دو قومی نظریہ ۔ وقاص خان

عام خیال یہی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی تھی اور دو قومی نظریے کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں جو ایک ساتھ سکون کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ اس لیے انہیں جدا کیا جائے تاکہ دونوں قومیں اپنی جغرافیائی حدود میں اپنے حقوق اور اپنے مذہب کا تحفظ کر تے ہوئے چین اور سکون سے زندگی بسر کر سکیں۔ ہندو اور مسلمان مذہب کی بنیاد پر دو الگ الگ قومیں کیونکر بنیں، اس سوال کا جواب حاصل کرنے سے پہلے ذہن نشین رہے کہ برصغیر کی تقسیم سے چند سال پہلے عثمانی سلطنت ٹوٹ کر ٹکڑے ہوئی تھی۔ عثمانی حکمرانوں کے زیر نگیں علاقے بھی تقسیم سے دوچار ہوئے تھے۔ لیکن وہ تمام علاقے باوجود مسلمان یعنی ایک قوم ہونے کے جغرافیائی اور علاقائی بنیادوں پر جدا ہوئے۔ عراق عراقیوں کا، شام شامیوں کا، مصر مصریوں کا، تیونس تیونسیوں کا اور ترکی ترکوں کے حصے میں آیا تھا۔ معلوم نہیں یہ سب مسلمان ہونے کے باوجود ایک قوم کیونکر نہ بن پائے اور جغرافیائی بنیادوں پر جدا جدا قومیں بن گئے۔ جبکہ برصغیر میں بسنے والے مسلمان صرف اسلام کی بنیاد پر الگ قوم قرار پائے اور جغرافیائی بنیادوں پر ہندوستانی قوم نہ بن سکے۔ حالانکہ سلطنت عثمانیہ اور برصغیر دونوں ہی انگریزوں کے باجگزار تھے۔ اللہ جانے ایک دین کے پیروکار، ایک حاکم کے محکوم، ایک ہی زمانے میں آزادی پانے کے باوجود، کہیں تو مذہب کی بنیاد پر ایک قوم اور کہیں جغرافیے کی بنیاد پر الگ اقوام کیسے بن گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ سے جدا ہونے والے عراقی، شامی، مصری، اردنی، الجزائری اور تیونسی مسلمانوں کی زبان اور ثقافت بھی ایک ہی تھی اس کے باوجود وہ سب الگ قوم اور پاکستان باسی ایک قوم بنائے گئے۔ ضرور اس تضاد کے پیچھے کوئی دھانسو قسم کا فلسفہ ہو گا جو ہماری موٹی عقل میں آج تک نہیں سما سکا۔ ورنہ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے فورا بعد ہی دو قومی نظریہ اللہ میاں کو پیارا ہو گیا تھا کیونکہ بنگالیوں اور مہاجروں کو کبھی پاکستانی نہیں مانا گیا۔ بلکہ ہمیشہ بنگالی اور مہاجر ہی کہا گیا۔ لیکن ہم ایسی باتیں نہیں کرتے مبادا غدار نہ ٹھہرائے جائیں۔

ہاں مگر تاریخ پاکستان کے مطالعہ سے ہمیں جو کچھ سمجھ میں آیا اس کے حساب سے پاکستان کا قیام سچ مچ دو قومی نظریے کی بنیاد پر عمل میں آیاتھا۔ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، وڈیروں اور افسر شاہی پر مبنی قوم نے بھوکوں، ننگوں، غریبوں، مزدوروں اور عام مسلمانوں کی قوم کو استعمال کر کے پاکستان بنایا تھا۔ یہ نظریہ اس قدر مضبوط تھا کہ آج ستر سال بعد بھی پوری آب و تاب کے ساتھ رو بہ کار ہے۔ سرمایہ داروں کی قوم آج بھی بھوکوں اور ننگوں کو استعمال کرتی ہے اور نئے نئے پاکستان بناتی رہتی ہے۔ انہیں اپنے دو قومی نظریے پر پختہ یقین ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ان کا طریقہ واردات تبدیل نہیں ہوا۔ اب دیکھیں نا، سرمایہ داروں نے جس طرح تحریک پاکستان کے موقع پر حسین خواب اور خیرہ کن سراب دکھائے تھے، آج بھی اسی طرح وعدوں اور ارادوں سے کام چلاتے ہیں اور جس طرح بھوکوں اور ننگوں نے اس وقت آؤ دیکھا نہ تاؤ ان کا ساتھ دیا تھا، آج بھی گرمجوشی اور سرفروشی سے ان کے پیچھے ہیں۔

سرمایہ دار اور غریب کے درمیان حائل یہ دو قومی نظریہ اتنا طاقتور ہے کہ اس کی بدولت ملک دو لخت ہو چکا۔ چھوٹے صوبے استحصال کا رونا رو رہے ہیں۔ سرمایہ دار کو تحفظ، سہولت، دولت، شہرت اور عزت سبھی کچھ میسر ہے جبکہ غریب کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ ملک میں بجلی کا بحران ہے تو غریب قوم کے لیے ہے۔ ورنہ سرمایہ دار قوم کے پاس جنریٹر اور یو پی ایس موجود ہے۔ اس سے بھی جی خوش نہ ہو تو ملک ریاض زندہ باد، ایسا شہر بسا دیں گے جہاں لوڈ شیڈنگ کا تصور تک نہیں۔ غریب کی جان، مال اور آبرو اتنی بے قیمت کہ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو پولیس ازالہ کرنا تو دور، اس کی بات تک نہ سنے اور امیر کا کتا گم ہو جائے تو تھانیدار بذات خود ہر گلی میں اسے تلاش کرتا نظر آئے۔ ترقی یافتہ ممالک کو افرادی قوت کی ضرورت ہو تو ویزہ سرمایہ دار کے نکمے سالے اور بہنوئی کو ملے۔ جبکہ غریب کا انجنیئر بیٹا سعودیہ، قطر اور تیسری دنیا کے ممالک میں خوار ہوتا دکھائی دے۔ پاکستان میں اگر کاروبار کو نقصان پہنچے تو مائیکرو فائنانس کا شعبہ ٹھپ ہو کیونکہ اس کے شیئرز غریب کے پاس ہوتے ہیں۔ جبکہ سرمایہ دار حالات خراب ہونے سے پہلے ہی اپنی دولت یورپ اور امریکہ میں محفوظ کر دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود یہ دو قومی نظریہ اگر قائم دائم ہے تو اس کے طاقتور ہونے کی یہ مظبوط دلیل ہے۔

دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ سرمایہ دار کا تعلق بھلے اسلام، ہندومت، عیسائیت یا کسی اورمذہب سے ہو، ہمیشہ کامیاب و کامران رہتا ہے اور غریب اچھا مسلمان تو کیا بھلے کعبہ کے اندر سے گھوم کر آ جائے تب بھی ناکام ہی رہے گا۔ تبھی تو ہمارے ہاں کہتے ہیں “پاکستان میں غریب اگر روزہ رکھ لے تو دن بھی لمبے ہو جاتے ہیں”

روزگار کو دیکھ لیں، چپڑاسی اور کلاس فور بھرتی ہونے کے لیے بھی لازمی شرط کسی سرمایہ دار کا منظور نظر ہونا قرار پائی ہے۔ ہمارے ایک عزیز پرانی دوستی کے بل بوتے پر ایک حاکم وقت کے پاس گئے کہ بیٹے کو سرکار کا نوکر بھرتی کروا دیں۔ وہاں سے جواب ملا کہ عام ریٹ اٹھائیس لاکھ ہے آپ یار دوست ہیں اس لیے آپ کا کام بائیس لاکھ میں ہو جائے گا۔ کوئی بتائے کہ غریب آدمی بائیس لاکھ روپے کہاں سے لائے؟ غریب سے ایک ایسی نوکری کی قیمت لاکھوں میں مانگنا جس کا وہ اہل اور حقدار بھی ہو، کچھ یہی کہنے کے مترادف ہے کہ چونکہ آپ اس قوم کے “معزز فرد” نہیں ہیں جس کے لیے وطن عزیز پاکستان حاصل کیا گیا تھا اس لیے یا تو لاکھوں روپے جمع کر کے اس کا حصہ بنیں یا پھر واپس اپنی دنیا میں جا کر اسی گروہ میں خوش رہیں جسے استعمال کر کے پاکستان بنایا گیا تھا۔

ذرا انصاف سے بتائیے جس ملک میں ایماندار، تعلیم یافتہ اور حقدار؛ غریب، مزدور، کسان، نادار اور محکوم کو، مسلمان ہونے کے باوجود کوئی سہولت نہ ملے اور نا اہل، نکھٹو اور کرپٹ؛ سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرے، چوہدری اور حاکم کو غیر مسلم یا ہندو ہونے کے باوجود کوئی زحمت نہ ہو، اس ملک میں دو قومی نظریے کی تشریح کرتے ہوئے مذہب کو رگیدنا درست ہو گا یا سیدھا سیدھا یہ کہنا کہ دو قومی نظریے کا مطلب تھا غریبوں کو استعمال کر کے امیروں کی جنت بنانا۔۔۔۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *