ایک ایک کراچی بنادیں۔۔ہما

درج ذیل مختصر تحریر میں نے آج سے چار سال پہلے 2015 میں لکھی تھی جب حیدرآباد کے ایک انتخاب میں ایم کیوایم کے خلاف 9 جماعتی اتحاد ہوا تھا اور وہ اتحاد بدترین شکست سے دوچار ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

tripako tours pakistan

حیدرآباد لوکل باڈیز میں9 جماعتی اتحاد کے بعد اب باری ہے کراچی الیکشنز کی ۔۔تو اگر یہاں9 کے بجائے 100 جماعتی اتحادہو جائے تو کیا کوئی اچنبھے کی بات ہوگی ؟؟

ہرگز نہیں۔۔۔کیونکہ کراچی کےاقتدارکا حصول تو ہر ایک قومیت کی نمائندگی کرنےوالی جماعت کا خواب ہے۔

لیکن کراچی پر قبضے کی سوچ دوسرے صوبوں میں بسنے والے عام آدمی کی نہیں ۔انہیں تو کراچی کا خیال اس وقت آتا ہےجب وہ اپنے صوبوں میں بنیادی ضروریات زندگی کے لئے ترسائے جاتے ہیں تب وہ یہ سوچ اپنائےکراچی کا رخ کرتے  ہیں کہ “یہ شہر ہمیں بھوکا نہیں رہنے دے گا۔پھر کراچی بھی اس universal    truthکے برعکس کام کرتا ہے کہ” کراچی میں سمندر ہے”اور
“کراچی ایک سمندر ہے “بن کر ہر قوم کے دکھ اور درد اپنے اندر سمو  لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں آپکو ہر صوبے کی نمائندگی کرنے والی کالونیز ملیں گی۔مثال کے طور پر  مانسہرہ کالونی ،شیرپاؤ،پنجاب چوک، افغان بستی اوربہت سی جگہیں۔۔۔
اب ان حالات میں جب ان قومیتوں کی نمائندگی کرنے والے مفاد پرست سیاستدان اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے  ذریعے کراچی پر قبضے کا خواب دیکھتے هیں اوریہاں کے مقامی لوگوں کو پولیٹیکل وکٹمائزیشن کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔تو وہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل کے حل کیلئے کراچی کا جائز حق مانگتے ہیں۔کراچی کیلئے مانگتے ہیں۔۔

کراچی جو ملک پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسکی فلاح کیلئے انتظامی صوبہ کی حیثیت مانگتے ہیں اس صورت میں بھی انہیں بقیہ قوموں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
مفصل تمہید کے بعد مخالفین کراچی صوبہ سے صرف اتنا عرض ہے کہ کراچی کو صوبہ نہیں بننے دینا تو نہ بننے دو کم از کم اپنے صوبوں میں
ایک ایک کراچی ہی بنادو تاکہ تمہارے صوبوں کی عوام کو صرف روزگار کے لئے کراچی کے معاشی وسائل پر بوجھ بنتے هوئےاپنے پیاروں کی جدائی برداشت نہ کرنی پڑے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مختصر تحریر آج چار سال بعد مجھے تازہ کرنے کی ضرورت اس لئے پڑ رہی  ہے کہ ان چار سالوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔

کراچی کی ناقابل شکست جماعت ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے۔اس جماعت کے حصے بخرے کس تکنیک کے تحت کئے گئے؟
کیوں کئے گئے؟؟
اس پر گفتگو پھر کبھی سہی۔۔۔

آج میرے سامنے یہ 70 سالہ مہناز خاتون بیٹھی ہیں۔۔۔یہ شکارپور کی رہائشی ہیں۔کراچی میں تیس سال سے موجود ہیں۔یعنی کراچی کی ہی رہائشی بن چکی ہیں۔دو ماہ قبل گھروں میں صفائی کے دوران ہاتھ ٹوٹا۔۔ادھر اُدھر سے پیسے جمع کرکے کبھی ڈاکٹر اور کبھی جراح کے چکر لگائے۔آج پٹی اتار کر میرے سامنے ہاتھ دکھاکر رو رہی ہےہاتھ غلط جوڑ دیا گیا ہے،کلائی حرکت نہیں کرسکتی ،

 

 

مجھے دیکھ کر افسوس ہوا بتایا ماسی میں جب چار سال کی تھی ایسے میرے ہاتھ کو بھی غلط جوڑ دیا گیا تھا پھر توڑ کر جراح نے درست کیا
پرامید آنکھوں سے بولی میرا ہاتھ بھی توڑ کر درست کروادو۔۔
میں نے پیار سے سمجھایا۔
ماسی آپکی عمر اور صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اسے دوبارہ توڑ کر درست کیا جائے۔

رونے لگی اور سندھی لہجے میں کہنے لگی
اماں ایسا نہیں بولو

مجھے مزدوری کرنی ہے
مجھے کون اور کب تک کھلائے گا
ان سے میں نے پوچھا
ماسی یہاں کراچی کیوں آئیں ؟؟

پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔اس پیٹ کی خاطر۔کراچی نہ آتے تو کیا کرتے۔۔شکارپور میں دیور جیٹھ کے ساتھ اپنا گھر ہے۔لیکن گھر کھانے کو نہیں دیتا۔شوہر کسی کام کا نہیں تھا۔اس شہر میں سب مزدوری کیلئے آتے ہیں۔۔میں بھی آگئی۔۔

یہ حال صرف مہناز بی بی کا نہیں۔۔جو لوگ گاؤں دیہات میں یا چھوٹے شہروں میں کبھی  روزگار کیلئے، کبھی صحت کے انتظامات نہ ہونے پر، کبھی معیاری تعلیم نہ ہونے پر، کبھی جدید ضروریات بجلی، فون، انٹرنیٹ اور کبھی بنیادی ضروریات پانی اور صحت کیلئے ترسائے جاتے ہیں۔

سب کے ذہن میں یہی خیال آتا ہے۔۔۔۔۔
کراچی چلتے ہیں
“یہ سمندر جیسا اعلیٰ ظرف شہر ہمیں بھوکا نہیں رہنے دے گا ”

اس سب کا اس بڑھتی ہوئی آبادی کا کراچی کے مسائل میں کتنا حصہ ہے؟؟
اس بات سے کسی کو سروکار نہیں ۔۔۔۔
حالیہ مردم شماری میں کراچی کی درست آبادی کو آدھا کرکے دکھایا گیا

اور درستگی صرف اس لئے نہیں کی گئی کہ آبادی کے تناسب سے جائز حق نہ دینا پڑ جائے۔
ایم کیو ایم سے اب بھی وابستہ دھڑے اس ضمن میں کچھ منمنائے لیکن ان کی آواز کو کوئی شنوائی نہیں کی گئی


جبکہ ان کے علاوہ حکمران جماعت سمیت کسی نے اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا۔۔
کراچی کے اس حق کے لئے بولنے والا کوئی نہیں کیونکہ سب کے اپنے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔اور مزید یہ کہ افغان جنگ کے بعد کراچی میں پناہ لینے والے غیر ملکیوں کو بھی جائز حصہ دار ٹھہرانے کی بات کی گئی۔جبکہ مقامی آ بادی کے حقوق غیر مقامی اور غیر قانونی آبادی کو روزگار و رہائش فراہم کرنے کے باوجود تسلیم نہ کئے گئے

پاکستان میں صوبوں پر بات کرنے کی یوں تو منادی ہے لیکن یہ مسلم حقیقت ہے کہ جغرافیائی حدود میں برابری قائم کرنے ، پاکستان کی ہر قومیت اور چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی ختم کرنے کیلئے نئے صوبے ملک کی انتظامی ضرورت ہیں ۔۔۔۔۔

پاکستان میں حالیہ اعدادوشمار کے مطابق آبادی کا تناسب 22 کروڑکےقریب ہوچکا ہے۔ اِس بیس کروڑوالے ملک کو 71 سالوں سے صرف چار لسانی یونٹوں میں تقسیم کیا ہوا ہے اوریہ چار اکائیاں 71 سالوں سے 22 کروڑآبادی پراپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آج پاکستان بدترین انتظامی صورتحال سے دوچار ہے۔

دنیا بھر میں انتظامی اصولوں کے مطابق وفاق کو مضبوط کرنے کیلئے صوبوں یا مختلف اکائیوں کو جغرافیائی لحاظ سے برابر رکھا جاتا ہے
جبکہ پاکستان کے صوبوں کو دیکھا جائے توآبادی کے لحاظ سے ایک صوبہ دیگر تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی بڑا ہے۔


بڑے صوبے میں تو ایک آدھ صوبے کا لالی پاپ گزشتہ حکومتوں سے دیا جارہا ہے۔لیکن پورے ملک میں سب سے  زیادہ اختلاف کراچی صوبہ پر ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ”مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں “۔۔

حال ہی میں خالد مقبول صدیقی کے بیان” سندھ دو ہیں”پر متنازع بحث و مباحثے قراردادوں تک جاپہنچے۔

موجودہ ایم کیوایم صوبے کے مطالبے پر سنجیدہ ہے یا سیاسی کارڈ استعمال کررہی ہے اس سے قطع نظر خدارا سندھ میں صوبے کی اہمیت کو سمجھ لیجئے
سندھ ستر سالوں سے ایک تھا۔۔لیکن آزادی سے پہلے ممبئی کا حصہ تھا۔
انتظامی ضرورتوں کے تحت سندھ کو ممبئی سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔
ضرورت کے تحت مہاجرین سب کچھ لٹا پٹا کر بھوک اور ننگ کی پرواہ کئے بغیر پاکستان بناسکتے ہیں تو انتظامی ضروریات کیلئے نئے صوبے کی تشکیل کہاں سے کفر ہوگیا؟
جو لوگ اسے کفر سمجھتے ہیں اور سادہ لوح عوام کو اس مطالبے کو دھرتی ماں کے ٹکڑے کرنا کہتے ہیں۔
ان کا مقصد محض سندھ کو اپنی جاگیر اور ہر سندھ واسی کو اپنا ووٹر(غلام) بناکر رکھنا ہے۔
اگر ان نام نہاد سندھ کے دعویداروں کو سندھ کی اتنی پرواہ ہوتی تو آج سندھ کے عوام بھوک پیاس سے نہ مررہے ہوتے۔
آج بھی ہر سال تھر اور اسکے نواحی علاقوں میں لوگ صرف بھوک اور پیاس سے مر جاتے ہیں۔اور جو عوام بھوک سے مرنے سے بچ جاتی ہے۔انہیں تعلیم کے نام پر اسکول یا کون سی ضروریات زندگی ہیں جو ان سیاسی ٹھیکیداروں نے فراہم کی ہیں۔
اور جو سندھی عوام جو اپنی محنت سے تعلیم حاصل کرتے ہیں انکی حوصلہ افزائی کیلئے سندھ حکومت نے میرٹ کا کونسا معیار قائم کیا ہوا ہے ؟؟
کراچی میں رہنے والے اردو زبان والے سندھیوں کے نہیں
بلکہ دوسرے شہروں میں رہنے والے سندھیوں کو دیئے جانے والے حقوق ہی بتادیجئے۔

آج بھی سندھ کا عام آدمی اپنے حق کیلئے منتیں کرتا ہے تب بھی اسے اسکا جائز حق نہیں ملتا۔۔
یہ میرپور خاص کے رہائشی راجا عرفان کی تصویر اور اس سے منسلک کہانی ہے

کرپشن ،لوٹ کھسوٹ، اقرباء پروری ہر طرح کی بدانتظامی حکمران طبقے پر حلال ہے۔
لیکن صوبہ یا اسکی بات کرنا حرام ہے کیونکہ سندھ ہو یا پاکستان کا کوئی دوسرا صوبہ اس صوبے کی اکثریتی جماعت کبھی اسکی تقسیم نہیں چاہے گی
ایسا کرنے سے پاکستان تو شاید مضبوط ہوجائے
لیکن انکی لالچی سیاست کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں

اسلئے نہ وہ اپنےحلقہ اقتدار میں کراچی جیسی سہولیات دینا چاہتے ہیں نہ ہی کراچی کو صوبے کی حیثیت دینا چاہتے ہیں ۔۔۔

کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہونے والا شہر ہے ،کراچی کی آبادی اور اسکے مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ اب اس پر سیاست بند کی جائے۔

اور اپنے اپنے حلقہ اقتدار پر محنت کرکے اسے کراچی جیسی سہولیات سے آراستہ کیا جائے

Advertisements
merkit.pk

یہی پاکستان کی بقاء اور پاکستان میں مردہ ہوتی انسانیت کی بقا کیلئے آخری حل ہے۔۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply