خود کلامی ۔ راؤ شاہد

سکول، مسجد، کھیل کا میدان اور دوست، وقت کیسے گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا. ٹیلی فون آیا اور چلا بھی گیا- ٹی وی دو رنگوں سے ہوتا ہوا قوس قزح کے تمام رنگوں میں گھرا اور بھاری بھرکم سے کمزور ہوتا ایک سٹیکر نما سکرین کی طرح دیوار سے جا لگا– ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور پھر سمارٹ فون۔ زندگی کب عملی سے مشینی ہوئی پتہ ہی نہیں چلا۔ خط گیا۔ عید کارڈ گیا۔ ڈاکیہ گیا. ریل والا کیمرہ گیا اور ٹرین والا سفر بھی چلا گیا۔ وہ ٹرین کا لمبا سفر اور کئی دن پہلے سے اس کی تیاری، میٹھے پراٹھے اور پانی کی بوتل کا اہتمام، سب جیسے کہیں کھو سا گیا۔

اور تو اور، ان سب احساسات والی اشیا کی جگہ جب بے حس مشینوں نے لی تو جیسے انسانوں میں بھی وہ بات نہ رہی. ہمساۓ کا رشتہ جو جائیداد کا وارث ہوتے ہوتے رہ گیا تھا، بے چارہ ہماری زندگیوں سے چلا ہی گیا. پھر گئے چچا اور تایا کیونکہ اُن کے بھی ماشا اللہ بچے تھے اور اُن بچوں کے نئے رشتوں نے ایک نئے خاندان کو جنم دینا تھا۔ اب ہمارے چچا کے بچوں نے بھی تو چچا اور ماموں بننا تھا۔ چچا اور تایا تو اپنے بچوں میں ایسے مگن ہوئے کہ ہر گھر میں ایک نیا خاندان جنم لینے لگا. ایک ہمارے چچا کیا غائب ہوئے، اُن کے اپنے گھر میں انہی کے بچوں میں سے کوئی چچا کہلایا تو کوئی تایا۔ کوئی خالہ بنی تو کوئی پھپھو۔ سو یوں وقت گزرتا گیا. ایک گھر سے کئی کئی خاندانوں نے جنم لیا اور رشتے جو پہلے کبھی صدیوں پر محیط ہوا کرتے تھے، اب سالوں تک آگئے۔

سالوں سے یاد آیا اس نفسا نفسی میں جس رشتے نے سب سے زیادہ جگہ بنائی وہ سالے اور سالیاں ہی تھے۔ فیملی کمبائن سے کیپسول ہوگئی۔

خیر ہم بات کر رہے تھے گیجٹس کی. سنا ہے ایک نئی مشین پر کام ہو رہا ہے جس کی مدد سے ہم ڈورے مون کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں گے۔ اب تک کی ایجادات سے تو ہم صرف دیکھ سن اور بول سکتے تھے۔ مستقبل قریب میں ہم گھر بیٹھے جس کو چاہیں سونگھ چکھ اور چھو بھی سکیں گے. ویسے بڑا مزہ آئے گا۔ کیا ہوا جو نئے خاندانوں کو جنم دینے والے چچا اور چچی اپنے بچوں کو گلے نہیں لگا سکیں گے، کم از کم ایک سمارٹ گیجٹ کے ذریعے چھونے کا احساس تو لے سکیں گے۔ کیا پتہ وہ احساس بھی اپنے بچوں کو چومنے کے احساس جیسا ہی مزے دار ہو (شاید).

آخر ہماری زندگی 5-9 سے 7/ 24 کیوں ہوگئی. وہ کون سے کام ہیں جو رات 10 یا 12 بجے تک ختم ہی نہیں ہوتے۔ کیا واقعی ہم سے احساس ختم ہو گیا ہے یا احساس محرومی نے احساس انسانی کو مسخ کر کے اُس کی جگہ لے لی ہے۔ ایک وقت تھا جب ابو امی دادا دادی یا نانا نانی کے پاؤں دبا کر سوتے اور ڈھیروں دعاؤں کے مستحق ہوا کرتے تھے۔ شاید اُن دنوں بھی گھنٹہ 60 منٹ، دن 24 گھنٹے اور سال 365 دنوں پر محیط تھا۔ اب کیا ہوا؟ کیوں اپنی ماں کو ملے بھی کئی کئی دن گزر جاتے ہیں؟ ماں– میری ماں، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا۔ سینے سے لگا لے تو میں ایسے جیسے محفوظ ترین جگہ پر۔ ماتھا چوم لے تو دل تک ٹھنڈک کا احساس۔ کیا یہ رشتے دوڑ دھوپ اور مشینوں سے بھری زندگی پر قربان کرنا اور پتہ نہیں کس منزل کو حاصل کرنے کے لیے سب کچھ پس پشت ڈال دینا کوئی عقل مندی ہے؟ شاید سارا قصور ہی اس کم بخت عقل کا ہے۔ کسی کم عقل عقل مند نے ٹھیک ہی کہا تھا، عقل نئیں تے موجاں ہی موجاں. کیا دور تھا جب زندگی صبح سویرے گھر سے شروع ہوتی اور شام کو گھر کے آنگن میں ہی اپنی مکمل رعنائیوں کے ساتھ عروج پر ہوتی ہوئی اگلی صبح غروب ہونے سے پہلے دوبارہ طلوع ہو جایا کرتی.

(راؤ شاہد سما ٹی وی سے بطور سینیئر پروڈیوسر وابستہ ہیں اور الیکٹرانک میڈیا ایمپلائرز یونین کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”خود کلامی ۔ راؤ شاہد

  1. These words are presious which can change the life of any person through a spark of thinkings.when i read these words i found myself in childhood.Missing old days .Weldone Rao Shahid Mahmood khan…

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *