وزن اور پشتون ایک مکالمہ ۔ عارف خٹک

ہم پشتون ہمیشہ وزن، خواہ وہ جسمانی ھو یا روحانی، کیلئے مورد الزام ٹھہرائے جاتے ہیں کہ ہمیشہ بھاری چیزوں کو یا کاموں کو پشتون کے کاندھوں پر ڈالا جاتا ھے. جیسے دھشت گردی کا بھاری پھتر ھمارے منہ پر مارا جاتا ھے…… ………..

ہمارے والد محترم نے ھمیں ماسکو وداع کرتے ھوئے ایک نصیحت کی تھی کہ بیٹا اگر دوستی کرنی ہو تو کسی مرد لڑکی سے کرو. اب اپ سوچیں گے کہ مرد لڑکی کیا بلا ھے؟ جناب مرد لڑکی ھمارے پشتون معاشرے میں اس لڑکی کو کہا جاتا ھے جس کا وزن کم ازکم 80 کلو تو ھو ورنہ نہ ھو. 80 کلو سے کم لڑکی کو ھم لڑکی کہتے ہیں جو ایک پشتون دوشیزہ کبھیبرداشت نہیں کرسکتی. اگر برداشت کربھی لیا تو وہ پشتون نہیں ھے اور اس کیلئے پشتو میں ایک بہت برا لفظ ھے.. ھمارے پشتون مائیں جب اپنے بیٹے کیلئے دلہن ڈھونڈتی ہیں تو عارف خٹک بن جاتی ھے. لڑکی کا فیگر اگر مسرت شاہین جیسا ھے تو بنا دیکھے رشتہ ڈن ھوجاتا ھے اور تو اور ھمارے خٹک قبیلے میں پچھلے دنوں ایک پی ایچ ڈی مریل لڑکی دو لاکھ میں بک گئی اور ایک جاھل گنوار 95 کلو لڑکی کی بولی دس لاکھ میں لگ گئی۔ ( یاد رھے ھمارے ھاں رشتہ پکا ھونے بعد حق مہر فریقین کی باھمی رضامندی کے بعد لڑکی کے والد کو دیا جاتا ھے کہ وہ اس سے لڑکی کیلئے کچھ خریدیں………… یا اپنے لئے کچھ خریدیں). میرا چھوٹا بیٹا کسی عورت کے گود میں جاتا ھے تو وزن دیکھ کر جاتا ھے اگر عورت بس عورت ھے تو منہ مڑ لیتا ھے اگر وزنی ھے تو اسمیں اسے اپنی ماں کا عکس نظر آجاتا ھے اور کھلکھلا کر سامنے والی کی گود میں پھلانگ جاتا ھے. یہ الگ بات ھے اسوقت میرے اپنے احساسات بھی میرے بیٹے والے ھوتے ہیں…….. عطاءاللہ خٹک کہتے ہیں کہ اگر پشتونوں کی ماں وزنی نہ ھو تو ممتا بھی ادھوری محسوس ھوتی ھے.

آپ مانو یا نہ مانو ھم پشتونوں کو یہ سوچ مسرت شاہین نے دی ھے. جب کوئی دس سالہ بچہ ایک مونچھوں والے بندے کے سامنے 130 کلو کی ھیروئن ناچتا ھوا دیکھیں اور اسکے ابا 140 کلو کی خاتون کے نخرے اٹھا رھا ھو تو ایمان سے بتاؤ اسکی اپنی فنٹاسی کیا ھوگی؟ خوشحال خان خٹک کی تیرسٹھ بیویاں تھیں مگر سب سے زیادہ محبت اس نے گل مینہ نامی بیگم سے کی تھی جسکا وزن بقول مورخ کے بھینس کے برابر تھا. شیرشاہ سوری کی تاریخ بھی ھمیں یہی کچھ بتاتی ہیں تب ھم سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا اس وقت بھی مسرت شاہین تھی؟

اپنے انعام رانا کو دیکھیں جرمن بیوی ھے جو کہ ایک پشتون ھے کیا اسکا الزام ھم انجمن کو دے سکتے ہیں؟

(عارف خٹک پورے فیس بک کے لالہ اور مقبول رائیٹر ہیں۔۔۔ آپ سب عورتوں کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں، جس سے اپنے گھر کی عورتوں کو۔ سنا ہے انکے والد گھر میں ان سے خصوصی پردہ کراتے تھے۔ مزاح کے پردے میں چھپا عارف خٹک، پوری تحریر کے کسی ایک جملے میں ایک سنگدل حقیقت بیان کر جاتا ہے۔ عارف خٹک باقاعدہ “مکالمہ” کیلیے لکھیں گے۔)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”وزن اور پشتون ایک مکالمہ ۔ عارف خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *