ارماڑہ میں پنجابی استعمار کا قتل۔۔۔۔علی اختر

کمرے میں داخل ہوتے ہی ناگوار سی بو نے میرا استقبال کیا۔ جیسے کسی نے بہت دن کے بعد گندے موزے اتارے ہوں ۔ کمرے کی میلی دیواریںں، سیلن زدہ ماحول، زمین پر بچھےگندے بستر، ایک سائیڈ پر پڑے گندے برتن اور دیوار کے ساتھ بیٹھے دس بارہ افراد ۔ میرے دوست شہباز بھٹی کا گزشتہ تین ماہ سے یہی ٹھکانہ تھا ۔

فلوریا کی مسجد کے سامنے واقع پارک میں طاقت ور فلیش لائٹوں کی موجودگی میں ہم نے پارک کی ایک سمیٹڈ پکڈنڈی کو پچ بنا کر نائٹ میچ کھیلنے کا پروگرام بنایا ، سامنے موجود میٹرو بس اسٹیشن سے شہباز کی تیز نظر ہم پر پڑی ۔ چشم زدن میں ہماری جانب اڑان بھری اور اگلے ہی لمحے ہمارے درمیان کھیل میں  شامل  تھا ۔ کھیل ختم ہوا اگلے ہفتے وہ اپنے مزید چار ساتھیوں سمیت بینچ پر بیٹھا ہمارا انتظار کر رہا تھا ۔ دوستی بڑھی تو ایک شام “مجیدےکھوئے” کے علاقے میں بلانے لگا جہاں اپنے ساتھیوں سمیت عارضی رہائشی تھا کہ اسکی منزل ابھی دور تھی ۔ میٹرو اسٹیشن پر میرے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے ساتھیوں سمیت موجود تھا ۔ استقبال ایسی گرمجوشی سے ہوا جیسے برسوں کی شناسائی ہو ۔ بات بات پر دوست پنجابی میں جگتیں کستے ۔ مجھے کچھ سمجھ میں آجاتیں اور کچھ پر بنا سمجھے ہی ہنس دیتا ۔ سیالکوٹ کے قریب کے کسی گاؤں کے تھے ۔ یورپ کی ڈنکی لگانے آئے ہوئے تھے ۔

اس وقت تین کمروں پر مشتمل اس گھر کے ایک کمرے کے دروازے پر تھا ۔ جہاں سانولے رنگ اور چھریرے جسموں والے درجن بھر نوجوان میرے سامنے تھے ۔ سب کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ ایک نسبتاً بڑی عمر کا آدمی فرش پر بچھے قالین کے ایک ٹکڑے پر عجیب سی ڈیوائس لیئے بیٹھا تھا جس سے ایک رسیور تار کے ساتھ جڑا تھا جس پر وہ کسی سے بات کر رہا تھا ۔ مجھے دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ کر ملا اور پھر باتوں میں مصروف ہو گیا ۔ اندازہ ہو رہا تھا کہ  کچھ مزید مہمانوں کی آمد کی اطلاع ہے۔ گھر کے سامنے   بچھے لکڑی کے  تخت  پر کچھ دیر   محفل جمی ۔ بارہ تیرا سال کا ایک بچہ  بھی نظر آیا جس سے ملواتے ہوئے بتایا گیا کہ سلائی  کا کاریگر ہے ۔ جرمنی جائے گا بچوں کا کیس وہ آرام سے  اوکے کر دیتے ہیں ۔ وہ سب استنبول میں چھوٹی موٹی مزدوری کر کے زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہے تھے اور اچھے وقت کا انتظار کر رہے تھے ۔ بقول انکے پچھلے دنوں سیرینز کے لیئے بارڈر کھلے تھے تو ہمارے بھی بہت سے لوگ اٹلی اور جرمنی پہنچ گئے تھے۔ ہر ایک کی الگ کہانی تھی۔ یہاں تک پہنچنے کی مشکلات بھی سبھی کی الگ تھیں ۔ کوئی  روٹی کی بھٹی پر کام کر رہا تھا تو کوئی  ٹیکسٹائل میں سلائی  کا۔ ہاں لیکن ایک بات قدرے مشترک دیکھی ۔ وہ یہ کہ  اس بدبودار گھر ، سردی ، وطن سے دوری کے باوجود کوئی بھی واپس نہیں جانا چاہتا تھا ۔

واپسی آتے ہوئے کبھی میرے ذہن میں انکے چہرے آتے ، کبھی وہاں دیکھی گئی  لائف جیکٹس ، کبھی بلغاریہ میں سردی اور یونان کے سمندر میں ڈوب کے مرجانے کے خیالات ، کبھی پنجابی استعمار کا نعرہ جو بچپن سے سنتا آیا تھا ۔ کبھی اس بارہ سال کے بچے کا خیال ۔ کبھی فوج کے پنجابی ہونے کے طعنے ، کبھی وہ گندے بستر ، کبھی چھوٹے صوبوں کی حق تلفی ، کبھی وہ بدبودار کمرہ ۔

یار یہ وہ پنجابی استعمار ہے ؟۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کراچی کا ریونیو کھا جاتے ہیں ؟ ۔ یہ اس صوبہ کے لوگ ہیں جو ہماری حق تلفی کرتے ہیں ؟۔۔۔۔۔ ذہن میں خیالات ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے تھے ۔ پنجابی استعمار کا ستون لرز رہا تھا اور ۔۔۔اور پھر وہ دھڑام سے زمیں بوس ہو گیا ۔ استعمار کا ستون تو اب بھی تھا لیکن صد شکر اب وہ پنجابی نہیں تھا ۔ بلکہ اب وہ قومیت ، رنگ و نسل سے مبرا تھا ۔ وہ صرف استعمار تھا بغیر کسی پہچان کے ۔ اس پر کوئی  خاص چھاپ نہیں تھی ۔

دو روز  پہلے  ارماڑہ میں  14لوگوں کو بسوں سے شناختی کارڈ چیک کر کے اتارا گیا اور لائن میں کھڑا کر کے گولی مار دی گئی۔ مارنے والوں نے بھی پنجابی استعمار ہی کو قتل کیا ہوگا ۔ لیکن انہیں سوچنا چاہیے تھا کے حقوق غصب کرکے کوٹھیاں ، فیکٹریاں اور بنگلے بنانے والے لینڈ کروزر میں سفر کرتے ہیں بسوں میں نہیں ۔ مجھے لگتا ہے کہ انجانے میں انہوں نے شہباز کو مار ڈالا ہے ۔ ۔ ۔ ان کو یہ سمجھ کیوں نہیں آیا کہ  استعمار نرم گدوں پر اے سی والے کمروں میں رہتا ہے ۔ بلوچستان کے پہاڑوں میں دیہاڑیاں نہیں لگاتا ۔ ہاں وہاں وہ  12سالہ بچہ   موجود تھا ، پر وہ استعمار نہیں تھا ۔ افسوس اسے مارڈالا گیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *