ایک فری کیمپ کے دوران جس میں، میں نے اپنے تین کولیگز کے ساتھ دو دن میں بارہ سو مریض دیکھے اور ابتدائی دو دن کی دوا بھی مہیا کی اس میں مریضوں کا رویہ یہ تھا کہ کیمپ سے باہر نکلتے ہی دوا کی پرچی پھاڑ کر پھینک جاتے تھے  اور اگر کسی نے دوا کھا لی تو مہینے بعد بھی مفت معائنے کے لیے ہی دوبارہ آیا جبکہ فری کیمپ دو دن کا تھا . ایک نجی اسپتال  نے اپنا سسٹم چلانے کے لیے آمدنی اپنے مریضوں سے ہی جنریٹ  کرنا ہے.  بنا تیل کے تو کوئی گاڑی نہیں چل سکتی۔

دوسری جانب حکومت کی پالیسیز بھی پریکٹس  فرینڈلی نہیں ہیں۔ ڈاکٹرز  کو اوور آل (سفید کوٹ) نہ پہننے پر معطل کر دیا جاتا ہے. کیوں بھائی آپ نے اسپتال کے ہر وارڈ میں اے سی لگائے ہوئے ہیں جہاں گرمی نہیں ہوتی یا وہاں بجلی نہیں جاتی؟ پرائیویٹ اسپتال ہو یا سرکاری ، لوڈ شیڈنگ  ایک بہت بڑا مسئلہ  ہے. دوران آپریشن  بجلی چلی جائے تو تھیٹر لائٹ اور بھاری مشینیں ایمان کی روشنی پر نہیں چلتیں. کم از کم پہلے قدم کے طور پر سرکاری اسپتال  کو لوڈ شیڈنگ  سے مستثنٰی  قرار دیا جائے اور اسے نجی اسپتال  تک بھی بڑھایا جائے  ورنہ وہ چند لمحات جس میں بجلی کے جھٹکے لگا کر کسی کا بند دل چلایا جا سکتا ہے وہ قیمتی لمحات لوڈشیڈنگ اور چینج اوور کی نذر ہو جائیں گے۔ گزشتہ دنوں یہ خبر بھی سنی گئی کہ ایک سرکاری اسپتال میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے آنکھ کا آپریشن  درمیان میں چھوڑ دیا گیا  اور تین گھنٹے بعد لائٹ آنے پر آپریشن  مکمل تو کیا گیا لیکن آنکھ ضائع ہو چکی تھی.

اس ضمن میں چند تجاویز جن پر عمدرآمد کی صورت میں حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے :

ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز کی حفاظت کا مناسب انتظام کیا جائے۔

 ڈاکٹرز کی تنخواہ میں کم از کم اتنا اضافہ کیا جائے کہ انہیں اپنا گھر چلانے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کا رخ ہی نہ کرنا پڑے اور وہ درست معنوں میں شعبہ طب کو مسیحائی مین تبدیل کر سکیں.

جان بچانے والی مشینری بےحد مہنگی ہے اور اسے باہر سے منگوانا پڑتا ہے جس پر ہوشربا درآمدی ٹیکس نے ایسی مشینری کو بیشتر نجی اسپتالوں کی پہنچ  سے دور کر دیا ہے. اس شعبے کی طرف بھی ہمدردانہ غور کیا جائے اور اس پر عاید ٹیکس کم یا ختم کیا جائے. یہ سامان تعیش نہیں ہے، عوامی خدمت کے لیے بنیادی ضرورت ہے.

نئے ڈاکٹرز  کو پریکٹس اسٹیبلش  کرنے کے لیے اور اسٹیبلشڈ  اسپتالوں کو سہولیات  بہتر  بنانے کے لیے آسان اقساط میں بلاسود قرض  فراہم کیے جائیں۔

اسی طرح نیا اسپتال بنانے کے لیے مناسب ترین بلڈنگ اسٹرکچر کی تیاری میں بھی پیشہ ورانہ خدمات گورنمنٹ  لیول پر مہیا کی جائیں.

ڈاکٹرز کے ریفریشر کورسز بھی گورنمنٹ لیول پر کروائے جائیں، نہ کہ اس معاملے کو میڈیکل کمپنیز کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے تاکہ ڈاکٹر بیماری کا نیا علاج سیکھیں نہ کہ بیماری کی نئی دوا.

SHOPPING

میڈیکل انشورنس ڈاکٹرز اور مریض کے باہمی تعلقات کی بحالی کی طرف ایک عمدہ قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے جہاں مریض کو ڈاکٹر  کی تشخیص اور طریقہ علاج پر شک نہیں ہو گا  کہ محض مالی مفادات کے لیے ٹیسٹ /ادویات/آپریشن  تجویز کیا  جا رہا  ہے، وہیں جب ڈاکٹر  کو محنت کا مناسب معاوضہ  ملنے کا یقین ہو گا تو اس کی دلچسپی درست تشخیص اور بہترین طریقہ علاج کی طرف مبذول رہے گی.

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *