مراثیاتی معاش۔۔سلیم مرزا

کبھی مجھے یقین تھا کہ یہ سب مذاق کر رہے  ہیں۔
اب میں دعا کر رہا ہوں کہ یہ سب مذاق ہو ۔۔گذشتہ آٹھ ماہ میں حکومت دیوالیہ نہیں ہوئی ۔ بس عام آدمی کا دیوالہ نکلا ہے، یہ صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سابقہ حکمرانوں سے زیادہ نااہل ہیں۔اور فخریہ اس طلسمی آئینے کے سامنے کھڑے ہیں جہاں سے ان کو اپنے سوا سب سیدھا دکھائی دے رہا ہے، اگر ان کو عوام یوگا کرتے دکھائی دے رہے ہیں تو ان کی غلط فہمی ہے ۔
مہنگائی نے ان کی ٹانگیں اوپر کی ہوئی ہیں ۔۔
اس بات کو مزاح سمجھنے والا وہی ہوسکتا ہے جو اسد عمر کی فحاشی خدمات کو معاشی خدمات بھی سمجھتا ہو۔

ان کے پاس ٹرک کی صرف ایک بتی ہے، ٹرک نہیں ہے ۔اسی بتی کو کبھی سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی بریک لائٹ بناتے ہیں، اور کبھی نہ نکلنے والے  تیل میں بھگو عوام کو دے دیتے ہیں۔
جن کی کرپشن کے نام پہ دھلائی کی جارہی تھی، وہ ڈرائی کلین ہوکر گھر جارہے ہیں ۔کرپشن اور سلیکشن کا یہ کھیل قوم کے پانچ سال کھاگیا، کبھی کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ سلیکٹرز سے پوچھوں  کہ سابقہ حکومت اپنے ساتھ ہونے والے سارے ڈراموں کے باوجود ترقیاتی کام بھی کر رہی تھی ۔عوام کی معاشی حالت بھی بہتر تھی ۔ روزگار کے مواقع بھی تھے ۔بیرونی اور اندرونی قرضے بھی اتار رہی تھی ۔تو پھر ایسا کون سا “وکھرا”ادھار تھا جس کیلئے ان کو لانا پڑا؟

کرکٹ سے بیزاری کے باوجود عمران اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے ہمیشہ میرا ہیرو رہا ہے، اور ویسے بھی اس کے اپنے بقول جس کوچن لیا جائے اس پہ تبصرے نہیں کرتے، عوام تو ویسے بھی کوئی ذاتی رائے نہیں رکھتے، ان کے نصیب میں تو ہر حکومت ارینج میرج جیسی ہوتی ہے، ناپسند بھی ہو تو بزرگوار “کن پھڑا”کر بھی پانچ سال نکلوا ہی لیتے ہیں ۔۔۔پہلے سال ڈبو اور پھر ہر سال پیدا ہونے والے شیدوں کے پیمپرز بدلتے جب حکومت سے عشق ہونے لگتا ہے تو “وڈے حاجی “صاحب کے دل سے بہو اتر جاتی ہے، چنانچہ بنی گالہ میں عدت پوری نہیں ہوپاتی اور پی ایم ہاؤس میں مدت۔

اب تو پھر بھی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پہ ہیں، اور ان کا حال بھی اس ساس بہو جیسا ہے، جن کے ہاں ایک فقیر نے صدا دی،
بہو نے دروازہ کھول کر کہا “بابا، معاف کرو”
ساس نے سنا تو آگ بگولہ ہوئی ۔دور جاتے فقیر کو آواز دیکر واپس بلایا، وہ خوشی خوشی آیا تو ساس نے کہا”بابا جی، معاف کریں ”
فقیر نے کہا کہ یہ تو چھوٹی بی بی نے بھی کہہ دیا تھا،؟
ساس بولی “گھر کی مالکن میں ہوں ،وہ کون ہوتی ہے یہ کہنے والی ”

وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر ہم فقیروں کو اسی طرح ٹویٹو ٹویٹ کر رہے ہیں ۔دے کچھ نہیں رہے ۔

مان لیا کہ حکومت زنانہ لفظ ہے، مگر اتنی تیز معاشی بدحالی کو روکنے کیلئے بریک کی جگہ چیخیں مارنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟
خدانخواستہ یہ سرکاری گاڑی کہیں “ٹھک ٹھکا “گئی تو مجھے یقین ہے سیٹ گیلی ہی ملے گی، عوام کل ان پالیسیوں کا مذاق اڑاتے تھے، اب سنجیدگی سے گالیاں دے رہے ہیں، کیونکہ حالت ان کی یہ ہے کہ پالیسی پہ بریف کرنے والے عوام کو ڈھائی کی بجائے ایک روٹی کی تلقین کر رہے ہیں ۔ناشکری عوام وہ ایک روٹی کو بھی ڈھونڈھ رہی ہے۔
اگر جگتوں کا نام ہی حکومت ہے تو آفتاب اقبال کو دیدیں،
معاشیات سدھرے نہ سدھرے، میراثیات تو قاعدے سے ہو!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *