پولیو زدہ پاکستان۔۔۔۔ محمد شاہ زیب صدیقی

ہمیں اب تسلیم کرنا ہوگاکہ ہم من حیث القوم بے وجہ کی خوش فہمی کا شکار ہیں، ہمیں یہ بھی لگتا ہے کہ ہم تاریخ کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور خطرناک قوم ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ہر شخص ہرلمحہ ہر پل یہی سمجھتا ہے کہ دُنیا کی تمام اقوام ہماری دشمن ہیں سب ملکر ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہیں۔۔۔۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ تو ہم سائنس سیکھنا چاہتے ہیں،نہ ہی کسی شعبے میں ترقی کے خواہاں ہیں، نہ اپنی نسلوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔اس کا عملی مظاہرہ ہم نے چند دنوں قبل دیکھا جب پورے سوشل میڈیا پہ ایک campaign چلائی گئی جس میں پولیو مہم کو اندھادھن نشانے پہ رکھا گیا۔۔۔۔ نشانہ بنانے والوں میں سے 99 فیصد تک کو علم تک نہیں تھا کہ پولیو ویکسین آخر کیا بلا ہے یا یہ کیوں پلائی جاتی ہے؟

پولیو ایک لاعلاج مرض ہے جو خاص قسم کے وائرس کی وجہ سے پھیلتا ہے۔۔۔ پولیو ویکسین میں بائیوٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اُس وائرس کو کمزور کرکے (یا مُردہ حالت میں) انسانی جسم میں داخل کیا جاتا ہے،جس کے باعث انسانی جسم میں موجود قدرتی مدافعتی نظام خطرے کو بھانپ کرactivate ہوجاتا ہے اور اس کمزور /مُردہ وائرس کو ختم کردیتا ہے۔ یہ ویکسین بچوں کو بار بار پلانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کا مدافعتی نظام activate رہے اور بعد میں جب کبھی پولیو کا اصل طاقتور وائرس حملہ آور ہو تو ہمارا مدافعتی نظام فوراً خطرے کو بھانپ کر اسے مار ڈالے۔ اگر یہ ویکسین نہ پلائی جائے تو کبھی بھی پولیو کا طاقتور وائرس کھانے اور پانی کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوسکتا ہے، جس کا مدافعتی نظام کو بروقت علم نہیں ہوپاتا اور اسی کا فائدہ اٹھا کر یہ وائرس حملہ کرکے انسان کو ہمیشہ کے لئے معذور کردیتا ہے۔ اس وقت دُنیا میں پولیو ویکسین 2 طرح کی ہیں، ایک سِرنج کے ذریعے دی جاتی ہے جبکہ دوسری قسم کی ویکسین پلائی جاتی ہے، آج سوائے پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا کے پوری دنیا میں پولیو کا خاتمہ ہوچکا ہے۔۔۔۔

محمد شاہزیب صدیقی کی گزشتہ تمام تحاریر کا لنک

پولیو وائرس انسانی جسم میں زندہ رہتا ہےلہٰذا اگر کسی جگہ پہ 9 بچوں کو پولیو ویکسینیشن دی جاتی ہے تو دسواں بچہ بھی محفوظ رہتا ہےکیونکہ پولیو وائرس کو زندہ رہنے کے لئے انسانی جسم چاہیے ہوتا ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تین ممالک کے علاوہ پوری دنیا میں پولیو وائرس ختم ہوچکاہےلہٰذا وہاں ویکسینیشن کی ضرورت بھی نہیں رہی ۔۔۔۔ اسی خاطر اب پوری دنیا کی کوشش ہے کہ اِن تین ممالک سے بھی یہ وائرس ختم کیا جائے جس کے لئے وہ فنڈنگ تک فراہم کررہے ہیں کیونکہ اگر ان ممالک سے یہ وائرس ختم نہ کیا گیا تو اِن ممالک کے باسیوں کی دیگر ممالک کی جانب آمد و رفت سے پولیو دوبارہ دنیا بھر میں پھیل سکتا ہے، اگر اِن ممالک نے بروقت اقدامات کرکے پولیو ختم نہ کیا تو ممکن ہے کہ جلد پوری دنیا فنڈنگ ختم کرکے ان ممالک کی عوام کے اپنے ملک میں داخلے پہ پابندی لگا دیں۔۔۔۔

اس ویکسین پہ سب سے بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ یہ انسانوں میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کردیتی ہے، اگر تو اس اعتراض میں ذرہ برابر بھی حقیقت ہوتی تو یقیناً آج پاکستان ، افغانستان اور نائیجیریا میں آبادی سب سے کم ہوتی اور بقیہ دنیا کے ممالک کی آبادی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہوتی، لیکن حقائق اس سے اُلٹ ہیں۔۔۔۔ دُنیا بھر میں کسی بھی بیماری کو ختم کرنے کے لئے مختلف ویکسینیشن کی جاتی ہیں، یورپ نے دیگر کئی بڑی بیماریوں مثلاً ہیپاٹائٹس، ٹی بی، کالی کھانسی، خسرہ، کن پھیڑے وغیرہ سے نجات ویکسینیشن کے ذریعے ہی حاصل کی ہے۔۔۔۔ وہاں اب صرف وہی لوگ ایسی بیماریوں کو شکار ہوتے ہیں جو ہماری طرح سازشی نظریات میں پڑ کر اپنے بچوں کی ویکسینیشن نہیں کرواتے۔

خدارہ ! اپنے بچوں کی پرواہ کیجئے، پولیو ایک ایسا لاعلاج مرض ہے جو کسی کو بھی پوری زندگی کے لئے اپاہج بنا دیتا ہے اور اپاہج ہونا کتنا بڑا عذاب ہے یہ آپ کو کوئی اپاہج ہی بتا سکتا ہے۔۔اپنے بچوں کی زندگیوں سے مت کھیلیے، بعد میں پوری زندگی پچھتاوے سے بہتر ہے کہ ابھی احتیاط کی جائے۔۔ ہم قطعاً کوئی ایسی ترقی یافتہ قوم نہیں ہیں جس سے ڈر کر پوری دنیا ہمارے خلاف سازشوں میں لگ جائے، اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بننے سے بچائیں اور اِس تصوراتی دنیا سے باہر نکلیے کہ ہم کوئی ایسی طاقتور قوم بن چکے ہیں جس سے دُنیا کی سُپر پاورز لرز رہی ہیں۔۔۔۔ اپنے بچوں کو سازشی نظریات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔۔۔ پاکستان میں پولیو کن علاقوں میں سب سے زیادہ ہے؟اس سوال کا جواب آپ خود تلاش کیجیئے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ پاکستان میں پولیو نہ ختم ہونے کے کیا محرکات ہیں۔۔۔اور آخری بات ۔۔۔ترقی یافتہ قوموں کو کبھی بھی اُس قوم سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا جو ذہنی طور پہ مفلوج ہوچکی ہو۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *