داعش__خوف یا کاروبار کی جدید قسم

دہشت گردی اس وقت عالمِ اسلام سمیت پوری دنیا کا ایک اہم ترین مسئلہ بنتا جا رہا ہے. خوف کی علامت بننے والی تنظیم القاعدہ کے بعد اب داعش نام کی تنظیم دھشت کی علامت بن کے ابھر رہی ہے. اس کی کاروائیاں مسلم ممالک کے لیے مسلسل دردِ سر بن چکی ہیں داعش نا صرف مسلم ممالک بلکہ یورپ سمیت امریکہ کو بھی کھلا چیلنج دے رہی ہے.

داعش کیا ہے وہ کیسے کام کرتی ہے اور اس کی تمام تر کاروائیوں کے پیچھے کیا عوامل ہیں اس سے قطعہ نظر سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ داعش اور اس جیسی تمام تر دھشت گردی پھیلانے والی تنظیموں سے مالی و سیاسی فوائد حاصل کرنے والے کون سے ممالک ہیں.

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی اور تاریخ کے اوراق ایسی کئی دھشت گرد تنظیموں کی کاروائیوں سے اٹے پڑے ہیں.

اسلام کا نام لیکر سب سے پہلی دھشت پھیلانے والی تنظیم کا وجود " حسن بن صباح " نے ڈالا اور پھر ایک کے بعد ایک پرتشدد تنظیم کا وجود ہر دور میں کچھ ممالک اور خاص طور پر سامراجی قوتوں نے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے وجود ڈالا.

یہ ایک اہم سوال ہے جو آج کی صدی کے مسلمان کے زہن میں کئی سوالات کو جنم دیتا ہے.
اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام کا نام لیکر خوف اور دھشت کی علامت بننے والی اس نئی تنظیم داعش کی بنیاد ٹھیک اس وقت پڑتی ہے جب امریکی اور نیٹو افواج نے اعراق پر حملہ کیا اور اس پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا.

امریکی افواج کے اعراق پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہی وہاں داعش نامی تنظیم وجود میں آتی ہے اور نا صرف اس تنظیم کی بنیاد پڑتی ہے بلکہ ٹھیک امریکی افواج کی ناک کے نیچے اعراقی شہروں میں اس تنظیم کا آزادانہ نقل و حرکت سمیت اس میں بھرتی مہم کا شروع ہوجانا بھی ایک اہم سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا شاید اتنا بھی مشکل نہیں…!
سوچنے کی بات ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ امریکہ جس ملک پر قابض ہو وہاں پر خوف کی علامت بننے والی ایک تنظیم کا وجود پڑجائے جس سے خود امریکی سی آئی اے سمیت برطانوی خفیہ ادارے کو زرا برابر بھی بھنک نا پڑے.

ایسی کسی بھی تنظیم یا گروہ کو اپنے بنیادی ڈھانچے کو بنانے کے مراحل سمیت جہادیوں کو جمع کرنے تک کئی ماہ کی مسافتوں سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے کسی گروہ یا تنظیم کا پہلے دن سے وہاں کی قابض افواج کو علم ہی نا ہو.

ان وجوہات کو لیکر کئی اعراقی صحافی داعش کی اصل حقیقت کو جاننے یا داعش و امریکہ کے مابین ہونے والے کسی بھی طرح کے خاموش روابط کی تلاش میں ہی اپنی جانیں اپنے گھر بار اپنے خاندان ہمیشہ کے لیے گنوا بیٹھے.

اس ہی طرح امریکی افواج نے جس تیزی کیساتھ اعراق میں اپنے احداف حاصل کیئے اور اسکی موجودگی میں داعش یا آئی ایس آئی ایس کی بنیاد پڑی ٹھیک ایسا ہی کچھ افغانستان میں ہوا جہاں امریکی افواج کے قدم جمتے ہی مختلف جہادی گروہوں نے جنم لیا، گو کہ امریکی و اتحادی افواج کا مقابلہ وہاں آج بھی طالبان سے جاری ہے مگر طالبان کا ایک گروہ جو امریکی افواج کے وہاں ہوتے ہوئے کابل کی حمایت میں قائم ہوا وہ آج بھی پاکستان میں مختلف طریقوں سے دھشت گردی کی کاروائیوں میں براہ راست ملوث ہے.

حالیہ رپورٹس کیمطابق خوف اور دھشت کی علامت بننے والا گروہ داعش تیزی کیساتھ اپنی کاروائیاں کرتا ہوا اعراق کے کئی شہروں پر قابض ہو چکا ہے.
دیکھا جائے تو مذھب کے نام پر ایسی پر تشدد کاروائیاں صرف اس صدی کا قصہ نہیں اور نا ہی ایسی پرتشدد کاروائیاں صرف اسلام کا نام لیکر کرنے والوں نے کیا ہے بلکہ گزشتہ کئی ادوار میں یہودی اور عیسائیت کا نام لیکر بھی کئی گروہ ایسے مظالم کرتے آئے ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ رواں صدی کو اس طرح کی پرتشدد کاروائیوں کی سب سے زیادہ خطرناک صدی کہا جائے تو غلط نا ہوگا.

ایک اسرائیلی صحافی کے مطابق داعش اور اس طرح کی تمام شدت پسند تنظیموں کے ہاتھوں مارے گئے مسلمانوں کی تعداد اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف کی جانے والی آج تک تمام تر کاروائیوں سے بھی کئی گناہ زیادہ ہے.
مگر اس کے برعکس داعش کے حوالے سے حقیقت کچھ یوں بھی ہے کہ خود داعش نے اپنے وجود سے لیکر آج تک کبھی کسی صیہونی یا عیسائیت کے ماننے والے کو گولی تو دور کی بات کبھی پتھر بھی نہیں مارا. داعش کی تمام تر کاروائیاں اپنے ہی مسلمان بھائیوں معصوم بچوں عورتوں اور بزرگوں کے خلاف ہی رہی ہیں. کئی مذھبی و عمرانیات کے اسکالرز کا یہ ماننا ہے کہ داعش جیسا خطرناک گروہ جس کی کاروائیاں انسانی تاریخ کی سب سے پرتشدد کاروائیاں کہی جاسکتی ہیں. ماضی میں ایسے کسی گروہ کا حوالہ نہیں ملتا جسکی تمام تر کاروائیاں اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف اور اسکی ہمدردیاں اور وفاداریاں دیگر مذاھب کے ماننے والوں کیساتھ ہوں.

اس ہی طرح سے القائدہ کے حوالے سے بھی یہ کہا جاتا ہے کے اس نے بھی کبھی اسلام مخالف مذاھب کے خلاف کھل کر جہاد کی بات نہیں کی بلکہ اگر داعش نے بھی کبھی یہود کے خلاف کوئی کاروائی کی ہے تو وہ بھی فقط ایک بیان ہے جس کے مطابق داعش کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت اور صیہونی مذھب کے ماننے والوں سے انکا کوئی لینا دینا نہیں اور نا ہی صیہونیت انکے نشانے پر ہے وہ صرف ایسے مسلمانوں کا خاتمہ چاہتے ہیں جو انکے School Of Thought کے خلاف ہیں یا جو داعش کی کاروائیوں کو غلط سمجھتے ہیں. کئی ایسے ماہرین و تجزیہ نگار ہیں جن کا کہنا ہے کہ داعش کا امریکہ سمیت اسرائیل کے کئی مفادات جڑے ہوئے ہیں ان کے مطابق داعش کے زیرِ قبضہ علاقوں سے امریکی کمپنیاں بنا کسی خوف و خطر تیل کی بہت بڑی مقدار کیسے نکال رہی ہیں اور جس کے بدلے داعشی جنگجو ہتھیاروں سمیت اپنے لیے مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں.

اس گروہ سے امریکہ سمیت اسرائیل کو ملنے والے مالی فوائد کا اندازہ لگانے کے بعد یہ بات باآسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ مشرق وسطٰی میں کسی بھی امریکہ نواز سیاسی حکومت سے کہیں زیادہ یہ گروہ امریکی مفادات کیساتھ اسرائیلی مفادات کا بھی تحفظ کر رہا ہے.

ایک اور بات جو انتہائی اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ امریکہ اور اسکے انتہائی قریبی اتحادی افغانستان سمیت مشرقی وسطی میں اپنی ہی قائم کردہ حکومتوں سے کچھ زیادہ پُرامید نظر نہیں آتے اس لئے وہ ان حکومتوں اور وہاں کے وسائل کو ایک لمبے عرصے کے لیے اپنے زیرِ تسلط رکھنا چاھتے ہیں جسکے لیے امریکہ اور اسکا اتحادی گروہ وہاں کی حکومتوں کو اپنے آگے محتاج رکھنے کیلیئے ایسے جنگجوؤں کو پال رہے ہیں.
سادہ زبان میں امریکی و اتحادی گروپ کو ہم آج کے دور کا سامراجی و کاروباری گروہ کہہ سکتے ہیں جو اپنے مفادات کے لیے کسی بھی خطے میں اس قسم کے جنگجوؤں کو اپنے مفادات کے لیے پلانٹ کرتا ہے. اس کاروباری گروہ کے خاص اقتصادی مقاصد ہیں اور یہ گروہ کبھی نہیں چاہے گا کہ مشرقی وسطی کی ریاستوں میں جمہوریت یا کسی بھی طرح کی کوئی خاص عوامی رائے کو اہمیت دی جائے.

گزشتہ سال مصر کے ایک روزنامہ میں ایک خبر شائع ہوئی جس میں حزب اللہ کے رہنما شیخ نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ " ہماری اطلاعات کے مطابق داعش کے کمانڈوز نے اعراق اور شام میں کاروائیوں کے لیے فوجی تربیت افغانستان میں امریکی و اتحادی افواج سے حاصل کی اس ہی طرح سے داعش کے سپریم کمانڈر ابو بکر البغدادی کے حوالے سے بھی کئی ایسی خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ وہ ایک امریکی فوجی رہا ہے.
اس ہی طرح کینیڈا کی اٹاوا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر مائیکل فسکی جو کہ گلوبل ریسرچ کیساتھ بھی کام کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ داعش اور اسطرح کی تنظیموں کی پُرتشدد کاروائیاں درحقیقت پسِ پردہ کسی مخصوص مخفی قوت یا گروہ کو اسٹریٹجک خدمات دینے کے کام آرہی ہیں جس کے عیوض ان گروہوں کی بھرپور مالی امداد بھی کی جاتی ہے.

سچ تو یہ ہے کہ صرف ایک گروہ داعش کے خلاف لڑنے کیلئے اعراقی حکومت امریکہ سے کروڑوں ڈالر مالیت کے ہتھیار خرید چکا ہے اور اس وقت اعراق کے کئی تیل کے زخائر امریکہ کے پاس گروی ہیں.
صرف ایک گروہ داعش کی وجہ سے ہی شامی حکومت لاکھوں ڈالر مالیت کے ہتھیار روس سے خرید رہا ہے.

مگر سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ صرف ایک گروہ داعش کے پاس ہتھیاروں کا ایک ناختم ہونے والا اتنا بڑا ذخیرہ کہاں سے آرہا ہے.
ماہرین کے مطابق امریکہ کے اس بھیانک کھیل کو صرف اس ہی بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ داعش نے جیسے ہی اعراقی شہر موصل پر قبضہ کیا تو امریکی ہتھیاروں کی عالمی مانگ میں بے پناہ اضافہ سمیت چند ہی روز میں امریکہ کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ دیکھنے میں آیا.
یہاں پڑھنے والوں کے لیے یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا امریکہ اپنی اس ہیرے کی کان جس سے اسے ہر کچھ روز بعد کروڑوں ڈالرز کا فائدہ ملتا ہے اسے اتنی آسانی سے بند کر دے گا ؟

داعش اس وقت افغانستان، بنگلہ دیش، انڈیا، انڈونیشیا کی جانب بڑھ رہا ہے
تو کیا امریکہ اور اس کے اتحادی مزید خزانے حاصل کرنا چاہتے ہیں…..؟

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *