ہدایت نامہ ء زوج۔۔۔محمد خان چوہدری

تم ایک کال گرل کے لئے مجھے اس طرح ذلیل نہیں  کر سکتے”

زینی کے یہ الفاظ اس وادی نما مقام پر  واقع ریسٹ ہاؤس  کے لان میں گونج کی وجہ سے دہرائے جا رہے تھے۔۔۔ اور سر وقار آرام کرسی کی بیک سے سر ٹکائے نیم دراز خاموش خلا میں نظریں ٹکائے ہوئے تھے،چھوٹی پہاڑی کی چوٹی پر واقع یہ جگہ عقبی بڑی پہاڑی کی گود لگتی ہے،دو سال سے زینی اور وقار روزانہ یہاں آ رہے تھے،لیکن آج بہت سی چیزیں پہلی بار رونما ہو رہی تھیں، زینی آج اپنی کار پر  آئی ،آج بجائے ریسٹ ہاؤس کے بیڈ روم میں جانے کے یہ لان میں بیٹھے تھے،زینی جو وقار کی کار سے اترتے منہ سے وسل میں گانا گنگناتی تھی آج رو رہی تھی،اس نے وقار کو پہلی بار تم کہہ کے پکارا تھا،دو سال قبل وقار کے امپورٹ ایکسپورٹ بزنس کے آفس والے پلازہ میں ،بنک کی نئی  برانچ کھلنے ، زینی کی اس بنک میں انٹرن شپ میں کلائنٹس ریلیشن ڈیسک پر  ہوتے وقار کے اکاؤنٹ کھولنے پہ  ہونے والے تعارف کو ریلیشن شپ میں بدلنے میں دیر ہی کتنی لگی۔۔۔

زینی وومن ہاسٹل میں رہتی تھی، بنک کے دفتری اوقات کے بعد فارغ، بس ویک اینڈ پر  گاؤں جانا ،وقار کی فیملی برطانیہ میں برمنگھم رہتی تھی ، جہاں اس کا دوسرا دفتر بھی تھا ،بیگم دونوں بیٹیوں کی تعلیم ، اور اپنا گھر ہونے اور برٹش نیشنل ہونے کی وجہ سے وہاں مقیم تھی ،وقار آتا جاتا رہتا، یہاں اس کو والدین کا گھر ان کی وفات پر  ملا،مین ہاؤس  کرایے پر  تھا اور انیکسی اس کے پاس،زینی جسمانی تعلق کی وجہ سے ذہنی طور پر وقار کو ذاتی ملکیت سمجھنے لگی تھی،اور وقار بھی اس کا تابع فرمان رہتا، عمر کی تفاوت اور جنسی آسودگی کے سبب زینی اس پر مکمل حاوی تھی۔۔

پھر ایک ویک اینڈ پر  وقار کی ملاقات  ایک دوست کی   فائیو سٹار ہوٹل میں پارٹی کے دوران نوشی سے ہوئی ،نوشی تو بس بچھ جانے والی عورت تھی ، چند ہفتے تو اس کی وقار کے ساتھ ڈیٹنگ ویک اینڈ تک محدود رہی  لیکن پھر وقار دوسرے تیسرے دن زینی سے بہانہ کر کے  نوشی سے ملنے لگا،عورت  سوتن کی موجودگی سے بھلے بےخبر رہے، لیکن دوستی میں دوسری عورت کا وجود سونگھ  لیتی ہے،دو ہفتے قبل زینی نے ویک اینڈ پر  گاؤں جانے کی بجائے وقار سے ضد کی کہ رات اسی ریسٹ ہاؤس میں گزاریں۔۔۔لیکن وقار نے کسی کلائنٹ کے ساتھ مری جانے کا بہانہ کیا، اور نوشی کے ساتھ دو دن مری رہ آیا۔

زینی نے سب ٹوہ لگا لی، لیکن وقار نے اس سے ملنے سے مکمل گریز کر لیا، آج صبح فون پر  زینی کے رونے دھونے سے اس نے دن کو ریسٹ ہاؤس میں ملنے کا کہا لیکن زینی کو خود اپنی کار پر  آنے کی شرط پر،اور اب وہ ریسٹ ہاؤس کے لان میں تھے، وقار کی خموشی پر  زینی نے پینترہ بدلا، وقار کے پاؤں کی طرف اپنی کرسی کھینچ لی ، اور وقار کے گھٹنوں پر  ہاتھ رکھ کے بہت ہی پیار   بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔وقار، وقار، دیکھو میں آپ سے آدھی عمر کی ہوں،میں نے اپنا بدن آپ پر  وار دیا،میں نے آپ سے پیار کیا اور پیار دیا،آپ کی جنسی ، جذباتی، ہر ضرورت پوری کی،آپ کے لئے آپ کے ساتھ یہاں آتی رہی،اور میں کیا کرتی اور بتائیں میں نے آپ کی ضرورت اور خوشی کے لئے کیا نہیں  کیا۔۔

وہ عورت آپ کو کیا دے گی ، جو میں نے نہیں  دیا، بتائیے ایک کال گرل کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقار نے اس کے منہ پر  ہاتھ رکھ کے اسے چُپ کرا دیا۔۔۔۔میز پر  پڑے کافی کے سامان سے دو کپ کافی  بنائی ، زینی کو کپ پکڑا کے اپنی کرسی اس کے سامنے کی طرف کھسکا کے اس نے آج پہلی بار اس کا پورا نام لے کے کہا۔۔

زیب النِسا وحید صاحبہ، میں آپ کی محبت اور پیار کرنے کے احسان مند ہونے کا اقرار کرتا ہوں ،

ممنون و مشکور ہوں،

لیکن پیار محبت میں احسان نہیں  کئے جاتے ، دو طرفہ خواہشوں کی آسودگی ہوتی ہے۔۔مجھے بھی یہ سمجھنے میں دیر لگی ، کہ میں اس بات سے واقف نہ تھا کہ عورت کو بھی مرد کا احسان مند ہونا ہوتا ہے،

نوشین نے پہلی بار مجھے یہ لطیف احساس ہم بستری کے بعد دلایا،جس کی ذہنی لذت بدن کے اتصال سے کہیں زیادہ اور ابدی ہے،آپ افعال محبت کرنے کے بعد ، جن میں آپ برابر کی  شریک ہوتیں ،جس کراہت کے احساس اور احسان کا اظہار کرتیں  اس سے میں شدید احساس جرم و کمتری کا شکار ہوتا رہا۔۔میری اطلاع کے مطابق آپ کا خالہ زاد لندن سے اگلے ہفتے آ رہا ہے،والدہ کے ساتھ ، تو ہاں کر دیجیئے گا رشتے کی،اور ہاں آپ ہاں کرنا  سیکھیے ،عورت بھی مرد کے بغیر اتنی ادھوری ہوتی ہے،جتنی مرد کو عورت کی ضرورت ہوتی ہے،آپ کا خالہ زاد بہت نفیس اور نازک مزاج ہے ، کل رات میری اس سے تفصیل میں بات ہوئی  ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *