دوٹوک ۔ قاسم سید

معمولی عقل رکھنے والا بھی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات 2019 کے لوک سبھا الیکشن کی زمین تیار کریں گے اور اس کے خدوخال کو نمایاں کریں گے، یہی وجہ ہے کہ تمام قابل ذکر سیاسی پارٹیاں حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں، اہداف طے کررہی ہیں، ایجنڈے کو آخری شکل دے رہی ہیں اور ماحول میں اتار چڑھاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جو زندہ، باشعور، متحرک، فعال ہیں اور دوررس نتائج کو فوقیت دیتے ہیں، ان کی سیاسی بساط تو پہلے ہی بچھ چکی ہے، ان کے مہرے، وزیر، بادشاہ سب تیار ہیں یا اپنے ہتھیاروں کو صیقل کررہے ہیں، جبکہ امداد، عنایات، خیرات، مراعات، فیوض و برکات پر گزر بسر کرنے والے ابھی بہت وقت ہے سمجھ کر سورہے ہیں یا سونے کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سونے والے کو جگایا جاسکتا ہے، مگر جو سونے کا ڈھونگ کررہا ہو اسے بیدار کرنا مشکل ہے۔ اسی طرح مقدر کا رونا رونے والوں اور ہر مسئلہ کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینے والوں کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔
ملک کے اقتدار پر قابض پارٹی نے اترپردیش کے لئے اپنا ایجنڈہ طے کرلیا ہے اور شاید اسی کے ارد گرد انتخابی مہم گھومے گی، اگر کوئی غیر معمولی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ دلتوں کی بیداری کی ٹائمنگ نے ضرور اس کے ماتھے کی سلوٹوں میں اضافہ کردیا ہے۔ ہندوتو کے پُرجوش اور بے قابو علم بردار جو کبھی اس کے ہراول دستے تھے وہی ممکنہ فاتحانہ پیش قدمی کی راہ کا سب سے بڑا روڑہ بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم کی تنبیہ اور اپنی جان دینے کی جذباتی پیشکش کا بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ یہ سمجھنا بڑا مشکل ہے کہ کس کی کمان کس کے ہاتھ میں ہے اور کون کس کو زیر کرنا چاہتا ہے۔ آر ایس ایس حکومت پر حاوی ہے یا حکومت آر ایس ایس کو زیرِ منقار لانا چاہتی ہے یا دونوں مل کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اس لئے کہ وزیراعظم نے گؤ رکشکوں کی 80 فیصد تعداد کو غنڈوں اور سماج دشمن عناصر تو کہہ دیا، مگر ان کے خلاف عملی اقدامات یا کریک ڈاؤن کا معمولی سا واقعہ بھی سامنے نہیں آیا۔ ہاں دلتوں اور مسلمانوں کی بے رحمانہ پٹائی کے واقعات ضرور سامنے آرہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گؤ رکشک اترپردیش الیکشن تک آزاد ہی رہیں گے۔ یوپی سرکار نے بھی نرم رویہ اپناکر سافٹ ہندوتو کے راستے کو اپنالیا ہے، اس نے داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاست کے مختلف مقامات پر جاری ٹریننگ کیمپوں کے خلاف کارروائی نہ کرکے صاف عندیہ دیا ہے کہ بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کی سوچ میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں ہے۔ مظفرنگر فساد کے زخم ابھی ہرے ہیں اور اخلاق احمد کا قتل انصاف مانگ رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی نے فرقہ پرست عناصر کے خلاف ساڑھے چار سال کے عرصہ میں کوئی بھی سخت کارروائی نہ کرکے ان کے دل میں نرم گوشہ بنانے کی کوشش کی ہے اور ہمارے دل مسل دیے ہیں، کیونکہ 8 فیصد یادو، 20 فیصد مسلمانوں کو اپنا غلام سمجھتا ہے۔ نہ سماجوادی پارٹی کے گونگے بہرے مسلم ممبران اسمبلی کی ہمت ہے اور نہ ہی پارٹی کے دیگر مسلم لیڈروں میں اتنی جرأت ہے کہ وہ پارٹی قیادت سے ساڑھے چار سال کا حساب مانگیں اور صرف اتنا دریافت کرلیں کہ حضور بے گناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی اور 18 فیصد ریزرویشن کا ایفا ہوا؟ جس کی بنیاد پر مسلمانوں نے جھولی بھرکر ووٹ دیا تھا، ان کے لعل تو آج بھی سلاخوں کے پیچھے زندگی کی سانسیں گن رہے ہیں اور کہیں روزگار کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ سوال تو ان لوگوں سے بھی کرنا چاہیے جنھوں نے سماجوادی پارٹی کو این او سی دے کر ریاست بالخصوص مسلمانوں کے لئے باعث خیر و برکت بتایا تھا اور ساڑھے چار سال سے اس کے حق میں بیٹنگ کررہے ہیں اور سرکاری مراعات کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کچھ وفاداروں، تابع داروں اور رات کو دن کہنے والوں کو درجہ حاصل وزیر بنادینا یا قانون ساز اداروں میں نمائندگی دینے سے بنیادی مسائل حل ہوجاتے ہیں تو پھر بسم اللہ کہیں، اور دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اسی معاہدہ وفاداری کی پانچ سال کے لئے تجدید ہوجائے۔
دوسری طرف ہر حالت میں اترپردیش پر قبضہ کرنے کی ضد میں بی جے پی نے وکاس کے ساتھ جارح قوم پرستی کے ساتھ انتخابی مہم چھیڑدی ہے۔ یہ قوم پرستی یا راشٹرواد کی جتنی تعبیریں اور تشریحات ہیں ان میں مسلمان مرکزی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اب معاملہ صرف لوجہاد، گھر واپسی، گؤ رکشا تک نہیں رہ گیا ہے، ہندو آبادی میں کمی اسے بڑھانے کی تحریک ورنہ مسلمان اکثریت میں آجائیں گے، یوپی میں ہار کا مطلب پاکستان کی جیت اور گؤ ماتا نہ کہنے والوں کو بھارت میں رہنے کا کوئی ادھیکار نہیں جیسے جذباتی اور پاگل پن کے اظہار والے ایشو کا نشانہ مسلمان ہی ہیں۔ اترپردیش جیسے پیچیدہ اور مشکل سوال کو ہندوتو کے قلم سے حل کرنے کا فارمولہ کہاں تک کامیاب ہوگا یہ دیکھنے کی بات ہے۔ کیا بہار کا تجربہ کامیاب ہوگا یا ذات پات کے ساتھ فرقہ پرستی کے جغرافیہ پر بی جے پی قابو پالے گی؟ کہنا بہت مشکل ہے، لیکن اس نے سارے گھوڑے کھول دیے ہیں۔ ریاست کی زمین پر ایک اور مظفرنگر کے بیج بڑی مہارت و فنکاری سے بوئے جارہے ہیں اور ریاستی حکومت کی خاموش رضامندی شامل نظر آتی ہے۔ خدا کرے کہ یہ احساس بے بنیاد ہو اور مفروضہ ثابت ہو، لیکن ایسا ہوگیا تو یہ ریاست کی 20 فیصد آبادی ہی نہیں پورے انتخابی منظرنامہ کو متأثر کردے گا۔ راشٹرواد خوف و نفرت کا دودھ پی کر پرورش پاتا ہے، اس میں اکثریت کے اندر رعونت و فرعونیت اور بالادستی کا گھمنڈ پیدا کرنے کے ساتھ ایک دشمن کی تخلیق کی جاتی ہے، اس سے خوف دلایا جاتا ہے اور دل میں نفرت کا زہر گھولا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے پارٹی کو حال ہی میں مشورہ دیا کہ ہم راشٹرواد کی بنیاد پر اقتدار میں آئے ہیں اور اسے کسی بھی حال میں چھوڑنا نہیں ہے۔ راشٹرواد کے جو مظاہر دادری سے اونا اور کشمیر کے حوالہ سے سامنے آرہے ہیں اس نے ایک بات تو واضح کردی ہے کہ آپ کو ان کی شرائط پر جینے کے لئے تیار رہنا ہوگا ورنہ زنجیریں آپ کا انتظار کررہی ہیں۔ اختلاف کا مطلب مخالفت اور مخالفت کا مطلب دیش دروہ، اس کے آگے کچھ جاننے سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں، کشمیر کے حالات پر ہماری صفوں میں پائی جانے والی پراسرار اور خوف زدہ خاموشی کا مطلب بہت صاف ہے۔ جب حکومت کی پالیسیوں کو دیش بھکتی سے جوڑ دیا جائے تو اقلیتوں اور سول سوسائٹی کو کیا مشکلات آسکتی ہیں، بتانے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ بھی طے ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی جیت کا مطلب یہ ہے کہ اسے 2019 میں لوک سبھا الیکشن کی تاریخ دہرانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اپوزیشن میں انتشار اور مضبوط قیادت کا فقدان بی جے پی سرکار کے لئے سنجیونی ثابت ہورہا ہے ورنہ اس کی ناکامیاں زمیں دوز کرنے کے لئے کافی تھیں۔ آگے بھی اپوزیشن میں اتحاد یا مفاہمت کے بظاہر آثار نہیں ہیں، کم از کم اترپردیش میں جو تصویر ابھر رہی ہے وہ خوش کن نہیں کہی جاسکتی۔
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہونا چاہئے؟ کیا ایک بار پھر سیکولرازم کی جوتیاں سیدھی کرنے کا فریضہ ادا کریں اور سیکولر پارٹیوں سے یہ سوال نہ کریں کہ اگر واقعی آپ بی جے پی کو سیکولرازم کے لئے خطرہ سمجھتی ہیں تو مفاہمت یا مشارکت کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں پارٹی مفادات ہی حرف آخر ہیں؟ ہم اس منافقانہ کھیل کا حصہ کیوں بنیں؟ کیوں ان کی ناز برداری کریں اور کیوں صرف ہرانے کے لئے ووٹنگ کریں جتانے کے لئے نہیں؟ ہم کیوں اپنا فیصلہ خود نہ کریں اور ان کو ہی اپنا ملجا ماویٰ اور پالن ہار سمجھیں؟ کیوں اپنی شرطوں پر سیاست نہ کریں؟ جب سیکولر پارٹیاں ایک ساتھ نہیں آسکتیں تو ان کو منافقت کی سزا کیوں نہ دی جائے؟ بی جے پی کو ہراتے ہراتے اسے مرکز میں پہنچا دیا گیا، اس سے آگے کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بی جے پی کو ہرائے اسے ووٹ دو کی پالیسی ناکام ہوگئی، ہماری قیادت سیاست سے توبہ کرتی ہے، البتہ الیکشن کے وقت کسی نہ کسی کے حق میں فیصلہ ضرور صادر کرتی ہے مگر چلمن کی اوٹ سے، کیوں صاف صاف نہیں کہا جاتا کہ آپ صرف فلاں پارٹی کو ووٹ دیں۔ سب کو خوش کرنے اور رکھنے کی پالیسی نے ان کا بھلا کردیا ہو مگر مسلمان کو کوڑے دان میں پہنچا دیا۔ ٹیکٹیکل ووٹنگ کی پیلٹ گن نے ہمارے جسم کو چھلنی کردیا ہے اور یہ سب ٹھیکیدارانہ اور ٹنڈر زدہ سیاست کے سبب ہوا ہے۔ مٹھی بھر لوگ بالائی سطح پر گفتگو کرکے بھیڑوں کا ریوڑ پانچ سال کے لئے حوالہ کردیتے ہیں۔ اب ایسی سیاست کا مزید متحمل نہیں ہوا جاسکتا۔ ارباب بست و کشاد کو اپنے انداز بدلنے ہوں گے۔ اترپردیش واضح جرأت مندانہ حکمت عملی چاہتا ہے کہ ہم لینے کے ساتھ دینے والے بھی کہلائیں، صرف مانگنے والے نظر نہ آئیں، مانگنے والوں کو بھیک ملتی ہے اور دینے والوں کو حق، اس کا طریقہ کیا ہو، وہ کیا راستہ ہو کہ مسلمانوں کی سیاسی عظمت رفتہ کی بحالی کا آغاز اسی سرزمین سے ہو، اس پر سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم رہنماؤں کی چوٹی میٹنگ طلب کی جائے، کوئی راہ نکالی جائے، ورنہ انتشار کی موجودہ صورت حال ایسے چوہوں میں تبدیل کردے گی جن پر صرف تجربے کئے جاتے ہیں۔

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *