کراچی کا سیاسی منظر نامہ۔۔۔۔۔۔۔ حنا سید

کچھ وقت قبل علامہ طاہر القادری کے پاکستان آتے ہی پانامہ پیرز کے مرتے ہوئے گھوڑے میں جان پڑگئی اور عمران خان نے بھی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ جس ایشو کو وفاقی حکومت دبا چکی تھی وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے آتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے ایک بار پھر میڈیا کی زینت بن گیا اور دیکھا جائے تو ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مسئلہ حکومت کیلئے دردِ سر بنتا جارہا ہے…

پانامہ پیپرز کے مسئلہ پر جوں ہی علامہ طاہرالقادری سمیت عمران خان نے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا تو ٹھیک دوسری جانب کراچی میں پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ سے بائیس اگست کے دن متحدہ کے قائد الطاف حسین نے برطانیہ سے پاکستان مخالف تقریر کر ڈالی اور ریاست سمیت اسٹیبلشمنٹ پر سنگین الزامات لگا دیئے۔ اپنی تقریر کے دوران چند میڈیا ہاؤسز پرچڑھائی کی بات کی اور اسی دوران مشتعل شہریوں نے قریبی نجی چینل کے آفس پر توڑ پھوڑ کر ڈالی اور کافی دیر تک میڈیا ہاؤس کو گھیرے رکھا۔ پریس کلب، زینب مارکیٹ، فوارہ چوک اور اطراف کے علاقے میں فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ایک شخص ہلاک متعدد زخمی بھی ہوگئے۔ یوں پانامہ پیپرز سے عوامی توجہ یک دم ہٹ گئی، اسکی جگہ متحدہ قومی موومنٹ خبروں کی زینت بن گئی اور اخباروں کی شہ سرخی متحدہ کی خبروں سے بھر گئیں۔ اس تمام تر معاملے میں سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود متحدہ کی قیادت بھی مکمل طور پر منظر نامے سے غائب ہوگئی مگر اس دوران ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جو متحدہ میں تین ماہ قبل ہی آئے تھے وہ اکیلے ہی متحدہ کا علم لیئے میدان میں نکلے اور متحدہ قومی مومنٹ کا دفاع کرنے لگ گئے اور ہر نیوز چینل کے مہمان بنے کہیں اسٹوڈیو میں تو کہیں لائیو بیپر دیتے نظر آنے لگے۔ دس بجے رینجرز بھی حرکت میں آئی اور متحدہ کے مرکزی رہنما فاروق ستار، خواجہ اظہار الحسن اور عامر لیاقت کو حراست میں لیا گیا، متحدہ کا مرکز نائن زیرو سیکٹر اور یونٹ آفس سیل ہونے لگے۔

tripako tours pakistan

ایک رات حراست میں رہنے کے بعد فاروق ستار اور دیگر رہنما باہر نکلے تو ان کی کایا پلٹ چکی تھی۔ لندن سے پاکستان میں موجود متحدہ ک نیٹ ورک تھا علہدہ ہو چکا تھا اور ڈور کٹ چکی تھی۔ پہلے پہل تو لندن کی قیادت نے انکار کیا مگر کسی حد تک فاروق ستار کی بات مان لی گئی۔ البتہ سیاسی ناقدین اس بات کے ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ دو الگ ایم کیو ایم کا وجود عمل میں آچکا ہے بلکہ سیاسی مبصرین تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ متحدہ نے خود کو بچانے اور پارٹی کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کیلئے سیاسی چال چلی ہے. ایک بہت بڑی تبدیلی یہ بھی دیکھنے میں آئی کے فاروق ستار نے پریس کانفرننس کے دوران کہا کے انہوں نے اپنی پارٹی کا آئین تبدیل کر دیا اور کہا کہ پارٹی کے فیصلے اب پاکستان میں موجود متحدہ کی رابطہ کمیٹی ہی کریگی۔ ماضی میں ہر فیصلے کی توسیق متحدہ کے بانی الطاف حسین کیا کرتے تھے مگر اب جو بھی فیصلے کیئے جائیں گے وہ رابطہ کمیٹی پاکستان ہی کرے گی اور اس میں اب کسی قسم کی توثیق الطاف حسین نہیں کرینگے. متحدہ قومی موومنٹ کا بنیادی آئین بدل دیا گیا. ندیم نصرت بدستور کنوینئر کے عہدے پر برقرار رہیں گے، انہیں اس عہدے سے نہیں ہٹایا گیا ہے البتہ کنوینئر صرف اس وقت ہی فیصلے کر سکتا ہے جب وہ کراچی میں موجود ہو۔ پاکستان میں موجود پارٹی رہنماؤں کی جانب سے انہیں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کے وہ پاکستان آئیں اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، وہ جب تک لندن میں ہیں اپنے ویٹو پاور کے حق کا استعمال نہیں کر سکتے۔ جبکہ متحدہ کے قائد اب فیصلہ سازی کا حصہ نہیں رہے چاہے وہ پاکستان آئیں یا نہیں. ایک اور بڑی تبدیلی یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ متحدہ قائد کا نام پارٹی جھنڈے سے بھی ہٹا دیا گیا بلکہ الطاف حسین کے خلاف سندھ اسمبلی میں بھی قرار داد منظور ہو گئی اور حیرت انگیز طور پر متحدہ نے بھی اس قرارداد کو سپورٹ کیا اگر اس سارے سیاسی منظر نامے پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے اب الطاف حسین مائنس ہو چکے ہیں۔ اسی دوران بلدیاتی انتخابات کے آخری مراحل بخیر و خوبی طے پاگئے اور کراچی اور حیدرآباد سے ایم کیو ایم کے منتخب میئر حلف اٹھا چکے۔ نو منتخب میئر کراچی وسیم اختر بہت پر امید ہیں اور چاہتے ہیں کہ مل کر کراچی کی تقدیر بدلی جائے مگر جیل میں قید میئر کراچی کے عوام کی کیسے خدمت کرسکے گا؟ آیا وسیم اختر اپنا کیس لڑینگے یا کراچی کی عوام کا؟ اس وقت ان پر ستائیس مقدمات ہیں، 25 مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے ، سو دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کا کیا بنے گا۔

اب اگر سندھ کا جائزہ لیا جائے تو سندھ میں میئر اور ڈپٹی میئر شپ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاسی خاندانوں کے حصے میں آئی۔ سکھرسے سینیٹر اسلام الدین شیخ کے بیٹے ارسلان شیخ میئر منتخب ہوئے اور چیئرمین شپ کے لیے جو لوگ منتخب ہوئے ان میں فریال تالپور کے دیور انور تالپور، مٹیاری سے مخدوم امین فہیم کے بھتیجے مخدوم فخر الزماں، عمرکوٹ میں علی مردان شاہ کے بھائی نور علی شاہ، گھوٹکی میں سابق وزیر اعلی سندھ علی محمد مہر کے بھتیجے حاجی خان مہر، خیر پور میں منظور وسان کے داماد شہریار وسان، کشمور میں میر ہزارخان بجارانی کے بھتیجے محبوب بجارانی، شکار پور میں آغا سراج درانی کے بھائی آغا مسیح الدین درانی، جامشورو میں ملک اسد کے بھائی ملک شاہ نواز منتخب ہوئے ہیں۔ اس طرح سندھ میں ایک بار پھر حکمرانی کا تاج روائیتی سیاستدانوں کے خاندانوں کے سر پر ہی رکھا گیا ہے۔

مشرف کے بلدیاتی نظام میں ناظم کے پاس مجسٹریٹ کے عدالتی اختیارات ہوتے تھے مگر میئر کے پاس نہیں ہونگے۔ کراچی واٹر بورڈ پہلے ناظم کے ماتحت ہوتا تھا لیکن اب میئر کے بجائے وزیر بلدیات اس کا چیئر مین ہوگا۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سندھ بلڈنگ اتھارٹی میں بدل کر وزیر بلدیات کے ماتحت آچکی ہے، کے ایم سی کے میونسپل کام اور 6 ارب کے فنڈز سندھ سالڈویسٹ مینجمنٹ کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ ہاوّسنگ پلاننگ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا اختیار سندھ حکومت کو منتقل ہو گیا ہے جبکہ ماس ٹرانزٹ کا منصوبہ سندھ حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حوالہ کر دیا گیا ہے۔ گریڈ 17 اور تمام افسران کے تبادلہ اور تقرریاں سیکریٹری بلدیات کرینگے، لوکل گورئمنٹ کی زمین لیز اور رجسٹری کا اختیار سندھ حکومت طے کریگی، کے ایم سی ہسپتالوں کے انتظامی اور مالیاتی اختیارات سندھ حکومت طے کرے گی، کے ایم سی اسکول میں بھرتیاں اور فنڈز کا استعمال سندھ حکومت کی مرضی سے ہوگا۔ اب جو جو اختیارات کراچی میئر کے پاس ہونگے ان میں محکمہ شہری دفاع محکمہ فائر بریگیڈ ، اسٹریٹ لائیٹس سمیت گلی محلوں کی صفائی، قومی دنوں میں شہر کو سجانا سلاٹر ہاؤس اور پبلک ٹوائلٹ کی نگرانی، تجاوزات کا خاتمہ اور کتا مار مہم شامل ہیں. مبارک قبول کیجیے۔ 

دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا میئر ان اختیارات کے ساتھ کس طرح جیل میں بیٹھ کے کام کرے گا، یا مستقبل قریب میں عدلیہ سے ضمانت پر رہائی حاصل کر کے عوام کے درمیان رہ کر انکے مندرجہ بالا مسائل کی جانب توجہ دے گا؟ یہ تو اب آنے والا وقت ہی بتائے گا..

Advertisements
merkit.pk

(حنا سید صحافت سے وابستہ ہیں اور اپنے شہر کراچی کے مسائل اور ملکی سیاست پہ گہری نظر رکھتی ہیں)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کراچی کا سیاسی منظر نامہ۔۔۔۔۔۔۔ حنا سید

Leave a Reply