ایک خط ۔ عظمی ذوالفقار

پیاری ہم جولی

کیسی ہو?تم نے اماں ابا کے بارے میں پوچھا تو ایک سلسلہ چل نکلا…ایک کا ہاتھ پکڑے دوسری اور پھر تیسری یاد کا سلسلہ۔ تو سنو میرے ذہن میں اور میرے البم میں انکی پہلی تصویرمحفوظ ہے,مجھے پڑھاتےہوئے….پہلا بچہ, جوائنٹ فیملی کے بیچ ایک کمرے کی ملکیت رکھتے ہوئے ,ڈھیر ساری توجہ اور رہنمائی.ایک مضمون کو تب تک لکھوانا جب تک غلطیاں دور نہ ہو جائیں…اب اپنے بچوں کا سبق سننا پڑ جائے تو من میں آتا ھے کہ جلدی فارغ ہوں.مگر چھوٹے بہن بھائیوں اور سسرال کی ذمہ داریوں کے باوجود

ماں کی اسی توجہ کا کیا دھرا تھا کہ کبھی فرسٹ پوزیشن سے کم پر نہیں ٹکی۔

ضدی بچہ نہیں تھی۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ ضد کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی یا پھر ابو کی جانب سے جینز میں قناعت کا سلسلہ وافر ملا تھا۔ اعتماد کے سائے تلے چلتے ہوئے اپنا وقار قائم رکھنا۔ یہ سیکھ ان دونوں نے الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے دی تھی۔ تو کیوں نہ یاد رہتا یہ سب کچھ۔

اور پڑھنے کی لت…وہ تو اماں نے رزلٹ کے انعام کے طور پہ کہانیاں لا لا کر لگا دیں۔ رنگین اور خوبصورت کہانیاں،بچپن کی ایک اور موہوم سی یاد ہے۔ ابو کا سونے سے پہلے بی بی سی خبریں اور ڈرامہ سننااور صدا کاری کی باریکیاں بتانا۔ شکر ھے اس وقت سمارٹ فون نہ تھےورنہ آجکل کی طرح سب گھر والے اپنی ہی دنیا میں مگن ہوتے۔

سوچتی ہوں کہ مجھے ہاسٹل بھیجنے کی بجائے وہ اپنے پاس بھی تو رکھ سکتے تھے کہ بڑی بچی باقی چھوٹے بچوں کو سنبھالنے میں مددگار ہو سکتی تھی۔مگر ان کےلیے میرا مستقبل اپنے لگاؤ یا مفاد سے بڑھ کر تھااور پھر ابو کی لانے لیجانے کی لمبی ذمے داریاں،ٹیوشنز،سکول،کالج۔۔گھر داری کا بوجھ بھی کبھی نہی ڈالا، بلکہ شعور کی منزل پہ آکے جب امی سے کہتی کہ بہت سحریاں بنا لیں آپ نے،اب مجھے بنانے دیں تو بھی وہ اپنی روٹین جاری رکھتیں۔ماں نے غیر محسوس انداز میں اپنے ہاتھ کےذائقے کے ساتھ ساتھ اپنی مہمان نوازی بھی بچوں میں انڈیل دی۔ سیر و تفریح کی صورت میں اس زمانے کے حساب سے مقدور بھر دنیا بھی دکھائی ۔

جسم وجاں کے ٹکڑوں کو خود سے جدا کرنے کا مرحلہ آیا تو زیادہ کچھ کہنے سننے کی بجاے بس خاموشی سے تکتے رہے۔ شائد کسی  ان دیکھے سے ڈر کی ایک موہوم چلمن حال اور مستقبل کے بیچ آ گئی تھی۔ جانے والی کو تو کچھ نیا ملنے کی خوشی ہوتی ہے جیسے نیا گھر,نئے لوگ اور ماحول۔ اور  وہ اس بدلاؤ کو خود میں دھیرے دھیرے سمونے لگتی ھے۔مگر پیچھے رہ جانے والوں کے حصے میں عموماً یادیں ہی ہوتی ہیں.

محنت سے عزت اور مقام بنانا، خود سے جڑے لوگوں سے صلہ رحمی، مثبت سوچ اور اولاد کو حلال کھلانا…یہ تھے وہ اصول جو ہم نے دیکھے۔ سنے اور سمجھے۔ارے سننے سے یاد آیا، اتنی کہاوتیں سنی ہیں نا امی سےکہ ہر موقعے کی کہاوت آپ ہی آپ آ جاتی ھے ذہن میں۔ آج جو کسی انسان کو اسکی صنف سے اوپر اٹھ کے دیکھ اور پرکھ پاتی ہوں تو

اسکا سہرا بھی ابا کے سر ہے کیونکہ اس شخص نے تمام عمر اپنی بیٹیوں کو بیٹے سے کسی طور پیچھے نہ رکھا۔

اولاد بڑی ہو جائے تو والدین کی کچھ  باتیں ذرا عجیب  بھی محسوس ہوتی ہیں۔ ان کے بارے میں اگر بڑوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو ایسی کوشش عموماً کم ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ جو عادتیں انسان کے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہوں ، ان سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں رہتا کیونکہ وہ فطرت ثانیہ کا روپ دھار لیتی ہیں۔ کبھی فارغ نہ بیٹھنا ابو کا ایسا شوق تھا جو مجھے بھی ملا۔ تاہم مجھ ایسے فقط سوچتے ہی رہتے جبکہ وہ کر دکھانے پہ یقین رکھتے تھے۔ ہوا کے مخالف رخ چلنے  کا دم کسی کسی میں ہوتا ھے، ان میں یہ خوبی اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔

دعاؤں کی چھاؤں میں تمام عمر ہم نے بسر کی اور دعا ہے کہ یہ چھاؤں کبھی بھی سر سے نہ ہٹے۔

جگ جگ جیو اماں  ابا !!!!!!⁠⁠⁠⁠

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *