اب کون کرے مسیحائی۔۔۔ولائیت حسین اعوان

آئے روز ہمارے معاشرے میں بے شمارایسے واقعات ہوتے ہیں جن کا ہم ذاتی طور پر شکار ہو کر یا ایسے واقعات سے باخبر ہو کر کچھ دیر کے لیئے اس کا درد کرب احساس محسوس کرتے ہیں اور پھر ہم اس واقعہ کو بھول کر دوبارہ اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔۔۔یاد رکھیں آپ کے راستے میں آنے والے پتھر سے اگر آپکو چوٹ پہنچتی ہے تو اسکا حل صرف مرہم پٹی دوائی میں نہیں بلکہ اس پتھر کو راستے سے ہٹانا یا جہاں سے یہ پتھر راستے میں بار بار آ رہے ہوں اس جگہ کی نشاندہی یا وہاں ان پتھروں کی آمد روکنے کے لیئے کوئی رکاوٹ ڈالنا اصل حل اور عبادت ہے۔تا کہ بعد میں اس راستے سے گزرنے والے انہی پتھروں سے  زخمی نہ ہوتے رہیں۔تبھی ہمارے عظیم پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں پڑی تکلیف دہ چیز ہٹانے کو بھی صدقہ میں شمارکیا ہے اور اسکا بھی اجر و ثواب بتایا ہے۔مطلب ایسا کام کرنے کے بعد مستقبل میں آپ پر آنے والی کسی بڑی مصیبت سے آپ اس نیکی کی بدولت اپنے آپ کو اللہ پاک کی پناہ میں دے کر خود کو محفوظ کر سکتے ہیں۔

محمد حلیم بھٹی میرے بچپن کا دوست ہے۔دیکھنے میں معصوم مگر حقیقت میں شرارتی اور اپنی باتوں سے دوستوں کو محظوظ کرنے والا اور بظاہر ایک لاپرواہ سا شخص لیکن حقیقت میں  زندگی کے ہر پہلو پر غور کرنے والا  ذمہ دار انسان اور درد دل رکھنے والا پاکستانی شہری۔۔

واقعہ کچھ یوں ہوا کہ محمد حلیم کی بیوی کو کچھ گائنی مسائل تھے۔یوں تو ضلع سرگودھا میں بے شمار خواتین گائنی سپیشلسٹ ڈاکٹرز ہیں لیکن ایک مرد گائنی سپیشلسٹ ڈاکٹر خالد بلوچ کلینک واقع 9 نمبر بنگلہ سرگودھا میں اس وقت موجودہ ڈاکٹرز میں سے شاید سب سے سینئر اور سب سے زیادہ مشہور ہیں۔اسی وجہ سے انھوں نے ان سے مشورہ کرنا مناسب سمجھا۔(اگر چہ  ان ڈاکٹرصاحب کے ہتک آمیز رویہ اور صحیح راہنمائی نہ کرنے کی بے شمار لوگوں کو عرصہ دراز سے شکایات رہیں)
ڈاکٹر صاحب نے مختلف ٹیسٹ کے بعدمریضہ کی Fibroaid in Uterus and ovaries بیماری تشخیص کی۔اور فوری آپریشن کے لیئے مریضہ کو اپنے پرائیویٹ ہسپتال داخل کر لیا۔اس مقصد کے لیئے ڈاکٹر نے تقریبا ًًً سوا لاکھ 1,25000 روپے آپریشن فیس اور متفرق اخراجات کے وصول کر کے مریضہ کی سرجری کی اور محمد حلیم کو بتایا کہ اسکی بیوی کی TAH & BSO کی سرجری کامیاب ہو گئی ہے۔
آپریشن کے بعد مریضہ کی تکلیف کم نہ ہوئی۔اس نے مختلف مواقع پر ڈاکٹر صاحب کو وزٹ کر کے اپنی تکلیف بتائی۔جب کچھ نہ بن پایا تو شوکت خانم ہسپتال لاہورسے دوبارہ تمام ٹیسٹ کروائے گئے۔جس کے بعد انکشاف ہوا کہ بیماری تو آپریشن سے پہلے والی حالت میں ہی موجود ہے۔
ڈاکٹر خالد بلوچ نے TAH تو کیا ہے مطلب Uterus ختم کیا ہے لیکن BSO نہیں کیا۔دوبارہ شوکت خانم ہسپتال سے 8 لاکھ روپیہ خرچ کر کے آپریشن کروایا گیا۔
محمد حلیم اور انکی بیوی یہ سب سہنے کے بعد خاموش نہیں ہوئے اور انھوں نے ملک کا  ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس ڈاکٹر کی حقیقت لوگوں پر آشکار کرنے اور لاعلم لوگوں کو اس ڈاکٹر کی نااہلی سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اور عدالت میں اسکے خلاف پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کو ایکشن لینے کے لیئے درخواست دائر کر دی۔اور جولائی 2017 میں پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے دونوں فریقین کا موقف سننے کے لیئے انہیں نوٹس بھیج دیا۔۔۔2017 سے فروری 2019 تک مکمل انکوائری اور صبر آزما انتظار اور بھرپور اور پر عزم پیروری کے بعد 25 فروری 2019 کو پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے اپنا فیصلہ سنایا اور ڈاکٹر خالد بلوچ کو سائلہ سے حقیقت چھپانے اور Medical Negligencey پر مبلغ 2 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔۔۔کمیشن نے ڈاکٹر کے خلاف مزید کاروائی کے لیئے معاملہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ارسال کیا۔
اب سائلہ ڈاکٹر کے خلاف ایسی کاروائی چاہتی ہے کہ مستقبل میں کسی اور مریضہ کو ڈاکٹر خالد بلوچ کے ہاتھوں اس  ذہنی اذیت، جسمانی کرب اور مالی اخراجات جیسی پریشانیوں سے نہ گزرنا پڑے۔۔جسکا شکار وہ 4 سال رہی۔
ڈاکٹر کے خلاف فیصلہ جو بھی آئے مگر داد دیجیئے محمد حلیم بھٹی اور انکی شریک حیات کو جو مسلسل کئی سال اذیت کے گزارنے کے باوجود ڈاکٹر خالد بلوچ کو اسکی نااہلی کی سزا دلوانے کے لیئے میدان عمل میں ڈٹے رہے۔نہ انھوں نے اخراجات کی پرواہ کی اور نہ ڈاکٹر کی طرف سے کی گئی صلح کی متعدد بار کوششوں کو خاطر میں لائے۔
اس تحریر کا مقصد نہ اپنے دوست حلیم کو تمغہ امتیاز دلوانا ہے نہ ڈاکٹر خالد بلوچ سے کسی پرانی عداوت پر اسکے کاروبار کو بند کرانا ہے۔
بس لوگوں کو خبردار کرنا ہے اور لوگوں کو آگہی اور شعور دینا ہے۔کہ خدارا برانڈ، مشہوری اور ناموں کے پیچھے نہ بھاگا کریں۔علاج سے پہلے ڈاکٹر کے بارے میں اچھی طرع معلومات لیں۔آپریشن سے پہلے دو تین ڈاکٹرز سے مشورہ کر کے انکی رائے لیں۔اور آپریشن کے بعد اچھی لیب سے دوبارہ اسی مرض کے ٹیسٹ کروا کر تسلی کر لی جائے کہ مثال کے طور پر اگر گردے کی پتھری نکالنے کے لیئے آپریشن کیا گیا ہے تو کیا واقعی وہ مکمل نکال دی گئی ہے۔
اپنے تمام ٹیسٹ رپورٹ ایکسرے الٹراساونڈ ڈاکٹری نسخہ کا ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھیں اور اگر خدانخواستہ ایسا کوئی واقعہ  آپکے ساتھ بھی پیش آ جاتا ہے تو کم ہمت اور ناکام لوگوں کی طرع گھر میں نہ بیٹھ جائیں۔قانونی کاروائی کریں اور وہ نہ ہو سکے تو کم از کم میڈیا کے ہر فورم پر ایسے لوگوں کو بےنقاب کریں۔انکی حقیقت لوگوں کے ساتھ شئیر کریں اور کبھی اس معاملہ میں کمپرومائز نہ کریں۔کہ اس میں آپکا اگر فائدہ نہ بھی ہو تو ہزاروں دوسرے لوگ آپکی راہنمائی کی وجہ سے فلاح پائیں گے۔اور خلق خدا کی بہتری کا سوچنا اللہ کو بھی راضی کرتا ہے اور اپ ،آپکی آنے والی نسلوں کو دنیا و اخرت بھی کامیاب بناتا ہے ۔۔
لوگوں کو اپنے اچھے تجربات سے بھی باخبر رکھیں اور زندگی کے تلخ اور برے تجربات بھی لوگوں سے شئیر ضرور کریں۔تا کہ وہ اس جسمانی مالی  ذہنی اذیت سے دوچار نہ ہوں جس کا شکار آپ ہوئے ہیں۔

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *