• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیاافغان مہاجرین پاکستانی معیشت اور معاشرے کے لیے سود مند ہیں؟عامر کاکازئی

کیاافغان مہاجرین پاکستانی معیشت اور معاشرے کے لیے سود مند ہیں؟عامر کاکازئی

آجکل ہمارے کچھ مہربان  سرتوڑ کوششیں کر ریے ہیں کہ افغان مہاجرین کا انخلا رک جا ئے کیونکہ ان کا انخلا کچھ افراد کے کاروبار اور کچھ کی فکراور نظریہ کوٹھیس پہنچائے گا۔

ان مہربانوں میں سے کچھ کو معاشی دھچکہ بھی شاید لگے۔ اس لیے آج کل وہ مختلف لکھاریوں  کے ذریعے اخبارات میں پاکستانیوں اور بالخصوص پختون خوا کے لوگوں کو ڈرا رہے ہیں کہ ان کا جانا پاکستان کا معاشی قتل ہے اور چونکہ افغانیوں نے ھماری معیشت کے حجم میں اضافہ کیا ہے، اس لیے انہیں پاکستان کی شہریت دے دی جاۓ یا ملک میں رینے کی لا محدود اجازت دے دی جاۓ۔ یہ لوگ مختلف  معاشی نظریات کے تحت یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر ریے ہیں۔

بات اس سوال سے شروع کرتے ہیں کہ کیا واقعی افغانیوں نے ھمارے ملک کا معاشی، سوشل اور پولیٹیکل دھانچہ تباہ کر کے نہیں رکھ دیا ہے؟

آئیے سب سے پہلے ہم اس مسلہ کو معاشیات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں۔ سب سے پہلے ھم ٹھامس رابرٹ مالتیس کے  مشہور نظریہ  پر بات کرتےہیں۔ مالتیس اپنا نظریہ اس طرح پیش کرتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اس کی ابادی اس کے ذرائع پیداوارسے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ملک کو اسی پیمانے پر اپنی ابادی کا تعین کرنا چاہیے۔ اب پاکستان جس کی آبادی پہلے ہی تقریباً اٹھارہ کروڑ سے بیس کروڑ تک ہے۔ ہمارے ملک میں حکومت اپنے شہریوں کو کم ریسورسسز کی وجہ سے، صاف پانی، بجلی، گیس، گھر اور سینیٹری کی سہولیات دینے سے قاصر ہے۔ کیا ہم ان دانشوروں سے یہ پوچھنے کی جرات کر سکتے ہیں کہ حکومت تین سے چار کروڑ افغانیوں کو کیسے ایڈجسٹ کرے گی؟ ( جونہی حکومت پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ افغانیوں کو پاکستانی شہریت دے رہا ہے، ان کے صدر سمیت پورا افغانستان اپ کے گھر پر ہوگا)۔

کچھ حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ نظریہ اب انڈسٹریل ریولوشن کے بعد متروک ہو گیا ہے۔ اگر یہ نظریہ متروک ہو گیا ہے تو انڈیا اور چین جو اسی انڈسٹریل ریولوشن سے گزر ریے ہیں ، کیوں اپنی ابادی کو کنٹرول کرنے کے چکروں میں لگے ہوئے ہیں؟

اب ھم پاپولیشن کے ایک اور نظریہ  کی طرف جاتے ہیں۔ وہ ہے،  ایدون کینن اور  کار سُندرز ، جو لندن سکول اف اگنومیکس کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے optimum theory of population یا جیسے modern theory of population  بھی کہتے ہیں، پیش کی۔

ان کے مطابق ایک ملک تین قسم کی صورت حال سے دوچار ہو سکتا ہیے۔

  1. زیادہ آبادی
  2. کم آبادی
  3. مثالی آبادی

ھم دواورتین کو چھوڑ کر صرف پہلی صورت حال کے بارے میں بات کریں گے۔ کہ وہ ھمارے ملک کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق جن ممالک کی آبادی زیادہ ہوتی ہیے۔ ان کے لوگ غریب ہی ریتے ہیں۔ اگرآپ ملک کی ترقی چاہیتے ہیں تو اپنی ابادی کو کنٹرول کریں۔ زیادہ ابادی سے مندرجہ زیل خرابیاں ملک میں پیدہ ہو سکتی ہیں۔

  1. اناج کی کمی
  2. گھروں کی قلت
  3. بڑے شہروں میں زیادہ ہجوم ، جس کی وجہ سے شہری سہولیات کی کمی، ٹریفک کا مسلہ، پانی، بجلی، گیس کی کمی، خراب ڈرینیج سسٹم، اور کچی آبادیوں کا پھیلاؤ۔
  4. بیماریوں کا اچانک پھوٹ پڑنا۔
  5. عوام کا اپنی کمائی سے بچت نہ کر سکنا۔
  6. بے روزگاری
  7. ماحولیات میں بگاڑ۔
  8. اورآخر میں سب سے خطرناک بات کہ جرائم یا دھشتگردی میں اضافہ ہونا۔

اس پیمانے کو سامنے رکھتے ہوئے تھوڑی دیر تصور کریں کہ اگر تین چار افغانی یہاں آگئے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔

ہمارے کچھ معشیت دان بار بار صرف امریکہ، کینڈا اور یورپ کی مثالیں دیتے ہیں جو اوپر والے نظریہ کے حساب سے تیسری قسم میں اتے ہیں۔ جہاں آبادی کی کمی ہے، ان قوموں کو مزدور چاہیں جو ان کے سارے ریسورسسز کو پوری طرح استمال میں لاکر ملک کی ترقی میں اپن کردار ادا کریں۔ یہ ایسے ممالک ہیں جہاں کام ہے مگر لیبر فورس نہیں ہے۔  ان کی فیکٹریاں چل رہی ہیں، مگر ہنرمند نہیں ہیں کہ ان فیکٹریوں سے پوری طرح سے پیداوار  لے سکیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ ہمارے ہاں کون سی فیکٹریاں یا انڈسٹریز چل رہی ہیں کہ جہاں آپ کو بندے نہیں مل ریے اوران کو چلانے کے لیے ہمیں باہر سے بندے امپورٹ کرنے پڑیں گے؟

کچھ نے صنعتی انقلاب کا بھی ذکر کیا۔ ہم ان سے بہت ادب سے یہ پوچھنے کی جسارت کرتے ہیں کہ پاکستان میں یہ انقلاب کب آیا؟ اوراگرآیا تو ہم سارے پختونخوا، سندھ، بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان کے لوگ کہاں سوئے ہوئےتھے؟

ھمارے صوبے پختونخوا میں اس وقت %95 سے زیادہ فیکٹریز بند پڑی ہیں۔ یہی حال سندھ اور بلوچستان کا ہے۔ اگر پنجاب میں انڈستریز کا جال بچھا ہوا ہیے اور لیبر کی شدید قلت ہو رہی ہے تو ھمارے علم میں نہیں۔ لیکن اگر پنجاب میں ایسی کچھ تبدیلی آ ہی گئ ہے تو بجائے دوسرے ملک سے منگوانے کے اپ اپنے ہی لوگوں کو کیوں نہیں روزگار دیتے؟

ایک اور بات اگر حقیقت میں کوئی جال بچھ ہی گیا ہے تو ان اندسٹریز کو وہ ورکرز چاہیں جو اپنی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہوں۔  دوسرے الفاظ میں انہیں ایک ہنر مند لیبر کی ضرورت ہے۔ نہ کہ نااہل افراد کی۔ اب یہ سمجھ نہیں آتیکہ ان پہاڑوں سے آئے ہوئے افغانوں نے کب وہ مہارت حاصل کی؟ کب وہ اتنے ہنر مند ہو گۓ کہ ہمارے لئے اپنے بیس کروڑ لوگ کم پڑ گۓ۔

ایک اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ان لوگوں نے صرف اس وجہ سے کاروبار پر قبضہ کیا کہ وہ ہم سے زیادہ اہلیت رکھتے ہیں اورہم لوگ ناکارہ اور سست ہیں اور کوئی کام نہیں کرنا چاہیتے۔ حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ ہم اگر کاروبار کے لئے سرمایہ کاری کرنا چاہئں تو یہ افغانی اپنے ڈرگ اور سمگلنگ کے پیسے سے ہم سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کے اہل ہیں۔ وہ پورا بزنس ہی خرید لیتے ہیں۔ پاکستان کا متوسط طبقہ اس معاملے میں ان کا مقابلہ کرہی نہیں سکتا۔

ان معاشیت دانوں کو کون سمجھا ئےکہ اکنامکس میں حساب کی طرح کوئی فامولہ فکس نہیں ہوتا کہ جسے چاند، مریخ اور زمین پر، جہاں بھی apply کریں وہ درست ثابت ہو۔ معاشیات میں کوئ معاشی نظریہ اس علاقے اور ملک کی صورت حال اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر ہی لاگو کرنا پڑتا ہے۔

اوپرہم نے ان معاشی جزیات کے بارے میں بحث کر لی ایے دیکھتے ہیے کہ ان افغانیوں نے ہمارے معاشرے کو سماجی اور سیاسی طور پر کیسے برباد کیا۔

یہ لوگ ڈرگ اور سمگلنگ کے پیسوں کی بدولت ہرجگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ سب دیکھ سکتے ہیں  کہ کیسے ان لوگوں نے ھمارے شہروں، گلیوں اور علاقوں کو تباہ کیا ہوا ہے۔ پہاڑوں کے رینے والے لوگوں کو اتنی جلدی شہروں میں رہنے کا سلیقہ کہاں آ سکتا ہے۔ہمارے پارکس، بازار، مارکیٹیں، سب ان لوگوں سے بھری ہوئی ہیں اورہم لوگ اب دھیرے دھیرے اقلیت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک دن آئےگا کہ ھم لوگوں کو انہوں نے نکال باہر کیا ہو گا، پھر ھم کو کسی ڈیورنڈ لاین کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ یہ سارا علاقہ خود بخود افغانستان بن چکا ہو گا۔

ان کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد یہ لوگ ھمارے پولیٹیکل سسٹم  پر بھی قبضہ کر لیں گے۔ اس کی واضح مثال 2013  کے الیکشن میں عمران خان کا اپنی سیٹ چھوڑنے کے بعد ایک افغان کو ٹگٹ دینا ہے۔ گو کہ اس وقت وہ افغانی کامیاب نہ ہوسکا مگر مستقبل میں یہ لوگ ھمارے پولیٹیکل سسٹم پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں۔

“کوئٹہ کوئ بلوچ یا پشتون شہر نہیں رہا، اب اس پر افغانیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ اور ھم اقلیت بن گۓ ہیں۔” یہ ماتم بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلئ ڈاکٹر عبدلمالک بلوچ کر ریے ہیں۔ تا دم تحریر ان کے بیان کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔  کیا اس پر کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟

ایک وفاقی وزیر جنرل عبد القادر بلوچ  نے چند ہفتے پہلے کہا تھا کہ جعلی شناختی کارڈ بناوا کر افغانی دس لاکھ ملازمتوں  پر قابض ہیں۔ اب ھم اپنے مہربانوں سے یہ پوچھنے کی گستاخی کر سکتے ہیں کہ ان دس لاکھ ملازمتوں پر پہلا حق کس کا ہے؟

ان مہربانوں میں بدقسمتی سے ھمارے کچھ سیاسی لوگ بھی صرف اپنے ووٹ بینک کی وجہ سے مخالف ہو گۓ ہیں ان میں پہلے نمر پر عمران خان ہیں، جن کی اس صوبے پر حکومت ہے انہوں نے تھوڑے دن پہلے یہ بیان دیا کہ افغان مہاجرین کو ہراساں کرنا جو گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے، اسے بند کیا جائے۔ اس عظیم سیاسی لیڈر کی دور اندیشی دیکھیے کہ لاکھوں ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیسا بیان دے دیا ہے؟ اس طرح پختونوں کے سیاسی لیڈر اسفند یار ولی صاحب نے بھی ان کو نکالنے کی مخالفت کی ہے، جب کے ان کے والد اور دادا اس بات کے سخت مخالف تھے کہ افغانیوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے۔

یہ لوگ ہر قسم کے جرائم اور دھشتگردی میں ملوث ہیں۔ ان لوگوں کے پاس یہ سہولت موجود ہے کہ یہ جرم کر کے آسانی سے سرحد پار کر کے افغانستان چلے جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کے اخلاقی اقدار کا بگاڑ بھی انہی لوگوں کی وجہ سے ہوا ہیے۔

ان لوگوں نے کبھی بھی پاکستانیوں سے گھلنے ملنے کی کوشش نہیں کی، ان کے تہوار حتئ کہ یہ لوگ عید بھی افغانستان کے ساتھ مناتے ہیں۔ نوروز ان کا محبوب تہوار ہے۔ اس لیے اگر یہ کسی ملک کے نزدیک ہیں تو وہ ایران ہے نہ کہ پاکستان۔ ان کا لباس، ان کے تہوار، ان کی زبان، ان کا کلچر، ان کا اٹھنا بیٹھنا سب کچھ ھم سے مختلف ہے۔ انہوں نے کبھی پاکستان کو اپنا ملک سمجھنے کی یا اپنانے کی کوشش ہی نہیں کی۔

اگر ھم لوگ ان معیشت دانوں کی بات مان بھی لیں کہ ھمیں میشیت کے پھیلاؤ کے لیے ان کی ضرورت ہے تب بھی کبھی کبھی سیکیورٹی دیگر تمام معاملات سے اہم ہوجاتی ہے۔ اب اگران لوگوں کی وجہ سے ملک ترقی کر گیا اور ھمارے بچے اور جوان چار فٹ زمین کے نیچے چلے گئے تو اس ترقی کا ھم  نے کیا کرنا؟

جان زیادہ اہم ہے یا ترقی؟

کچھ جذباتی لوگ جو ایک امہ کے نظرئیےسے متاثر ہیں۔ اس کو انسانی مسئلہ قرار دے کر عوام کو اس اک ذمہ دار قرار دے دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ افغانی بیچارےمعصوم ،اللہ میاں کی گا ئے ہیں اور جو تباہی اور ہلاکتیں ہوئیں اس کےذمہ دار ہم خود ہیں۔ اس لیے ہمیں ان کو مستقل پاکستان میں رہنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔ پہلے تو یہ بات کہ ان کے اپنے لیڈر بک گۓ تھے پاکستانی فوج اور امریکیوں کے ہاتھوں۔ پہلا افغان جو بکا وہ حکمت یار تھا۔ اور تمام لیڈرشپ بشمول طالبان، امریکہ سے ڈالر کھا ری تھی۔ اب ان افغانیوں کو اگر گریبان پکڑنا ہیے تو جا کر پہلے اپنے لیڈروں کو پکڑیں۔ ھم بے چارے پاکستانی عوام تو پچھلے چالیس سالوں سے ان افغانیوں کو بھگت ہی رہے ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ ان کے جانے سے کیا فرق پڑا ہیے پاکستانی مارکیٹ پر:

  1. خورونوش کی قیمتوں میں فرق پڑا ہیے، مرغی 225 سے 120 تک آ چکی ہے، انڈا 120 سے 100 فی درجن ہو گیا ہے۔ سیزن کی سبزی میں پانچ روپے سے دس روپے تک فرق پڑا ہے۔
  2. گھروں اور دکانوں کے کرایوں میں اچھا خاصہ فرق ا گیا ہے۔
  3. پراپرٹی کی قیمتیں گرنے لگی ہیں، جس سے عام پاکستانی کو فرق پڑے گا کہ اس کے پاس ڈرگ کا پیسہ نہیں ہیے کہ اتنے مہنگے گھر خرید سکے۔
  4. امن و امان کے مسلے میں بہتری آنا شروع ہو گی ہے۔
  5. ھمارے شہروں میں رش کم ہونا شروع ہو گیا ہیے۔
  6. ٹریفک میں کمی آئی ہے۔ جس سے ٹریفک کا فلو بہتر ہو گیا ہے ۔
  7. ان کے جانے سے ھم اپنی گلیاں اور محلے صاف رکھ سکیں گے۔
  8. ھمارا مزدور اور عام بندہ جو بیروزگار ہو گیا تھا اس کو روزگار ملنے کی امید ہے۔

ھم نے پشاور کے مختلف تاجروں سے یہ بات بھی معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا واقعی میں افغانیوں کے جانے سے پاکستانی تاجر کے بزنس پر فرق پڑے گا تو یہ تحریر پڑھنے والے اس بات پر  حیران ہونگے کہ ان سب تاجر بھائیوں نے ہاتھ اٹھا کر، آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ، اللہ کا شکر ادا کیا اور یہ کہا کہ اول تو کوئ نقصان ہو گا نہیں اور اگر ہوا بھی تو ھم یہ برداشت کرلیں گے۔

ایک اور نامعلوم ان لاین اخبار میں ھمیں یہ کہہ کر ڈرانے کی کوشش کی گئ ان کے جانے سے خیبر پختون خوا کو اڑھائی ارب ڈالر کا جھٹکا ملے گا۔  اس میگزین میں جن علاقوں کے رکانداروں کی مثالیں دیں ہیں وہ صدر بازار میں شفیع مارکیٹ اور حیات اباد کے نزدیک کارخانوں کی مارکٹیں، جن میں کام ہی سمگل اٹیم کا ہوتا ہے۔ اب اگر سمگلروں کا کوئ نقصان ہوتا ہے تو اس کا ھماری معیشت سے کوئ تعلق نہیں۔ یہ سمگلر تو ایسے بھی نہ ٹیکس دیتے ہیں، نہ ہی ان کی ھماری اکانومی میں کوئ ان پٹ یا اوٹ پٹ ہے۔ اس لیے ھمیں فکر کرنے کی کوئ ضرورت نہیں۔ مارکٹ اور اکانومی کا اصول ہے کہ ایک جاۓ گا تو دس اور اس کی جگہ لینے کے لیے تیار بیٹھے ہوں گے۔ یہ سب جو ان افغانوں کی جگہ لینے کو تیار بیٹھے ہیں، وہ پاکستانی ہیں۔

ایک اور پیرا میں یہ بتانے کی کوشش کی گئ ہے کہ ان کے جانے سے پاکستانی جو ان کے ساتھ ملازم ہیں، وہ فاقوں پر مجبور ہو جایں گے، ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ رازق خدا ہے، افغانی نہیں۔ جب ان دکانوں سے پاکستانی بزنس مین شروعات کریں گے تو ان کو بھی رزق ملے گا۔  یہ ھمارا ایمان ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نہ کہ کسی انسان کے ہاتھ میں۔

اس سلسلے میں کچھ سیکیورٹی کے لوگوں سے بھی بات کی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے بہت زیادہ مسائل ہو گےتھے، اس لیے اب حکومت نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ افغانیوں کو ان کے ملک واپس بھیجنا ہے۔ مگر عزت کے ساتھ۔

ھم نے یو این ایچ سی ار سے بھی معلومات لینے کی کوشش کی اور تاروجبہ/چمکنی کے پاس افس نے بتایا کہ ان کا ٹارگٹ روزانہ کے حساب سے سو فیملیز کا تھا۔ اور تقریباً پچاسی سے زیادہ فیملیز روزانہ کی بنیاد پر جا رہی ہیں۔ ہر جانے والی فیملی کو تقریباً چار سو امریکی ڈالر ملتے ہیں۔

اخر میں ھم تمام معشیت دانوں کو صرف ایک مشورہ دینا چاہیں گے کہ کبھی کبھی کتابوں سے نکل کر باہر کی دنیا بھی دیکھ لیا کریں کہ کتابیں کے لکھے اور باہر کی دنیا میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہیے۔  اس ملک کا بھی جائزہ لے لیا کریں، جہاں اپ نے اس معاشی نظریے کو نافذ‎ کرنا ہے۔ اس لیے کہ ہر ملک کے حالات میں زمین اور اسمان کا تفاوت ہوتا ہے۔

اب اگر پھر بھی ھمارے مہربانوں کو لگتا ہے کہ یہ مہاجرین ھمارے لیے مفید ہیں تو چلیں پورے ملک میں اگر نہ سہی تو صرف خیبر پختون خوا، بلوچستان اور سندھ میں ایک ریفرنڈم کروا لیتے ہیں کہ ان کو رکھنا چاہیے کہ نکال دینا چاہیے؟ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟

بہت معذرت ان مہربانوں سے اختلاف کرنے پر مگر افغانوں کا مسئلہ ھمارے ملک کے لیے زندگی اور موت کا مسلہ ہیے۔ اور تھوری سی بھی کوشش ان کو روکنے کی ھم پر ایٹم بم گرانے کے برابر ہیے۔

آخر میں اپنے افغانی بھایوں سے درخواست ہے کہ آپ لوگ بجاۓ شکوے اور گلے کرنے کے، اب پاکستان سے رخصت مانگ ہی لیں

جس کی خاطر مٹا دیا خود کو

اس کو رہے ھم  سے گِلے جاناں

 (عامر کاکازئی کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ساتھ ہے اور اپنے علاقے کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ افغان مہاجرین کے مسئلے پر اگر کوئی ان کے خیالات سے اختلاف رکھتا ہو تو وہ اپنی تحریر بھیج سکتے ہیں۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کیاافغان مہاجرین پاکستانی معیشت اور معاشرے کے لیے سود مند ہیں؟عامر کاکازئی

  1. عامر بھائی آپ کے مضمون اور تمام نکات سے مکمل اتفاق کے ساتھ افغان بھائیوں سے گذارش ہے کہ آپ اپنے گھر کو سنبھالیں اور ہمیں اپنے گھر میں سکون سے رہنے دیں.

  2. مدلل تحریر….اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں…افغان بھایوں کو اب خود اپنے وطن کی آبادکاری پر توجہ دینی چاہئے..او ھسے ھم پردے کٹ دا نیمے شیپے یئ..

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *