کامیابی کے سنہری اصول۔۔۔امیرجان حقانی

ریڈیو پاکستان کی قومی و علاقائی نشریات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس میں متنوع قسم کے پروگرام  ، نیوز اورکرنٹ آفیئرز پر ٹاک شوز، مکالمے اور مباحثے ہوتےرہتے ہیں۔ قومی سطح کا ایک سلسلہ “پروفیسر آن لائن ” کے نام سے ہے جس میں ملک بھر کے بڑے شہروں کی  جامعات کے پروفیسر صاحبان نوجوان طلبہ و طالبات کے لیے کیریئر کونسلنگ، گائیڈ لائن اور مستقبل میں پلاننگ اورعملی زندگی میں کامیابی کے حوالے سے اصلاحی لیکچر دیتے ہیں۔گلگت بلتستان سے لیکچر دینے کی سعادت مجھے نصیب ہورہی ہے۔پروفیسر آن لائن سے جو گزارشات کیں ، ان کو آپ کیساتھ بھی شیئر کیا جارہا ہے تاکہ افادہ و استفادہ کا سلسلہ آواز کی دنیا کیساتھ  ساتھ تحریر کی دنیا میں بھی  جاری رہے۔ میری گزارشات ملاحظہ فرمائیں جو27اپریل 2019کو ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے نشر ہونگی۔

’’بلاشبہ ” آج کا نوجوان ہی کل کا معمار ہے”۔آج ایک نوجوان کی پہلی اور آخری خواہش ”کامیابی”  ہوتی ہے۔ایک نوجوان کی کامیابی ہی اس کے ملک و ملت اور قوم کی کامیابی کہلاتی ہے۔دنیا کے سب سے بڑے کامیاب انسان حضرت محمد ﷺسے لے کر آج تک کے کامیاب انسانوں اور موجودہ دور کی کا میاب کاروباری دنیا کا آئیکون بل گیٹس اور وارن بفٹ کی زندگیوں میں نوجوانوں کے لیے ہزارنمونے موجود ہیں۔ان کی عادات و اطور اوراپنے مشن و وژن کے ساتھ خلوص و لگن کو سمجھنے اور ان کے عمل کے   انداز  کو نہ صرف سمجھنے کی ضرورت ہے بلکہ آج کے نوجوانوں کو ان کے مطابق اپنی ترجیحات کا تعین کرکے پھر خلوص سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
تمام کامیاب اشخاص نے اپنے کیرئیر کو بہتر سے بہتر بنانے اور اپنے مستقبل کو  روشن  کرنے کے لیے سب سے زیادہ سہارا ”مطالعے  ” کا لیا ہے۔مطالعہ ہی ہے جس سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔دانش وبینش بڑھتی ہے اورعلم وحکمت میں پختگی آجاتی ہے اور روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔مطالعہ کے ذریعے حصول علم سے بے پناہ لطف ملتا ہے۔الفاظ کا خزینہ جمع ہوجاتا ہے۔ذہنی اور دماغی صلاحتیں تیز ہوجاتی ہیں۔سوچ و فکر کو وسعت ملتی ہے۔تب عقل و شعور اور تجربات سے انسانیت کو بے حساب فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔
ہزاروں مصنفین اور محققین نے سیرت رسول اکرمﷺ کی  ذات اقدس کی روشنی میں کامیاب زندگی کے سنہرے اصول طے کیے ہیں۔ان میں اولین اصول علم و حکمت ہی ہے۔آپﷺ نے خود اس محفل میں بیٹھنے کو ترجیح دی ہے جس میں ذکر وعبادت کے بجائے علم یعنی سیکھنے سکھانے اور پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری تھا۔آپ ﷺ کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ سیکھنے سکھانے والے لوگ ہی افضل ترین لوگ ہیں۔دنیا میں اسلام واحد آفاقی دین ہے جس کا آغاز ہی” اقراء ” یعنی پڑھو اور مطالعہ جاری رکھو سے ہوا ہے۔مطالعہ کے متعلق آج کی دنیا کے چند کامیاب انسانوں کے اقول پڑھیے ۔

وارن بفٹ کا کاروباری پارٹنر چارلی منگر کہتا ہے۔” میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا دانشور اور عاقل نہیں دیکھا جو مطالعے سے دور رہتا ہو”۔ خود وارن بفٹ کہتا ہے کہ” میں نے اپنے کیریئر میں دن کا 80فیصد حصہ مطالعہ اور سوچ وبچارمیں گزارا”۔

بل گیٹس کا یہ معمول ہے کہ وہ کئی برس سے ہر ہفتے ایک نئی کتاب ضرور پڑھتے ہیں ۔رسائل و جرائد اور دیگر ذرائع سے نالج کا حصول الگ ہے۔

اس سچ کا انکار ممکن نہیں کہ جدید دور میں ” اپنے علم اور ہنر میں اضافہ کرنا اور اس کو روزانہ کی بنیاد پر اپ ٹوڈیٹ رکھنا” دنیا کی سب سے بڑی اور مفید سرمایہ کاری ہے۔دنیا کے تمام بڑے لوگ جھونپڑیوں سے اٹھے ہیں اور انہوں نے علم و حکمت اور مطالعہ کے ذریعے خود کو تسلیم کروایا۔اور امر ہوئے۔ایک امریکن مدبر فرینکلن نے بہت پہلے یہ سچ کہا تھا کہ” علم میں سرمایہ کاری بہترین فائدہ دیتی ہے”۔

بارک حسین اوبامہ کی داستان حیات ہی غریب نوجوان کے لیے آئیڈل ہے۔وہ امریکہ میں  سیاہ فاموں  کا پہلا صدر منتخب ہوا تھا۔ امریکی صدر دنیا کا طاقت ور ترین حکمران کہلاتا ہے تو اس کی مصروفیات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ باوجود تمام تر مصروفیات کے امریکی صدر اوبامہ روزانہ یک گھنٹہ مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے نیویارک ٹائمر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ” میں اپنے دور صدارت میں روزانہ ایک گھنٹہ ضرور کتاب پڑھتا تھا۔کتب بینی کے مجھے دو بہت بڑے فائدے ہوتے۔جدید دور میں حالات انتہائی سرعت سے بدل جاتے ہیں اور چند ہی لحظوں  میں بے شمار معلومات جنم لیتی ہیں۔ اس تیز ترین رفتارِ حیات میں، میں جب کتاب پڑھتا اور مسلسل مطالعہ کرتا تو وقت سست رفتار سا ہوجاتا۔کتاب کی بدولت ہی وقت میرے لیے رک سا جاتا تو اسی اثنا میں  تھوڑا آرام کرلیتا۔دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ میں کسی دوسرے انسان کے جوتے پہن کردنیا کو مختلف نظروں سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا تو مجھے حالات و واقعات کا بخوبی انداز ہوجاتا اور درست تفہیم ہوجاتی”۔

میرے خیال میں مصروف ترین صدر کتاب کے مطالعہ کے ذریعے وقت کو روک لیتے اور خود کو  پُرسکون  کرتے اور ساتھ ہی دوسرے  کی لکھی ہوئی کتاب پڑھ کر مصنفین کے انداز و خیال سے دنیا کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتے جس سے بلاشبہ ان کے خیالات ا ور فیصلوں میں مثبت تبدیلی آجاتی۔

نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اپنے علم اور ہنر میں اضافہ کرنے سے ان کی کامیابی یقینی ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو علم الاسما سکھا کر اللہ تعالی نے فرشتوں پر فوقیت دی تھی۔تب سے آج تک اور آج سے قیامت تک یہ حقیقت آشکارا ہے کہ ”علم” ہی اصل دولت و ثروت اور کرنسی و پیسہ ہے۔آنے والے کل بھی وہی انسان واقوام امیرترین ہیں جن کے پاس علم و ہنر اور مشن و وژن ہو۔یہ بات بھی پتھر پر نقش ہے کہ ہنر، مشن و وژن اورفکر و خیال اور آئیڈیا ز علم ومطالعہ کے بغیر ممکن نہیں۔
ایک سوال عموماًًً  نوجوان طلبہ و طالبات کو تنگ کرتا رہتا ہے کہ ایسا کونسا علم ہے جس کے حصول کے بعد عملی زندگی میں کامیابی ان کے قدم چوم لیں۔اس حوالے سے چند باتیں جو انتہائی اہم ہیں نوٹ کرنے کی ہیں۔
سب سے پہلے یہ کہ مقتضائے وقت کو ملحوظ خاطر رکھ کر علوم کی تحصیل کی جائے یعنی درست وقت پر موزوں و مناسب علم کی پہچان کی جائے ۔مثال کے طور پر آج ٹیکنالوجی نے دنیا پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ٹیکنالوجی کے ماہرین کی قلت ہے اس لیے ڈیمانڈ میں اضافہ بھی ہے۔ اسی طرح نئے علوم و فنون کی تحصیل میں کبھی دیر نہ کی جائے۔اپنی پیشکش کو بہترین بنانے کی حتی الامکان سعی کرنی ہوگی۔آپ جس فن یا علم کے ماہر ہیں اس کے ابلاغ کے ممکنہ ذرائع کا استعمال کرنا آپ کو آتا ہو بصورت دیگر آپ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔یہ دور سروسز کا دور ہے۔ مفت میں کوئی کام نہیں کیا جاتا۔ بغیر مقصد کے لوگ نماز بھی نہیں پڑھتے، خدا کی بندگی بھی اس لیے کی جاتی ہے کہ خدا راضی ہو۔تو اپنے فن اور علم کو اپنے لیے روزی کا وسیلہ بھی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔کنسلٹنسی کے ذریعے رزق حلا ل میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔یعنی اپنے فن میں بہترین سروسز کے عوض بہت سارا مال کمایا جاسکتا ہے۔آج دنیا اسی ٹرن پر چل رہی ہے۔اپنے فن اور اپنے علم میں مہارت اور رسوخ صرف مطالعہ کے ذریعے ہی ممکن ہے سو اس میں کبھی بھی کنجوسی اور سستی نہیں کرنی چاہیے۔مسلسل محنت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔آج کاہلی اور سستی نے سب کو گھیر لیا ہے ۔  اس دور میں اپنے کام میں بے انتہا محنت کرنے والا انسان کامیابی کے زینے چڑھتا  جاتا ہے۔انسان محبت سے کبھی نہیں تھکتا۔سو اپنے کام سے محبت کیجیے آپ کبھی نہیں تھکیں گے۔مجھے کریم ٹیکسی سروسز کے ڈرائیور نے رات کے تین بجے پک کیا۔ میرے استفسار پر بتایا کہ رات کے اس پہر تک صرف اس لیے جاگ کر رائڈ لیتا ہوں کہ میں کمپنی میں نام بنانا چاہتا ہوں۔جہاں دن کے وقت دو سو رائڈ کے ملتے ہیں اس وقت اتنے فاصلے کی رائڈ کے چھ سو ملیں گے۔زیادہ سے زیادہ رائڈ لینے اور اس مشکل وقت میں جاگ کر رائڈ لینے سے کمپنی اضافی بونس دیتی ہے اور گاہک سے بھی زیادہ رقم لی جاتی ہے۔واقعتا ًًً جب میں اپنی منزل کو پہنچا تو میری موبائل نے چھ سو کا بل دیا جو مجھے ادا کرنا پڑا۔میٹرک پاس یہ ٹیکسی ڈرائیور محنت کا ٹول یکسوئی سے استعمال کرکے مہینے میں ستر ہزار روپے کما سکتا ہے تو پھر ایک پڑھا لکھا نوجوان بے تحاشا روپے کیوں نہیں کماسکتا۔میں نوجوانوں سے یہی کہوں گا کہ آپ پیسے کمانے پر اپنی توجہ مرکوز نہ کیجیے بلکہ فن اور علم کے حصول میں جُت جائیں۔آج کے جدید دور میں کرنسی کی ویلیو گررہی ہے جبکہ علم و فن کی ویلیو روز بروز بڑھ رہی ہے۔ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ کل پرسوں اصل پیسہ علم ہی ہوگا جس کے پاس زیادہ علم ہوگا وہی زیادہ مالدار اور پیسہ والا ہوگا۔آپ ان لوگوں کے پروفائل نکال کردیکھ لیجیے جن کو ایک لیکچر پر لاکھوں ملتے ہیں۔لاکھوں رقم دے کر بھی ان سے ایک لیکچر کے لیے ٹائم لیا جاتا ہے۔
بس آج کے نوجوان کو ”امیر کبیر ‘ ‘ اور ”کامیاب” بننے کے لیے اپنی پہچان کرنی ہوگی  کہ وہ کیا بہتر کرسکتا ہے یا کیا بہتر بن سکتاہے۔یہ اتنا اہم نہیں کہ مجھے منزل کا انتخاب کرنا ہے اس سے بھی یہ زیادہ اہم ہے کہ میرے لیے کونسی منزل مناسب ہے یا میری منزل کونسی ہے۔پھر سمت ومنزل متعین ہوچکنے کے بعد مطالعے ہی کے ذریعے اپنی فیلڈ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ ے جاسکتے ہیں۔یہ ایک شخص کی کامیابی نہیں اس کی پوری فیملی،اور اس کے علاقے کے ساتھ ملک و ملت کی کامیابی ہے۔سوکامیابی کا سفر جاری رکھیں۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیے2010 سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *