سعودی عرب اورجے یوآئی کا تازہ رومانس ۔ رعایت اللہ صدیقی

(ایڈیٹرز نوٹ: صاحب مضمون نے تحریر کے ساتھ پیغام دیا کہ وہ خود جمیعت کے کارکن ہیں اور موجودہ صورتحال پہ آزردہ۔ “مکالمہ” اس تحریر کو اس امید پہ چھاپ رہا ہے کہ جے یو آئی کے ترجمان یا ہمدرد دوست اس کا جواب دے کر مثبت مکالمے کی روایت کا آغاز کریں گے)

سعودی عرب کے عیاش شاہی خاندان اورایران کے متعصب ملاوئوں، دونوں کی یہ خواہش رہی ہے کہ خدا کی زمین کوشیعہ سنی خونریزی اورفساد ومنافرت سے بھر دیا جائے تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اس پالیسی کا حصہ ہے کہ خودسعودی عرب اورایران کی سرزمین کواس فساد کی بو بھی نہ لگنے دی جائے اور دونوں ملکوں میں تمام شہری امن وعزت کے ساتھ عقیدے کے اختلاف سے بالاتر ہو کر زندگی گزار لیا کریں. ..سعودی عرب کی اس سے پہلے یہ پالیسی تھی کہ پوری دنیا میں سلفیت کی مالی سرپرستی کی جائے جس کے تحت امام اعظم ابوحنیفە رحمہ اللہ سمیت تمام فقہاء تقلید کوشرک وکفر قرار دیا جاتا رہا اس سلسلے میں تمام لٹریچر کا اصل ماخذ بھی سعودی عرب تھا اور مالی سرپرست بھی سعودی عرب. ..

تاہم مشرق وسطی کی تازہ صورتحال اورخطے کے حالات میں رونما ہونے والی حالیہ سالوں کی اہم تبدیلیوں کے بعد سعودی عرب نے بھی اپنی پالیسی میں ایک اہم موڑ لاتے ہوئے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اہل تشیع کے خلاف اب صرف سلفیوں اور مسلح عسکری تنظیموں کے ساتھ ساتھ چاروں فقہ کے پیروکاروں کو بھی اعتماد میں لیکراپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے۔ اسی وجہ سے توقع ہے کہ اس سال سے حرم شریف میں آئمہ اربعہ سے منسوب چاروں مصلے بھی بحال کیے جائیں گے..یہ اسی تبدیل ہوتی ہوئی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اب سعودی حکام کی جانب سے حج کے موقع پر دیوبند مکتبہ فکر کے باقاعدە وفود مفت حج پرمدعو کئے جاتے ہیں جس میں سرفہرست جمعیت علماءاسلام ہے. ..سوال یہ ہے کہ جمعیت علماءاسلام جوشیعہ سنی منافرت اوراس بنیاد پر کشت خون کی ہمیشہ سے مخالف رہی ہے، اس نئی سعودی پالیسی میں اپنے لئے جگہ پانے کے بعد کیا اپنے اصل موقف پرقائم رہ سکے گی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے جے یوآئی میں پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم حیثیت رکھنے والی شخصیت مولانا شیرانی کوکھڈے لائن لگانے کے بعد جماعت میں کوئی ایسی شخصیت اور اتھارٹی باقی نہیں رہی ہے جومولانا فضل الرحمن مدظلہ کواعتدال پر رکھنے میں اپنا کردار ادا کرسکے جبکہ خود مولانا صاحب کی افتاد طبع یہ ہے کہ وہ کسی ریاست یا ریاستی شخص کی سرپرستی حاصل کرنے کو بےتاب رہتے ہیں اوردوسرا یہ کہ اس صورت میں ملنے والے مفاد کو بھی قائد جمعیت اپنی ذات اورخاندان تک محدود رکھتے ہیں۔ اس کی واضح مثال لیبیا کے مرد آہن کرنل قذافی کے ساتھ مولانا کے تعلقات تھے۔ یہ تعلقات ظاہر ہے کہ جمعیت علماءاسلام کی وجہ سے اہم تھے تاہم ان طویل دورانیے کے تعلقات میں صرف پشاورمیں جمعیت کے صوبائی سیکرٹریٹ کی تعمیر کے علاوہ جمعیت کوبحیثیت جماعت کسی مفاد کی ہوابھی نہیں لگنے دی گئی اور جیسے ہی قذافی کو شہید کر دیا گیا، مفادات کا رخ اسی سعودی عرب کی جانب موڑنے میں دیر نہیں لگائی گئی جو دیوبندیوں پرمشرک ہونے کے فتوے لگاتے آرہے تھے اور ایک بار پھر حد اعتدال کو ایسے انداز میں پامال کیا گیا کہ ایران کی جانب سے تاریخ میں پہلی بار جمعیت علماءاسلام کے کسی قائد و رہنما کی ویزہ درخواست مسترد کردی گئی.

اس سے واضح ہورہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدظلہ اب کی بار سعودی رومانس میں جمعیت علماءاسلام کو سپاہ صحابہ، سپاہ محمد وغیرہ جیسی فرقہ پرست تنظیم میں تبدیل کرنے جارہے ہیں اوراپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمعیت علمائے اسلام استعمار کی دریوزہ گر اورخدمت گزار جماعت کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ مولانافضل الرحمن مدظلہ کوجماعت کی ساخت اور بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے اس ناروا عمل کیلئے جماعت کے اندرکسی بھی سطح پرکسی مزاحمت کاسامنا اس لئے نہیں کرنا پڑ رہا کیونکہ پوری جماعت کوفکری اورعملی لحاظ سے مفلوج کردیا گیا ہے۔ اس وقت مولانا کے بیٹوں اوربھائیوں پرمشتمل “جمعیت کےمہمانوں”کی پہلی کھیپ سعودی حکمرانوں کی دعوت پر فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے حرمین شریفین پہنچ گئ ہے ۔ اگرچہ سعودی حکام نے دعوت جماعت کو دی تھی تاہم مولانا فضل الرحمن کی نگاہ انتخاب حسب عادت اپنے گھر پر ہی اٹک گئی ہے جو اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ سعودی عرب کے خونخوارشاہی خاندان کے ساتھ جمعیت علماءاسلام کے تازہ رومانس میں فائدہ ومفادات مولانافضل الرحمن اوران کے خاندان کو ملیں گے اورنقصان جماعت کواٹھانا پڑے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”سعودی عرب اورجے یوآئی کا تازہ رومانس ۔ رعایت اللہ صدیقی

  1. ایران کے ملا ہمیشہ اتحاد امت کے داعی رہے ہیں. ہم نے اتحاد کا پیغام انہی سے حاصل کیا ہے.
    پاکستان میں شیعہ سنی منافرت کے خلاف مبارزہ میں اہم ترین کردار ایرانی رہبر کے پیرو کاروں کا ہے جبکہ ادھر کے لوکل ملا شدید فرقہ پرست ہیں.

    تہران میں ہر سال ایک اتحاد امت کانفرنس ہوتی ہے جس میں آیت الله خامنائی کے خطاب کو حسن ظن اور تعصب کو بالائے طاق رکھ کر سنیں.

    اہلسنت کے بارے میں شہید مطہری کا رویہ ان کی کتابوں میں دیکھیں.

    غرضیکہ میں جو لوکل ذاکرین کا ستایا ہوا ہوں اور شاید ان کی حرکتوں کی وجہ سے اسلام سے ہی دور ہو گیا ہوتا . میں نے اتحاد کا لفظ ایرانی رہبر سے سنا اور سیکھا ہے اور ایرانی مصنفین کی کتابوں سے اہلسنت بھائیوں کے لیے محبت کی خوشبو روح کے اندر اتاری ہے.

    مزید معلومات کے لیے درجنوں تقاریر اور ریفرنس موجود ہیں جو آپ چاہیں تو دے سکتا ہوں.

    ایران اور سعودیہ کی جنگ میں فرقہ واریت سعودی ہتھیار ہے اور اتحاد امت ایرانی ہتھیار.

    1. ایران پاکستانی شیعہ عناصر کو جنگجو ٹرینگ دے کر اور شام و عراق میں بھیج کر اتحاد امت کا عظیم کام کررہا ہے اور سعودی عرب یہی کام افغانستان میں ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *