• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان اور لازمی فوجی تربیت۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط1

پاکستان اور لازمی فوجی تربیت۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط1

دو اقساط پر مبنی مضمون
قسط اوّل

جنگ ایک مہنگا شوق ہے۔امریکہ سے پوچھیں اب تک افغانستان اور عراق کی جنگ میں ایک اعشاریہ سات ٹریلیئن ڈالر خرچ کرچکا ہے اور اس کے علاوہ 490بلیئن اپنے سابقہ فوجیوں کے بحالی پروگرام پر خرچ ہورہے ہیں۔ان دنوں ایک ڈالر ایک سو چالیس روپے کا ہے ۔ اللہ نے چاہا اور اسد عمر وزیر خزانہ اسی عہدے پر وزیر اعظم کے عمران خان کے سلیم جعفر بن کر متمکن رہے ( سلیم جعفر وہ بالر ہیں جو کپتان کی آنکھ کا ایسے ہی تارہ تھے جیسے بوزدار ہیں۔ جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے ساتھ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میچ میں آسٹریلیا کے خلاف آخری اوور میں 18 رن دے کر پاکستان کو میچ  سے بلاول والی لات لگوا کر باہر کردیا تھا)، تو مان لیں کہ یہ دو سو روپے کی حد چھوکر اس بدنصیب دولہا کے حال کو پہنچے گا جو ملکہء کوہسار مری میں مقامی بدمعاشوں کے ہاتھوں ہنی مون پر دھبڑ دوس ہورہا ہوگا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی جو ٹیم ہے اس کی صلاحیت کا یہ عالم ہے کہ جب کراچی کے ایک پڑھے لکھے گودھرے والے سیل فون والے کھیپ یے ( پھیری باز کھیپ مارنے والا اسمگلر)نے پشاور کے زیر زمین میٹرو سب وے اسٹیشن کے دل میں تیر کی طرح پیوست گیس پائپ لائن دیکھی تو کہنے لگا کہ اگر پی ٹی آئی والے تاج محل بنانے کا پروجیکٹ شروع کرتے تو نقشے پر اس کی منظوری بھلے سے آگرہ میں ہوتی تو مقبرہ کابل بنتا اور ممتاز محل کہیں بہادر شاہ ظفر کے پہلو میں رنگون میں دفن ہوتی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
پشاور کی میٹرو کا دل فگار

امریکہ کے مہنگے جنگی شوق کی بات کرتے وقت اگر جنسی مساوات یعنی Gender Equality کی تضحیک کا پہلو نہ نکلتا تو اس قدر مہنگے شوق کی وجہ سے ہم 1965ء کی جنگ کا وہ مشہور گیت جو لاہور کے ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر رشید انور نے لکھا تھا کہ

ع جنگ کھیڈ نئیں  ہوندی زنانیاں دی ۔۔۔

ضرور گنگناتے مگر اب عمر گزری عورت مارچ، کشمالہ طارق کی وجہ سے جنسی ہراسگی کی کلفت سے مردوں نے اپنی بیوی میں بھی غیر ضروری دل چسپی لینے چھوڑ دی ہے۔
وہاں ہماری سول سروس اکیڈیمی میں ایک بہت ہی سخت دل پروفیسر نسیم زکریا تربیت کے لیے آتے تھے ۔چونکہ افسران کے  کیرئر کا دارو مدار امتحان میں کامیابی کے علاوہ ان گرو گھنٹالوں کی خوشنودی پر بھی ہوتا تھا لہذا زیر تربیت افسران اُن سے ایسے ہی ہراساں اورخائف رہتے تھے جیسے ترکی کے سلطان عبد الحمید کے حرم کی کنیزیں، وہاں نگراں خواجہ سراؤں سے رہتی تھیں۔ یہ استاد کبھی موڈ میں ہوتے تو فرماتے کہ ’’بلاوجہ عورت اور بندوق کو مت چھیڑو کیا پتہ بھری ہوئی ہو‘‘ ۔لہذا ہم نے ایسے تمام نغمے گنگنانا چھوڑدیے ہیں۔۔۔

کردوں-کی-پیش-مرگاہ-خواتین

بات جنسی مساوات اور جنگ کی ہورہی تھی یہ بات اب کوئی راز نہاں نہیں کہ شام عراق میں ان دولت اسلامیہ والوں سے جنگ میں عورتوں کے باقاعدہ دستے کردوں کی افواج پیش مرگاہ ( موت کے سامنے) میں شانہ بہ شانہ شامل رہے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ جب وہ جنگ پر جاتی ہیں تو چونکہ باقاعدہ چوٹیاں بناتی ہیں اس لیے اعلی صبح فوجی ترانوں کی بجائے میری لڑدی (اصلی لفظ نچ
دی ) دے کھل گئے وال ، بھابھو میری گُت کردے (گُت بمعنی چوٹی)کی صدائے رزم بلند ہوتی ہے۔یہ جب کسی کا داعش والے کا گلہ کاٹتی ہیں تو وہ اللہ کا سپاہی بھی اپنی اس ہم مذہب ستمگر کے ہاتھوں پروفیسر اعجاز کلیم کا یہ شعر پڑھتے پڑھتے جان ، جاں آفریں کے سپرد کرتا ہے جو 1988ء والی اسمبلی میں نواب زادہ نصر اللہ خان نے اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر کو مخاطب کرکے پڑھا تھا کہ

ع دامن پر کوئی چھینٹ نہ ، خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
ہمارے ا یک مہرباں تھے اور بہت کشادہ ذہن اور خوش مزاج دین سے ان کی لگاوٹ خالص تھی مگر سویلین افراد کو پیار سے Bloody Civiliansکہنے میں ذرا تامل نہ فرماتے ۔ان کی وجہ سے ہمیں گاہے بہ گاہے سبکی محسوس ہوتی تھی۔ ان کی اس جفا  پر  ہم اپنی بے بسی کو وسیع القلبی کا نام دے کر بھول جاتے تھے ۔ٹیپو سلطان کے بھی مداح تھے اس کا یہ قول’’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ  کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ انہیں عزیز از جاں تھا مگر جب ہم نے عرض کیا  امریکہ کی عسکری پالیسی میں اس قول کی کوئی اہمیت نہیں تو انہیں حیرانی ہوئی۔ ہم نے کہا وہاں کے ادارے یہ سبق سکھاتے ہیں کہ’’ معاملہ فہم گیدڑ کی سو سالہ زندگی بے وقوف شیر کی ایک دن کی زندگی سے بہت بہتر ہے کیوں کہ اسے اس دوران کئی مرتبہ شیر بننے کا موقع  ملتا ہے ‘‘ دیکھ لیں وہ ویت نام ،ایران ، عراق اور افغانستا ن سے کس قدر آرام سے نکل گیا اور اب بھی ساری دنیا میں شیر بنا پھرتا ہے۔

ایم آئی کی چیف اسٹیلا ریمنگٹن
جینا ہسپیل
صبرینہ بھاٹیا ہاٹ میل والی
ہاٹ میل کے موجد صبیر بھاٹیا
واٹس ایپ کے موجد
مودی اور مارک زکربرگ

جنرل پرویز مشرف کا دور رنگیں تھا ،محفل برپا تھی۔ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے شبستاں سے تو آپ کی بہشت بھی متصل ہے اور جس طرح آپ کے باوردی درست مکیں ،گاہے بہ گاہے جلوے ادھر کے یعنی ہماری سویلین پوسٹوں کے دیکھتے ہیں تو کوئی ایسی گردش بھی اے فلک کہ آپ کے خفیہ اداروں میں ہمارے افسر بھی متعین کئے جائیں۔ زور سے قہقہہ لگایا جس میں قدرے تمسخر بھی شامل تھا اور کہنے لگے کہ ’’یہ وہ کھیل نہیں ہے جسے بچے کھیلیں، یہ بہت زیادہ خطرناک ، راز داری والا اور Specialized کام ہوتا ہے‘‘،ہم بھی آدھی روٹی پر دال لیے منتظر تھے کہ ان کی گوٹ یہاں پھنسے اور ہم ان کے ساتھ ذہنی ملاکھڑا( سندھی کشتی جو جاپانی سومو ریسلنگ کی ایک ایسی شکل ہے جس میں کپڑے ضرورت سے زیادہ اور سومو کشتی میں بے حد کم پہنے جاتے ہیں) کریں۔ہم نے کہاامام عالی مقام ایسا نہ کہیں اب تو یہ خفیہ ادارے عورتیں سنبھال رہی ہیں تو وہ چراغ پا ہوگئے مگر جب ہم نے شعیب اختر والا باؤنسر مارا کہ چند دن پہلے تک ایم ۔آئی پانچ کی ڈی جی
اسٹیلا ریمنگٹن Stella Rimington ہوتی تھیں تو راہول ڈریوڈ کی طرح سنبھل نہ پائے، ہم نے اک معلومات میں مزید اضافہ کیا کہ ان کی خاص بات یہ تھی کہ اس سے پہلے ایم آئی پانچ کے چیف کی تصویر تو کجا اس کا نام  تک نہیں ظاہر ہوتا تھا ۔موصوفہ نے نہ صرف اپنی تصویر دھڑلے سے نام کے ساتھ شائع ہونے دی بلکہ رہتی بھی ایک چھوٹے سے نجی اپارٹمنٹ میں تھیں اور سفر بھی ٹیکسی اور بس سے کرتی تھیں۔ان کی سوانح حیات اوپن سیکرٹ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جاسوس لوگ کیسی بے لطف اور مجبور زندگی گزارتے ہیں۔لگتا ہے یہ بات انہوں نے دل پر لے لی۔ تبادلے کے بعد اسلام آباد جاکر فون تک نہیں کیا۔جس دنGina Haspel سی آئی اے کی چیف بنیں ہم نے ان سے  بات کرنے کی کوشش کی مگر جواب آیا کہ آپ کا مطلوبہ نمبر کسی مرد کے استعمال میں نہیں۔

ہم بات جنگ کی کررہے تھے۔جنگ لڑنے کا فیصلہ پہلے بادشاہ امراء اور رؤ سا کیاکرتے ہی تھے اب بڑی کارپوریشنز اور کاروباری لابیز کرتی ہیں جو ڈیپ اسٹیٹ کا حصہ ہوتی ہیں۔ امریکہ یورپ  میں اگر تمیز اور قوائد و ضوابط کے دائرے میں دو بڑے کاروباری ادارے یکجا ہوجائیں تو انہیں انضمام یعنی Merger کہا جاتا ہے ۔اس کی ایک صورت جو امریکہ کی آئی۔ ٹی انڈسٹری میں بہت عام ہے اسےacquisition یا خریدلینا کہتے ہیں۔
ایک زمانے میں بھارتی پنجاب کے ایک بھائی بہن صبیر اور سبرینہ بھاٹیا نے ہاٹ میل نامی ای میل کی سہولت بنائی تو مقبولیت کے کچھ عرصے بعد اسے مائیکرو سوفٹ نے نوے کی دہائی میں چار سو  میلین ڈالر میں خرید لیا۔ بھائی بہن نے اتنی ساری رقم مل جانے پر وہی فیصلہ کیا جو ہمارے ہاں کے کامیاب کرپشن آلودہ سیاست دانوں کی اولاد کرتی ہے کہ اب بقایا زندگی اور کچھ نہیں کرنا، آپ کی دنیا میں چونکہ واٹس ایپ کی بہت اہمیت ہے لہذا یہ تو آپ کے علم میں ہوگا ایک سال کا عرصہ ہوتا ہے آپ کی یہ پسندیدہ ایپلی کیشن فیس بک نے 19 بلین ڈالر کی خرید لی۔ اسے اس وقت تک تاریخ کی سب سے بڑی سیل کہا جاتا ہے۔جی ہاں وہی فیس بک جس کے مالک مارک زکر برگ کو مودی صاحب امریکہ میں انہی کے صدر دفتر میں بازو پکڑ کر تصویر بنانے کے لیے ایک طرف گھسیٹ رہے تھے۔اسی قسم کی مالیاتی چھینا جھپٹی اگر دھونس دھمکی سے کی جائے تو اسے غاصبانہ قبضہ یا جنگ کہتے ہیں۔جنگی  نظریات کے لیے شاعر اور وہ رومانٹک قسم کے شی گیوئرا لڑتے ہیں ورنہ نظریات کے لیے جنگیں کبھی بھی نہیں لڑی گئیں یہ ہمیشہ وسائل پر قبضے کے لئے لڑی جاتی ہیں۔آپ اگر یہ سوچتے ہیں کہ بابر ، ایسٹ انڈیا کمپنی بھارت میں اور امریکہ اسلام ،عیسائیت یا نظریات کی مخالفت میں افغانستان اور عراق پر حملہ آور ہوئے تھے  تو یہ محض آپ کی سادہ دلی اور خوش گمانی ہے ۔ یہ سب تسلط ، خام مال اور وسائل پر تسلط کے لیے فوج کشی کیا کرتے ہیں۔ہندو دوست کہتے ہیں کہ افغانستان لڑاکو  فتنہ جو، بھوکے ننگے قبائل کا ملک ہے۔آج تک ایسا کبھی نہ ہوا کہ کوئی ہندو راجہ افغانستان فوج کشی کی خاطر گیا ہو مگر وہاں سے ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی چلا آتا تھا۔ بت شکن محمود غزنوی کو تین سو کلومیٹر دور بامیان کے بدھا کے بت دکھائی نہیں دیتے تھے مگر تین ہزار کلومیٹر دور سومنات گجرات کے بت بہت تکلیف دیتے تھے۔

واشنگٹن رولز
ڈلیوری ڈرونز
ادویات کی ڈلیوری میں استعمال ہونیوالے ڈرونز

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ امریکہ کو افغانستان جیسے دور افتادہ ملک میں آن کر کیا ملا۔طالبان کو تو وہ کسی اور گروپ کی مدد سے اس کے اعشاریہ دس فیصد اخراجات سے بھی پھڑکا سکتا تھا ۔وہ اس سے قبل رمزی یوسف کو اشتیاق پارکر نامی شخص کی مخبری (Tip Off) پر، میر ایمل کانسی کو ڈیرہ غازی خان سے ، خالد شیخ محمد کو راولپنڈی سے اور اسامہ بن لادن کو کاکول سے لے اڑے تھے۔
امریکہ کی افغانستان آمد کئی ایسی ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ تھی جنہیں اپنے ملک میں شاید اس قدر کامیابی اور خفیہ طریقے پر کرنا ممکن نہ ہوتا جن میں سے ایک تو وہ بم تھے جو زمین میں اندر جاکر پھٹتے ہیں اور زلزلہ کی سی تباہی لاتے ہیں دوسرے وہ ڈرونز تھے جن کی معصوم شکل اب وہ ڈرونز ہیں جنہیں اب جلسے جلسوں میں کیمرے نصب کرکے حاضرین کے پھیلاؤ کا اندازہ کرتے ہیں۔امریکہ دراصل ایک مستقل حالت جنگ میں ہمہ وقت رہنے کے لیے تیار ہے اگر آپ اینڈریو بیسوک کی کتاب
Washington Rules: America146s Path to Permanent Warپڑھیں تو جنگ اور سرمائے کے فروغ میں امریکہ کی اس رات کی کوئی صبح نہیں۔ جان لیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہے اور یہ اسٹبلشمنٹ  وہ ہے جو صدر آئزن آور کے زمانے سے military-industrial complex کے پھیلاؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔افغانستان میں بیس کے قریب ایسی دھاتیں اور معدنیات ہیں جو سونے سے مہنگی ہیں۔لتھیم ، رئر ارتھ،یورانیم،سلی کون۔ اسی وجہ سے افغانستان کو دنیا کا معدنیات کا مرکز مانا جاتا ہے۔امریکہ کو سعودی عرب اور اردن میں جب اسلام تکلیف نہیں دیتا تو افغانستان کے غریب غربا کا اسلام کیوں تکلیف دے گا۔ خدا کے واسطے کچھ ہوش کے ناخن لیں۔
پاکستان پر اللہ کا ایک کرم ہے ، ایران ،شام، ترکی اور مصر کے سفر میں خاکسار کو پہلی دفعہ علم ہوا کہ فوجی صلاحیتوں اور ایٹمی طاقت ہونے کے حوالے سے پاکستان کو اللہ سبحانہ نے کیا برتر مقام عطا کیا ہے۔  ان سب ممالک میں پاکستان کو ان معاملات میں ایک نگاہء رشک و تحسین سے دیکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر گالڈیکاز
ڈایان ٖفوسی
ڈاکٹر جین گڈ آل اور چمپنزی
پرانے قبرستان سندھ
یہودی قبرستان کراچی

بات کو ذرا اصل موضوع کی طرف لے جاتے ہیں ۔سول سروس سے متعلق ایک رفیق کار کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ایک ایسے بین الاقوامی ادارے میں ہوگئی جہاں وہ تمام اسلامی ممالک کے افراد سے اپنے منصبی فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں بہت باقاعدگی سے ملا کرتے تھے کئی برس کے مشاہدے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنی انفرادی حیثیت میں ایک عام پاکستانی دنیا کے تمام مسلمانوں سے زیادہ ذہین ، باصلاحیت اور جفاکش ہے۔ مقامی طور پر اقوام عالم میں ان کے بارے میں بگاڑ اور گرواٹ بھرے تاثر کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب آپ پاکستانیوں کو بطور ایک گروہ یاگروپ کے دیکھتے ہیں۔ گروہی طرز عمل کے لحاظ سے یہ دنیا کے  پس ماندہ ترین گروپوں میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔
وہ جہاں اپنی تعریف میں ایک حد فاصل سے تجاوز کرگئے تھے۔وہیں انہیں یہ کہنے میں بھی کوئی خوف خمیازہ یا کسی ہچکچاہٹ کا سامنا نہ تھا کہ 1970 کے بعد کی پاکستانی جنریشن میں Group Behavior کے حوالے سے اتنی بھی صلاحیت نہیں جتنی پہاڑی گوریلاؤں کے ایک گروپ میں ہوتی ہے۔ خاکسار کو علم تھا کہ وہ ڈایان ٖفوسی کی روانڈا کے پہاڑی گوریلاؤں پر، جین گوڈ آل کی چمپنزیوں پر اور گالڈیکاز کی بندروں کی ایک قسم(orangutans) پر کی جانے والی ریسرچ سے بہت متاثر تھے۔انہیں اپنی تلہ گنگ کے ایک تھکے ماندے کالج کی تعلیم یافتہ بیگم سے یہ بہت بڑا شکوہ تھا کہ جس خوش دلی اور انہماک سے یہ تین گوری بیبیاں ان بندروں کے درمیان رہیں اگر ایسی ہی فراخ دلی اور دل جمعی سے وہ بھی کراچی میں محمود آباد میں ان کے والدین اور اپنے سسرال والوں میں رہتیں تو آپس میں ناراضگیوں کا تناسب بہت کم ہوتا۔

فلسطینی مظاہرین
فلسطینیوں کا احتجاج
فلسطینیوں کا مظاہرہ
پاکستانی مظاہرین
مصری رضا کار،صفائی کرنے والے
مصری رضاکار،دیواروں کو رگڑ کر صاف کرنے والے
مصری رضاکار،جھاڑو لگانے والے
ایان کردی
ایان کردی کی تدفین
تدفین سے پہلے کا منظر،پاکستان
بینظیر کی تدفین

پاکستانی باشندوں کی صفائی، نظم و ضبط سے دوری اچھے برے کی تمیز سے بے گانگی ۔ان کے اجتماعی طرز عمل کے حوالے سے سیاست، قبرستان میں تدفین ، وہاں موجود قبلے کی درست سمت کے معاملے میں برسرپیکار اور الجھتی قبریں، شادی پر بارات سے طعام تک کی تکا فضیحتی ،اسکول سے یونی ورسٹی تک کلاسوں کے ٹائم ٹیبل سے بس کا سفر ،ڈاکٹروں کے احتجاج سے لے کر ہنگاموں اور ملزمان کو گرفتار کرتے وقت پولیس کی افراتفری تک کی کئی تفصیلات اور مثالیں ان کے پاس تھیں۔ سندھ کے موجودہ قبرستان اور پرانے کے قبرستان کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس مملکت میں زندگی کس گراوٹ کا شکار ہوگئی ہے۔

وہ کہہ رہے تھے کہ حالت ابتلا میں بھی فلسطینیوں کی وہ ویڈیوز یا تصاویر جو احتجاج یا بمباری سے متعلق ہوتی ہیں ان کے کپڑے کیسے صاف ستھرے ہوتے ہیں ان کی خواتین کے اسکارف عبایا بے داغ، چہرے اجلے اور دھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ آپ کو اگر تحریر اسکوائر ۔قاہرہ ۔مصر کے گزشتہ برسوں کے مظاہروں کی تصاویر اور فلمیں دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ان کے لباس اور حلیے  دیکھیں ان مظاہروں کے دوران تحریر اسکوائر میں جو کچرا اور کوڑا کرکٹ جمع ہوا تھا وہ میڈیکل یونی ورسٹی اور جامعہ ازہر کے طالب علم اور دیگر والنٹئرز ہر رات آکر اٹھاتے تھے پولیس کے سامنے انہیں اپنی مقررہ جگہ پر ٹھکانے لگاتے تھے

وہ تین سالہ ایلان کردی جس کی سمندر کے کنارے پڑی لاش کی تصویر نے ساری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔اس کے کپڑے کس قدر صاف ستھرے تھے ۔ غور کریں تو اس کے جوتوں کے تلے بھی اس کی روح اور اس کی تلاش مسکن کی طرح اجلے تھے۔سمندر نے اس کی جان تو لے لی مگر وہ اس کی Elegance ساحل پر بے رحمی سے پٹخنے کے بعد بھی چھین نہ سکا۔
ذرا دیکھیں ،اور تو اور اگر اس کی تدفین کے مناظر آپ نے دیکھے ہوں تو شام کے اس شہر کوبانی میں جہاں دولت اسلامیہ اور شامی افواج کے مظالم جاری ہیں وہاں شرکائے تدفین کے لباس ا اور حلیے کس قدر مہذب ہیں اس کی نسبت آپ پاکستان کی کچھ تصاویر بطور تقابل ملاحظہ فرمائیں ان تصاویر میں ایک ایسی تصویر بھی شامل بھی ہے جو قبرستان میں تدفین سے پہلے کی ہیں  یہ ہستی پاکستان میں اعلی ترین عہدے پر فائز رہ چکی تھی۔

ہمارے اس رفیق کار کو یہ بھی بہت شکوہ تھا کہ جب کہیں گلی کوچوں پبلک مقامات، یا اجتماعات میں نگاہ ڈالیں، پاکستانیوں کی اکثریت یا تو کہیں نہ کہیں خارش کررہی ہوتی ہے، یا ناک، کان آنکھ میں انگلیاں گھونپ رہی ہوتی ہے یا پان نسوار اور گٹکے سے کھد بدائے ان کے دہانہ ہائے مبارک کے گٹر باہر ابل رہے ہوتے ہیں۔ مسجد میں جماعت میں بھی وضوکرکے آنے کے باوجود گلے کھنگا ررہے ہوتے ہیں۔بلکہ غریب بستیوں میں تو موذن فجر کی  اذان سے پہلے اپنے سستے بھیانک ساؤنڈ سسٹم والے لاؤڈ اسپیکر پر بطور الارم ایسے کھنگارتا ہے کہ فرشتے اسرافیل کے دل میں ایک بارگی آتی ہوگی کہ اللہ میاں پاکستان میں صور پھونکنے کی فرنچائز دیہات یا لالہ موسی کے کسی بوڑھے غصیلے موذن کو دے دیتے تو اچھا تھا۔ ایسا ہوتا تو مائیک پر گلا صاف کرکے تحریک انصاف کے باقی ماندہ اثرات بھی روز قیامت مٹا دیتا۔اس کے برعکس حرم پاک کی  اذان سنیں۔ کیا لحن ہے۔ کیسا صوت ہے۔ کیا تمکنت اور بلاوے کی ترغیب ہے ۔پاکستان کے میلے میلے مفت بر سیاست دان بھی دوڑے چلے جاتے تھے۔

امریکہ کے ایک صاحب ذوق مہمان ہم سے ملنے سندھ سیکرٹریٹ آئے تو وہاں پرانی پان کی پیک اور خاک سے آلودہ پرانی ناکارہ سرکاری گاڑیوں اور دیگر کاروں  کی بے ہنگم پارکنگ دیکھ کر کہنے لگے ’’جو افسران اپنے دفتر کے اندر صفائی اور باہر کار پارکنگ ٹھیک نہ کرسکیں وہ صوبہ کا انتظام و انصرام کیوں کر سدھار کرسکتے ہیں‘‘۔ ہم نے کہا

ع بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
ڈاؤد  یونی ورسٹی نے ان دنوں کالج کا پرانا برقعہ اتار کر یونی ورسٹی کا نیا پولیسٹر عبایا پہنا تھا۔ وائس چانسلر شپ کے لیے دو سینئر پروفیسروں میں جوتم پیزار ہورہی تھی۔ وہاں کوئی پروفیسر ان کے دوست تھے ہم دونوں ان سے ملنے گئے تو یہ وہاں موجود طالب علموں کو دیکھ کر کہنے لگے یا ر اس موبائل فونز کے سائز کا اثر طالب علموں کے قد کاٹھ پر کچھ زیادہ ہی ہوا ہے۔اتنے پاکٹ سائز نوجوان کہاں سے پیدا ہوگئے۔ پروفیسر نے تائید کی کہ کھیل کے میدانوں ، پارکوں اور روزمرہ آؤٹ ڈور سہولتوں کی کمیابی سے نئی نسل کا سائز چھوٹا ہوتا جارہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بے پناہ انفرادی قابلیت کو کیسے ایک گروہی صلاحیت میں بدلا جائے تاکہ بطور ایک قوم ہماری جسمانی ساخت، Personal Hygiene ذاتی صفائی ،برداشت کی قوت، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی جیسے اہم معاملات میں ہم یکجا ہوجائیں۔ اس کا ایک فوری دیرپا علاج ہے جو بہت کم خرچ بھی ہے اور جس کے اثرات دور تک جانے کی امید ہے۔
یہ علاج ہے نوجوانوں کی لازمی فوجی تربیت ۔۔۔پاکستان میں ایسے نوجوان افراد جن کی عمر پندرہ سال سے کم ہے یونی سیف کے مطابق35 فی صد ہے۔
الیکشن کمیشن کے اندازے کے مطابق ایسے نوجوان جو اٹھارہ سال سے چھبیس سال کی عمر کے ہیں ان کی تعداد ملکی ووٹرز کی تعداد کا 26 فی صد ہے۔اگر اس تعداد کو آبادی کے پیمانے پر پرکھا جائے تو3.33فیصد وہ بچے ہیں جو 1 سے 14 سال کی عمر کے ہیں اور5.21فیصد  وہ نوجوان ہیں جن کی عمریں15 سال سے24 سال کے درمیان ہیں معمولی سے فرق سے ان میں آدھی  تعداد مرد اور آدھی تعداد خواتین کی ہے۔

مولوی کا امتحان

اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے پرے ہٹ کر سوچیں تو پاکستان کی کل آبادی میں سے کم از کم ہر وقت 25سے30 فیصد آبادی ایسے نوجوان افراد پر مشتمل ہے جو لازمی فوجی تربیت کے لیے ہمہ وقت موزوں ہیں۔
اس حقیقت کو سب سے پہلے مولانا مو دودی نے بھانپ لیا تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ بنا ڈالی جس کے تمام اہم رہنما انہیں وقت آنے پر داغ مفارقت دے کر انفرادی طور پر کہیں کے کہیں جانکلے ،ان میں جاوید ہاشمی، کوثر نیازی، اعجاز شفیع گیلانی، حسین حقانی اور فیاض چوہان پی ٹی آئی والے نمایاں ہیں، بعد میں نوجوانوں کے اس بہت بڑے حلقہء اثر کا فائدہ شیخ مجیب الرحمن نے اٹھایا۔ اس کے بعد ایم کیو ایم اور اب پی ٹی آئی اٹھارہی ہے درمیان  میں جو ایک طویل صحرائے افکار ہے اس میں یہ نوجوان  جہادی تنظیموں کی بھینٹ چڑھ گئے جو انہیں اپنے ایجنڈا پر چلاتی رہیں ۔ اس گروپ کو گیلی لکڑی جان کر کسی نے صحیح وقت پر قومی مفاد میں نہیں موڑا۔ یہ ایک بہت بڑا لمحہء فکریہ ہے اور المیہ ء عظیم بھی۔

مگر ایسی کیا بے چارگی اور کم مائیگی ہے کہ ایک فرد کے مشاہدے کو جس سے متعلق بیشتر خامیوں ،کوتاہیوں اور دکھ بھری مثالوں سے آپ بھی بارہا دوچار ہوئے ہیں مگر آپ نے ان کے بارے میں کوئی اجتماعی علاج کا نہیں سوچا ۔ اگر کبھی ان پر کی نگاہء غلطاں و پیچاں پڑ بھی گئی ہوگی تو آپ اسے تعلیمی نظام کی کمزوری اور گھریلو تربیت کا فقدان جان کر دل مسوس کر رہ گئے ہوں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors

(جاری ہے)

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply