چھ ستمبر، ایم ایم عالم۔۔۔۔  محمد ساجد گل ساج

(ایڈیٹر نوٹ: ایم ایم عالم کا تعلق ہمارے اس بازو سے تھا جسے مشرقی پاکستان اور اب بنگلہ دیش کہتے ہیں۔ پاکستان کا یہ بازو جدا ہوا تو عالم نے پاکستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا گو بنگلہ دیش نے انکو بڑا عہدہ دینے کی پیشکش کی۔ عالم اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے کافی پریشانی میں مبتلا ہوے اور جلد ریٹائر ہو گئے۔ اس جنگی ہیرو کو اس کی مرضی کے خلاف میس میں رکھا گیا اور ایک دورِ ظلمت میں افسران ان سے ملنے سے کتراتے تھے۔ عالم نے پاکستان میں ہی وفات پائی اور قوم کی محبت کا تمغہ ہمیشہ کیلیے روح پر سجا لیا)

جب مکار بزدل دشمن نے پاکستانیوں کو غافل سمجھتے ہوئے پاکستان کے دل لاہور پہ شب خون مارنے کی ناپاک جسارت کی تب آسمان نے ناقابلِ فراموش مناظر دیکھے پاکستان آرمی کے جوانوں نے تاریخ کے پنوں پہ جرات و بہادری کی انمٹ داستانیں رقم کیں  اور پاکستان کے شاہینوں نے گیدڑوں کاشکار کیا۔ اس موقع پہ پاکستانی قوم اتحاد اتفاق کا استعارہ بن گئی.6 ستمبر کو شروع ہونے والے معرکہ میں جہاں پاکستانی آرمی نے” چونڈہ “کے مقام پہ ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ میں دشمن کو عبرتناک شکست دی کہ چونڈہ سیالکوٹ انڈین ٹینکوں کا قبرستان کہلایا. 

اسی طرح پاکستان نیوی نے” دوارکاآپریشن” میں دادِ شجاعت دی پاکستانی فضائیہ نے بحیثیتِ مجموعی ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دئیے جنکی نظیر نہیں ملتی. مگر میں یہاں صرف محمد محمود عالم کا ذکر کروں گا جو فضائیہ کی تاریخ کا محیر العقول کردار ہیں.

ایم ایم عالم برصغیر کے واحد اے ایس ای ( ACE) پائیلٹ ہیں یہ اصطلاح اس پائیلٹ کے لیے استعمال ہوتی ہے جس نے کسی جنگ میں دشمن کے 5 جنگی جہاز گرائے ہوں. بهارت کے کسی پائیلٹ نے 5 جہاز تو درکنار 2 جہاز بھی نہیں گرائے۔ جبکہ پاکستان فضائیہ میں 2 اور 3 جہاز گرانے والے بے شمار پائیلٹ ہیں. ایم ایم عالم بھی 6 ستمبر کی شام کو دشمن کا ایک جہاز گرا چکے تھے. ایم ایم عالم کا, اصل کارنامہ جس نے انہیں تاریخ میں امر کر دیا ایک منٹ میں 5 جہاز گرانے کا عالمی ریکارڈ ہے جو دنیا میں آج تک کوئی نہیں توڑ سکا. جبکہ پہلے 4 جہاز صرف تیس سیکنڈ میں گرائے . یہ پروفیشنل مہارت کی انتہا کے ساتھ ساتھ جذبہ جہاد اور رزمِ حق و باطل میں اللہ کی نصرت کی مثال ہے۔ ایم ایم عالم کی “ڈاگ فائیٹ” کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ہلواڑ بهارت سے 5 جنگی جہاز شاہینوں کے شہر سرگودھا پہ حملے کے لئیے جا رہے تھے اور 4 جہاز حملہ کر کے پلٹ رہے تھے. ان جہازوں نے جس جگہ ایک دوسرے کو کراس کرنا تھا وہاں پاکستانی فضائیہ کے شیر جوان ایم ایم عالم موجود تهے. 

سکواڈرن لیڈر محمد محمودعالم کو یہ عزاز جاصل ہے کہ انہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں ایک منٹ کے اندر اندر مار گرایا جن میں سے چار تیس سیکنڈ کے اندر مار گرائے گئے تھے ۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔اس مہم میں عالم صاحب ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے مجموعی طور پر آپ نے نو طیارے مار گرا‎ئے اور دو کو نقصان پہنچایا ہے۔ جن میں چھ ہاک ہنٹر طیارے تھے ۔ 5 جہازوں میں سے 3 کا ملبہ سانگلہ ہل کے قریب گرا…ایم ایم عالم کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لئیے شام نے انکو اپنی فضائیہ کا انسٹرکٹر مقرر کیا انکی تربیت کی وجہ سے شام کی فضائیہ عالم عرب کی سب سے بہترین فضائی فوج میں شمار ہوتی تھی… ایم ایم عالم دبلے پتلے سمارٹ نوجوان تهے لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ دنیا کے بہترین پائیلٹ ہیں جنہوں نے جنگی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ عام زندگی میں بہت سادہ مزاج، درویش صفت انسان تهے صاحب مطالعہ اور غنی وہ نہ صرف میدانِ حرب کے جری سپاہی تھے بلکہ علم و ادب سے بھی بے پناہ شغف رکھتے تھے انکے کے گھر میں کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا. ایم ایم عالم رہتی دنیا تک پاکستان کے لئیے فخر کی تابندہ مثال کے طور پہ یاد رکھے جائیں گے.

(محمد ساجد مٹھاس کی سرزمین سرائیکی وسیب کے باسی ہیں۔ آپ مظفر گڑھ میں محمکہ ایریگیشن سے وابستہ ہیں۔ فیس بک پر “گل ساج” کے نام سے لکھتے ہیں)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *