بریگزٹ کے بعد ٹرمپ کی جیت، یعنی حادثہ در حادثہ!

مین سٹریم میڈیا یہ بتانے میں مصروف ہے کہ ان واقعات کا باہمی تعلق نہ ہے اور پاپولزم کی رو میں بہہ کے یہ سب کچھ ہوا۔ واہ لبرلزم کی نظر میں پاپولزم بھی اب برا ہوگیا؟ یہ دن بھی ہم کو دیکھنا تھے؟ بہرحال اس سال اٹلی ، فرانس اور جرمنی کے بھی انتخابات ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ ہمیں یہ باور کرائے جانے کی کوشش ہورہی ہے کہ سب اتفاق ہی تھا۔ یا کوئی غلطی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کوئی منظم ردعمل نہیں ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت کے برعکس ہے۔ یہ یقیناً مغرب میں عوام کا ایک منظم ردعمل ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ردعمل کی نوعیت کیا ہے؟ کیا یہ سیاسی امیدواروں کی ذاتی ناکامیاں اور کامیابیاں ہیں؟ یا کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی ضرورت ہے؟ یا بہت گہرائی میں کسی سیاسی نظریہ کی ناکامی ہے؟ ان سوالات کو نہ صرف چھپایا جارہا ہے بلکہ اس پہ بحث بھی موجود نہیں مین سٹریم میڈیا پہ لہذا ضروری سے اسی سوال کو کھل کے اٹھایا جائے اور اس پہ بحث کی جائے۔
ناقص کی رائے میں معاشی بحران اب قدرتی طور پہ سیاسی بحران میں تبدیل ہوچکا اور یہ مروجہ سیاست کی شکست کی ناکامی کا اظہار ہے۔
واپس سوویت یونین کے انہدام کی طرف جانا پڑے گا اس سے قبل سیاست میں دایاں اور بایاں بازو دو واضح طور پہ الگ الگ سیاسی دھارے تھے جن کا آپسی اختلاف رائے فکر کو توازن فراہم کرتا تھا۔ لیکن سوویت یونین کے انہدام کے بعد حالات بہت بدل گئے۔
اسی دور میں فوکو یاما نے تاریخ کے اختتام کا نظریہ پیش کیا، یہ نظریہ مارکس کے اختتامی نظریہ سے ملتا تھا ان معنوں میں کہ مارکس جہاں یہ کہتا تھا کہ حتمی فتح کاسبیوں یعنی محنت کشوں کی ہوگی۔ فوکو یاما کا دعوی یہ تھا کہ آخری فتح سرمایہ دار کی ہو چکی ہے لہذا اس حقیقت کو اپنا شمال مان کے سیاسی نظریات اپنا قطب نما دوبارہ درست کریں جو ہونا بھی شروع ہوا۔ سیاسی نظریات پہ اس کا اثر یہ ہوا کہ کلاسیکی بایاں بازو تسلیم کرگیا کہ مکمل شکست ہوچکی۔ اس کے بعد مروجہ سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی یہ آئی کہ بائیں بازو کی سیاست کی جگہ لبرل ازم نے لے لی۔ اور تصور یہ کیا گیا یا یہ بتایا گیا کہ لبرل ازم ہی اس دور میں بائیں بازو کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اور اس میں این جی اوز نے بہت اہم مالیاتی کردار ادا کیا جس طرح کا کردار عرب ممالک نے مدارس کی فنڈنگ میں کیا اور جہادی پیدا کئے اسی طرح پرانے بائیں بازو کے لوگ یا سیاست کو نیو لبرل ازم عطا ہوا۔ جارج سوروس نے اس میں بہت اہم عملی کردار ادا کیا۔ اور پرانے بائیں بازو کے لوگ لبرلزم کی کشتی کے سوار ہوگئے۔ کلاسیکی دایاں بازو مثلاً امریکہ کی ریپبلیکن پارٹی ریاست کو اہمیت دیتی ہے اور اس کو تسلیم کرتی ہے۔ لبرلزم کا ریاست سے انکار ہے یا منفی رویہ ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سرمایہ داری کو اس نظریہ نے بہت فائدہ پہنچایا۔ مضبوط ریاست کے پاس کچھ نہ کچھ اختیار تو ہوتا ہے سرمایہ کو کنٹرول کرنے کا لیکن اگر اس کے اختیار پہ قدغن ہو تو عوام کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں رہتی جو سرمایہ کو کنٹرول کرسکے۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ داری یا بڑی کارپوریشنوں یہ فائدہ ہوا کہ وہ نو آبادیاتی نظام کو ایک نئی سطح پہ لے جاسکے۔ جسے گلوبلائزیشن کہا گیا۔ عالمی تجارت کے معاہدے ڈبلیو ٹی او وغیرہ وجود میں آئے۔ بڑی کارپوریشنوں کے منافع کی شرح کئی گنا بڑھ گئی وہ کم آمدنی والے ممالک سستی لیبر کا فائدہ اٹھا کے کم لاگت کی مصنوعات امیر منڈیوں میں مہنگے داموں فروخت کرسکتے تھے۔ البتہ مغرب میں عوام اور ریاست بیک وقت اس کا نشانہ بنے۔ مغرب سے صنعت اور اور روزگار کے مواقع رخصت ہوئے اس طرح مغرب میں ریاست اور فرد دونوں کمزور ہوتے چلے گئے۔
اب جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کا عوامی ردعمل ہی ہے چاہے بریگزیٹ ہو یا ٹرمپ کی آمد دونوں دفعہ عوامی فیصلہ ریاست کے حق میں اور گلوبلائزیشن کے خلاف گیا ہے۔ لوگوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ اقتدار اعلی ریاست سے لیکر بے چہرہ کارپوریشنز کے حوالے کیا جائے۔
ٹرمپ کے پاس ایک واضح پروگرام تو ہے۔ جسے ریاست کی طرف مراجعت بھی کہا جاسکتا ہے لیکن یہ کیپٹلزم، سوشلزم، سوشل ڈیموکریسی یا لبرلازم کی طرح کوئی مربوط سیاسی نظریہ نہیں۔ سیاسی نظریہ کے اس بحران کی روح اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ نوے کی دہائی سے جس لبرل نظریہ کو بائیں بازو کا نظریہ سمجھ کے اپنایا گیا اس نے گلوبلائزیشن کی راہ ہموار کی اس طرح انتہائی دائیں بازو کا نظریہ ثابت ہوا انتہائی دولتمند ملٹی نیشنل کارپوریشنز کی سیاسی آواز تھا۔ اس طرح عملاً مغرب میں سیاست دائیں بازو یا انتہائی دائیں بازو کے گرد ہی گھومتی رہی۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ اور حقیقی قوت خرید میں کمی ہوئی ، فلاحی ریاست کے تصور کو نقصان پہنچا اور ریاست کی سوشل سیکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت کم سے کم ہوتی گئی۔ اس طرح مین سٹریم سیاست غیر مقبول ہوگئی بلکہ عوام کا ان سے اعتماد اٹھ گیا۔ نتیجتاً دو مختلف رویے دیکھنے میں آئے جنوبی یورپ یونان اور سپین میں بائیں بازو کی نئی سیاسی پارٹیوں نے جنم لیا جو واضح سوشلسٹ رجحان رکھتی تھیں۔ اور باقی مغرب میں نئے دائیں بازو کے سیاستدان سامنے آئے جو مضبوط ریاست کے حامی تھے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا مغرب میں سیاست دائیں یا انتہائی دائیں بازو کے سیاسی نظریات کے گرد ہی گھومتی رہے گی یا جنوبی یورپ کی طرح بائیں بازو کی فکر سوشلزم کی طرف جھکاؤ اختیار کرتی ہے؟
ملٹی نیشنلز کے سرمایہ دار اور کارپوریٹ میڈیا بہرحال لبرلزم کی ہی حمایت کرے گا کیونکہ ان کا معاشی مفاد اسی سے وابستہ ہے۔ لیکن جو سیاسی فکر بھی سامنے آتی ہے پاکستان پہ بھی اس کا فکری اثر پڑنا لازمی ہے۔

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *