• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشرانوں ۔ دستک اور دروازہ توڑنے میں فرق رکھیں۔۔۔عبدالمجید داور

مشرانوں ۔ دستک اور دروازہ توڑنے میں فرق رکھیں۔۔۔عبدالمجید داور

طالبان اٹھے، شریعت کے نفاذ کے نام پر دستک کی بجائے دروازہ توڑنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ فوج دروازہ توڑنے والوں سے حساب کرنے آئی، پر عام آدمی کا دروازہ توڑ گئی  ۔ ۔ ۔ آج عام آدمی دستک دے کر فوج سے دروازے کا حساب، قیمت اور دیت مانگ رہا ہے ۔ ۔ ۔ پر مشران دروازہ توڑنے کی بات کررہے ہیں !

عام آدمی دروازے کے بدلے دروازہ توڑنے کا سوچتا بھی نہیں کہ اسکو اپنی لاچاری اور مجبوری معلوم ہے ۔ ۔ اسکو اپنی فضاوں میں گولے اور سڑکوں پر طالبان کے خنجر یاد ہیں ۔۔ اسکو نقل مکانیاں اور کیمپ یاد ہیں  ۔ اسکو ڈھائی چھ سال بعد اپنی مٹی پر پاؤں رکھنے کی اجازت یاد ہے  ۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ اسکا ہر دسواں بیسواں قدم مائن پر ہے  ۔ وہ اپنے پیاروں کی برآمدگی کی امید پر انٹرمنٹ سینٹرز اور ملاقات کی امید پر کیمپ کے دروازے دیکھ رہا ہے ۔ ۔ وہ باپ ہے تو مسمار گھر اور دوکان کے معاوضے کیلئے سروے ٹیم کا منتظر ہے ۔ بچہ ہے تو اپنے مسمار سکول کی ٹپکتی چھت تلے بیٹھا ہے  ۔ ماں ہے تو اسکے ہاتھ راشن کا آٹا گوندتے تک چکے ہیں ۔ جوان ہے تو اسکے وطن کارڈ کا رنگ ابھی تک تازہ ہے   اور یہ سب کمزوریوں کو آخری حدیں ہیں !

مشران سے گزارش ہے ۔ ۔
ملاؤں نے ہمارا چہرہ بطور طالبان پیش کیا اور آپ ہمارا چہرہ بطور پیشمرگان پیش کررہے ہیں، خدارا ہمارا اصلی اور مظلوم چہرہ پیش کریں ۔ ۔ ۔ آپ ہمارے بھائی بیٹے ہیں، اگرہم آپکی سیاسی مجبوریاں سمجھ سکتے ہیں تو آپ ہماری انسانی مجبوریاں سمجھنے میں غلطی کیوں کررہے ہیں؟ آپ کانپتے ہاتھوں والے میرے کمزور ہجوم کو مسلح لشکر کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟ میں لوئی، گریٹر اور آزاد افعانستان اور پشتونستان جیسے عالمی ایجنڈوں کے ذریعے ریاستی دروازہ توڑنے والا لشکر جرار نہیں بلکہ اس ملک کا وہ کمزور ترین شہری ہوں جو کانپتے ہاتھوں سے دستک دے کر اپنے ٹوٹے دروازے کا حساب اور قیمت مانگتا ہے، وہ اس خطے کو غیرمستحکم کرکے دوبارہ نقل مکانیوں، راشنوں، کیمپوں اور قطاروں جیسا ڈراونا مستقبل کسی دشمن کیلئے بھی نہیں چاہتا !

مجھے امید ہے ۔ ۔
جب آپ تقریر کرتے ہوئے اس بچے پر نظر رکھیں گے جسکے ہاتھ میں اسکے لاپتہ باپ کی تصویر ہے ۔ ۔ ۔ اس ماں پر نظر رکھیں گے جسکی  گود میں اسکے لاپتہ بیٹے کا بینر ہے ۔ اس سفید ریش باپ کو دیکھتے جائینگے جسکا لعل برسوں سے گھر نہیں آیا ۔  اس معذور پر نگاہ ڈالتے رہیں گے جو مائن کا شکار ہوا ۔  اس کاروباری کو دیکھیں گے جسکی عمر بھر کی کمائی کولیٹرل ڈیمیج کی نظر ہوئی ۔ اس مشر کو دیکھیں گے جسکی پگڑی کا کلف ایک سپاہی کے تھپڑ کی نظر ہوا  ۔ اس والد کو دیکھیں گے  جو اپنے مسمار گھر میں خیمہ گاڑے اور چاردیواری کی جگہ چادریں درست کرتے نفسیاتی مریض بن چکا ہے تو آپکے الفاظ دروازہ توڑنے کی بجائے دستک پر مرکوز رہیں گے ۔ ۔ ۔ مسائل پر مرکوز رہیں گے !

خدارا دستک دینے میں میری مدد کریں  کہ ہم نے آپکی ٹوپی کو پُرامن مزاحمت کی دستک میں تاریخ کا ایک باب بنا دیا ہے  ۔ ہم نے آپکو ایوانوں تک پہنچایا ہے آپ میری دستک ایوانوں تک پہنچائیں ۔ ۔ ۔ مجھے میرے ٹوٹے دروازے کی قیمت دلائیں اور بدلے میں سپورٹ اور ووٹ تو کیا میری عقیدتیں، محبتیں اور سانسیں تک لے جائیں !

البتہ !!
اگر آپ دروازہ توڑنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں تو کسی خوش فہمی میں نہ رہیں !!
ہم میں دروازہ توڑنے کی نہ طاقت ہے، نہ سکت اور نہ ہمت !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *