مکالمہ کا شرف۔۔۔۔ریاض علی خٹک

انسان اشرف المخلوقات ہے.

اس میں بہت سے اوصاف موجود ہیں. جن میں سے ایک اعلیٰ وصف مکالمہ ہے. 

جانور بھی مخلوق ہیں , مگر اشرف نہیں ہیں, اس لیے انکا مکالمہ کچھ ہی دیر میں سینگ پھنسا دیتا ہے , بھونکنا کہلاتا ہے , پنجے چلوا دیتا ہے , ٹکریں لگوا دیتا ہے. ایسا انسانوں میں بھی ہوتا رہتا ہے , مگر انسانیت اسے مکالمہ نہیں جنگ کہتی ہے , اہلِ دانش اسے فساد کہتے ہیں , اور اہلِ نظر اسے عذاب کہتے ہیں.

احساسات نے اپنے ابلاغ کیلئے انسان کو اکسایا اور ایجادی فطرت کی مدد سے اس نے لفظ بولنا سیکھا اور یہ طریقہ رائج ہوا. ان الفاظ نے اپنی بقا کیلئے دہائی دی تو انسان نے رسم الخط ایجاد کیا. پس ثابت ہوا کہ لفظ دراصل احساسات کی زبان ہیں.

انسان نے اپنی بقا کیلئے اپنے پیٹ کی فریاد پر اوزار ایجاد کیے. ان اوزاروں سے اس نے اپنے اور اپنےخاندان کا پیٹ پالنے کیلئے شکار کیا. یہی اوزار ہی اس پر غیر انسانی طاقتوں کے حملے میں حفاظت کے کام آئے. پیٹ بھرنے کی حرص بڑھی تو طاقت کے حصول کی حرص بڑھی. وہی اوزار جو محض بقا کیلئے ایجاد ہوئے تھے, ِ وہ حرص کی بساط پر پھیلی لامتناہی جنگ کا ہتھیار بن گئے. اب سمجھنا مشکل نہیں کہ درست استعمال نے جسے اوزار اور بقا کا ضامن بنایا تھا. غلط استعمال نے اسے ہتھیار اور فنا کا ضامن بنا ڈالا. عین اسی طرح جو لفظ اپنی اصل میں احساسات کے امین تھے. انہی الفاظ کے غلط استعمال نے انہیں فساد کا بیج بنا دیا.

احساسات کا فرق لفظوں سے بیان ہوتا ہے, دلیل سے یکساں ہوتا ہے, برداشت سے عام ہوتا ہے, تسلیم کرنے سے تسلیم ہوتا ہے, لفظوں کو نشتر بنانے سے موضوع نہیں مقابل کا احساس زخمی ہوتا ہے, اور زخم دے کر تسلیم نہیں ہوتا بغاوت یا غلامی ممکن ہے, انسان اشرف المخلوقات ہے. وہ غلام پیدا نہیں ہوا, تو باغی بنانے کا فائدہ نہیں, کہ آپکی سوچ ہی محدود ہوگی.

مکالمہ کیا ہے…؟ 

کسی شیشے کے مقابل کسی آئینہ کے روبرو اپنے آپ سے گفتگو کریں, اپنے چہرے کے تاثرات اور لفظوں کی کاٹ ناپنے کو مد مقابل کو کوئی دوسری ذات تصور کریں, جو دوسری ذات ہے, پر آپ ہی جیسا ہے, کس لفظ پر کیسا تاثر روبرو ہوتا ہے, کون سا رنگ چہرے پر رونما ہوتا ہے, آنکھوں میں جھانکیں, کیا ان آنکھوں میں جھانک کر آپ لفظوں کے نشتر چلا سکتے ہیں…؟  اس جواب کے ساتھ مکالمہ کریں.

مکالمہ اس گفتگو کا نام ہے. جس میں موضوع حریف ہوتا ہے. نہ کہ مکالمہ کرنے والے. مکالمہ بھوک پر ہو. تو مقابلہ بھوک سے ہے نہ کہ بھوکے سے.  مکالمہ جہالت سے ہو تو مقابلہ جہل سے ہے نہ کہ جاہل سے.

مکالمہ کرنا سیکھو نہ کہ گریبان پکڑنا. کہ مکالمہ محبت ہے. محبت کیلئے ہے, محبت سے ہے, محبت پر ہے.

ریاض علی خٹک اس علاقے سے ہیں جہاں ہتھیار مرد کا زیور شمار ہوتا ہے۔ مگر وہ مکالمہ پر یقین رکھتے ہیں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *