• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • لازمی فوجی تربیت۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری ،آخری قسط

لازمی فوجی تربیت۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری ،آخری قسط

عجب معاملہء بے چارگی و کم مائیگی ہے۔ پچھلے مضمون میں ایک ذمہ دار افسر کے وہ مشاہدات بیان ہوئے ہیں جن کی روشنی میں ہم بھی ان خامیوں ،کوتاہیوں اور دکھ بھری مثالوں سے بارہا دوچار ہوئے ہیں ویسے تو ہمار ے قومی چارہ گر، ملک کی وسائل گاہ میں جی بھر کے چارہ تو چرتے رہتے ہیں مگر ان کے بارے میں کسی اجتماعی علاج کا انہوں نے کبھی نہیں سوچا ۔ مدارس سے لے کر پانی میں سیسے کی جان لیوا ملاوٹ، اربوں کھربوں کی اس لوٹ میں قوم کے حالات بہتر کرنے کی کسی کو کچھ پرواہ نہیں۔

وزیر اعظم عمران خان برطانیہ میں پلے بڑھے ہونے کے بعد بھی اس خوش فہمی  میں مبتلا ہیں کہ ہنسی آتی ہے۔آج سے پانچ صدیوں تک   جو آپ کی دولت لوٹ کر لے گئے وہ گورے آپ کے اپنے اہم افراد لوٹ کر  ان کے ملک لے گئے۔ ۔شہنشاہ ایران کی جو دولت امریکہ اور برطانیہ میں موجود تھی وہ اس کی اولاد کو نہ ملی تو ایران کو ملے گی۔کیا حماقت ہے۔شاہ کی سب سے بیٹی لیلی پہلوی نشہ آور دوا کی خریداریوں کے لیے پریشان رہتی تھی۔ باپ کے اربوں پاؤنڈ تک اس کی رسائی نہ تھی۔ایک مرتبہ رقم نہ ہونے کے باعث نشہ آور ادویات چوری کرتے پکڑی گئی۔اس کی موت بھی Seconal, مقررہ مقدار سے پانچ گنا  زیادہ  دوا کھانے سے ہوئی۔

لیلی پہلوی۔شہنشہاہ ایران کی بیٹی
لیلی پہلوی کی قبر

ہم جب کالجوں اور جامعات میں جاتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ایک گرلز کالج میں دس سال بعد لیکچر کے لیے گئے تو وہاں کسی خاتون دوست نے پوچھا سر اس زمانے کی لڑکیوں اور اب دس سال بعد کی لڑکیوں میں کیا فرق ہے تو ہم نے کہا۔ ان لڑکیوں کی اداسی ان کے چہرے کے بل بورڈ پر لکھی ہے۔ان کے بدن بھی سیل فون جتنے رہ گئے ہیں۔مجال ہے تین سو لڑکیوں کے ہال میں پانچ فٹ سے اونچی دو یا تین لڑکیاں ہوں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کی اکثریت سندھ ، پنجاب اور پختون بچیوں کی تھیں ۔ان کو مناسب غذا نہ ملنے اور کھیل کود، ورزش سے دوری نے ان کے بدن سکیڑ دیے  ہیں ۔جوان لڑکے لڑکی کے بدن میں جو شعیب اختر کے پہلے اوور کی ترغیب، امنگ، سرکشی،طغیانی اور للکار ہوتی ہے وہ آپ کو کراچی کی جامعات میں لڑکے لڑکوں کو دیکھ کر ایسے لگے گی جیسے یہ جوانی نہ ہو شام ہی سے بجھا چراغ مفلس کا ہو ۔

آئیں  ہم  آپ کو بتائیںNational Human Development Report کے مطابق  نوجوانوں کی  جو تعداد پاکستان میں ہے یہ آبادی کا64% ہے ۔ یہ تیس برس سے نیچے ہیں۔یہ دنیا کے اکثر ممالک کی جملہ آبادی سے بڑی تعداد ہے۔ صدرف ایک شہر کراچی میں نوجوانوں کی یہ تعداد،نیوزی لینڈ کی جملہ آبادی یعنی پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔
ان کو گروپ میں دیکھیں تو آپ  پر  مندرجہ ذیل بھیانک حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔
*بے حد گندی پرسنل ہائی جین۔گٹکے ، نسوار، منشیات کا عام استعمال
* زبان اور بیان کی بھیانک غلطیاں
* مزاج میں بددلی اور بے لطفی اور ایٹی کیٹس کی کمی
*سماجی شعور کا اور Group Behavior کا فقدان اور اخلاقی اقدار سے لاعلمی۔
*شدید علاقائی تعصب۔
*مقابلے اور قابلیت کے بارے میں شدید منفی نظریات۔

اس حوالے سے آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا کہ صورت حال بہت ہی ناگفتہ بہ ہے۔پاکستان اس وقت صرف نقشے پر ایک ملک ہے۔مان لیں اس کی نئی نسل کو قوم کا روپ دینے کے لیے ان سب کو اپنی اولاد مان کر بہت محنت کرنا ہوگی۔
آپ کو دیہات کے لوگوں کی ایک عجیب عادت کا ادراک ہوگا کہ جب تک ڈاکٹر ان کے میلے کولہے میں سرنج کی سوئی نہ گھونپے ان کو  یقین نہیں آتا کہ ان کا علاج ٹھیک سے ہوا ہے اور ان کے شفایاب ہونے کا کوئی امکان ہے ۔سو ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہی پہلا مطالبہ سوئی ہنی ڈے( سندھی میں مجھے سوئی لگادے)۔
بچپن کی ایک مثال یاد آتی ہے۔حیدرآباد میں مدینہ مسجد کے کونے پر اور ہیرا منڈی سے ذرا دامن بچا کر ایک سندھی حکیم صاحب قبول احمد بیٹھا کرتے تھے۔چارلی چپلن موٹا ،کالا اور سندھ کا ہوتا تو بالکل ان جیسا لگتا۔منہ صرف کھانے کے وقت کھولتے تھے ،گفتگو کے دوران یہ بند رہتا تھا۔ان کا دوا ساز ایک شر پسند مہاجر کمپاؤنڈر جنت مرزا تھا۔سب انہیں جنت بابو کہتے تھے۔ ہم آس پاس کے میمن لڑکے جنات باپو۔سر پر تنکوں کی بنگالی ٹوپی۔ تعلق در بھنگا بہار سے تھا۔کس کر سرمہ لگاتے تھے سردی گرمی ململ کے کرتے میں۔ سوچیں حکیم کے ہاں سوئی انجکشن کا کیا کام۔ انہوں نے ہی حکیم صاحب کو باور کرایا کہ دو روپے کے گلوکوز کے انجکشن سے کام چل جائے گا۔ سن ساٹھ میں یہ دو روپے بہت ہوتے تھے۔ کلرک کی تنخواہ ساٹھ روپے بمع جملہ الاؤنس ہوتی تھی، چھوٹا کمرہ ایک ماہ کے لیے آج منی بس کے یک طرفہ کرائے کے برابر یعنی صرف تیس روپے میں مل جاتا تھا۔بجلی کا بل تین روپے۔
جنات باپو کا مطب سے ذرا ہٹ کر لکڑی کی ٹال والی گلی میں ایسا ہی کمرہ تھا جس میں بعد از مطب طوائفیں علاج اور جسمانی شفا کے لیے آتی تھیں۔۔چھوٹے موٹے تعویز بھی کرتے تھے۔جن سے شفابھی ہوجاتی تھی۔ بری عورتیں بے چاری معمولی تعویز سے بھی جلدی اچھی ہوجاتی ہیں۔دو روپے کے انجکشن کا کام حکیم صاحب کے جملہ مطب سے آمدنی جتنا تھا۔
یعنی ان کی آمدنی حکمت کی دوا سے اتنی نہیں ہوتی تھی جتنے کے یہ انجکشن لگالیتے۔سندھیوں کے ہاں مہمانداری اور قیام و طعام کا بہت چلن ہے۔ ہیرا منڈی سے باہر کی طرف کھائی روڈ پر ان کی بڑی بستی تھی۔پانچ چھ میل دور جاکر ٹنڈو نام والے گوٹھ بھی شروع ہوجاتے تھے۔ جنات باپو نے ان معصوم سندھی دیہاتیوں کی  دل جوئی کے لیے یہ چمت کار سیکھ لیا تھا کہ انجکشن کے محلول میں کوئی بے ضرر سا لال محلول بھی شامل کرلیا کرتا تھا جس کے پچاس پیسے الگ سے۔گاؤں سے آنے والے جنہیں حیدرآباد کے مہاجر بھاؤ (بھائی )کہتے تھے ۔وہ پوچھتے کہ یہ پچاس پیسے زیادہ کس بات کے چارج ہورہے ہیں۔ تو جنات باپو کا جواب ہوتا’ اڑے بھتار ( سندھی میں بھائی) تیرا رت(سندھی میں خون) پتلا ہوگیا ہے جبھی تو بیمار زیادہ ہوتا ہے۔گاڑھی(سندھی میں لال) دوائی ایسی ہے کہ یہاں سے سیدھے توسعیدہ، نصرت، چھیمو کی طرف بھاگے گا۔ وہ انہیں بتابھی دیتا کہ ان کا کوٹھا کون سا ہے۔عورت ہوتی اور شادی شدہ ہوتی تو انجکشن بازو میں لگاتا تھا اور اسے بھی بتاتا کہ پوڑا( سندھی
میں بڈھا) گھر پر ہے تو رات کو بستر کے نیچے چھپ رہا ہوگا۔یہ سب کچھ ہم بچہ ہوکر سنتے تھے کہ حکمت پر ہم میمنوں کا ایمان ڈاکٹروں سے زیادہ تھا ۔۔ہم سے ایک دفعہ ناراض ہوگئے تھے ابو کو شکایت کی تھی کہ بدلحاظ ہوگئے ہیں۔

ونگ کمانڈر،ابھی نندن
ونگ کمانڈر،حسن صدیقی،سرجانی، کراچی
حیدرآباد
حیدرآباد کا ٹاور 1940
وڈیرے کی شان

قصہ یہ تھا کہ کوئی طوائف آئی ہوئی تھی جس کو انجکشن لگانا تھا اور ہمیں گلے کی دوائی مطلوب تھی۔ ہمارا نمبر اس کے بعد تھا۔یوں تو خواتین کو انجکشن ہاتھ  میں لگایا جاتا تھا مگر طوائفوں کے ہاں چونکہ ان دنوں بھی ایلاسٹک والی شلواریں پہنی جاتی تھیں، لہذا ان کے ہاں یہ تکلف لازم نہ تھا۔جنات باپو اس نیم اندھیرے کمرے میں  خود کھڑکی کی طرف پشت کرکے بیٹھے تھے۔طوائف کا منہ  ہماری طرف تھا۔ اپنی قمیص ایک ہاتھ سے تھام کر شلوار ایک طرف سے کولہے سے نیچے کھسکا کر کھڑی تھی۔جنات باپو تھے کہalcohol swab سے کولہے کو رگڑے ہی جاتے تھے ۔ معمول سے زیادہ دیر ہوئی تو ہم نے چڑ کر کہہ دیا کہ کیا گھس گھس کر ہڈی ڈھونڈ رہے ہیں۔یہ بات انہیں بد لحاظی لگی تھی۔

مان لیں کہ پاکستان کے ان میلے میلے نوجوانوں کے جن کا رت( سندھی میں خون) پتلا ہوگیا جب تک کولہے میں تنظیم اور ڈسپلین کی لمبی سوئی نہیں گھونپیں گے ۔یہ انسان کے بچے نہیں بنیں گے۔
آپ نے کبھی یہ سوچا کہ آخر کیا بات ہے کہ اراضی شنکر داس( اوکاڑہ )پنجاب ، سرجانی کراچی کے (ابھی نندن والے کو ڈھیر کرنے والے ہمارے حسن صدیقی، جون جانی ۔گولارچی ۔(بدین )۔سندھ ،رزمک ( وزیر ستان)، دالبدین بلوچستان جیسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ انتہائی مختلف مسلکی، لسانی، سماجی اور پس منظرکے حامل یہ اوسط تعلیم یافتہ کالجوں کے نوجوان ؛ جب فوج کی تربیت گاہوں سے فارغ ہوکر بطور سیکنڈ لفٹیننٹ ،کپتان حتٰی کہ میجرونگ  کمانڈر کے روپ میں آپ کے سامنے آتے ہیں ان کے بدن،   ان کی چال ڈھال، ان کا طرز عمل اورمجموعی انداز فکر بہت معیاری ، اپنی پیشہ ورانہ ضرورت کے عین مطابق اور خود اعتمادی سے بھر پور ہوتا ہے۔ ۔یہ فیضان نظر ہے کہ مکتب کی تربیت کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں محمود و ایاز۔معین اختر مرحوم نے جب ایک فوجی تقریب میں اپنے کسی لطیفے پر پتھر دل صدر ضیا الحق سمیت تمام افسران کو بہ یک وقت ہنستے دیکھا تو کہنے لگے’’ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے آج تمام فوج ایک ساتھ ہنس رہی ہے‘‘۔
یہاں توقف فرمائیں ذرا بڑی سطح پر آپ اسے Process of Standardization یعنی معیاریت کا عمل کہیں گے ایک قابل ستائش گروہی طرز عمل جس سے کسی قوم یا گروپ کی ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس کے لیے یہ معیار بہت لازمی جز ہے۔ اقوام جیسے جیسے ترقی کرتی ہیں تو ان میں معیاریت کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔اس کی ایک معمولی صورت کم از کم اجرت ہے ، رہائش ،تعلیم ،صحت ،ٹرانسپورٹ ، انفرا اسٹرکچر کا ایک مطلوبہ معیارجس سے نیچے کی زندگی گزارنا نا قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔
ذرا آگے بڑھ کر سوچتے ہیں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ع
وطن کی کر فکر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادی کے مشورے ہیں آسمانوں میں

اسٹنگر میزائل
اسٹنگر میزائل
روس کا ہند ہیلی کاپٹر

امریکی اور برطانوی افواج کی افغانستان میں ایک نئے ہتھیار کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس ہتھیار کو 9/11 کا signature weapon کہا گیا۔بے حد مہلک، استعمال کرنے والے کے لیے   اسقدر سستا کہ امریکنوں کو اسےDirt Cheap (یعنی مٹی کے مول )کہتے ہوئے دہری اذیت ہوتی تھی۔اس کی ترسیل اور تنصیب دونوں ہی بہت آسان ۔وہاں امریکہ میں جب اس کی قیمت کا اندازہ کیا گیا تو سن 2009 میں یہ کل$265 کا تھا۔ اس کا عراق اور افغانستان میں بہت استعمال کیا گیا۔ اسے وہ ” improvised explosive device یا IED کہتے تھے۔اس کو تلاش کرنے کے لیے بر طانوی فوج نے چالیس کروڑ پاؤنڈ اور چار سو فوجی ضائع کیے۔ امریکہ کے 719 فوجی ان کی وجہ سے ہلاک اور 7,448 زخمی ہوئے۔عام باشندوں  کو،جو ہر جنگ میں C0- Lateral Damage (غیر اہم اضافی نقصان) سمجھ کر لائق تذکرہ بھی نہیں سمجھا جاسکتا ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

اس نقطے کو بیان کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ اب تمام عالم میں خطہ ہائے حرب و تصادم میں اب دو طرح کے گروپس برسر پیکار ہیں ایک وہ جنہیں آپ روایتی عسکری گروپ یا باقاعدہ افواج کا نام دیتے ہیں اور دوسرے جنہیں دہشت گرد، مجاہد،تخریب کار یا نان اسٹیٹ گروپ کہتے ہیں ان میں آپ خوارج، حشیش شین سے لے کر دولت اسلامیہ ، بوکو حرام درمیان میں آپ خیمر روژ سے لے کر جیوش ڈیفنس لیگ سے لے کر ریڈ آرمی سے لے   سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی دم دمی ٹکسال سے لے تامل ایلام جس کی ایسے گروپ کا نام ڈالیں ،آپ برحق ہیں۔آج اگر ہمارے ہاتھ فرعون کی وزارت اطلاعات یا آئی ایس پی آر کی دستاویز لگ جائیں تو ان کے بیانیے میں حضرت موسی علیہ سلام کا ذکربطور تخریب کار ہوگا۔

آئیے ماضی کے جلال آباد افغانستان چلتے ہیں سن 1986 ماہ اکتوبر عبدالوحید قنات صاحب نے اللہ سے کامیابی کی دعا مانگی اور اپنے کھیت سے ایک اسٹٹنگر میزائل دے مارا۔سات برس ہوچکے تھے۔ سویت افواج افغانستان پر قابض تھیں۔ایران میں کمیونسٹ تودے پارٹی کو تباہ و برباد کرکے خمینی کی سربراہی میں امریکہ کامیاب طالبان تجربہ کرچکا تھا۔ ایران کے سارے مذہبی رہنما براستہ پیرس اسلامی انقلاب کے نام پر درآمد کیے گئے تھے۔ اب وقت آچکا تھا کہ روس کو افغانستان سے مار بھگایا جائے۔میزائل سیدھا ہند ہیلی کاپٹر سے ٹکرایا اور جنگ کا نقشہ پلٹنے کا آغاز ہوگیا۔

افغانیوں کے لیے کسی نے بے حد دل چسپ بات کہی تھی کہ ’’افغان صرف اس وقت امن کے مزے لوٹ رہا ہوتا ہے جب وہ حالت جنگ میں ہو‘‘۔
ہمارے اس بیانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک Conventional Army روایتی فوج کے مقابلے میں غیر روایتی فوج یعنی Non-Conventional Army کواستعمال کرنا بہت آسان ہے۔ کم خرچ اور دوررس نتائج کی گارنٹی۔ روایتی فوج اگر افغانستان آئے گی تو اس کے لیے پٹرول کراچی سے آئے گا جو بعض مقامات پر تو لگ بھگ دو ہزار میل کا زمینی سفر بن جاتا ہے۔ایک ٹینک کو ایک میل کا سفر طے کرنے کے لیے آٹھ گیلن پٹرول درکار ہوتا ہے۔ ویت نام ،ا افغانستان، عراق اور شام میں جو بھی افواج برسرپیکار رہی ہیں وہ بخوبی جانتی ہیں کہ غیر روایتی فوج سے لڑنا کس قدر دشوار اور مہنگا حربہ ہے۔
پاکستان کی افواج الحمد للہ دنیا کی قابل فخر روایتی افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم آگے کا سوچیں۔
جنگ عظیم اول کے خاتمے پر فرانسوا پکو اور مارک سائک نے مشرق وسطیٰ کے ریتیلے نقشے پر سیدھی لائنیں  ڈال کر جو ممالک بنائے تھے وہ عرب بہار کے بعد ایک ایک  کرکے ٹوٹ رہے ہیں، لیبیا کا تیل اٹلی اور فرانس کی معاشی حالت کا سہارا بنا۔ اس کے لیے قدافی کو مارنا ضروری تھا۔عراق لیبیا اور یمن تو بکھر گئے، سوڈان جو ایک زمانے تک بہ لحاظ رقبہ دنیا کی سب سے  بڑی مسلم ریاست تھا اسے جولائی 2011 میں عربی بولنے والے شمالی سوڈان اور عیسائی سوڈان میں بانٹ دیا گیا ہے۔اس کے جنوب مغرب میں واقع وسطی افریقی ری پبلک    میں مسلمانوں کا قتل برما کے روہنگیا مسلمانوں کی طرح بے دردی سے جاری ہے۔شام جو ایک ایسی قدیم مملکت ہوا کرتا تھا جس کی بنیادحضرت عیسیؑ کی پیدائش  سے دس ہزار سال پہلے رکھی گئی تھی اس پر لے دے کر بشار الاسد کی اقلیتی حکومت کا تسلط باقی رہ گیا ہے۔دنیا بھر میں بدلتے حالات ۔ مشرق وسطی کے غیر یقینی حالات چین کی پاکستان میں سی پیک کے ذریعے پھیلتی ہوئی گرفت۔ یہ ایسی نشانیاں ہیں جو قومی سطح پر اہل تفکر کے لیے باعث تشویش اور پاکستان کی دفاعی اور خارجہ اور قومی پالیسی سازوں کے لیے نئی پیش بندی کا لائحہ ء عمل بن سکتی ہیں۔اس مجوزہ لائحہ عمل میں اس نقطے کو بھی شامل کرنا چاہیے  کہ اب جب کہ پاکستان کی 33 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تو کیوں نہ ان کو لازمی فو جی تربیت کے ایک کثیر الامقاصد پروگرام کے ذریعے نظم و ضبط سے آشنا کرکے چند اہم اور بڑے مقاصد حاصل کئے جائیں۔

پاکستان میں نوجوانوں کی اکثریت کا جائزہ لیں تو آپ کو ان کی پژمردہ ارواح میں بے یقینی ، مایوسی، بے نظمی اور بے سمتی نابیناؤں کی طرح ہر سو بھٹکتی دکھائی دے گی ۔
ان کی زندگی کی ترجیحات میں:
پہلی سرکاری ملازمت کا حصول ہے اس لیے کہ اس میں جواب دہی کم، آمدنی خطیر ، اور آرام بہت ہے ۔
دوسری مذہب کا ایک ایسا دکھاوا اور پہناوا جومحض حلیے کی تبدیلی تک محدود ہے۔
پگڑی   داڑھی ٹوپی اور ٹیولپ مُلا  شلوار ایسا ہی کچھ معاملہ تھا کہ علامہ اقبال کوان کشتگان تقلید و بچگان عقیدت میں نہ زور حیدری دکھائی دیتا تھا نہ استغنائے سلیما نی۔۔یا پھر احتساب سے بے خوف اپنے بڑوں کی نقالی میں جلد مالدار بن جانے کی تگ و دو۔
یوں انفرادی مثالوں سے صرف نظر کرتے ہوئے پاکستانی نوجوانوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ ضائع ہورہے ہیں۔

فوج کا اشتہار بھرتی
این سی سی
این سی سی
صدر جنرل ضیاالحق اور این سی سی بیٹے کے ساتھ
صدر جنرل ضیاالحق اور این سی سی بیٹے کے ساتھ

نوجوانوں کی یہ تعداد ملک کی آبادی کا تیس سے چالیس فیصد ہے۔پاکستان کا Active Border دنیا کا طویل ترین سرگرم علاقہء حرب ساڑھے تین ہزار میل پر محیط ہے ۔ ان سرحدوں کے اس پار اور ا ن سے دور پار بھی بظاہر جو ہمارے دوست ہیں وہ دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والے۔
اس بات کا غوغا کہ پاکستان اس وقت حالتِ جنگ میں ہے ، محض ایک ایسا بیانیہ ہوگا جو عالم آشکار ہے۔ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے بیان سے غیر ضروری جذباتیت اور ہمارے سیاست دان اور کھلاڑی ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے اپنی گفتگو سے بروقت مناسب الفاظ نہ ملنے پر آ ، آ کی بھیانک آوازیں نکالنا چھوڑدیں۔ یہ اب کہنے کی بات نہیں کہ پاکستان میں جرم بمعنی دہشت گردی اور سیاست بمعنی لوٹ مار ایسے جڑواں بچے بن گئے ہیں جن کا دھڑ ایک اور چہرہ اور منہ  دو ہوتے ہیں اور جنہیں تھائی لینڈ کے پرانے نام پر Siamese Twins کہا جاتا ہے۔

ہماری فوج اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی بہتات اور یلغار میں جس طرح پھیل کر الجھ رہی ہے یہ حکم عملی سر دست تو تسلی بخش نتائج فراہم کررہی ہے مگر اس سے ادارہ جاتی اصلاحات یعنیInstitutional Reforms نہیں ہوپارہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر بالفرض محال قانون کی کچھ کتابوں کو چھیڑ چھاڑ کر ان میں وقتی طور پر درستگی کر بھی لی جائے تو ہمارے  حساب سے زمینی امداد جو ایک تربیت یافتہ اور منظم افرادی قوت کی شکل میں ایسے بڑے اور دور رس اقدامات کے لیے موجود ہونی چاہیے وہ سرے سے تشکیل ہی نہیں ہوپارہی، یہ پولیس ، یہ سوئلین انتظامیہ جو اوپر سے نیچے تک 1970 سے مسلسل سیاسی کیچڑ میں کاشت ہورہی ہے اور ہمارے قومی نظام سے ایسے چمٹی ہے جیسے ویلکرو کا جوڑ ۔

اس علت عظیم کا علاج صرف یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں پر توجہ دیں اور ان کی ایک بڑی تعداد کو قومی زندگی کے ہر شعبے چاہے وہ ہسپتال ہو یا اسکول، عبادت گا ہ ہو کہ فائر بریگیڈ کا ڈرائیور ، کارخانے کا فورمین ہو کہ شہری ہوابازی کا پائلٹ ، کوئی نرس ہو کہ ہوٹل کی افسر مہمان داری، صوبے کا آئی جی یا چیف سیکرٹری اسے لازمی فوجی تربیت کے مراحل سے گزار کہ ایک ایسے نظام سے جوڑ دیں جو جاری نظام پر کڑی نظر رکھنے کے علاوہ نئے نظام کی بتدریج تشکیل میں افواج پاکستان کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہو۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ لازمی فوجی تربیت کا آغاز پاکستان میں ایک سوئلین صدر ذوالفقار علی بھٹو نے کیا ۔ یہ نیشنل کیڈٹ کور اسکیم کہلاتی تھی ۔ اس میں دو سال کی تربیت کے بعد سالانہ نتائج میں پانچ فیصد نمبر ملنے کی وجہ سے طالب علم انہیں سرکاری میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کے حصول میں ایک معاون سمجھتے تھے۔
جنرل ضیا الحق نے ایک دفعہ اس پر اتنی مہربانی ضرور کی کہ وہ بطور آرمی چیف اس کی سلامی لینے ایف جی کالج راولپنڈی پہنچ گئے ۔بعد میں پتہ چلا کہ یہ سر پرستی پدرانہ شفقت سے لتھڑی ہوئی ایک ایسی عیاری تھی جس میں پیشہ ورانہ  کمٹ منٹ  کو کوئی دخل نہ تھا کیوں کہ ان کا چھوٹا صاحبزادہ انوار الحق بھی مارچ پاسٹ کا حصہ تھا۔
سن 2002 میں صدر مشرف نے اس نظام تربیت کو ختم کردیا ۔یوں بھی اب میڈیکل کالج پرائیوٹ شعبے میں قائم ہوگئے تھے اور بزنس کالج ،کارپوریشنوں کے لیے بے روح فن اور ادب کی دنیا سے کنزومیر کلچر سے جڑے غلاموں کی نئی کھیپ تیار کرنے کے لیے جابجا پھیل چکے تھے۔
جس طرح پے در پے ہم پر جنگیں مسلط ہوتی رہتی ہیں ، ہم پر لازم ہے کہ  جتنا جلدی ہم یہ جان لیں ہمارے حقْ میں بہتر ہوگا کہ ممالک کے درمیان دوستیاں نہیں ہوتیں ، مفادات ہوتے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر اگر لوگ ایک دوسرے کو پیار کرتے تو سیدنا علی کرم اللہ وجہ اور حضرت امیر معاویہ میں حربی تصادم نہ ہوتا۔ اموی خلیفہ سیدنا عثمان کا کزن عبدا لمالک بن مروان مکہ میں سیدنا  ابوبکرؓ کے نواسے عبداللہ بن زبیر پر حملہ نہ کرتے ۔ ہٹلر اور چرچل کا دین ایک تھا، شامی عراقی پناہ گزین ،عرب ممالک کو جرمنی سے زیادہ اچھے لگتے، مصر کے جمال عبدالناصر، شام کے حافظ الاسد ،ایران کے رفسنجانی اور افغانستان کے کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کو پاکستان ، بھارت سے زیادہ عزیز لگتا ہے ۔آج کی دنیا مارکیٹ کی دنیا ہے اور عالمی مارکیٹ کو بیس بینک اور پچاس بڑی کارپویشنوں نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ ایپل، گوگل اور مائیکروسوفٹ  کی سالانہ آمدنی کئی افریقی اور ایشیائی ممالک بشمول پاکستان سے بڑی ہے۔یوں جنگ بھی کارپویشن وسائل کی تقسیم اور آمدنی میں اضافے کے لیے لڑواتی ہیں اور ان اداروں کو ہمہ وقت تیزی سے بدلتے ہوئے جدید رجحانات کے حامل تربیت یافتہ نظم و ضبط کے حامل نوجوانوں کی ضرورت ہے۔

سوئس گارڈز

ہم اپنی نوجوان نسل جس کی عمر اٹھارہ سے پچیس برس ہے اس کے لیے لازمی فوجی تربیت کا قانون نافذ کردیں۔ یہ ایک مرحلہ وار پروگرام ہو جس میں تناسب یہ ہو کہ بیس فیصد لڑکیاں اور اسی فیصد لڑکے ہوں۔سرکاری ملازمت میں صرف اسی نوجوان کو ترجیح دی جائے جو اس لازمی فوجی تربیت کے مرحلے سے گزرے ہوں۔جسے ’’ قومی تشکیلِ نو پروگرام‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی فوجی
اسرائیلی فوجی

اسرائیلی فوجی دیوارِ گریہ کے پاس
انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی
اسرائیلی فوجی
بھارتی انتہا پسند
بھارتی انتہا پسند
بھارتی انتہا پسند
بھارتی انتہا پسند
پونیا بھومی بھارت
پونیا بھومی بھارت
پونیا بھومی بھارت
مولانا الیاس قادری
مولانا الیاس قادری کی مجلس
شاؤلن مونسٹری
شاؤلن مونسٹری
کنگ فو پانڈا

اس وقت دنیا میں کل 64 ممالک ایسے ہیں۔ جہاں فوجی تربیت لازم ہے ۔اگر آپ کی جوابی دلیل یہ ہے کہ دنیا میں 88 ممالک ایسے بھی ہیں جو اس تربیت کے بغیر بھی ترقی کی راہ پرگامزن ہیں تو یہ بھی جان لیں کہ اسی کرہ ارض پر 21 ملک ایسے بھی ہیں جہاں سرے سے فوج کا کوئی وجود ہی نہیں۔کیوں نہ ہم ان 64 ممالک کی مثال اپنائیں جہاں اس پروگرام پر سختی سے عمل درآمد ہورہا ہے۔
دنیا میں سب سے چھوٹا ایک ملک ایسا بھی ہے جس کا سربراہ دنیا کا سب سے طاقت ور عہدہ رکھتا ہے اور پوپ کہلاتا ہے اگر آپ پوپ کے اثر و رسوخ ، طاقت اور دولت سے بے خبر ہیں تو یقین جانیئے آپ ان معصوم اور بے خبر مسلمانوں میں سے ہیں جو چرچ کی طاقت کا کوئی اندازہ نہیں رکھتے۔پوپ کا درجہ عیسائیوں میں امام الزماں کا ہے۔دوسو کروڑ کیتھولک عیسائیوں کے لیے وہ دین کے معاملے میں حرف آخر  ہیں۔دنیا میں بھی ان کی مداخلت کچھ کم نہیں۔مارکوس انہیں ناراض کر بیٹھا تھا۔ بہت طاقت ور ڈکٹیٹر تھا لیکن فلپائن میں اس کی مخالفت کا آغاز سڑکوں پر کیتھولک راہبوں نے کیا جو بعد میں اقتدار کے خاتمے کا باعث بنا۔شیخ احمد دیدات محافل میں ایک دل چسپ بات کہتے تھے کہ پوپ اگر مسلمان ہوجائے تو عیسائیت کا خاتمہ ہوجائے گا۔پوپ کی دو میل سے بھی کم رقبے کے ملک وٹیکن کی بھی اپنی ایک فوج ہے اسے سوئس گارڈز کہتے ہیں یہ دنیا کی قدیم ترین مستقل فوج شمار کی جاتی ہے جس کی یونی فارم دنیا کے مشہور آرٹسٹ مائیکل اینجلو نے ڈئزائین کی تھی اس سے پرانی بس ایک اور فوج ہے جس کا نام Spain146s 1st King146s Immemorial Infantry Regimentہے،یہ سن 1248 سے مستقلاً ہسپانوی فوج کا حصہ ہے ۔

وہ مسلمان ممالک جہاں لازمی فوجی تربیت کی وجہ سے آپ کو ایک بہتر اور مربوط سوسائٹی دکھائی دیتی ہے ان میں ترکی ،مراکش، ایران ، وسط ایشیا کی تمام ریاستیں، کویت،شام،ماریطانیہ شامل ہیں۔
لازمی فوجی تربیت سے گو فوجی بجٹ میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ اضافہ دراصل فوجی بجٹ کی بجائے تعلیم کے بجٹ کا حصہ ہے کیوں کہ فرسودہ ڈگریوں جو سیاسیات، معاشیات ،عمرانیات، شماریات، جغرافیہ، بین الاقوامی تعلقات، تاریخ اور کامرس جیسے Theoretical مضامین میں بانٹی جاتی ہیں ان سے بہتر ہے کہ ہم ایک لازمی فوجی تربیت کا ایسا نظام بنائیں جو ہماری نوجوان نسل کو بہتر جسم ، بہتر دماغ ، بہتر تربیت کے ساتھ ایسی باقاعدہ اور باعمل زندگی سے متعارف کرادے جہاں وہ ٹیکنالوجی،طب ، شہری دفاع، پولیس،کھیل،زراعت کے تمام شعبے،انجینئرنگ اور سیکورٹی جیسے مضامین میں ابتدائی شد بد حاصل کرلیں۔سرکاری ملازمتوں میں ان نوجوانوں کا کوٹا پچاس فیصد ہونا چاہیے  ۔یوں یہ تربیت انہیں ابتدائی سے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے میں مدد کرے گی۔

ہمارا رول ماڈل دنیا میں کوئی اور ملک نہیں بلکہ صرف اور  صرف اسرائیل ہونا چاہیے۔ وہاں سن 1949 سے لازمی فوجی بھرتی یعنیConscription جاری ہے۔ان کی تحقیق ، ان کا مذہب سے لگاؤ اور ان کا دنیا پر قبضے کا خواب ہی ہمارا روڈ میپ ہونا چاہیے۔دشمن سے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔جس طرح ہم دشمن کے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں ویسی ہی سنجیدگی ہمیں دشمن سے اپنے بچوں کو پڑھانے میں لینی چاہیے
پرویز ہود بھائی کہتے ہیں کہ ہمارے یونی ورسٹی میں سائنس کے اکثر پروفیسر جو سیاسی اور سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہوئے ہیں ان کا معیار اتنا بھی نہیں کہ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلے کا امتحان کوالی فائی کرسکیں۔فوج پر لازم ہے کہ وہ سائنس، ریاضی ، کمپیوٹر نرسنگ کے تمام ادارے قومیا کر ان میں چین سے خصوصی معاہدے کرکے نوجوان تربیت کے لیے بھی بھیجے فوج کو اب دلیہ، زمین اور سیمنٹ کے کاروبار سے نکل کر تعلیم اور کھیل کا میدان سنبھالنا ہوگا۔ ریئل اسٹیٹ سے زیادہ آمدنی ایپل اور ڈرون جیسی کوئی شے بنانے میں ہے۔
آپ کو حیرانی ہوگی کہ  جس کے ایک طرف امریکہ دوسری طرف بلیز، گوئٹے مالا اور سمندر پار کیوبا ہے وہاں بھی فوجی تربیت لازم  ہے یہی معاملہ چین، سوئیڈن ناروے کوریا، تائیوان ملائشیا اور پرو کا  میں بھی ہے ترکی میں اکیس برس سے اکتالیس برس تک ہر مرد کو فوجی ملازمت کرنی ہوتی ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ ریٹائیرڈ فوجی ملازمین جو سرکار اور نجی ملازمت کے متلاشی ہوتے ہیں انہیں نہ صرف ترجیح دی جاتی ہے بلکہ ان کی تنخواہ بھی اس کیٹگری میں عام ملازمین سے پچیس فیصد زیادہ ہوتی ہے۔

اس فوجی تربیت کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عصبیت ، لسانیت، فرقہ واریت،امارت پسندی ,امیر ،غریب کی ہولناک تفریق کے جو آسیب ہمارے معاشرے کو گھیرے ہوئے ہیں ان سے بتدریج چھٹکارا مل جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جو قدرتی آفات میں ہمارے پاس تربیت یافتہ افرادی قوت کا فقدان دکھائی دیتا ہے وہ بھی کسی حد تک دور ہوجائے گا۔یاد رکھیے نیشن بلڈنگ کا یہ واحد اور سستا ترین علاج ہے۔
مودی اگر دوسری دفعہ الیکشن جیت جاتا ہے تو جان لیں کہ ہندو رشٹریہ سیوک راج اور سنگھ پریوار کو عوام کی تائید حاصل ہے۔ اس کے رویے پہلے سے زیادہ تکلیف دہ اور پاکستان کی جانب جنگجویانہ عذائم پر مبنی ہوں گے۔ کمال یہ ہے کہ ہندوستان کے وہ باشندے جو مغرب میں کشادگی، مذہبی رواداری اور عدم تشدد کو گلے لگا کر آباد ہیں وہ ہی مودی کے بہت بڑے سرمایہ کار ہیں۔ہندوستان کے بڑے گجراتی تاجر امبانی، ٓاڈانہ گروپ، برلا۔مودی کی جیت سے امیدیں جوڑے بیٹھے ہیں بھارت کے بیس ہزار تعلیمی اداروں میں راشٹریہ سیوک سنگھ سے جڑی ایک طلبا تنظیم بھارتی ودیا کے
ہر پمفلٹ میں بھوٹان، نیپال، برما، بنگلہ دیش، تبت ’ پونیا بھومی بھارت ‘کے نام سے موجود ہیں۔
پاکستان کے مقتدر حلقوں پر لازم ہے کہ وہ نیشن بلڈنگ کے لیے نوجوانوں کو ایک صحت مند، تعلیم یافتہ روشن امید، نظم و ضبط سے بھرپور تنظیم مملکت میں بدلنے کے لیے سرکاری ملازمت میں فوجی تربیت کی شرط سے کر فوری طور پر پچیس سے تیس برس کے مرد و عورت طالبات کی تربیت کا بندوبست کریں ۔ اس میں اسکیریننگ کرکے ان کی چین میں سی پیک کے ذریعے معاہدوں میں یہ شق شامل کرلیں کہ پاکستان میں جو بھی چینی فرم دس کروڑ روپے سے کی برآمدات کرے گی وہ بیس پاکستانی طالب علموں کو فوج کے بورڈ آف اسٹدیز کے ذریعے لازمی بھرتی کے پروگرام میں شامل منتخب شدہ تعلیمی  ڈگری یا فنی تربیت کے لیے فنڈ کرے گی۔یہی اس تعداد میں تناسب سے اضافے کا باعث ہوگا مثلاً پندرہ کروڑ روپے کی برآمدات ہوں توتیس طالب علم۔سی پیک پر ہمیں وہی بے رحم اور تاجرانہ رویہ رکھنا چاہیے جو آئی ایم ایف اسد عمر سے رکھتا ہے۔ یاد رکھیں سی پیک چین کی ضرورت ہے ہماری نہیں۔سی پیک میمنوں کو دے دیں چینی پان گٹکا کھارہے ہوں گے اور مولانا الیاس قادری جو خود بھی میمن ہیں ان کی دعوت اسلامی والی محفل میں بریانی زردے کے چکر میں زبردستی نعتیں سن رہے ہوں گے۔ سستے عطر اور مہنگی اگر بتی کے دھوئیں اور پاس بیٹھے معتقدین کے پسینے سے ان کے اوسان خطا ہوچکے ہوں گے۔اس کے برعکس ہمارے جیسے میمن بیربل ، شاؤلن موناسٹری میں ان کی دولت اور خواتین سے کنگ فو پانڈے والے داؤ چلا رہے ہوں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *