نیادل. پرانی یادیں۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

میری شادی کسی اور سے ہو ،نہیں یہ ہونہیں سکتا
ایسا ہونے نہیں دونگا میں انکار کردوں گا،
میں نے جب سپاٹ لہجے میں کہا تو بپھر گئی
تمھیں میری قسم: تم ایسا کچھ نہیں کروگے
تمھارے گھر والے جہاں چاہیں تم وہاں شادی کرلو
میری خاطر، میری محبت کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ پینا تم
کہا ،نہیں ایسا میں نہیں کرسکتا ،نہ جی سکتا نہ مرسکتا
کہا اس نے کیا یہ ضروری ہے کہ جس سے محبت ہو ،اسی سے شادی بھی ہو ،
ماں باپ کی خوشی کے لئے اپنی خوشی قربان کردوں میں
یہ مجھ سے نہیں ہوگا،ہر گز نہیں ہوگا چاہےکچھ بھی ہوجائے
غصے سے بولی وہ ۔ ماں باپ کی نہیں مانوگے تو میں بھی تو نہیں راضی، کہ تم جیسے نکھٹو اور نکمے سے میں شادی کرلوں،
جسے ماں باپ کے حقوق معلوم نہیں، وہ بیوی کے حقوق کیا جانے گا
باقی سب تو نصیب کی باتیں ہیں جو قسمت میں لکھا ہو وہ ہو کررہتا ہے
اور محبت کیا ہے پھر ؟میں نے پو چھا
بولی! محبت کچھ بھی نہیں ہے، یہ بس ایک سمجھوتہ زندگی کا ہے
جس سے ہونی ہوتی ہے ، وہ بس ہو ہی جاتی ہے .
ہمارے ارد گرد ہزاروں لوگ ہوتے ہیں ،لیکن وہی چہرہ
جی کو بھاتا ہے ،جو اللہ نے مقدر کر دیا ہو ،پھر  جھگڑا کاہے کا ؟
اس کی محبت ایسی ہی تھی ،
پر سکون ،ٹھہری ٹھہری سی ،نہ کوئی شکوہ ، نہ شکایت ،
کبھی کبھی میں بوکھلا جاتا ,تو وہ ہنسنے لگتی ،
تم شادی کے بعد اسکو اپنا مان دینا اپنا پورا یقین دینا
اور اس کا بھروسہ جیت لینا ،اسے کبھی موقع نہ دینا
کہ وہ میری محبت کا طعنہ دے کر تم سے نفرت کا اظہار کر بیٹھے .
وہ کسی دادی اماں کی طرح سمجھانے لگتی تو میں الجھ سا جاتا،
اور تم ؟ تم کیا کرو گی میرے بغیر ؟
میری بھی شادی ہو جائے گی ،میں ہمیشہ تھوڑی گھر میں رہوں گی ،
اور تم سے میری محبت ہے ہی کیا ؟
چاندنی راتوں میں چھت پر بیٹھ کر گپیں لگانا ،محبت تھی ۔
برسات کی ہلکی پھوار میں جی بھر کے بھیگنا محبت تھی
اور پھولوں کے موسم میں تتلیاں پکڑنا محبت تھی
رات بھر دوسروں کی باتیں کرنا محبت تھی
تمھیں تو محبت کی باتیں بھی نہیں آتیں، ہمارے درمیاں بھی اوروں کی باتیں ہوتیں تھیں اور یوں رات گزرجاتی، کبھی تم فون  پر  سوجاتے اور کبھی میں سوجاتی، یہ ہماری محبت تھی
بس یہی محبت تھی ناں تمھاری
وہ جان بوجھ کر مجھے یوں تنگ کرتی ،اور میں سوچ میں غلطاں سوچا کرتا،. یہ کیسی محبت تھی
میری شادی میں وہ بالکل نارمل ہی رہی ،
صرف اتنا بولی: اپنے وعدے کا پاس رکھنا ،محبت کا پاس رکھنا
نہ چاہتے ہوئے بھی دل میں اسکی محبت چھپا کر عہد نبھاتا رہا
پھر  ایک دن وہ بھی پیا والی ہوکر ایک شہر میں مجھ سے انجان ہوگئی
بس ایک دن دل نے مجبورکیا تو  ملنے کی خواہش کا اظہار کیا
وہ بہت خوش تھی، بہت خوبصورت گهر تھا اس کا
گھر کے مکین بہت اچھے تھے ، کیوں کہ وہ خود اچھی تھی سب کی زبان پر تعریف اسکی تھی
وہ تھی بھی اس قابل، جس سے ملتی گرویدہ کرلیتی،
میرے دوست مجھ پر رشک کرتے جب اس سے سامنا ہوتا
میں نے پوچھا ، کہ دل لگ گیا ہے شاید جو بہت خوش ہو
کہا دل پرانا تھا ،اس میں یادیں کسی کی تھیں، اب دل بدل ڈالا،
سب کچھ نیا تھا تو دل پرانا کیوں رہتا، سو بدل ڈالا
اب کوئی مشکل نہیں ، اب چاندنی راتوں میں چادر تان کر سو جاتی ہوں ،بارش اب اچھی نہیں لگتی ، نہ راتوں کو واک اچھی لگتی ہے نہ چاندتارے دل کو بھاتے ہیں، سب کچھ نیا نیا سا ہے
پوچھا اب بھی پھولوں سے الرجی ہوتی ہے ، کہا نہیں اب اچھے لگتےہیں۔۔
میں نے سوچا تھا، گلےشکوے ہونگے بہت سی باتیں ہونگی
مگرایسا کچھ بھی نہیں تھا یہاں تو سب کچھ بدلا تھا ۔
یہاں تو باتیں عام سی باتیں تھیں، جاب کیسی ہے،. بیوی اور بچے کیسے ہیں، طبیعت ماں کی ٹھیک ہے اب، بابا کا درد کیسا ہے،
شکستہ دل اٹھائے روانہ ہوا تو دروازے میں روک کر بولی
نئے دل میں خرابی ہے پرانی یادیں، پرانی باتیں، خون میں جو شامل تھیں کبھی جب سر ابھارتی ہیں بہت تڑپاتی ہیں اور بہت تکلیف دیتی ہیں ۔بہت تکلیف دیتی ہیں۔۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *