مظلوم روہنگیامسلمان اورمسلمہ امہ کی ذمہ داری

مظلوم روہنگیامسلمان اور مسلم امہ کی ذمہ داری
مولانامحمدجہان یعقوب
السلام علیکم !میرے مسلمان بھائیو ۔آج ہم مصیبت میں مبتلا ہیں، برما میں ہم مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رے ہیں، مگر کوئی ہماری مدد کرنے والا نہیں ہے، کسی بھی مسلمان ملک کے امیر، وزیراعظم اور میڈیا تک ہماری رسائی فرمائیں کہ ہم بھوک پیاس کی وجہ سے مر رہے ہیں اور کو ئی مدد والا نہیں، سب مسلمانوں سے درمندانہ درخواست ہے کہ برائے مہربانی ہماری مدد کرو ،جہاں تک ہو سکے ہماری آواز پہنچاؤ۔
برمامیں مقیم مظلوم ومقہور، ارکانی مسلمانوں کایہ روح کو ہلاڈالنے والاپیغام یقیناًموبائل،فیس بک یا واٹس ایپ کے ذریعے آپ تک بھی پہنچا ہوگا اور میری طرح آپ نے بھی صرف اس پیغام کو پڑھنے اور دوچار کلمات افسوس کہنے ہی کو کافی سمجھاہوگا،یازیادہ سے زیادہ آگے فارورڈیا شیئر کرکے خود کوبری الذمہ سمجھ لیا ہوگا،کہ وطن عزیزمیں ایک رِیت یہ بھی چل پڑی ہے کہ پیغامات کوآگے فارورڈیاشیئر کرنے سے بھی جنت کے پروانے بڑی فراخ دلی سے تقسیم کیے جاتے ہیں،بلکہ حکم عدولی کی صورت میں جہنم بھیجنے میں بھی دیر نہیں کی جاتی۔برماکے مسلمانوں کی حالت زارایسی ہے کہ جسے دیکھ اور سن کر کلیجہ منہ کوآتاہے۔ان کا جرم صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے نام لیواہیں۔اس کے علاوہ ان کا کوئی جرم نہیں اور المیہ یہ کہ ان پر ظلم وستم اور قہر وجبر کے پہاڑ توڑنے والی بھی کوئی جنگجو قوم نہیں ،بلکہ اس گوتم بودھ کے پیروکار ہیں جسے امن وآشتی کا پیامبر سمجھاجاتاہے۔برماکے مسلمانوں پر ظلم وستم کی جو نوعیت سامنے آئی ہے وہ فلسطین، کشمیر، شام اور عراق وغیرہ سے نسبتاًمختلف اور زیادہ سنگین نظر آتی ہے ،کیوں کہ ان سے ہر قسم کی انسانی آزاد اوراسلامی تشخص چھیناجارہاہے۔ان کے زندوں کی حالت زار بھی مردوں جیسی یا اس سے کم نہیں ،کہ ایک طرف توان کے نوجوانوں،علما اور پروفیشنلز کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتاراجارہاہے اور دوسری طرف جو زندہ بچ جاتے ہیں ان کے ساتھ بھی وہ سلوک روارکھا جاتاہے،جسے کسی بھی قاعدے اورقانون کی رو سے انسانی سلوک نہیں کہاجاسکتا۔
برمی مسلمانوں پرمسلمان ہونے کے جرم میں مظالم کاسلسلہ نیا نہیں،بلکہ اس کا آغاز 1924 میں ہواتھا،1926 میں فوجی حکومت نے تقریباًبارہ سو سال سے آباد مسلمانوں کو باغی قوم قرار دے کر قتل عام کام سلسلہ شروع کیا تھا،جو 1928 ع تک جاری رہا ،ایک محتاط اندازے کے مطابق دوسالہ قتل عام میں تقریبا ًایک لاکھ مسلمانوں کوشہید کیا گیاتھا۔حالیہ قتل عام کی شروعات جون 2012 میں چند مسلمانوں کے درد ناک قتل سے ہوئی،جس کاسلسلہ تھوڑے بہت وقفے کے ساتھ تاحال جاری ہے ،بلکہ برمی مسلمانوں کے لیے ہر روز طلوع ہونے والاسورج موت کاہی پیغام لے کر طلوع ہورہاہے۔
ان کے گھر بار،کاروباراورکھیت کھلیان نذرآتش اورمتعدد علاقے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹائے جاچکے ہیں،انھیں اپنے علاقوں سے کبے دخل کرکے وہاں غیر مسلموں کوبسایا جارہاہے،ان کی جائیدادیں چھین کرمکھ اور برمی بدھسٹوں کو دی جارہی ہیں،ان کے مدارس اور تعلیمی اداروں پر تالے لگاکران کے لیے تعلیم کے دروازے بندکیے جاچکے ہیں،وہ مسجدوں میں باجماعت نمازنہیں پڑھ سکتے، عیدالاضحیٰ پرقربانی کافریضہ ادانہیں کرسکتے، وہ نان شبیہ کے محتاج بنادیے گئے ہیں،کیوں کہ وہاں صنعتوںاور فیکٹریوں کا کوئی تصور نہیں اوران کا غالب ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور معمولی کاروبارہے جس سے وہ محروم کیے جاچکے ہیں۔ وہ اپنے علاقے سے کہیں اور جاکرملازمت بھی نہیں کرسکتے ۔یوں ان کا معاشی اسٹریکچر مکمل طور پر تباہ کردیا گیاہے اور وہ اشیائے خورونوش اور ضروریات زندگی کے لیے بھی اپنے جانی دشمن مگھ بدھسٹوں کے محتاج ہوکررہ گئے ہیں ۔
ان کے مکانات کھنڈر بنائے جاچکے ہیں اور ان پر اپنے مکانات کی مرمت و اصلاح کی بھی پابندی عائدہے ،ان سے بنیادی انسانی آزادی سلب کرلی گئی ہے اور شادی بیاہ نکاح واولاد کے سلسلے میں بھی شرمناک قدغنیں لگادی گئی ہیں،زیادہ بچوں کی پیدائش پر پابندی لگادی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کی تعدادزیادہ نہ ہوجائے۔ مسلمانوں کے اپنے علاقے کی طرف بغیر پرمٹ جانے ،عورت پراپنے میکے آکر رات گزارنے ،علما کے شرعی لباس پہن کرآنے جانے پرپابندی ،حتیٰ کہ مسلمانوں کے مقبروں کے بھی نشانات مٹادیے گئے ہیں تاکہ اپنے روشن ماضی سے ان کا رشتہ منقطع ہوجائے۔مسلمانوں کو ووٹ دینے کا حق اور بطور امیدوارانتخابات میں حصہ لینے کا جوحق دیاجاتارہاہے اب اس سے بھی مسلمانوں کو محروم کردیاگیاہے۔ان کوبرماکاباشندہ تک تسلیم نہیں کیا جارہا،حال ہی میں برما کے سابق صدر جنرل تھین سین نے بیان دیا کہ روہنگیا برما کے باشندے نہیں ہیں، ان کو ہم کیمپوں میں ہی رکھیں گے، اگر کسی کے دل میں درد ہو تو وہ ان کو اپنے ہاں لے جاکر آباد کرائے ۔کاش!اس بیان سے ہی کسی مسلم حکمران کی غیرت جاگتی،اے بساآرزوکہ خاک شدہ!
اطلاعات کے مطابق جب چاہتے ہیں برمی فوج کے اہلکار گھروں میں دھاوا بول دیتے ہیں اور کبھی موبائل استعمال کرنے کے الزام میں،کبھی اسلحے کی تلاشی لینے کے بہانے گھروں اور کیمپوں میں داخل ہوکر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے مردوں کو گرفتار کرلیتے ہیں، عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں ،بچوں اور بوڑھوں تک کومعاف نہیں کرتے۔ان مظالم سے تنگ آکر سمندری راستے سے ہجرت کرنے والوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیاجاتاہے اور ان کو بیچ سمندر میں لے جاکر بڑے جہاز میں سوار کرایا جاتا ہے ،جہاں سے انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھنے کے سوفیصد امکانات ہوتے ہیں،ان بڑے جہازوں میں ان کو ٹھونس کر تھائی لینڈ کے غیر آباد جزائرکے جنگلات اور غاروں میں قائم انسانی ا سمگلروں کے مراکز بنے ہوئے ہیں ،وہاں لے جاکر ان کو مارا جاتا ہے اورمختلف ملکوں میں رہنے والے ان کے عزیز و اقارب کے فون نمبرز پر کال کر کے ان کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی جاتی ہیں اور ان کوچھوڑنے کے بدلے کے طور پر ان سے بھاری رقوم کا مطالبہ کیاجاتاہے۔
یوں بعض خوش نصیب تو رہائی پاجاتے ہیں اور اکثرغلام بناکر کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جاتا ہے اور عورتوں کی عصمت دری کی ویڈیوز بناکر پوری دنیا میں مسلمانوں کی غیرتوں کو للکارا جاتا ہے ۔کاش!وامعتصماہ کی صداسن کرمسلمان بہنوں کی رہائی کے لیے لشکر کشی کرنے والے معتصم باللہ جیسی غیرت کسی مسلمان حکمران میں ہوتی ،افسوس مسلم حکمران تواس حجاج بن یوسف جتنی بھی غیرت نہیں رکھتے جس نے ایک خاتون کاخط پڑھ کر اپنے داماد اور بھتیجے محمد بن قاسم کولشکر دے کر سندھ پر حملہ آور کرایاتھا،یہ اسی محمد بن قاسم کا صدقہ ہے کہ سندھ باب الاسلام کہلاتاہے۔المیہ یہ ہے کہ اسی باب الاسلام میں اب قبول اسلام پر قدغن اور شراب کی آزادی ہے !
ان حالات میں مسلم حکمرانوں بالخصوص وطن عزیزکی سول وفوجی قیادت کوچاہیے کہ میانمار کی حکومت سے احتجاج کرے ،جس کی بھرپور حمایت کے ساتھ وہاں کی فوج ،پولیس، عوام، بدھ بکشو اور دہشت گرد تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے درپے ہیں،اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور اوآئی سی کوآمادہ کریں کہ مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کافوجی اتحاد وہاں اپنی امن فوج بھیجے اور وہاں کے بچے کھچے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے،مسلم ممالک میں ان کی فوری آباد کاری کا انتظام کرے،روہنگیا مسلمانوںکی شہریت اور حقوق بحال کر نے کے لیے برمی حکومت پردباؤڈالاجائے ،وہ روہنگیا مسلمان جو ہجرت کرکے تھائی لینڈ، سری لنکا، بھارت ،ملائیشیا اور انڈونیشیا پہنچ چکے ہیں اوروہاں کی جیلوں اور حراستی مراکز میں ڈالے گئے ہیں انھیں رہاکرکے پناہ دی جائے، ابالخصوص بنگلادیش میں موجود رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ تمام ریفیوجیز کے ساتھ کیمپوں میں جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے،اسے بندکروانے کے سلسلے میں بھی مسلم حکمران اپناکردار اداکریں،جن ایجنٹوں، دلالوں اور انسانی اسمگلروں نے انسانیت سوز اور شرمناک حرکتیں شروع کر رکھیں ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔بدھ بکشوؤں کی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔میڈیاریاست کاچوتھاستون ہے،اس حوالے سے میڈیاکوبھی اپناکرداراداکرنا چاہیے،اور تجاہل عارفانہ سے کام لینے کے بجائے وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار کو اپنے کالموں،مضامین،رپورٹوں،پروگراموں،ٹاک شوز اورمباحثوں کاموضوع بناکرعوامی شعو روآگہی میں کردار ادا کرناچاہیے۔جب ہر فورم پریہ صدالگے گی توہماری سیاسی جماعتیں اورسیاست دان بھی اس ایشو کواہمیت دیں گے،ورنہ اب تک توہر طرف سکوت مرگ کی سی کیفیت نظر آرہی ہے۔جب تک عوامی شعوربیدار نہیں کیاجائے گا،سیاست دانوں اورحکمرانوں سے کوئی توقع وابستہ نہیں کی جاسکتی۔اہل خیر حضرات کو مالی تعاون کے ذریعے اور تمام اہل وطن کو برمی مسلمانوں کے اوپر سے ظلم وجبر کی اس طویل رات کے خاتمے کی دعاکرنی چاہیے۔

Avatar
محمدجہان یعقوب
ایک دینی ادارے میں شعبہ صحافت وتفسیرکی نگرانی اور ایک تفسیر کی تالیف میں مصروف،ایک ہفت روزہ کی ادارتی ذمے داری اس پر مستزاد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *