مشترکہ خاندانی نظم اور قاری حنیف ڈار ۔ ڈاکٹر عامر میر

(نظریاتی تنقید کا جواب قاری حنیف صاحب خود دیں گے اور “مکالمہ” حاضر ہے۔ مجھے حیرت ہے اپنے نظام پر جس میں جنرل مشرف سے ایک ڈاکٹر عامر تک “ریپ” میں عورت کو بے قصور نہیں سمجھتے۔ مجھے پاکستانی عورت سے ہمدردی ہے ۔ ایڈیٹر)

شخصیات یا انکے نظریات پہ تنقید ساری دنیا میں کی جاتی ہے اور اسے غلط نہیں سمجھا جاتا. لیکن مشرق کی روایات میں کسی شخص پر لکھنا بے ادبی اور ذاتی مخالفت تصور ہوتا ہے۔ اسی لیے میں شخصیات پہ نہیں بلکہ اُن کی فکر،اُن کی سوچ پہ لکھتا ہوں۔ قاری حنیف ڈار صاحب فیس بُک کے ایک بہت بڑے لکھاری ہیں۔ایک عرب ملک کی پاکستانی مسجد میں امام و خطیب ہیں۔ وہ یوں تو شاید ہر موضوع پہ لکھتے ہیں، لیکن زیادہ تر تحاریر مذھب پہ ہوتی ہیں اور کئی تو واقعی لائق تحسین ہوتی ہیں۔ ہر سوچنے والے کی طرح انکے کچھ نظریات سے مجھے اختلاف بھی ہے اور ان ہی میں سے ایک موضوع ہے۔”مشترکہ خاندانی نظام یا کمبائنڈ فیملی سسٹم”۔

شاید دنیا کا کوئی بھی نظام پرفیکٹ نہیں ہوتا؟ ہر نظام کچھ اچھائیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے پر قاری صاحب تو مشترکہ خاندانی نظام کو کینسر اور ظالم نظام تک لکھ چکے ہیں۔اب ماہر نفسیات کے مطابق اگر کوئی شخص کسی شخص یا نظام کی اچھائیوں کو نظرانداز کر کے صرف خامیوں پہ ہی روشنی ڈالے تو شاید اُس شخص کو ذاتی طور پہ اُس شخص یا نظام کے ہاتھوں کوئی نقصان پہنچا ہے اور اب فرسٹریشن میں آ کر اُس شخص یا نظام کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ ایسا کرنے سے شاید وہ اپنے دل کو تسلی دے رہا ہوتا ہے کہ نظام ہی غلط تھا میری طرف سے تو غلطی نہیں ہوئی۔خیر ماہرنفسیات کی یہ رائے اپنی جگہ ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا یہ نظام صرف ظالم اور کینسر ہی ہے؟

قاری صاحب جو واقعات مثالوں کے طور پہ بتاتے ہیں اُن کو مختصرآ کچھ یوں سمجھیئے کہ بڑا بیٹا روزگار کے سلسلے میں کسی عرب ملک میں مقیم ہے۔پیسے کما کر پاکستان اپنے باپ کو بھیج رہا اور اُدھر پاکستان میں باپ اس کماؤ بڑے بیٹے کی کمائی کو اپنے چھوٹے نکمے بیٹوں پہ خرچ کر رہا ہے۔باپ جائداد بڑے بیٹے کے نام کی بنانے کی بجائے اپنے نام کی بنا رہا ہے یا چھوٹے بیٹوں کے نام کی بنا رہا ہے جو بعد میں باعث نزاع بنتی ہے۔
مگر اس میں نظام کا کیا قصور ہے؟ حماقت کا آغاز تو بڑے بیٹے نے خود شروع کیا؟ گھر صرف خرچہ بھجوائے اور باقی بچت وغیرہ اپنے ہاتھ رکھے۔چلو اگر شروع میں باپ اور بھائیوں کی نیت کا اندازہ نہیں تھا تو کیا اگلے چالیس سال تک بھی باپ اور بھائیوں کی نیت کا اندازہ نہیں ہو سکا؟زیادتی پاکستان میں بیٹھا باپ اور دوسرے چھوٹے بھائی کر رہے ہیں اور قصور نظام کا نکل آیا۔ ایسی صورت میں ضرورت بڑے بیٹے،باپ اور چھوٹے بیٹوں کو ایجوکیٹ کرنے کی ہے۔انہیں بتانے کی ہے کہ آپ کے کیا حقوق و فرائض ہیں؟ ایک اور جگہ بتاتے ہیں کہ دوبئی والے کی بیوی کو دبا کر رکھا جاتا ہے اور مثال کے طور پہ ایک واقعہ یوں بتاتے ہیں کہ اعتراض ہوا کہ دوبئی والے کی بیوی ھسپتال کیوں جائے؟کیونکہ باقیوں کی بیویوں کی ڈیلیوریاں گھر پہ ہوئی تھیں۔ صحیح نشاندھی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو غلط ہوتا ہے۔ لیکن وہاں کیا کہیں گے جہاں دوبئی والے کی بیوی آئے دن اپنی شوہر کی کمائی پہ اتراتی ہوئی اپنے ساس،سسر اور باقیوں کی توھین کرتی ہے اور ناجائز حکم چلاتی ہے؟ ایک جگہ فرمایا کہ اگر بڑے بھائی نے شادی کی ہے تو اپنی فیملی اپنے ساتھ دوبئی رکھے اور اگر یہ ممکن نہیں تو پاکستان میں بیوی کو علیحدہ سیٹ آپ بنا کر دے اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتا تو شادی نہ کرے۔ حیرت ہوئی، کیونکہ عرب ملکوں میں زیادہ تر پاکستانی مزدوری کے سلسلے میں ہیں اور زیادہ تر کو اپنی فیملی عرب ملک بلانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔علیحدہ سیٹ آپ لاکھوں کا بنتا ہے اور ادھر دوبئی والے کی تنخواہ پہ گھر کا خرچہ چل رہا ہے اور اگر پاکستان میں علیحدہ سیٹ آپ بننے کے بعد شادیاں ہونے لگ پڑیں تو نوے فیصد شادیاں کوئی پچاس سال کی عمر کے بعد ہی ہوں گی۔ اب اتنی دیر تک لڑکا لڑکی کیسے گزارا کریں یہ بھی بتا دیں؟

میرے ممدوح قاری صاحب، عرب کلچر سے بہت متاثر ہیں اور اس مسئلے میں عرب کلچر کی بڑی مثالیں دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق عرب دنیا میں ہر لڑکے کی شادی ایک علیحدہ سیٹ اپ بنانے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ کافی سالوں سے میں خود بھی عرب دنیا میں مقیم ہوں اور ایسا ہر جگہ نہیں ہے۔میں نے کئی لڑکوں کو شادی کے بعد بھی اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہوئے دیکھا ہے۔ میرے بزنس پاٹنر کے تین بیٹے ہیں جو شادی شدہ ہیں، کاروباری ہیں مگر ابھی تک وہ اپنے والدین سے علیحدہ نہیں ہوا۔میں نے بڑے بیٹے سے وجہ پوچھی تو اُس نے کہا کہ میں اور بیوی والدین کے ساتھ بڑے سکھ سے رہ رہے ہیں مجھے کیا ضرورت ہے علیحدہ ہونے کی؟ میں اپنے والدین کے ساتھ خدمت کی غرض سے نہیں رہ رہا بلکہ مجھے اُن سے محبت ہے اور میں اُن سے خوش ہوں۔

قاری صاحب فرماتے ہیں کہ جیٹھ، دیور، سسر سے بچانے کے لیے شوہر بیوی کو علیحدہ گھر لے کر دے۔ لیکن صاحب، اگر شوہر نے بیوی کو علیحدہ گھر لے کر دے دیا اور خود دوبئی چلا گیا تو پاکستان میں تو عرب اور مغربی ملکوں جتنی سکیورٹی نہیں ہے۔ سو صورتحال کچھ یوں ہو گی کہ محلے کے سب اوباشوں کو پتہ ہے کہ گھر میں ایک اکیلی عورت دو بچوں کے ساتھ رہ رہی ہے۔ یقینا اس عورت کی زندگی تلخ تر ہو جائے گی کہ ریاست تحفظ نہیں دیتی اور تحفظ دینے والے وہ خود چھوڑ آئی۔ میرا یہ ماننا ہے کہ جب تک عورت کی مرضی نہ ہو کوئی بھولو پہلوان بھی اُس کی عزت پہ ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ اکیلے مرد کیلیے عورت کا ریپ ممکن ہی نہیں۔ دوستی میں بھی مرد کی یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ اُس نے عورت کو پھانس لیا۔نہیں جناب! جب تک عورت کی مرضی نہ ہو کوئی مرد اُس کو پھانس نہیں سکتا۔ہاں انہونیاں ایک علیحدہ بات ہے۔

ایک سینارئیو میں بیان کرتا ہوں۔ ایک عورت جس کا شوہر فوت ہو چکا ہے، ایک بڑا بیٹا اور دو چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ لڑکا چارٹرڈاکاؤٹنٹ بن گیا اور لڑکیاں چونکہ ابھی چھوٹی ہیں اسلیے لڑکے کی شادی پہلے کر دی گئی ہے۔ بیٹا پیدا ہونے کے بعد بہوصاحبہ نے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے اور اب اس بات کو لے کر گھر میں روز لڑائی ہوتی ہے۔ اگر لڑکا بیوی کو ایک علیحدہ گھر لے کر دے تو یہ اضافی خرچہ اس کیلیے ممکن نہیں اور ماں اور دو جوان ہوتی ہوئی بہنوں کو اکیلا کیسے چھوڑ جائے؟ اور اگر وہ اپنا گھر بنا کر، دونوں بہنوں کی شادی اور ماں کے مرنے کے بعد شادی کرے تو خود پچاس سے اوپر کا ہو جائے گا۔ اس سے ملتےجلتے سینارئیوز آپ کو پاکستان میں تقریبآ ستر اسی فیصد تک ملیں گے۔

خاندانی نظام کے خلاف جو بھی لکھے، مشکل یہ ہے کہ آپ کے ایسا کرنے سے یہ ہو گا نہیں؟ یہ نظام موجود ہے اور ہماری زندگیوں میں ختم ہوتا تو نظر نہیں آتا۔ ایسی صورت میں عملی تقاضہ یہ ہے کہ نظام کی خامیوں کو ختم کرنے کی کوشش کیجیے اور لوگوں کو اس کی کمیوں پہ ایجوکیٹ کیجیئے۔خامیوں کا سب کو پتہ ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اصل وجوہات اور اُن کا حل کیا ہے؟ امید ہے کہ قاری صاحب یا کوئی اور اس پر بھی مکالمہ کرے گا۔

(ڈاکٹر عامر میر میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور سعودیہ میں مقیم ہیں۔ آپ فیس بک پر حقیقت پسند کے نام سے لکھتے ہیں۔  ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مشترکہ خاندانی نظم اور قاری حنیف ڈار ۔ ڈاکٹر عامر میر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *