ساہیوال واقعہ اور حکومتی ڈرامہ۔۔۔رمشا تبسم

جو شخص بھی ملا ہے وہ اک ز ندہ لاش ہے

انساں کی داستان  بڑی دل خراش ہے( افضل منہاس)

10اپریل 2019 کو مکالمہ پر محترم رؤف کلاسرا کی تحریر “سستے ڈراموں کے شوقین حکمران پڑھی” جس میں انہوں نے واضح طور پر حکمرانوں کی  ڈرامے بازی کو بیان کیا۔ کیسے حکمران عوام میں مقبول ہونے کے لئے ایسی جگہوں کا استعمال کرتے ہیں جہاں عوام سے انہیں پذیرائی حاصل ہو۔اس مقصد کے لئے مکمل طور پر منصوبہ بندی کی جاتی ہے یہاں تک کہ  میڈیا کا استعمال بھی سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے تا کہ عوام میں موجود حکمرانوں کے خلاف اٹھنے والا کوئی بھی نعرہ میڈیا پر نشر نہ ہو سکے۔محترم روف کلاسرا نے بخوبی شوکت عزیز,نواز شریف,آصف علی  زرداری اور شہباز شریف کے سستے ڈراموں کا ذکر کیا اور اس کی مکمل منصوبہ بندی سے عوام کو آگاہ کیا۔

ساتھ ہی ساتھ محترم روف کلاسرا نے کہا “میرا خیال تھا عمران خان اور عثمان بزدار ان سستے ٖڈراموں سے دور رہیں گے ‘لیکن یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصے بعد حکمران کو یہ شوق نہ چرائے اور اس کے طبلچی اسے یہ نہیں کہیں کہ سرکار آپ عوام میں بہت مقبول ہیں اور پھر عمران خان کو وہ پناہ گاہ لے جائیں گے ۔ اس کی ویڈیوز دکھائی جائیں گی کہ ملک کا وزیراعظم عام انسانوں کا کتنا خیال رکھتا ہے۔ پھر بارہ کہو کی ایک خاتون کی ویڈیو پر وزیراعظم سے بات کرائی جائے گی اور فورا ًاس کی رہائش کے بندوبست کی ہدایات کی جائیں گی ۔ اب وزیراعلیٰ پنجاب راولپنڈی کی پناہ گاہ پہنچ گئے ہیں ۔ وہی بیوروکریسی کا پرانا حربہ جو وہ ہر حکمران پر آزماتے ہیں اور کبھی ناکام نہیں ہوتے۔

مان لیتے ہیں کہ عمران خان اور بزدار صاحب کے دل میں بہت درد ہے۔ وہ واقعی لوگوں کا درد دل میں محسوس کرتے ہیں۔ کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے لیکن ان کے دل کا درد اتنا سمجھدار کیوں ہے کہ یہ صرف پناہ گاہ میں رہنے والے چند لوگوں کے لیے دھڑکتا ہے جنہیں اب چھت‘ اچھا کھانا پینا اور دیگر سہولیات مل رہی ہیں؟ ان کا دل بارہ کہو کی ایک بوڑھی خاتون کے لیے بھی دھڑکتا ہے اور اس سے وہ ویڈیو پر بات بھی کرتے ہیں ۔لیکن عمران خان اور بزدار صاحب کا دل ان انسانوں کے لیے دھڑکنا کیوں بھول جاتا ہے جب ساہیوال میں بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کیا جاتا ہے؟ عمران خان اور بزدار صاحب ان بچوں کے گھر کیوں نہیں جاتے ؟وہ پناہ گاہ چلے جاتے ہیں ۔ روڈ پر ایک باپ اپنے دو بچوں کے ساتھ مارا جاتا ہے‘جنہیں وہ سکول چھوڑنے جارہا تھا ‘پھر بھی خان صاحب اور بزدار صاحب کا دل نہیں دھڑکتا۔ان دونوں کا دل صرف پنڈی کی پناہ گاہ جا کر ہی کیوں دھڑکتا ہے؟

اس تحریر کو آنا تھا کہ  عمران خان صاحب اور عثمان بزدار نے روف کلاسرا کا شکوہ کچھ حد تک دور کرنے کا ارادہ کیا۔ لہذا ساہیوال واقعہ میں شہید ہونے والے خلیل کے لواحقین سے ملاقات کا بندو بست کیا گیا۔چونکہ عمران خان صاحب کو خود کبھی کسی بات کا علم نہیں ہوتا نہ سمجھ آتی ہے لہذا صحافی برادری کسی نہ کسی طرح عمران خان کو راستہ دکھاتی رہتی ہے۔الیکشن 2018 کی رات ہی ہارون الرشید جو کہ نامور صحافی ہیں اقرار کرتے ہیں کہ عمران خان ہمیشہ ان لوگوں کی مثال دیتے تھے جو تاریخ میں کسی نہ کسی طرح شکست فاش ہوئے تھے۔ لہذا میں نے عمران خان کو بہت سی کتابیں لا کر دیں کہ  وہ پڑھیں سمجھیں اور پھر جو لوگ تاریخ میں کامیاب ہیں ان کا ذکر کیا کریں ، ہارون صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ  عمران خان کو سمجھانا پڑتا ہے سب کچھ۔

ایسا ہی دیکھنے میں آیا کہ جناب روف کلاسرا نے تحریر لکھی اور عمران خان نے مرحوم خلیل کے خاندان کو اپنے پاس بلا لیا۔کیا کریں وذیراعظم ہیں اتنا وقت کہاں کہ  کسی مجبور بے بس و لاچار عوام کے گھر تشریف لے جائیں ۔لہذا جلیل ان کے بزرگ والد اور مرحوم خلیل کے تین معصوم بچوں کو وزیراعظم سے ملاقات کے لئے لایا گیا۔ایک سجا ہوا کمرہ اونچی کرسیوں پر بیٹھے عمران خان اور بزدار صاحب اور سامنے ایک صوفے پہ گردن جھکائے بیٹھا ہوا مرحوم خلیل کا بزرگ باپ جو بار بار اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کر رہا تھا اور سر جھکائے بیٹھا خلیل اور گود میں اٹھائے تین بچے۔آس پاس موجود بے شمار آفیسرز ایک عجیب تصویر پیش کر رہے تھے۔ تین کروڑ کا چیک مظلوم خاندان کے حوالے کردیا گیا اور بات ختم؟ ۔۔۔انصاف مکمل؟۔۔عمران خان نے عوام اور صحافیوں کا شکوہ دور کردیا جو کہتے تھے کہ  عمران خان ساہیوال کے واقعہ میں ز ندہ رہ جانے والے معصوم بچوں سے کب ملیں گے؟ لہذا یہ ڈرامہ مکمل ہوا۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا (حبیب جالب)

محترم جلیل نے تین مطالبات عمران خان کے سامنے رکھے

.1۔واقعہ کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے

.2۔کیس کو ساہیوال سے لاہور ٹرانسفر کیا جائے۔کیونکہ بار بار ساہیوال آتے راستے سے گزرتے انکو تکلیف ہوتی ہے اور انکا دل خون کے آنسو روتا ہے۔بار بار اس راستے سے گزرنا جہاں انکے بھائی کو گولیوں سے بھون دیا گیا ہو بہت تکلیف دہ ہے۔

3۔۔سی۔ٹی۔ڈی کی جھوٹی ایف۔آئی۔آر خارج کر دی جائے۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ معمولی سے مطالبات جو واقعہ کے دن سے میڈیا اور ہر شخص چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے اور حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ایف۔آئی۔آر جو کہ پورا  پاکستان کہہ رہا ہے کہ جھوٹی تھی عمران خان صاحب اور انکے وزیر  اب تک خارج نہیں کر وا سکے۔ تو اب ان سے یہ امید رکھنا کہ یہ ان تین مطالبات کو پورا کریں گے ایک بے وقوفی ہے۔ ایک سستا ڈرامہ آج پیش کیا گیا مرحوم خلیل کے لواحقین سے ملاقات کر کے۔باقی تین ڈرامے ان تین مطالبات پر عمل کر کے دکھاوا کردیا جائے گا۔

حبیب جالب نے کیا خوب کہا ہے

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں

چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں

تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر

میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا

لاہور چینل پر ایک پروگرام “تماشا” میں جلیل نے کہا کہ چیک دے کر عمران خان سے جب پھر کہا کہ  جوڈیشل کمیشن بنا دیا جائے تو عمران خان نے کہا “اب بھی جوڈیشل کمیشن چاہئے۔” لہذا یہ بات ثابت ہو گئی  کہ  سستے ڈرامے میں ایک مظلوم خاندان کو آفیسر کی موجودگی میں بٹھانا ایک ناخوشگوار ماحول میں ان کو ایک چیک دے کر جان چھڑوانا مقصد تھا کہ  پیسے لے کر مرحوم خلیل کا خاندان کسی حد تک مطالبے سے ہٹ جائے۔

اب حاصل کچھ نہیں ہو گا۔بچوں کو ماں باپ واپس نہیں ملیں  گے۔ماں باپ کو شہید ہونے والی اولاد نہیں واپس ملے گی۔ ہاں اس معاملے پر سستے ڈراموں کو آغاز  ضرور کردیا ہے عمران خان صاحب نے۔

اس واقعہ کے دن سے عمران خان اور انکے بھان متی کے کنبہ میں موجود تمام پتھر اینٹیں روڑے اور کنکر جو واقعہ کے دن سے چیخ کر ان تمام شہید ہونے والوں کو دہشت گرد کہتے رہے وہ اب مرحوم خلیل کو تو بے گناہ کہہ دیتے ہیں مگر مرحوم ذیشان جس کے خلاف کوئی واضح ثبوت اب تک پیش نہیں کر سکے اس کو کسی نہ کسی طرح دہشت گردثابت کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ذیشان دہشت گرد ہے اسکے لئےکم ظرف عوام کو ثبوت کی ضرورت نہیں ان کے لئے عمران خان کے لاڈلے محترم فواد چوہدری اور پی۔ٹی۔آئی کے وزیروں کا ذیشان کو دہشت گرد کہنا ہی کافی ہے۔یہ بات واضح ہو گئی  کہ  عمران خان کا مقصد دلجوئی اور خاندان سے ہمدردی ظاہر کرنا نہیں تھا بلکہ سستے ڈرامے کرنا تھا۔

اس ملاقات میں چار چہرے ایسے تھے کہ  کلیجہ منہ کو آتا تھا۔آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب سی ہو گئی ۔ ایک مرحوم خلیل کا بوڑھا گردن جھکائے بیٹھا باپ اور تین معصوم بچے۔بچوں کے چہرے آج بھی خوفزدہ نظر آئے۔ان کے دل بجھے ہوئے تھے۔ان کی آنکھیں اسی انتظار میں نظر آئی کہ  شاید  کہیں سے ان کے ماں باپ آ جائیں۔چھوٹی بچی مکمل حواس باختہ نظر آئی۔یہ بچوں کی نگاہوں میں موجود سوالات کا کسی کے پاس جواب نہیں۔ یہ معصوم آنکھیں سوال کرتی رہیں کہ  آخر ان کے ماں باپ کا کیا قصور تھا کہ  ان کے سامنے شہید کیا گیا۔مگر وزیراعظم نے تین کروڑ دے کر ڈرامہ مکمل کر لیا۔

لاہور چینل کے پروگرام میں مرحوم خلیل کی بوڑھی ماں زاروقطار رو رہی تھی۔ وہ ایک ہی بات کہہ رہی تھیں۔ہائے میرے جوان بچے۔ شادی پہ گئے مار دیئے ظالموں نے۔ہائے میرے بچے۔ہائے میرے بچے۔مرحوم خلیل کی ماں نے کہا کہ  یہ بچے ہر وقت روتے ہیں۔ چھوٹی بچی کسی بھی وقت چپ نہیں ہوتی۔ ہائے میرے بچے مار دیئے۔بوڑھے باپ نے کہا میں نے اپنے بیٹے کو کبھی نہیں مارا انہوں نے کبھی مجھ سے مار نہیں کھائی اور اب کیا حال کر دیا کیسے مار دیا ظالموں نے میرے بچوں کو۔میں کہاں جاؤ۔مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ہائے میرے بچے۔

بہت افسوس کہ  ہم عوام ہیں۔ہمارے منتخب کردہ نمائندے ہیں اور ہمارا ہی خون ان کے لئے اتنا بے کار جس کی قیمت صرف چند روپے لگا کر حکمران آرام سے ہر فرض سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ حکومت کسی کی بھی ہو حکمران کوئی بھی ہو عوام کا خون پانی سمجھ کر ہی بہایا جائے گااور جان چھڑوانے کو چند روپے دے کر ڈرامہ مکمل کر لیا جائے گا۔ کسی بھی دور میں عوام کی کوئی حیثیت اور اوقات نہیں ہم کیڑے مکوڑے ہیں۔ ہمیں اپنے وجود کی اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنی ہے۔اپنی بقاء کے لئے خود اقدامات کرنے ہیں ورنہ ہمیں بھی کچل دیا جائے گا۔ہم اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں۔ حبیب جالب نے کیا خوب عکاسی کی ہے

ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے

مٹ جاؤ یا قصر ستم پامال کرو

بھوک ننگ سب دین انہی کی ہے لوگو

بھول کے بھی مت ان سے عرض حال کرو

ظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یارو

اسے مٹا کر جگ میں امن بحال کرو

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

وہی سستے ڈراموں کے شوقین عوام نے آج پھر ایک اور سستے حکمران کا سستا ڈرامہ دیکھا۔ﷲپاک مرحوم کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔معصوم بچوں کو زمانے کی گردش سے محفوظ رکھے۔آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ساہیوال واقعہ اور حکومتی ڈرامہ۔۔۔رمشا تبسم

  1. السلام علیکم !
    ایک ایسا سانحہ۔۔۔۔۔ جو بھلانا ناممکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بچے جو ایک پٹاخے کی آواز سن کرڈر جائیں۔۔۔ ان کے سامنے والدین کو گولیوں سے بھون دینااوران کو چپ کرانے کے لیے ۔۔۔۔اک لالی پاپ کی ضرورت سمجھتے ہوئے حکومت نے چیک (لالی پاپ) پکڑا دیا ۔۔۔۔انسان کی قدروقیمت چند سکوں میں تولی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔بچوں کی یتیمی ۔۔۔۔۔ بوڑھے باپ کا بے آسرا ہونا ۔۔۔۔۔۔ سب کی قیمت بس چند سکے
    واہ ۔۔۔۔۔حکمران تیری منصفی کا کیا کہنا
    اک بیٹے کا ناحق خون بہا ۔۔۔۔۔۔بچوں کو یتیمی کا دکھ سہنا پڑا ۔۔۔۔چیک دےکر کہا All is well .۔۔۔
    ۔اللہ رب العزت۔۔ ہم سب کو بے حس حکمرانوں سے اور ایسی نا گہانی آفتوں سے محفوظ رکھے۔ ۔۔ اور ان بچوں اور بوڑھے باپ کی مشکلات دور کرے۔ ۔۔صبر جمیل عطا کرے آمین۔ ،۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *