ارماڑہ کی وہ رات۔۔۔ معاذ بن محمود

 

یہ قصہ  اس ایک رات کا ہے جس کا احساس میں آج بھی لفاظی کا سہارہ لے کر سہی معنوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ کوشش کرنے میں بہرحال کوئی مضائقہ نہیں۔

۲۰۱۳ جنوری میں ان دنوں ارماڑہ نیول بیس کے آفیسرز میس میں عارضی رہائش تھی۔ جوائنٹ دفاعی ادارے کا یہ کرپشن زدہ پراجیکٹ ختم ہونے کے قریب تھا اور اسی دوران میری اماراتی کمپنی میں ملازمت کی بات چل رہی تھی۔ ارماڑہ جانے سے پہلے ہی اماراتی کمپنی مجھے دبئی کا ویزہ بمعہ ہوٹل تفصیلات بھیج چکی تھی۔

یہ کراچی میں نیوی کی بیس پر پی سی تھری اوریون تباہ کیے جانے والے دنوں کے کچھ بعد کی بات ہے۔ چار سے پانچ دن میں ہماری واپسی متوقع تھی مگر ایک شام ہم بدوک (جو ارماڑہ سے آگے گوادر کی جانب پہلا شورش زدہ علاقہ تھا)، کام مکمل کر کے واپس آئے تو معلوم ہوا تھریٹ لیول یعنی کسی مبینہ دہشتگردی کی کاروائی کے امکانات اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ایسے حالات میں نیول بیس سے باہر غیر ضروری طور پر آنا جانا دو ہفتے کے لیے بند ہوجانا تھا۔ یعنی اگلے دن سے ہم انجینیرز نہ کہیں آسکتے تھے نہ جا سکتے تھے۔

اب ایک دن بعد میری اسلام آباد سے دبئی کی فلائٹ تھی جس کے لیے آج رات کا سفر کر کے کراچی نہ پہنچتے اور صبح والی فلائٹ سے اسلام آباد نہ جاتے تو امارات کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی تیل۔ ہمیں کسی بھی طرح اسی رات ارماڑہ سے کراچی پہنچنا تھا۔ پچھلے ایک ہفتے سے ہم تین نیوی گاڑیوں کے ساتھ ارماڑہ سے کراچی آجا رہے تھے لیکن اب تھریٹ لیول ہائی ہونے کی وجہ سے ایک سفر کی درخواست بھی نہیں مانی جارہی تھی۔ میرے لیے آگے میرے مستقبل کا سوال تھا۔ دہشتگردی کی کاروائیاں اپنے عروج پر تھیں۔ یہ ایک رات کا سفر ہمارے لیے سوال بن کر کھڑا تھا۔

دراصل سنجیدہ مسئلہ ہمارے شناختی کارڈز تھے۔ ہم تین بندوں میں سے دو کا تعلق پنجاب اور ایک میرا پشاور سے تھا۔ دو جونئیرز میں سے ایک کا تعلق فوجی گھرانے سے تھا۔ یہ اس کی پہلی ملازمت اور پہلا پراجیکٹ تھا۔ مجھے سفر میں ان دونوں کے مدنظر خوف تھا۔ ہم تینوں نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم کراچی جائیں گے اور پہلی اور ا آخری بار پبلک ٹرانسپورٹ ہی میں جائیں گے۔ نیول بیس کو ہم نے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ انہوں نے دو گاڑیاں ہمارے ساتھ بھجوا کر بس اڈے تک پہنچا دیا۔ اڈے پر ہم نیول بیس کے مقامی بلوچ اہلکاروں کے درمیان رہے کہ الگ سے نظر نہ آئیں۔ پھر بس چلنے سے پہلے بس میں بیٹھ گئے۔ اس وقت رات کا غالبا آغاز تھا۔

اب ارماڑہ سے بس چلنا شروع ہوئی۔ ارد گرد سب بلوچ۔ کوئی ایک بھی اردو سمجھنے والا نہیں۔ ہم تین بندوں نے چار سیٹیں لی ہوئی تھیں جو بدقسمتی سے بس کے پچھلے حصے میں ملیں۔ ہم تین غیر بلوچ جن میں سے دو خالص پنجابی۔ میں سوڈو اردو سپیکر پشاور شناختی کارڈ کا حامل۔

اسی دوران دو بلوچی آپس میں بحث کرنا شروع ہوگئے۔ میں بلوچی زبان تو نہیں جانتا مگر اتنا اندازہ اس رات ضرور ہوا کہ “بستر دے” کی بلوچی کوئی پونے دو منٹ تک بولے جانے والے الفاظ پر مشتمل ہوگی۔ کیونکہ بحث کرنے والے ایک دوسری سے گفتگو کے دوران یہ لمبے فقرے بولتے اور جواب میں اگلا بستر، ٹوپی، پانی وغیرہ دے دیتا۔

یہ ایرانی سرحد سے ڈیزل سمگل کرنے والی بسیں ہوتی تھیں جن میں مسافروں کو بٹھا کر شک کم کرنے کی کوشش کی جاتی۔ بس میں موجود ہر بلوچ ہمیں مشکوک محسوس ہورہا تھا۔ قریب ایک دو گھنٹے تو ہم یہ سوچتے رہے کہ اب بس رکے گی، ابھی کوئی بس میں داخل ہوگا۔ ہمیں دیکھ کر مختلف محسوس کرے گا۔ اور پھر باہر لے جا کر شناختی کارڈ دیکھ کر سر میں گولی مار دے گا۔ ذہنی طور پر کم از کم میں اپنے بیوی بچوں ماں باپ بہن بھائی اور دوستوں کے ساتھ گزرے تمام پل یاد کر رہا تھا۔ ساتھ ہی اوپر والے سے حفاظت کی دعائیں بھی جاری تھیں۔ میری سیٹ کے ساتھ مسئلہ یہ بھی تھا کہ نشت کی پشت غائب تھی۔ یعنی یہ ایک رات کا سفر یوں سمجھ لیجیے جیسے میں نے بینچ پر بیٹھ کر کرنا تھا۔ لیکن یہ احساس اتنا کرب ناک نہیں تھا جتنا دو “پنجابی” بچوں کی ذمہ داری کا۔ میں کئی دیر تک چشم زدن میں وہ منظر دیکھتا رہا جہاں ہمیں اتار کر سر میں گولیاں اتاری جا رہی تھیں۔

اور پھر شاید اوپر والے کو ہم پر رحم آگیا۔ کچھ ہی دیر میں نیند نے ہمیں آن گھیرا۔

کہتے ہیں موت کا ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے لیکن شاید اللہ نے اپنی حکمت کے تحت ہی ہمیں موت سے غافل رہنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ پچھلے زمانوں میں موت قدرے عام تھی۔ شاید تب موت کا احساس بندے کے شعور و لاشعور میں ہر دم موجود رہتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ایسا نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا ارتکاز زندگی کے مختلف زاویوں پر رہتا ہے۔ اس دور میں ایسی موت کا احساس وہ بھی دو جوان لڑکوں کے ہمراہ نہایت ہی ہولناک تھا۔

آج اسی ارماڑہ میں ۱۴ محنت کش اسی طریقے سے قتل کر دیے گئے جس کا ایک رات مجھے اپنے لیے احساس ہوا تھا۔ خبر سننے کے بعد سے میں ان لمحات میں مقید ہوں جن میں ان مزدوروں کو بس سے اتارا گیا ہوگا، شناخت کی گئی ہوگی، ایک جانب لے جایا گیا ہوگا، اور پھر دوسری جانب منہ کر کے بٹھا دیا گیا ہوگا۔

کس سوچ سے گزر رہے ہوں گے یہ ۱۴ اذہان اس وقت؟ گھر میں بیٹی منتظر ہوگی بابا کی۔ بیوی منتظر ہوگی شوہر کی۔ ماں انتظار میں ہوگی کہ بیٹا واپس آئے گا۔ باپ سوچ رہا ہوگا کل جوان کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاؤں گا۔

جیسے کبھی میں سوچ میں گم تھا۔ شام کو ارحم بن معاذ سے بات ہوئی تھی۔ وہ مبہم الفاظ میں “بابا کب آؤ گے” پوچھ رہا تھا۔ اب اسے کیا جواب ملے گا؟

ان مزدوروں کے لواحقین کے لیے یہ خبر کس طرح کی بجلی ہوگی، کبھی ایک لمحے خود کو اس حالت میں تصور کیجیے۔ میں حلفیہ کہتا ہوں ایک آدھ آنسو ضرور چھلک پڑے گا۔

ارماڑہ

 

ارماڑہ کی ایک شام

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *