نٹ کھٹ کی واپسی۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ستر سے نوّے کی دہائی، تیس، پینتیس برس۔ میں جامعہ کی سطح پر ترقی کرتے ہوئے اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پروفیسر ہوا، شعبے کا صدر بنا، باہر کے ملکوں میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر کئی چکر لگا آیا ، لیکن پاکستان جانے اور اپنے آبائی مکان کے در و دیوار سے لپٹ کر انہیں پیار کرنے کا موقع میسر نہ آ سکا۔ دو تین بار میں نے پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش بھی کی، بلکہ ایک بار تو ویزا ملتے ملتے بھی رہ گیا، لیکن ہر بار کوئی کوئی سیاسی رخنہ اندازی ہو جاتی اور ویزے کا ملنا رُک جاتا۔ اُنیس سو پینسٹھ اور اس کے بعد انیس سو اکہتّر کی جنگوں نے رہی سہی کسر نکال دی اور انڈیا میں، (جو کہ میرا ا وطن نہیں تھا، اور جسے میں نے کبھی اپنا وطن نہیں سمجھا) ایک مہمان کی طرح رہتے ہوئے، میرا اپنے وطن پاکستان میں واقع کوٹ سارنگ کے اپنے گھر کو دیکھنے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔

 پھر وہ دن بھی آیا جب میں نے اپنے اختیار کردہ ملک کو بھی چھوڑ دیا اور باہر کے کسی ملک میں ہجرت کر جانے کے ارادے سے نکل پڑا۔ انگلستان، کینیڈا، اور آخر میں امریکا۔ میرے پاؤں کہیں بھی نہ ٹک سکے۔ دو برسوں تک سعودی عرب میں پروفیسر کے طور پر اقامت بھی اسی رسی میں ایک گرہ تھی۔ وہاں سے بھی میں نے پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکامی ہوئی۔ وہاں پاکستانی سفارت خانے کے ایک کارندے نے جو اردو کی شعر و شاعری کی محفلوں میں اکثر آیا کرتا تھا، کہا، ’’ آنند صاحب، اردو اد ب میں آپ کا اتنا بڑا نام ہے ۔اگر آپ کے پاس امریکا کا پاسپورٹ ہوتا تو کوئی وجہ ہی نہیں تھی کہ آپ کو ویزا نہ ملتا، لیکن انڈیا کے پاسپورٹ پر ویزا ملنا ذرا مشکل کام ہے۔‘‘ تو طے ہوا کہ امریکا کی شہریت لے ہی لی جائے۔

 لیکن اس سے پہلے میں چاہتا تھا، کہ اگر میں کوٹ سارنگ نہیں جا سکتا، تو کیا کوٹ سارنگ میرے پاس نہیں آ سکتا؟ ریاض میں مرحوم شبنم مناروی نے مجھے بتایا تھا کہ جناب علی محمد فرشی کوٹ سارنگ کے رہنے والے ہیں۔ کچھ پتہ نہیں تھا کہ کون ہیں، کتنی عمر کے ہیں، صرف ان سے اردو کے ادبی رسالوں کے حوالے سے واقفیت تھی۔خط لکھا۔ ایک محبت بھرا جواب آیا، اور اس کے بعد، خطوں اور کتابوں کا تبادلہ ہوا۔ آخر ایک خط میں دل کی بات قلم کی نوک سے نکل کر کاغذ پر بکھر ہی گئی۔ میں نے علی محمد فرشی کو لکھا، آپ کا کرم ہو گا، اگر آپ کوٹ سارنگ، اس کے گرد و نواح کے کچھ مناظر کی تصاویر اور گلی سے اٹھائی ہوئی ایک پڑیا بھر مٹی ڈاک سے مجھے بھیج دیں۔فرشی صاحب نے شاید مجھے دیوانہ سمجھ کر یہ کام فوری طور پر کر دیا اور ایک دن امریکا میں مجھے ایک پیکٹ ملا، جس میں کوٹ سارنگ کی پڑیا بھر مٹی تھی، اور ایک درجن کے لگ بھگ تصویریں تھیں……

“جنم بھومی کی مٹّی”

(علی محمد فرشیؔ کے توسط سے اپنے آبائی گاؤں کوٹ سارنگ کی ایک پُڑیا میں بند مُٹھی بھر مٹّی ملنے پر)

سجدہ ریز ہوا میں

 قشقہ کھینچا اپنے گاؤں کی مٹی سے

 کیا سوندھی خوشبو ہے

 کیسا لمس ہے

 کیا ٹھنڈک ہے اس کی

 مٹی، جو کھیتوں، کھلیانوں

 گلیوں، کوچوں

 اور گھروں کے کچے صحنوں اور چھتوں سے

 اُڑتی اُڑتی سات سمندر پار کئی برسوں سے مجھ کو ڈھونڈ رہی تھی

 اب میرے گھر تک پہنچی ہے

 اس مٹی میں بول رہے ہیں

 گھر، گلیاں، روزن، دروازے

 دیواریں، چھجے، پرنالے

 سب کہتے ہیں

 ہم تو نصف صدی سے اپنی آنکھیں کھولے جاگ رہے ہیں

 رامؔ بھی بنباسی تھے، لیکن

 چودہ برس گزرنے پر وہ اپنی اجُدھیا لوٹ آئے تھے

 تم کیسے بنباس سدھارے

 نصف صدی تک لوٹ نہ پائے!

کیا جانیں وہ میرے ساتھی

 میں اک بد قسمت پردیسی

 اپنی مجبوری کی زنجیروں میں بندھا ہوا زندانی

 سات سمندر پار کی اس بے رحم زمیں پر

 بے گھر بیٹھا سوچ رہا ہوں

 کب بنباس کٹے گا میرا؟

 کب میں اپنی جنم اجُدھیا، اپنے گھر کو لوٹ سکوں گا!”

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

 اور پھر میں اسی برس یعنی بیسویں صدی کے آخری سسکتے ہوئے دنوں میں امریکا سے امریکن پاسپورٹ پر لاہور اور پنڈی ہوتا ہوا کوٹ سارنگ پہنچتا ہوں۔ جس گاؤں کو میں نے سولہہ برس کی عمر میں چھوڑا تھا ، آج ستّر برس کی عمر میں میں ایک بار پھر اس سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔

 میں تنگ پتھریلی گلی میں داخل ہوتا ہوں۔ میرے پیچھے گاؤں والوں کا ایک جمگھٹ ہے، جو امریکا سے لوٹ کر آئے ہوئے Missing Progdigal کے ساتھ اس کے مکان تک جانا چاہتے ہیں ۔ ان میں شاید ہی کوئی ہو جو میری اپنی عمر کا ہو۔ نئی پود، اس کے بعد ایک اور نئی پود اور پھر ایک اور نئی پود! مجھے البئیر کامُو کے کسی ڈرامے میں ایک کردار کے مکالمے کی ایک سطر یاد آتی ہے: ’’بیس برس بڑا ہونا تو ایک نسل بڑا ہونا ہے، میری طرح ساٹھ برس یعنی تین نسلیں بڑا ہو کر دکھاؤ!‘‘ گویا وہ بچے جو میرے پیچھے پیچھے اس لیے چل رہے ہیں کہ دیکھیں تو میں کون سے گھر جاتا ہوں،مجھ سے تین چار نسلیں پیچھے ہیں۔ کھیلتے تو اسی طرح ہوں گے؟ میں سوچتا ہوں۔ گلی ڈنڈا؟ پتنگ بازی؟ بنٹے؟ چھپّن چھوت؟کنہاڑی چڑھنا؟ چینجی؟ کسی بچے سے پوچھ کر تو دیکھوں آج کل وہ کون سے کھیل کھیلتے ہیں!

میں راستہ پہچانتا ہوں، اور راستہ میرے قدموں سے آشنا ہے۔ میرے پیچھے چلنے والے چہ میگویاں کر رہے ہیں، کون سے گھر جائے گا یہ؟ لیکن میں جیسے ایک غیر مرئی تار سے بندھا ہوا چلتا جا رہا ہوں۔ لگ بھگ ایک سو قدموں کی دوری سے ہی میرے کانوں میں کچھ آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔ شاید میرے کان بج رہے ہیں، شاید میرے ذہن کے سمندر میں کچھ لہریں مچلنے لگی ہیں۔ شاید مکان نے ایک سو قدموں کی دوری سے ہی میرے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔۔۔۔۔ لیکن یہ آوازیں غیر مرئی ہیں۔ وہ دوسرے لوگ جو شاعر اور ادیب ہیں اور اسلام آباد، راولپنڈی سے میرے ساتھ آئے ہیں، ان آوازوں کو نہیں سن سکتے۔ میں رکتا ہوں تو آوازیں بھی رک جاتی ہیں، میں چلتا ہوں تو آوازیں پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ سبھی آوازیں مکان کی جانب سے میری طرف آ رہی ہیں۔ کچھ نسوانی ہیں، کچھ مردانہ، لیکن سبھی عمر رسیدہ ہیں۔ ان میں سے کوئی آواز بھی بچپن کی تازگی یا جوانی کی حدت سے لبریز نہیں ہے۔

(ڈاکٹر ستیہ پال آنند اردو ادب کا ایک بڑا نام ہیں۔ اردو، پشتو سمیت سات زبانوں کے ماہر آنند جی پاکستان کو اپنا وطن کہتے ہیں۔ آنند جی ان بیٹوں میں سے ہیں جن پر وطن کو ناز ہوتا ہے۔ “مکالمہ” احمد رضوان کی درخواست پر اپنی تحاریر دینے کیلیے، ستیہ پال آنند جی کا ممنون ہے اور انکو شائع کرنا اپنا اعزاز سمجھتا ہے۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *