نسل نو سے مکالمہ ۔۔۔عامر عثمان عادل

سکول میں ہر سال پراکٹرز کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ پر ہوتا ہے جس کے لئے طلبہ و طالبات کو تحریری امتحان اور انٹرویو کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔
کلاس سوم سے میٹرک تک کے طلبہ و طالبات اس انتخابی عمل میں شریک ہوتے ہیں تحریری امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو شارٹ لسٹ کرنے کے بعد انٹرویو لیا جاتا ہے جس میں ان کی شخصیت اعتماد اور لیڈر شپ کی صلاحیتوں کی جانچ کے ساتھ ساتھ یہ پرکھ بھی کی جاتی ہے کہ پراکٹرز بننے کے بعد وہ کسی مشکل صور تحال سے کیسے نبرد آزما ہوں گے۔
اس سال بھی حسب روایت یہ مرحلہ آج ہی مکمل ہوا ۔۔تسلسل سے جاری اس عمل میں بچوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر برس اس امتحان میں شامل ہونے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
یہ امر باعث اطمینان ہے  کہ بچوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے سوال تھا کہ آپ پراکٹرز کیوں بننا چاہتے ہیں تو اکثریت نے اسے اپنا خواب قرار دیا ،مطلب کہ ہمارے بچے خواب بھی دیکھتے ہیں اور ان کی تعبیر پانے کی جدوجہد بھی کرتے ہیں ۔پوچھا گیا کہ آپ اپنی اس ذمہ داری سے کیسے انصاف کریں گے تو جواب آیا کہ ہم اعتماد کی دولت سے مالا مال ہیں اکثریت نے اپنے ہم جماعت ساتھیوں کو غصے اور سختی کی بجائے پیار اور باہمی تعاون سے ساتھ لے کر چلنے پر زور دیا مطلب کہ بچے جان چکے ہیں پیار کا جادو سب پر چلتا ہے  ،کسی ایمرجنسی سے نبٹنے کیلئے بچوں نے کامل اعتماد اور حاضر دماغی کا ثبوت دیا ۔ا نٹرویو کا آخری حصہ بہت دلچسپ تھا بچوں سے دریافت کیا گیا کہ پاکستان کی موجودہ لیڈر شپ میں سے آپ کسے پسند کرتے ہیں تو 70 فیصد کا جواب تھا عمران خان 20 فیصد کی رائے نواز شریف کے حق میں تھی جبکہ دس فیصد نے سیاست اور اہلِ  سیاست سے مکمل بیزاری کا اظہار کیا، میرے لئے باعث حیرت ان بچوں کی پسند ناپسند کا استدلال تھا۔

گزشتہ تمام  تحریروں کا لنک۔۔۔۔۔ عامر عثمان عادل

میاں نواز شریف کو اپنا فیورٹ لیڈر قرار دینے والوں سے پوچھا گیا کہ کس بنا پر آپ انہیں پسند کرتے ہیں تو چند بچوں نے بتلایا میاں صاحب نے پاکستان کے لئے بہت کچھ کیا ہے جبکہ باقی سب کا کہنا تھا ہم میاں صاحب کو اس لئے پسند کرتے ہیں کیونکہ ہمارے گھر والے انہیں پسند کرتے ہیں۔
عمران خان کو پسند کرنے والوں کا کہنا تھا خان صاحب جو باتیں کرتے ہیں اس سے لگتا ہے وہ پاکستان کے لئے کچھ کریں گے اس سے قبل جو لیڈر تھے وہ پاکستان کو لوٹ کر کھا گئے۔

غور طلب بات یہ تھی کہ مستقبل کے ان لیڈرز کی اکثریت کا کہنا تھا ہم عمران خان کے ساتھ اس وقت تک ہیں جب تک وہ پاکستان سے مخلص ہے  اگر آنے والے وقت میں عمران خان نے بھی ہمارے لئے کچھ نہ کیا تو ہم اس کا ساتھ ہر گز نہیں دیں گے۔
ان بچوں نے برملا اظہار کر دیا کہ مستقبل میں وہی لیڈر ان کی آنکھ کا تارا ہو گا جو پاکستان کے لئے کچھ کرے گا۔
ایک استاد ہونے کے ناطے ان بچوں سے مکالمہ ہمیشہ میرے لئے خوشی کا باعث ہوتا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا آنے والا کل انشاء اللہ روشن اور تابناک ہے۔

آئیے ان کومل کلیوں کو سازگار ماحول فراہم کرنے میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں، انہیں نفرت کی دھوپ ،جہالت کے اندھیروں اور تعصب کی آکاس بیل سے بچا کر رکھیں، پھر دیکھیں پیارا پاکستان کیسے قائد اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنتا ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *