زبان یار من ترکی من ترکی نمی دانم ۔ عالیہ ممتاز

یہ ایسے ہی کسی خوش خصال ترک محبوب کے بارے میں بیان کی گئی مجبوری ہے۔ حالانکہ محبوب اگر گونگا ہو تو یہ اس کی ایک اضافی خوبی ہی گردانی جاتی ہے ۔۔ منہ پھٹ محبوب کے بارے میں راوی بیان کرتا ہے کہ وہ زیادہ عرصہ محبوبیت کے درجے پر فائز نہیں رہتا۔ ہم پاکستانی ویسے بھی دوستوں اور محبوبوں کے بارے میں تہی دامن ہی ہوتے ہیں۔ ہماری ساری شاعری اٹھا کر دیکھ لیں محبوب کی بے اعتنائی اور دوست کی بے وفائی کے قصوں سے بھری پڑی ہے ۔۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے اقبال کا جس نے رومی کے سوزوساز کو شاعری میں ڈھال دیا۔ ہمارے لئے ترکی کی محبت ،اصل میں خلافت سے جڑی وہ نال ہے جس سے پاکستان پیدائش سے پہلے غذا حاصل کرتا رہا۔ یہ محبت ہمارے بطن میں خون کی طرح دوڑتی پھرتی ہے۔

مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی نے تحریک خلافت چلا کر گویا اس کو دوام بخشا۔ بولی اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پے دے دو ۔۔ ساتھ تیرے ہیں شوکت علی بھی جان بیٹا خلافت پے دے دو۔ اماں بی اگر آج زندہ ہوتیں تو ہمیں یقین ہے کہ وہ جمہوریت پے جان دینے کا فضول مشورہ ہر گز بھی نا دیتیں۔ یاد رہے اماں بی نے کہا تھا : جان بیٹا خلافت پے دے دو۔ یہ نہیں کہا تھا جان بیٹا ترکی پے دے دو۔ ترکی ٹوپی کا پھندنا اتاترک نے پھندے میں بدل دیا اور خلافت عثمانیہ کو کیک کی طرح انگریز تقسیم کرکے چلتے بنے۔ یہ مسلمانوں کی آخری مرکزیت تھی۔ اس کے بعد مسلمانون کاقبلہ وکعبہ تو وہیں رہا لیکن مرکزیت کبھی روس اور کبھی امریکہ ہوتی رہی۔ اب بے چارہ روس تو پٹ پٹا کر اس قابل نہیں رہا لہذا ہم نے اپنا سب کچھ دامے درمے سخنے امریکہ کے حوالے کردیا۔

سیانے کہتے ہیں کہ کسی کو اپنا بنالو یا کسی کے ہو رہو۔ چونکہ اپنا بنانے میں لگتی ہے محنت زیادہ، اس لیے ترکی کو کمال اتاترک نے بڑی جاں فشانی سے سیکیولر بنایا۔ اس کا رابطہ مسلمانوں کی ہر قسم کی مشابہات سے کاٹ کر رکھ دیا۔ ترکی میں قران کا رسم الخط بھی تبدیل کر دیا گیا اور عربی قران پر پابندی لگادی گئی۔ ترکی کا بڑا حصہ یورپ میں ہونے کی وجہ سے یہاں یورپی کلچر کی یلغار ہوگئی۔ اتاترک نے ترکوں کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نئی نسلیں اسلام سے بہت حد تک دور تھیں۔ ان کے صرف اسلامی نام تھے۔ ۔لیکن اسلام کبھی بھی مسلمان نسلوں کے لئے اجنبی نہیں ہوتا۔ چوری چھپے اسلام کو زندہ رکھنے کا کام ہوتا رہا۔ اتاترک کی ایسی ہر کوشش بیکار گئی۔ جدید ترکی کی بنیاد اسی سیکیولرازم پر رکھی گئی جہاں مسجد اور پب ایک ہی چوبارے پر ہوں اور فریقین کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہ ہو۔ خلافت عثمانیہ کے بعد سعودی شاہ فیصل وہ واحد حکمران تھے جن پر شبہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی گم گشتہ مرکزی قیادت کے خلاء کو اپنی شخصیت اورحرمین کی موجودگی کی وجہ سے پر کر سکتے ہین ۔ یہ خواب سی آئی اے کی آنکھوں سے کیسے اوجھل ہوسکتا تھا۔ لہذا اس کی تعبیر سے پہلے ہی ان کو ختم کر دیا گیا۔ شاہ فیصل کے بعد سارے شاہی فرماں روا امریکی پالیسی کی بنائی ہوئی شاہراہ پر بگٹٹ دوڑتے رہے بلکہ منہ پھیر پھیر کے یہ بھی دیکھا کئے کہ کوئی آگے تو نہیں نکل رہا ہے۔

سعودیہ میں ملوکیت تھی۔ امریکہ نے اس کا بھی احترام کیا۔ ترکی میں ڈکٹیٹر شپ کے بعد جمہوریت آئی۔ امریکہ کے لئے یہ بھی قابل قبول تھی۔ پھر اسلامی دنیا ہو یا غیر اسلامی، معیار صرف ایک تھا اور ہے ۔۔۔۔۔ امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ یہ ٹنٹا روس کے ٹوٹنے سے بھی ختم ہوا کہ غلامان سپر پاور منہ کس طرف کریں ۔۔ روس نے ٹوٹ کر سب کو یکجا کردیا۔ ستر سالہ کمیونزم کا خاتمہ ہوا تو آنکھیں ملتی ہوئی جمہوریت آنکھیں دکھانے لگی۔ اب جمہوریت کا مطلب بائے دا پیپل،فار دا پیل کے ساتھ فرام دا امیریکا نہ ہو تو پھر ایسی جمہوریت کو لپیٹنے میں امریکہ کو چنداں دشواری نہیں ہوتی۔ ہمارے بھی سارے ڈکٹیٹروں کو امریکہ نے خوشی خوشی پالا۔ جب امریکہ پال رہا ہو تو انہیں پلنے مین کیا دشواری ہوسکتی تھی؟ جب ہی تو یہ نعرہ لگایا گیا کہ امریکہ، عوام اورآرمی ہمارے ساتھ ہیں۔ عوام کو تو یوں ہی مقطعے میں وزن کے لئے استعمال کر لیا گیا۔ ڈکٹیر شپ عوام کی پسندیدہ ہو اور امریکہ کو ناپسند تب بھی بساط لپیٹ دی جائے گی ۔ لیکن جمہوری حکومت اگر عوام کی سخت ناپسندیدہ ہو اور امریکہ کی پسندیدہ تب بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔ رہ گئی بے چاری بادشاہت تو اس نے کون سا دم مار لینا ہے؟

پندرہ جولائی کو ترکی میں ایک انقلاب آیا اور چلا بھی گیا ۔۔ طیب اردگان جن کو سارے اسلام پسندوں نے آنکھ ،ناک، کان بند کر کے صلاح الدین ایوبی ڈکلئیر کردیا ہے، انہوں نے جی بھر کے خوشیاں منائیں اور اس کو جمہوریت کی فتح قرار دیا۔ یہ بھی بھول گئے کہ اوغلو نے پیرس میں چارلی ہیبڈو کے حق میں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آرم پارم چھما چھم کھیلا تھا ۔۔ یہ بھی یاد نہیں رہا کہ یہ ترکی وہی ہے جو نیٹو کا رکن ہے۔ یہ بھی شاید یاد کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ترکی اسلامی دنیا کی واحد فوج ہے جس میں یہودی بھی شامل ہیں اور چونکہ اس میں جمہور کے مارے جانے کی شرح زیادہ تھی اس لیے طیب اردگان نے اس پندرہ جولائی کے بعد باقی پندرہ دنوں میں جو کچھ کیا اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

دوہزار سے زائد فوجی اہل کار جن میں سے 149 جنرلز، ایڈمرل اور فضائیہ کے اعلی اہل کار شامل ہیں، ان کو برطرف کردیا گیا ہے۔ دوہزار ججوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ ساٹھ ہزار سے زائد افراد جن میں اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیز کے اساتذہ شامل ہیں، ان کو برطرف کیا گیا ہے۔ ہزاروں پولیس اہل کار بھی برطرف کردیے گئے ہیں۔ پینتالیس اخبارات ،15 رسالے 16 ٹی وی اسٹیشن ،3 نیوز ایجنسیز اور 47 صحافیوں کو بھی برطرف کیا گیا ہے اور عوام کے بے حد اصرار پر پھانسی کی سزا کو جلد ہی بحال کردیا جائے گا ۔۔ اردگان کے بقول ترکی کے عوام نے عرصہ ہوا لمبی گردنیں نہیں دیکھیں لہذا یہ فرمائشی پھانسیاں جلد ہی شروع ہو جائیں گی ۔۔

اب تک 82 ہزار لوگوں کو صرف اس شبہے میں برطرف کیا جاچکا ہے کہ وہ بغاوت سے شغف رکھتے تھے۔ یہ کام صرف ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل ہوا ہے۔ اردگان اپنی ان ساری ایجنسیز پر برس پڑے ہیں جنہوں نے انہیں بغاوت کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔ سوال تو یہ ہے کہ ان بیاسی ہزار جمہوروں کی لسٹیں کس نے بنائیں؟ جو ایجنسیز اتنی نالائق ہوں کہ فوج میں بغاوت کے وقت کان لپیٹ کے پڑی رہتی ہوں اچانک ہڑبڑا کر اٹھتی ہوں تو ان کے ہاتھ میں باغیوں کی لمبی لمبی لسٹیں ہوتی ہیں اور وہ اردگان کی خدمت میں پیش کردی جاتی ہوں۔ حضور اس منہ بولی جمہوریت اور سیسی کی آمریت میں فرق نظر آئے تو بتا دیں ۔۔۔۔۔۔۔عین نوازش ہوگی!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *