مکالمہ ۔۔ ہماراتہذہبی ورثہ ۔ آصف محمود

انعام رانا جیسے بانکے جوان، جن کی شوخی تحریر اپنی شرارتوں کے ہمراہ ساون موسموں کی طرح گدگداتی چلی جاتی ہے ،اگر مکالمے جیسی سنجیدہ اور علمی روایت کا احیاء کرنا چاہتے ہیں تو اس کا خیر مقدم ہی نہیں تحسین بھی کی جانی چاہیے۔ فیس بک نے بہت کمال کے لکھنے والے متعارف کرائے ۔حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے لکھاریوں کے آگے اخبارات کے ادارتی صفحات کی کم مائیگی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ان ڈھیر سارے خوبصورت لکھاریوں میں جن دو لکھنے والوں نے مجھے اپنے سحر میں جکڑرکھا ہے وہ ہیں انعام رانا اور وصی بابا۔ان کی تحریریں میرے ناسٹیلجیا سے پیدا ہونے والی تشنگی کا سامان فراہم کرتی ہیں۔میں ان کی تحریریں پڑھتا ہوں تو گویا اپنے گاؤں کی گلیوں اورکھیتوں کا سفر کر آتا ہوں۔اکیس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں جب گاؤں چھوڑ کر اسلام آباد آیا ۔یہاں کی زندگی کے تصنع میں جتنا اترتا جاتا ہوں گاؤں کی یادیں اتنی ہی شدت سے آتی چلی جاتی ہیں۔بچپن کے بے تکلف دوست ،لہلہاتے کھیت،گرمیوں کی دوپہروں میں وہ نہر کنارا،کینو کے باغ کے ایک کونے پر وہ ٹیوب ویل ،ایک دم اتنا کچھ یاد آتا ہے کہ کہ ہوک سی اٹھنے لگتی ہے۔

انعام رانا اور وصی بابا کی تحریریں مجھے میرے گاؤں لے جاتی ہیں ۔اسی لیے میں ان کا فین ہوں۔انعام رانا کی تحریر میں میری بچپن کے ان دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے جن کے بغیر محفلیں ادھوری تھیں، شوخی ،شرارت ،مزاح ،طنز، گرہ پہ گرہ، بے فکری،ہر لمحہ کوئی نئی آفت، ہر لحظہ کوئی نئی شرارت۔بد مزہ لیکن کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔سب انجوائے کرتے تھے۔ وصی بابا کی تحریر میں ان بڑے بوڑھوں سے ملاقات ہو جاتی ہے جو حویلی میں بیٹھے حقے کی نے منہ میں لے کر گڑ گڑ کیا کرتے تھے۔اسی بے نیازی سے وہ بھی فقرہ اچھال دیا کرتے تھے جیسے وصی بابا اچھالتے ہیں۔وصی بابا کے مختصر فقروں میں بھی وہی جہان معنی آباد ہوتا ہے جو ان بزرگوں کی تنبیہ میں ہوتا تھا۔ڈانٹ ڈپٹ کے انداز ہی ہر دو ناصحین میں قدر مشترک نہیں اس میں موجود دانش کے مظاہر اور لہجے کی بے نیازی میں بھی بہت مماثلت ہے۔چنانچہ میں سوشل میڈیا پر اور کچھ پڑھوں یا نہ پڑھوں انعام رانا اور وصی بابا کو ضرور پڑھتا ہوں۔ان کی اپنی اردو ہے اور اپنی ہی ڈکشن۔بابے نے تو باقاعدہ نئے لفظ وضع کردیے ہیں۔اتفاق دیکھیے میری ان دونوں سے تاحال کوئی ملاقات نہیں۔

انعام رانا نے ایک بھاری پتھر اٹھا لیا ہے تو میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔دعا ہے وہ مکالمے کے عمل کو معنویت کے ساتھ آگے بڑھا سکیں کہ یہ ہمارے بزرگوں کی ایک روایت بھی ہے۔مکالمہ ہمارا تہذیبی ورثہ ہے۔ہمارے بڑے بزرگ اختلاف کیا کرتے تھے لیکن تہذیب کے دائرے میں مکالمے کے انداز میں۔چنانچہ امام شافعی ؒ نے اس باب میں آخری بات کہہ ڈالی : ’’ میں اپنی بات کو درست سمجھتا ہوں لیکن اس میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرتا ہوں اور میں دوسرے کی بات کو غلط سمجھتا ہوں لیکن اس میں صحت کے امکان کو رد نہیں کرتا ‘‘ ۔ ہمارے سماج کے المیوں میں ایک المیہ اسی مکالمے کے کلچر کا خاتمہ ہے۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ ہمارے ٹاک شوز کے مجہولوں نے پوری کر دی ہے۔یہاں مکالمہ نہیں مجادلہ ہوتا ہے۔جو جتنا زبان درازہے اس کی اتنی زیادہ ڈیمانڈ ہے۔ریٹنگ کی بھوک اورنیم تعلیم یافتہ اینکرز کا لشکر جرار اس نسل کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ تہذیب اور شائستگی سے بات کرنا تو کمزوری کی علامت ہے۔پہلے مرحلے ہی میں آپ کے بال کھڑے ہو جانے چاہییں، گلے سے غراہٹ نکلنی چاہیے اور کیا ہی اچھا ہو منہ سے جھاگ بھی برآمد ہو جائے۔چنانچہ اب سر شام ایک ڈگڈگی بجتی ہے۔علم و دانش اور تہذیب نفس قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔اب معیار یہ ہے کہ کون اچھی ڈگڈگی بجا کر مجمع لگا لیتا ہے۔

اس ماحول میں اگر انعام رانا مکالے کی تہذیبی روایت کا احیاء چاہتے ہیں تو یہ ایک مبارک سوچ ہے۔میں ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔

آصف محمود سینیئر صحافی، کالم نگار اور ٹی وی اینکر ہیں۔ آپ کی مشاورت اور رہنمائی شروع دن سے “مکالمہ” کو میسر رہی ہے جس کیلیے ادارہ ان کا ممنون ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *