گھٹیا افسانہ نمبر 25۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

دو سال پہلے بھی تو ایران نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جب پاکستان نے ایران کا جاسوس  ڈرون گرایا تھا۔ بلکہ انہی دنوں ایرانی فوجیوں نے سرحد پہ بلاجواز فائرنگ بھی کی تھی۔ یہ جناب پتہ نہیں کہاں کی کتابیں پڑھ کر ہمارے اوپر سوار ہیں۔ پاکستان کی جاسوسی میں حکومتِ ایران کی مداخلت نئی نہیں ہے۔ پاکستان سے بھاگ کر جانے والے خطرناک لوگ بلوچستان کی سرحد پار کرکے ایران میں داخل ہوتے ہیں جہاں ایران اُن کو ہر طرح کی سہولت و آرام مہیا کرتا ہے۔ عزیر بلوچ کراچی والا اور دوسرے مُجرموں نے بھی اِس کا اعتراف کیا کہ وُہ ایران چلے جاتے تھے۔ ایم کیو ایم کے کئی مطلوب افراد نے ایران میں پناہ لی ہے اور ایران بڑی خوشی سے اپنے پاس پناہ دیتا ہے۔ ابھی تو کانفرنس کی پہلی تقریر ہے اور یہ لوگ یہ گفتگو کرنے لگ گئے ہیں کہ ایران ہمارا مسلمان ہمسایہ ہے، ہمیں سعودی عرب کی امداد کے عوض ایران سے بگاڑنی نہیں چاہیے۔ کلبھوشن نیٹ ورک سارا کا سارا ایران سے ہی تو آپریٹ ہوتا تھا۔ جبکہ یہ کہتے ہیں ایران ہمارا مسلمان دوست ہے۔ یہ کیسے مسلمان ہیں جو بھارتی کتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ شاید اِن کو یاد ہو کہ چند سال پہلے نیول ہیڈکوارٹر پر حملہ ہوا اور یہ بات  سامنے آئی کہ ملزموں نے پاکستان نیول ہیڈ کوارٹر کی خفیہ معلومات ایران کو دیں   تھیں۔ عزیر بلوچ نے پاکستان کی حساس اطلاعات ایران کو دینے کا اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات ایران میں انقلاب کے آنے کے بعد بہت زیادہ خوشگوار ہرگز نہیں ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ علاقے میں کشیدگی سے ہمارا اپنا نقصان ہے۔ منافقوں کا کام ہی ڈرانا ہے۔

“میں ساپیوسیکسوئل ہوں”
“آپ ساپیوسیکسوئل ہیں، مان لیا۔ اچھا آپ کو آج  تک ایسا کوئی بندہ ملا ہے جو یہ کہے مجھے بیوقوف اور کند ذہن لوگوں سے ہم بستری کرنے کا شوق ہے یا مزہ آتا ہے؟”
“کیا مطلب آپ کیا کہہ رہے ہو مجھے تو سمجھ نہیں آئی”
“جو انسان کسی دوسرے چالاک، سیانے اور ذہین انسان کی طرف جنسی رغبت محسوس کرے تو اُس کو ساپیوسیکسوئل (sapiosexual) کہتے ہیں۔ اِسی طرح ہے ناں”، میں نے حریم کو تقریباً گھورتے ہوئے  پوچھا ہے۔۔ مگر نرمی سے۔

نام پر کلک کرکے لکھاری کی گزشتہ تمام تحاریر پڑھی جاسکتی ہیں ۔۔۔۔ فاروق بلوچ
“ہاں آپ درست کہہ رہے ہیں”، اُس نے بائیں ٹانگ کو دوسری پہ عمدگی سے سجاتے ہوئے تائید میں سر ہلایا ہے۔ مکمل کھلی ہوئی آنکھیں اور چوڑا ماتھا اُس کے اعتماد کو چار چاند لگا رہا ہے۔

“لیکن میرا یہ دعوی ہے کہ خود کو ساپیوسیکسوئل کہنے والے نہ صرف بیوقوف ہیں بلکہ اگر اُن کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ حقیقتاً کہہ کیا رہے ہیں تو وہ خود کو ساپیوسیکسوئل کہنا ترک کر دیں گے”
“کریں دعویٰٰٰ ، مجھے بھی بتائیں تاکہ میں خود  آپ کے تمغہ ہائے بیوقوفی کی غیرمستحق سمجھوں”
“ویسے ساپیوسیکسوئل لوگوں کی سب سے بڑی بیوقوفی اِس حقیقت سے نظر چرانا ہے کہ دنیا کا کوئی چالاک، سیانا اور ذہین انسان ایسا نہیں جو بیوقوف بھی نہ ہو۔ ارسطو اور الفریڈ ٹارسکی کے پائے کا عقلیت پسند فلسفی و ریاضی دان کرٹ گوڈیل جس نے 25 سال کی عمر میں ویانا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر لی تھی، جسے البرٹ آئنسٹائن ایوارڈ، نیشنل میڈل آف سائنس، فیلو آف برٹش اکیڈمی جیسے کئی ایوارڈ ملے ہوں اور وہ بندہ آخری عمر میں مرنے کے لیے بھوکا رہے، حتی کہ مر بھی جائے۔ یا دنیا کا کونسا ایسا بندہ ہے جو اپنی کوئی چیز کہیں رکھ کر بھولا ہو، یا ایسا کون ہے جو اپنی بیوقوفیاں یاد کر کر کے ہنستا، اداس یا غصے نہ ہوتا ہو”

“میں نے کبھی نہیں کہا کہ سیانے لوگ غلطی نہیں کرتے”
“ساپیوسیکسوئل کہلوانے کا مطلب یہ ہوا کہ آپ لوگوں کی ذہانت/عقلمندی کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ شکل و صورت کی خوبیوں کو پرکھنے کی نسبت دوسروں کی ذہانت/عقلمندی کو پرکھنا زیادہ مشکل و دقیق کام ہے۔ دراصل آپ کے دو مقاصد ہیں جن کے حصول کے لیے آپ خود کو ساپیوسیکسوئل کہلوانے چاہتے ہو، ایک تو یہ کہ لوگ آپ کو عقلمند، باشعور اور چالاک ہشیار بندہ سمجھیں اور اُس کے مطابق ہی آپ کو ٹریٹ کریں۔”
“ہاں تو یہ ہمارا انفرادی حق ہے جسے آپ تسلیم کریں”۔ میں نے جان بوجھ کر اُس کی بات دوسری مرتبہ سنی ان سنی کرتے ہوئے  اپنی بات جاری رکھی ہوئی ہے:
” دوسرا مقصد یہ ہے آپ کو ایک ایسا پارٹنر درکار ہے جو آپ کے سماجی رتبے میں اضافے کا سبب بنے۔ لیکن آپ مجبوراً سماجی دباؤ کے تحت براہ راست یہ کہنے سے ڈرتے ہو آپ اُن لوگوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو عمومی یا عام لوگ ہیں۔ اِس مقصد کے تحت ساپیوسیکسوئل کہلوانے کے خواہش مند لوگوں کی اکثریت اُن لوگوں کی طرف جنسی رغبت محسوس کرتے ہیں جو اُن کو آرام دہ اور امیرانہ عیاشی مہیا کر سکتے ہوں”۔

“اب میں بتاتی ہوں آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ دراصل آپ خود کو میرے سامنے سیانا، چالاک اور ذہین ثابت کرنا چاہتے ہیں تاکہ میں آپ کے ساتھ سیکس کر لوں”
“میری تحقیق کے مطابق ساپیوسیکسوئل کہلوانے کے شوقین افراد کی اکثریت یہ خیال کرتی ہے کہ ہم لوگوں سے ایک ملاقات میں ہی اُن لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلق کی عمر پرکھ لیتے ہیں۔ یعنی وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ایک ملاقات میں ہی دوسروں کی ذہانت/عقلمندی پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں”۔
“واہ واہ آپ تحقیقات بھی کرتے ہیں، ساپیوسیکسوئلٹی بارے اپنی کوئی دوسری تحقیق بتائیں”، حریم نے پوچھا تو پرسکون انداز میں ہے مگر طنز بہرحال موجود ہے۔ میں نے بھی اتنے ہی پرسکون انداز میں اپنی دوسری تحقیق پیش کر دی ہے کہ “ساپیوسیکسوئل کہلوانے کے شوقین دستیاب افراد کی اکثریت انٹرنیٹ پہ جنسی ساتھی تلاش کرتی ہے”
“رہنے دیں رہنے دیں، یہ تو آپ چھوڑ رہے ہیں”
“میرے نزدیک تم ذہانت کو باتونی ہونا سمجھتی ہو”
“اچھا تم لوگ کھانے کی میز کی طرف چلو، باقی باتیں بعد میں کرنا”، فہمیدہ جو بڑی دیر سے چپ بیٹھی ہماری گفتگو سُن رہیں تھیں نے پہلی بار بولتے ہوئے حکم سنایا ہے۔ ہم دونوں بھی مسکرا کر اُن کے پیچھے چل دئیے ہیں۔

ہم نے تین گھنٹے پہلے ایک مقامی ریسٹ ہاؤس میں چھاپا مارا تو وہاں باقی لڑکے لڑکیوں کے دوران یہ لڑکا بھی ملا۔ جب ساری چیکنگ کے بعد کچھ لڑکے لڑکیوں کو اہلکار اپنے ساتھ باہر گاڑیوں کی طرف لے جا رہے تھے تو یہ لڑکا بھاگ کر میرے پاؤں پڑ گیا۔ کہنے لگا آپ کو میں نے میجر اقبال صاحب کے گھر دیکھا تھا۔ پلیز مجھے تھانے مت لے جائیں، میرے گھر مریض ہیں۔ میں نے اہلکاروں کو کہا کہ اس لڑکے کو میری گاڑی میں بٹھا دو۔ تھانے سے کام نپٹا  کر جب اپنی رہائش پہ آیا تو اِس کو  بُلوا کر پوچھا ہے کہ تم بھائی اقبال کو کیسے جانتے ہو وہ تو میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ اُس نے بتایا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیکھنے کے لیے اپنے دادا کے پاس آیا ہوا تھا جو کہ میجر صاحب کی فیملی کے ساتھ گاڑی چلاتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ تم چیچہ وطنی کے ہو، گئے تم ماموں کے پاس کار سیکھنے لاہور تھے، پکڑے آج جسم فروشی کرتے اسلام آباد سے گئے ہو۔ اُس نے بتایا کہ لاہور میں وہ اِس دھندے پہ لگ گیا تھا۔ اُس نے بتایا کہ ماموں بھی ساری ساری رات مختلف کریمیں لگا کر بدفعلی کرتا رہتا تھا۔ پھر وہ پیسے لینے پہ لگ گیا۔ اُس کی عمر اُس وقت شاید سترہ سولہ سال ہو گی۔ مطلب وہ  13،14سال کی عمر سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ہمبستری کر رہا تھا۔ میں نے شلوار اتارتے ہوئے اُس سے پوچھا ہے کہ تو تم پھر اسلام آباد کیوں آ گئے۔ لاہور میں روزی روٹی تو ٹھیک تھی لیکن گاہک اسلام آباد کے بہتر ہیں۔ اُس نے بتایا کہ وہ سارے خرچے نکال کر ماہانہ دس ہزار روپے کمیٹی دیتا ہے جبکہ بیس ہزار گھر بھی بھیجتا ہے۔ تو رہتے کہاں ہو۔ اس نے تین چار ماہ بعد تبدیل ہونے والی اپنی رہائشی تفصیل بتانا شروع کر دی ہے اور میں نے وہیں صوفے پہ بیٹھے بیٹھے اُس کا بازو پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان بٹھا دیا ہے۔ ویسے تم چیز تو اچھی ہو۔ اپنی تراش خراش اور فیس بک پہ توجہ دو تو ماہانہ ستر اسی بھی کما سکتے ہو۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *