میاں سلطان خان!شطرنج کی دنیا کا ایک گمنام ہیرو۔۔۔۔وقار عظیم

ہم بحیثیت قوم ہیروز کو بھلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ بدقسمتی سے ہمیں اپنے چیمپئن  ایتھلیٹ “اخلاق احمد” کا پتا بھی بھارتی فلم “بھاگ ملکھا بھاگ” سے چلتا ہے ۔ اس مووی کے بعد اخلاق احمد کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن ان کے خاندان کا کوئی وارث سامنے نہ آیا۔

خیر آج بات کرتے ہیں شطرنج کے بے تاج بادشاہ “میاں سلطان خان” کی۔
ڈسٹرکٹ سرگودھا کے گاوں “مٹھا ٹوانہ” میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد بھی شطربج کے کھلاڑی تھے انھوں نے نو سال کی عمر میں اپنے والد سے ہی شطرنج سیکھی۔1920 اور 1930 کے عشرے میں شطرنج کی دنیا میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا رہا۔ انھوں نے اس   وقت کے کئی بڑے ناموں کو شکست دی۔ اور 1929 سے  1933 تک ہر سال   برٹش چیمپئن شپ جیتی۔ اور اس کے علاوہ کئی یورپین چیمپئن شپ بھی جیتیں۔ انھوں نے سابقہ عالمی چیمپئن  “جوز راول” کو بھی شکست دی۔ میاں سلطان خان کو انگلش بالکل نہیں آتی تھی۔ اس وجہ سے انھیں اس کھیل کے دوران بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور انھیں یورپ کا موسم بھی راس نہ آیا۔ کئی بار یورپ جا کر بیمار ہوئے۔
وہ پنجاب کے ایک مذہبی رہنما کے بیٹے تھے۔
یہ نو بھائی تھے اور سب کے سب شطرنج کے ماہر تھے لیکن میاں سلطان خان کی بات ہی الگ تھی۔

tripako tours pakistan

سر عمر حیات خان ٹوانہ نے سلطان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ایک بار آل انڈیا شطرنج چیمپئن شپ بھی کروائی جو سلطان نے باآسانی جیت لی۔
انھوں نے برطانیہ اور دنیا بھر کا سفر “کرنل نواب سر عمر حیات خان ٹوانہ” کے ساتھ کیا۔ بے شک میاں سلطان ایک لاجواب پلئیر تھا۔ لیکن شطرنج کی عالمی فیڈریشن نے انھیں “گرینڈ ماسٹر یا انٹرنیشنل ماسٹر” کا خطاب نہ دیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ عمر حیات خان نے اپنی واہ واہ کروانے کی خاطر دنیا بھر میں میاں سلطان کو اپنا خادم اور نوکر بتلایا۔ بہر کیف برطانوی  لوگوں کے تعصب کے باعث انھوں نے جلد ہی شطرنج چھوڑ دی تھی اور سرگودھا واپس آ کر ایک عام سی زندگی گزاری۔ ان کی  بے نام قبر آج بھی سرگودھا میں کہیں موجود ہے۔

Advertisements
merkit.pk

ڈیوڈ ہوپر اور کینتھ وائلڈ کے مطابق وہ جدید انسانی تاریخ کا سب سے بہترین اور نیچرل ٹیلنٹ تھا۔
آج میاں سلطان خان کی برسی ہے۔ خدواند کریم سے دعا ہے کہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply