ہندو راشٹر میں دلتوں کی حالت ۔ نہال صغیر

پچھلے ہفتہ شیو سینا نے مطالبہ پیش کیا کہ ملک کو اب ہندو راشٹر قرار دے دیا جائے ۔ مجھے تعجب ہوا یہ معلوم کرکے شیو سینا اس ملک کو اب تک سیکولر تسلیم کرتی آئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک آزادی کے وقت سے ہی ہندو راشٹر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دستور میں اسے ایک سیکولر جمہوری فلاحی ریاست کہا گیا ہے۔ لکھے ہوئے دستور اور عملی اقدام دونوں میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ اگر کسی کو میری باتوں سے اتفاق نہ ہو تو میں ذیل میں چند نکات پیش کررہا ہوں جس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ ملک انگریزوں سے آزادی کے بعد سے ہندو راشٹر ہی ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہندو راشٹر سے مسلمانوں کو زیادہ نقصان ہونا ہے یا خود ہندوؤں کے دیگر پسماندہ طبقات کو۔ اگر تھوڑی سی گہرائی میں جائیں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ ہندو راشٹر والوں کا اصل نشانہ مسلمان نہیں ہے، ان کا اصل ہدف دلت ہے۔ اس کے آثار اور قرائن بھی نظر آنے لگے ہیں۔ اونا سانحہ ان حادثات و سانحات میں سے ایک ہے جس نے دلتوں کو متحد کردیا اور جارح بننے پر مجبور کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک آزادی کے بعد سے ہی ہندو راشٹر ہے۔ اس کے کیا ثبوت ہیں؟ سب سے اہم ثبوت تو یہ ہے کہ کسی بھی سرکاری کام کی شروعات عام طریقہ سے ہوتی ہے یا ان طریقوں سے جو ہندوؤں کے یہاں رائج ہیں۔ ہر کام کی شروعات ناریل پھوڑ کر ہی کی جاتی ہے۔ کیا یہ ہندوؤں کا طریقہ نہیں ہے۔ ہر سرکاری دفتر یہاں تک کہ پولس اسٹیشن میں بھی مندر اور مورتیاں موجود ہیں ، یہ سب کیا سیکولر ہندوستان کی نشانی ہیں۔ آخر ہم کیوں اپنے آپ کو دھوکہ میں رکھتے ہیں کہ ملک سیکولرزم سے فاشزم کی جانب جارہا ہے یا یہ کہ بی جے پی کے دور میں ملک فاشزم کے گھیرے میں آگیا ہے۔ آخر یہ سوال کتنی بار دہرایا جائے کہ بابری مسجد کی شہادت تک کی ساری کارروائی کس کے دور میں انجام پذیر ہوئی؟ کیا یہ سیکولر کانگریس کے دور میں انجام نہیں دئیے گئے؟ اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف فسادات اور پھر بم دھماکوں میں فرضی گرفتاری کس کے دور کی دین ہے؟ کیا اس کے لئے بھی بی جے پی ذمہ دار ہے؟
لیکن یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں ہے ۔ آج ہم اس اہم نکتہ پر گفتگو کریں گے کہ ہندو راشٹر سے نقصان کس کا ہے؟ مسلمانوں یا دلت کا ؟ بی جے پی کی موجودہ حکومت کے دور میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اچانک مسلمانوں اور دلتوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہو ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ صحیح ہو لیکن اگر ذہن تھوڑا آگے لے جائیں تو آپ کو یہ حملے ہمیشہ نظر آئیں گے ۔ گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں سب سے زیادہ دلتوں پر حملے ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں ۔ انتہا یہ کہ اس دور میں جب دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے اور اطلاعاتی انقلاب نے لوگوں کی زندگی بدل دی ہے۔ نیز آج اطلاعات کا حال یہ ہے پلک جھپکتے ہی ایک خبر پوری دنیا میں شور بپا کردیتی ہے۔ ایسے دور میں دلتوں کی برات میں دولہا اگر گھوڑی چڑھ کر اونچی ذات کے ہندو کے سامنے سے گزر گیا تو اس کی خیر نہیں ۔ ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا ۔ ایک صدی قبل جس درد سے امبیڈکر گزرے تھے، اسی درد سے آج بھی دلت گزر رہا ہے ۔ آج بھی گجرات کے کئی اسکولوں میں دلتوں کے لئے پانی کے لئے الگ جگہ متعین ہے اور ان کے کھانے کی جگہ بھی دوسرے لڑکوں سے الگ ہے ۔ ایک ایسا بھی اسکول دیکھنے میں آیا جہاں دلتوں کے بچوں کو اونچی ذات کے ہندوؤں کے بچوں کے ساتھ بیٹھنے نہیں دیا جاتا ۔ ایسا کھلے عام ہو رہا ہے ۔ ایک بات اور یاد آرہی ہے، ہمارے ایک صدر جمہوریہ دلت ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک خبر آئی تھی کہ ان کا پیون جو کہ برہمن تھا، وہ انہیں پانی کا گلاس ایسے دیتا تھا جیسے پھینک رہا ہو۔ یہ چند مثالیں اس لئے دی جارہی ہیں کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکے کہ برہمن وادیوں اور ہندو راشٹر کے مجاہدوں کا اصل نشانہ کون ہے؟
ایس ایم مشرف نے اپنی کتاب’’کرکرے کا قاتل کون؟‘‘ میں بھی اس جانب اشارہ کیا ہے کہ برہمنوں اور مسلمانوں کا ٹکراؤ 1925 سے پہلے نظر نہیں آتا ۔ اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اقتدار میں برہمن ہمیشہ شامل رہے ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ جس کی حکومت، اس سے مفاہمت والی پالیسی رکھی ہے۔ برہمن مسلمانوں سے اس وقت ٹکراؤ میں آئے جب انہیں یہ لگا کہ اب مسلمان کبھی اقتدار میں واپس نہیں آئیں گے ۔ انگریزوں کی آمد سے کچھ ایسے قوانین بنے جیسے پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن کا قانون ۔ اس سے برہمنوں کی وہ پوزیشن خطرے میں پڑ گئی جس کو وہ ہندوستانی سماج کو ورن ویوستھا یا منو سمرتی کے ذریعہ تقسیم کرکے اپنی برتری قائم کئے ہوئے تھے ۔ لیکن انگریزوں نے سبھی کے لئے تعلیم اور سرکاری ملازمت میں ریزرویشن کی پالیسی کو نافذ کرکے ان کی برتری کو ختم کرنےکی جانب قدم بڑھا دیا تھا۔ انگریزوں کو بھی اس وقت سرکاری نوکریوں میں کارندوں کی ضرورت تھی۔ یہ ضرورت تین فیصد برہمنوں سے پوری نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لئے انہوں نے ایسی پالیسی کا نفاذ کیا ۔ انگریزوں کی اس پالیسی کی ایک مجبوری یہ بھی تھی کہ اس وقت دلتوں کی بیداری کے لئے کچھ ایسی شخصیات میدان عمل میں آچکی تھیں جنہوں نے انہیں تعلیم کے میدان میں لانے اور اونچی ذات کے ہندوؤں کی ہزاروں سال پر محیط غلامی سے نجات کے لئے پوری کوشش کی جن میں جیوتی با پھلے ، شاہو مہاراج، پیریار اور آخر میں ڈاکٹر امبیڈکر جنہوں نے ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کے لئے انگریزوں سے آزادی کی بجائے معاشی اور سماجی آزادی کی بات کی۔
اب ایسی صورت میں اگر انگریز ریزرویشن پالیسی نافذ نہیں کرتے تو ملک کی آبادی کا بڑا حصہ اس سے نالاں ہو جاتا اور اس صورت میں انگریز یہاں زیادہ دنوں تک نہیں ٹک سکتے تھے ۔ یہی سبب ہے کہ دلتوں اور پسماندہ طبقات کے لئے تعلیم اور ملازمت میں ریزرویشن کے ذریعے برہمنوں کو معاشی اور سماجی طور پر نقصان پہنچا۔ اس لئے ان کے دشمن دلت اور پسماندہ طبقات ہیں ۔ مسلمانوں کو تو صرف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں ۔ ملک میں موجودہ افراتفری کا ماحول اگرچہ مسلمانوں کے خلاف نظر آتا ہے لیکن اصل میں یہ برہمنوں کی اپنی کھوئی ہوئی شان شوکت کی بحالی کی تحریک ہے ۔ یہ تحریک متشدد اس لئے ہے کہ برہمن اپنی ہاری ہوئی جنگ لڑرہے ہیں ۔ یہ اصول جنگ میں سے ہے کہ جب متحارب گروہوں میں سے کوئی جنگ ہارنے لگتا ہے تواس کے سپاہی یا تو میدان چھوڑ کر بھاگتے ہیں یا پھر ہر سپاہی اپنی جان بچانے کے لئے جنگ میں لڑنا شروع کرتا ہے۔یہی پوزیشن فی الحال ہندو توا بریگیڈ کی ہے ۔ وہ ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ فی الحال انہوں نے اپنا نشانہ مسلمانوں کو بنا رکھا ہے لیکن مسلمان نشانہ نہیں ہیں ۔ اس بہانے سے جب وہ اپنی حیثیت اور اہمیت منوا لیں گے تب جا کر پھر وہ وہی ورن ویوستھا نافذ کریں گے ۔جس نے دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ہزاروں سال سے اپنا غلام بنا رکھا تھا ۔ وہی پوزیشن وہ دلتوں کی کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ گائے کے معاملہ پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے بناتے وہ اپنی اصلیت پر آگئے اور دلتوں کو بھی پیٹنا شروع کردیا جس کی وجہ سے وہ بے نقاب ہوگئے اور یہ تھپڑ الٹا ان کے منھ پر آپڑا ۔ ان معاملات میں مسلمانوں کے کرنے کا کام ایک ہی ہے اور وہ ہے اسلام کے درس مساوات کی ترویج اور اس پر مضبوطی کے ساتھ عمل ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کا سبب اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ انہوں نے اسلام کے درس مساوات پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے بجائے اسلام کی تعلیم مساوات پر عمل کرکے پسماندہ طبقات کو گلے لگانے کے جیسا کہ قرن اول کے مسلمان تاجروں اور اس کے بعد بادشاہوں اور پھر اولیاء اللہ کی جماعت نے کیا تھا ، برہمنوں کی سوچ کو اپنا کر وہی سلوک ان کے ساتھ روا رکھا جس سے اسلام نے روکا تھا ۔ غیر مسلم دلت اور پسماندہ طبقات کی بات تو دور ہمارے سید صاحبوں، شیخ صاحبوں ، خان صاحبوں اور نواب صاحبوں نے اپنے بھائیوں کو جو پیشے کے اعتبار سے نچلی ذات میں گنے جاتے تھے دلتوں کی طرح خود سے الگ کیا ۔ اس کا انجام ہے کہ ہم آج پریشان ہیں ۔اس لئے جتنا جلد ہو سکے ہم کو دلتوں کی طرف محبت شفقت اور رواداری کا ہاتھ بڑی تیزی کے ساتھ بڑھانا چاہئے ۔ نیز اپنے جن بھائیوں کو ہم نے اشراف اور اجلاف کی تقسیم میں خود سے علیحدہ کر رکھا ہے، انہیں گلے لگائیں ۔ اگر ہم نے ایسا کرلیا تو ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات بہت جلد بدل جائیں گے ۔ اس سے ملک کو بھی فائدہ ہو گا اور فساد و تشدد کا خاتمہ بھی ہوگا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب خانقاہوں ، مدارس اسلامیہ اور مساجد کے منبر و محراب سے وہ صدا بلند ہو رہی ہے جس سے وہ مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ بس ضرورت ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر مشتعل نہ ہوا جائے اور ہر معاملہ کی تہہ میں جاکر اس کی حقیقت اور اس کے پس پشت عوامل کو معلوم کیا جائے ۔ کسی بھی معاملہ کی اوپر ی سطح کی معلومات حاصل کرکے اس پر اچھلنا کودنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *