ہم مر کیوں نہیں جاتے ۔۔۔عامر عثمان عادل

بادامی باغ کے رہائشی کا نومولود بچہ اللہ کو پیارا ہو گیا ،قل سے فارغ ہوتے ہی غم زدہ باپ نے قبرستان کا رخ کیا کہ قبر پہ فاتحہ پڑھ آئے تو دکھی دل کو کچھ قرار آئے وہاں پہنچا تو کچھ گڑ بڑ کے آثار دکھائی  دئیے ،شک گزرا کہ قبر کھودی گئی ہے گورکن کو بلا کر قبر کشائی  کرنے پر ہولناک انکشاف ہوا۔۔۔اسکے بچے کی نعش تو وہاں تھی ہی نہیں، بیچارہ ہکا بکا رہ گیا۔ چیخا چلایا ،دوست عزیز بھی جمع ہو گئے، غصے سے بپھرے لوگوں نے گورکن کی ٹھکائی  شروع کر دی ۔اسی دوران کسی نے بتایا کہ فلاں چوک میں ایک شخص ایک نومولود بچے کو کندھے سے لگائے بھیک مانگ رہا ہے ،وہاں پہنچنے پر واقعی ایک شخص بچے کو کندھے سے لگائے اسے بیمار ظاہر کر کے لوگوں سے اسکے علاج کیلئے پیسے مانگ رہا تھا۔ باپ نے اپنے بچے کو پہچان لیا ۔مشتعل ہجوم نے اس شخص کو زندہ جلانے کی کوشش کی ،وہ تو کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی یا معمول کے گشت پر گاڑی ادھر آن نکلی تو اس شخص کی جان بچ گئی پتہ چلا کہ الیاس نامی یہ شخص شاہدرہ کا رہائشی ہے جو نشہ پورا کرنے کی خاطر یہ کام کرتا ہے، اس نے اعتراف کیا کہ جب بھی اس کے پاس نشہ پورا کرنے کو پیسے نہیں ہوتے، وہ نومولود  بچوں کی تازہ بنی ہوئی  قبریں کھودتا نعش باہر نکالتا اسے اپنا بیمار بچہ ظاہر کر کے دنیا والوں کی ہمدردی بٹورتا اور یوں ملنے والے پیسوں سے نشہ پورا کر کے دو تین بعد دوبارہ نعش کو اسی قبر میں دفنا آتا۔

قومی اخبارات میں دو کالمی جگہ لئے یہ خبر معاشرے کے ایک اور گھناؤنے  پن کی تصویر ہے، میں نے جب سے یہ خبر پڑھی ہے سکتے میں ہوں، کسی بھی معاشرے کے اخلاقی زوال کی انتہا ہے دم توڑتی انسانیت کا بھیانک روپ جہاں جیتے جاگتے انسان تو درکنار مر کر منوں مٹی تلے دفن ہونے والی لاشیں بھی محفوظ نہیں ،یہ سوچ ہلکان کیے  جا رہی ہے کیا کوئی  سماج اس سے زیادہ پاتال میں گر سکتا ہے  کہ نومولود بچوں کی نعشیں بھی ہماری ہوس سفاکیت اور بے حسی کی بھینٹ چڑھ جائیں۔۔

کوئی  طوفان بپا ہوا ؟ سماج سدھار کے ٹھیکیداروں کی جانب سے کوئی  بیان آیا ؟ موم بتی مافیا کی توجہ حاصل کر پائی یہ دلدوز خبر ؟۔۔۔ وارثان منبرومحراب نے اس پہلو پر تلقین و تبلیغ کی ٹھانی ؟۔
سنا تھا کہ نشے کی لت انسان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین کر اچھے برے کی تمیز بھی  مٹا دیتی ہے، گھر کے برتن بیچتے بیچتے نشئی  اپنی بیوی بیٹیاں تک بیچ دیتے ہیں لیکن دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کوئی  شخص محض نشہ پورا کرنے کی خاطر قبر کھود کر معصوم نومولود بچوں کی نعشیں نکال کر ان کو سینے سے لگا کر پیسے اکٹھے کر سکتا ہے۔

مجھے بے اختیار ناروے کی وہ رات یاد آ گئی  ۔۔۔کچھ برس قبل ناروے میں قیام کے دوران اوسلو کے مرکز میں چہل قدمی کرتے ہوئے ایک عجیب منظر دیکھا ۔سڑک کنارے ایک کونے میں کچھ نشئی جمع تھے کچھ دیر میں بلدیہ کی گاڑی آئی  اور ان افراد کو حسب ضرورت نشہ پانی فراہم کر دیا گیا ،میں نے حیرت سے اس بابت پوچھا تو پتہ چلا کہ یہ ہر رات کا معمول ہے ،نشے کی علت میں مبتلا افراد جو گھر کے ہیں نہ گھاٹ کے اس چوک میں جمع ہوتے ہیں ،حکومت کی جانب سے انہیں نشہ فراہم کر دیا جاتا ہے ، تاکہ وہ معاشرے کو اپنے اس مکروہ عمل سے آلودہ نہ کریں اور نہ ہی نشہ پورا کرنے کی خاطر جرائم کے مرتکب ہوں۔ تب مجھے اندازہ نہیں تھا لیکن آج بادامی باغ کے نومولود بچے کی نعش ایک نشئی کے کندھے پر دیکھ کر احساس ہوا کہ جو ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے وہ نشے کے عادی بیٹوں کی ضرورت بھی پوری کرتی ہے ، تاکہ وہ قبریں کھود کر لاشوں کی بے حرمتی کر کے نشے کا سامان پورا کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

اور شاہدرہ کے اس نشئی سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ میں نے اگر نشہ نہ ملنے پر ایک نعش کو قبر سے نکال کر اس کے نام پر پیسے اکٹھے کر لئے تو کیا برا کیا، تمہاری طرح جیتے جاگتے انسانوں کے وجود تو نہیں نوچے؟۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے یہ نشئی ہم پر ہنستا ہو گا کہ ارے تم خود کو زندہ سمجھتے ہو ؟ تم تو بے حس بے جان لاشے ہو جنہیں تمہارے لیڈر اتنے  برسوں سے کندھے سے لگائے بیمار ظاہر کر کے دنیا بھر سے پیسے مانگ کر ہوس زر کا نشہ پورا کرنے میں لگے ہیں۔
ہم مر کیوں نہیں جاتے۔۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *